سید اسد عباس

افغانستان میں شرح افلاس اور بے رحم دنیا

افغانستان خطے کے لحاظ سے دنیا کا 41واں بڑا ملک ہے، جس کی آبادی افغانستان کے محکمہ شماریات کے مطابق تقریباً 32.9 ملین ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق یہ آبادی 38 ملین نفوس پر مشتمل ہے۔ ملک کی زیادہ آبادی دیہی علاقوں میں آباد ہے۔ افغانستان Read more…

سید اسد عباس

شیعہ قوم کے آئینی و قانونی حقوق کی طویل جدوجہد

بحیثیت قوم ہماری توجہ زیادہ تر خارجی اور داخلی سیاسی امور کی جانب رہتی ہے۔ یمن پر سعودیہ کے حملے کو کتنے برس گزر گئے، فلسطین میں کیا ہو رہا ہے۔؟ کشمیر میں ہندوستان نے کیا کیا؟ بحرین اور احصاء میں کیا ہوا؟ نائجیریا کے شیعہ کس حال ہیں؟ یقیناً Read more…

سید اسد عباس

مسلم یونین کا خواب

انسان روز اول سے اپنے احوال کی بہتری کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس کی ترقی کا نقطہ آغاز ہمیشہ اونچے خوابوں اور تخیلات سے ہوتا ہے۔ کبھی ہواوں میں اڑنے کے خواب، کبھی دریاوں میں غوطہ زن ہونے کے خواب، کبھی خلا نوردی کے خواب، کبھی دولت و ثروت Read more…

سید اسد عباس

ولادیمیر پیوٹن کی سالانہ پریس کانفرنس کے اہم نکات کا خلاصہ

روس کے صدر ولادمیر پیوٹن نے آج یعنی 23 دسمبر کو کچھ دیر قبل ایک روایتی کانفرنس سے خطاب کیا۔ یہ کانفرنس سال کے اختتام پر منعقد کی جاتی ہے، جس میں سال بھر کے امور کے حوالے سے بات کی جاتی ہے۔ دنیا کے ایک موثر ملک کے سربراہ Read more…

سید اسد عباس

او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس اور افغان بحران

ایک ایسا وقت جب پاکستانی عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، روپے کی قیمت مسلسل تنزلی سے دوچار ہے۔ پیٹرول اور اشیائے ضرورت بشمول زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔ بے روزگاری اپنے عروج پر ہے۔ ملک میں گیس کا بحران ہے، ایسے میں حکومت پاکستان افغان ہمسایوں کے غم میں ہلکان ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ بات اکثر پاکستانیوں کے لیے حیران کن ہوسکتی ہے۔ پاکستانی شہریوں اور ہمارے کشمیری بھائیوں کو سوال کرنے کا حق ہے کہ پاکستان نے آج تک کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے او آئی سی کا اجلاس طلب نہیں کیا، اس اہم اجلاس کی کیا وجوہات ہیں اور یہ اجلاس اس قدر اہم کیوں تھا۔؟ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں او آئی سی کے اس غیر معمولی اجلاس میں ستر کے قریب غیر ملکی وفود نے شرکت کی۔ 57 ممبر ممالک میں سے بیس ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے جبکہ دس ممالک کے وزرائے مملکت نے اس اجلاس میں شرکت کی۔ اسی طرح مندوبین اور مبصرین جس میں یورپی یونین، اقوام متحدہ کے عہدیدار شامل ہیں، اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ (more…)

سید اسد عباس

ریاض کا موسم اور ہماری بے چینی

سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہونے والا ’’موسم ریاض‘‘ نامی میگا ایونٹ آج کل خبروں کی زینت ہے۔ اس میلے میں دنیا بھر کے مختلف فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی شہریوں کی تفریح طبع کے لیے کھیلوں کی سرگرمیوں کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ اس ایونٹ کا ایک اہم پروگرام رقص و سرود کی محافل ہیں، جس میں گذشتہ دنوں بالی وڈ سٹار سلمان خان نے ساتھی فنکاروں کے ہمراہ شرکت کی اور سامعین کے دلوں کو گرمایا۔ سلمان خان کے ہمراہ بھارتی فنکار شلپا سیٹھی، جیکولین فرنینڈس اور دیگر شامل تھے۔ سلمان خان سے قبل معروف گلوکار جسٹن بیبر نے بھی چھ دسمبر کو ریاض میں ایک کنسرٹ کیا تھا، جس میں تقریباً 70 ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔ سلمان خان کے ریاض میں کنسرٹ سے قبل انھیں اعزاز دینے کے لیے ان کے ہاتھوں کا نقش بھی لیا گیا، جو ریاض کی مصروف ترین شاہراہ پر نصب کیا جائے گا۔

(more…)
سید اسد عباس

درحقیقت توہین کس نے کی اور کس کی ہوئی؟

جہالت انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے اور جاہل انسان کے ہاتھوں میں مقدسات اور مذہب کا جام تھما دیا جائے تو ایسا انسان انتہائی مہلک ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ ہمیں سیالکوٹ میں دیکھنے کو ملا۔ راجکو فیکٹری میں کام کرنے والے سری لنکن شہری انجینئر پریانتھا کمارا نے فیکٹری میں لگا ایک صفحہ اتار کر پھاڑ پھینکا، جس پر یاحسینؑ لکھا تھا۔ بس پھر وہاں موجود ملازمین کے مذہبی جذبات برانگیختہ ہوئے اور وہ احتجاج کے لیے نکل پڑے۔ غلطی تو پریانتھا نے کی کہ ایک صفحہ جو شاید مسلمانوں کے لیے بہت اہم تھا، اس کو کم اہم جان کر اس نے پھاڑ دیا۔ فیکڑی ورکرز نے کمارا سے معافی کا مطالبہ کیا، تاہم وہ اپنے عہدے کے زعم میں فیکڑی ورکرز کی بات کو غیر اہم جان کر بڑبڑاتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس کی یہ حرکت فیکٹری میں آگ کی مانند پھیل گئی۔ مجھے یقین ہے کہ اکثر کو تو یہ بھی علم نہیں ہوگا کہ توہین کیا ہوئی ہے، تاہم مسلمان نکلے، پہلے تو احتجاج کیا اور پھر خود ہی انصاف کرنے کے لیے فیکٹری میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ ناقابل بیان ہے۔ پریانتھا کو زد و کوب کرنے کے بعد اس کی لاش کو چوک میں رکھ کر جلا دیا گیا۔ (more…)

سید اسد عباس

صہیونی ریاست کی تکمیل کے مراحل اور ہم

اقوام متحدہ 29 نومبر کو یوم یکجہتی فلسطین کے عنوان سے منانے جا رہا ہے، اس سلسلے میں دنیا بھر میں کانفرنسیں، سیمینار، واکس، میراتھن وغیرہ منعقد کیے جائیں گے۔ اقوام متحدہ نے اس یوم یکجہتی کا سلسلہ 1977ء سے کیا، جس کی بازگشت ہمیں گذشتہ برسوں میں اس قدر نہیں سنائی دی، جس قدر اس مرتبہ سنائی دے رہی ہے۔ فلسطین اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کا ایک دن جمعہ الوداع کو بھی منایا جاتا ہے، جو رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو ہوتا ہے۔ اس دن کو یوم القدس کا عنوان دیا جاتا ہے، جس کا آغاز ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی نے کیا تھا۔ ان دونوں ایام میں کیا فرق ہے؟ اور ان کی مناسبت کیا ہے، یہ ایک اہم سوال ہے۔ آیت اللہ خمینی نے روز قدس کو روز اسلام قرار دیا، جس کا مقصد صہیونی اور مغربی قوتوں کی جارحیت کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ روز قدس منانے والے ممالک اور دھڑے سمجھتے ہیں کہ فلسطین پر فقط فلسطینیوں کا حق ہے اور اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے جبکہ اس کے برعکس 29 نومبر جسے اقوام متحدہ نے فلسطین سے اظہار یکجہتی کا دن قرار دیا ہے، یہ اقوام متحدہ کی اس قرارداد کی یاد میں منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں فلسطین میں دو ریاستی حل کو پیش کیا گیا تھا۔ یعنی 29 نومبر منانے سے مراد دو ریاستی حل کی یاد منانا۔ (more…)

سید اسد عباس

اعلان بالفور سے حماس کو دہشتگرد قرار دینے تک

مجھے شاہ برطانیہ کی طرف سے آپ کو بتاتے ہوئے از حد خوشی ہو رہی ہے کہ درج ذیل اعلان صہیونی یہودیوں کی امیدوں کے ساتھ ہماری ہمدردی کا اظہار ہے اور اس کی توثیق ہماری کابینہ بھی کرچکی ہے: "شاہ برطانیہ کی حکومت فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کی حامی ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن صلاحیت کو بروئے کار لائے گی، مگر اس بات کو مدِنظر رکھا جائے کہ فلسطین کی موجودہ غیر یہودی آبادی مسلمان اور مسیحی کے شہری و مذہبی حقوق یا دوسرے ممالک میں یہودیوں کی سیاسی حیثیت کو نقصان نہ پہنچے۔” میں بہت ممنون ہوں گا، اگر اس اعلان کو صہیونی فیڈریشن کے علم میں بھی لایا جائے۔
آپکا مخلص
آرتھر جیمز بالفور سیکریٹری خارجہ برطانیہ
2 نومبر 1917ء
(more…)

سید اسد عباس

بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار اور ہم

انسانی ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حوالے سے قوانین، قراردادوں، اداروں اور پابندیوں کے سلسلے کے باوجود کیا دنیا سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا خاتمہ ہوسکے گا یا نہیں۔؟ اس سوال کا سادہ ترین جواب ہے کہ نہیں۔ دنیا ہتھیاروں کو کوستی بھی رہے گی، ان پر پچھتاتی بھی رہے گی، اس کے بارے میں قوانین بھی بناتی رہے گی، تاہم اس وقت تک ان سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتی، جب تک ان کے ذہنوں سے تسلط، عدم اعتماد اور سبقت لے جانے کی فکر محو نہیں ہوتی۔ ابھی حال ہی میں روس نے ایک سیٹلائیٹ شکن میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ اس میزائل نے خلا میں 420 کلومیٹر کے فاصلے پر اپنی ہی ایک ناکارہ سیٹلائیٹ کوسموس کو نشانہ بنایا۔ اس دھماکے کی وجہ سے سیٹلائیٹ کے 1500 کے قریب ٹکڑے پوری خلا میں پھیل گئے، جس کے سبب عالمی خلائی مشن آئی ایس ایس خطرے سے دوچار ہوگیا اور اس پر موجود خلابازوں، جن میں دو روسی خلا باز بھی تھے، کو حفاظتی کیپسول میں جانا پڑا۔ (more…)