ایرانی صدر کا دورہ روس یونی پولر دور کے خاتمے کی طرف ایک اور اشارہ
ایرانی صدر کا دورہ روس یونی پولر دور کے خاتمے کی طرف ایک اور اشارہ ویسے تو مجموعی طور پر دنیا کا نظام تبدیلی کی طرف گامزن ہے لیکن یہ…
ایرانی صدر کا دورہ روس یونی پولر دور کے خاتمے کی طرف ایک اور اشارہ ویسے تو مجموعی طور پر دنیا کا نظام تبدیلی کی طرف گامزن ہے لیکن یہ…
یمن میں سابق صدر علی عبد اللہ صالح کے حکومت سے علیحدہ ہونے کے بعد عبوری حکومت قائم ہوئی، جس کے ذمہ تھا کہ وہ نئے انتخابات کروا کر نئی…
چند برسوں سے مسلسل یہ خبریں آرہی ہیں کہ سعودی عرب میں مختلف تعلیمی مراحل میں نصابی کتب کے مواد میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ تقریباً پانچ برس پہلے سابق امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن نے کہا تھا کہ واشنگٹن بلاواسطہ سعودی عرب کی درسی کتب میں تبدیلی پر کام کر رہا ہے۔ یہ تبدیلیاں موجودہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے نظریات اور سعودی عرب کے بارے میں ان کے نئے وژن 2030 سے ہم آہنگ ہیں۔ اس وژن کے مطابق نئے نصاب میں دیگر ممالک کی تاریخ اور مختلف ثقافتوں کے بارے میں مزید معلومات فراہم کی گئی ہیں، البتہ تبدیلیوں کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ یاد رہے کہ قبل ازیں جب سویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو امریکہ کی نظارت میں سعودی عرب کی درسی کتب میں جہاد و شہادت سے متعلق آیات اور احادیث شامل کی گئی تھیں۔ اس سلسلے میں علماء کے فتاویٰ کو بھی شامل نصاب کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ القاعدہ اور بعدازاں داعش اور جبھۃ النصرۃ جیسے گروہ اسی نصاب اور انہی فتووں کے نتیجے پیدا ہوئے۔
منگل گیارہ ستمبر 2001ء موجودہ صدی کا ایک اندوہناک دن تھا۔ ظاہراً تو اس روز دو امریکی عمارتیں جن کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، القاعدہ کے ایک فضائی حملے کے نتیجے میں زمین بوس ہوئیں، جس میں جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 2996 تھی، تاہم اس حملے کے اثرات پوری دنیا میں دیکھنے کو ملے۔ عراق، افغانستان اور پاکستان تو آج بھی اس حملے سے اثرات سے گذر رہے ہیں، حالانکہ ان ممالک کا ایک بھی شہری ان حملوں میں ملوث نہ تھا۔ آج دنیا 9/11 کو یاد کرتی ہے، تاہم کسی کو 10/7 جب امریکی افواج 2001ء میں افغانستان میں داخل ہوئیں اور 3/20 جب امریکی فوجیں 2003ء میں عراق میں داخل ہوئیں، کسی کو یاد نہیں ہے۔ اگر جانی اور مالی نقصان کے لحاظ سے دیکھا جائے تو عراق اور افغانستان میں ہونے والا نقصان امریکہ میں ہونے والے جانی و مالی نقصان سے بہت زیادہ ہے۔ اس حملے کے حوالے سے بہت سی تھیوریز اور حقائق سامنے آئے، جو وقت کے ساتھ ساتھ غائب ہوگئے یا غائب کر دیئے گئے۔
یوں لگتا ہے کہ پوری دنیا میں بس یہی سب سے اہم سوال گردش میں ہے کہ کیا طالبان واقعی بدل گئے ہیں۔ علامہ اقبال کہ تو کہہ گئے ہیں:
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے ميں
‘‘
تحریک انصاف کے قائد اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کا پہلے روز سے نظریہ تھا کہ پاکستان مختلف طبقات کے مابین تقسیم ایک ریاست ہے، جس میں قوم کا مشترکہ ہدف اور لائحہ عمل نہیں ہے۔ وہ اپنی تقاریر میں اکثر کہا کرتے ہیں کہ ایسی ریاست کبھی قائم نہیں رہ سکتی، جہاں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ قوانین ہوں۔ وہ ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ ہمیں اس پاکستان کو ایک پاکستان بنانا ہے، جہاں ایک قوم بستی ہو۔ اس عنوان سے وزیراعظم عمران خان نے مشکل کاموں کو اپنے ذمے لیا ہے، جن میں ایک قانون و انصاف کا یکساں اطلاق اور دوسرا یکساں نصاب تعلیم ہیں۔
گذشتہ قسط میں ہم اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ افغان جنگ جہاں عالمی طاقتوں کے مابین بین الاقوامی سیاست اور مفادات کی جنگ ہے، وہیں خطے کے ممالک کے لیے یہ اپنے مفادات اور ملکی سالمیت کے تحفط کی جنگ بھی ہے۔ بیس برس افغانستان میں قیام کے بعد امریکا اور نیٹو فورسز نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ گیارہ ستمبر 2021ء کو افغانستان سے چلے جائیں گے۔ ابھی گیارہ ستمبر دور ہے اور امریکی فوجی اپنے اڈے چھوڑ کر رات کی تاریکی میں غائب ہو رہے ہیں۔