سید ثاقب اکبر

سید علی گیلانی آزادی و حریت کی ایک توانا آواز

سید علی گیلانی کی رحلت فقط مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام حریت پرست انسانیت کے لیے ایک سانحہ ہے، یہ ایک بہت بڑے شخص کا سانحہ ارتحال ہے۔ 92 برس کی زندگی میں سید علی گیلانی نے 14 برس کی باقاعدہ قید کاٹی اور 12 برس سید علی گیلانی گھر میں نظر بند رہے، جو ایک طرح کی قید ہی ہے۔ پس آزادی اور بڑے انسانی مقاصد کی خاطر قید رہنے والے افراد میں سید علی گیلانی کا ایک بڑا نام ہے۔:
سید علی گیلانی اپنے بڑے ہدف اور مقصد کی خاطر تقریباً 26 برس قید رہے۔
(more…)

سید ثاقب اکبر

امام حسین علیہ السلام مولانا طارق جمیل کی نظر میں(2)

پاکستان کے انتہائی معروف خطیب اور مبلغ مولانا طارق جمیل کی نگرانی اور سرپرستی میں کچھ عرصہ پہلے ایک ضخیم کتاب بعنوان ’’گلدستۂ اہلِ بیت سلام اللہ و رضوانہ علیہم‘‘ شائع ہوئی ہے۔ اس میں انھوں نے اہل بیت رسالت کے فضائل اور تاریخ کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ چوتھے باب کی ایک فصل امام حسین علیہ السلام کے بارے میں ہے۔ اس باب میں امام حسینؑ کے بارے میں موجود مطالب کا ایک انتخاب ہم قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ پہلی قسط میں کتاب کا پس منظر امام حسن و حسینؑ کے مشترکہ فضائل، امام حسین علیہ السلام کا بچپن اور چند دیگر مطالب اس کتاب سے پیش کیے ہیں۔ ذیل میں کچھ مزید مطالب قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں، جو واقعۂ کربلا کے پس منظر کے بیان سے شروع ہوتے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے۔ سانحہ کربلا کا پس منظر اور واقعات کتاب میں قدرے تفصیل سے لکھے گئے ہیں۔ کوفہ میں امام حسینؑ کے نمائندہ خصوصی حضرت مسلم بن عقیلؑ کی جواں مردی اور پھر مظلومانہ شہادت کو بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح سے مکہ مکرمہ سے قافلہ حسینی کی روانگی کے موقع پر پیش آنے والے بعض واقعات بھی سپرد قلم کیے گئے ہیں۔ حضرت علی ؑ کے بھتیجے اور داماد حضرت عبداللہ بن جعفرؑ کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ (more…)

سید ثاقب اکبر

امام حسین علیہ السلام مولانا طارق جمیل کی نظر میں(1)

پاکستان کے انتہائی معروف خطیب اور مبلغ مولانا طارق جمیل اکثر و بیشتر اپنی تقریروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ ان کی عظمت و محبت کا بڑی رقت قلبی سے اظہار کرتے ہیں۔ وہ خاص طور پر پُرتاثیر لہجے میں امام حسین علیہ السلام کو یاد کرتے ہیں اور ان کی شہادت کا تذکرہ کرتے ہیں۔ ان کی نگرانی اور سرپرستی میں کچھ عرصہ پہلے ایک ضخیم کتاب بعنوان ’’گلدستۂ اہلِ بیت سلام اللہ و رضوانہ علیہم‘‘ شائع ہوئی ہے۔ (more…)

سید اسد عباس

پیر فضل شاہ ایک عہد ساز شخصیت

پیر فضل شاہ 1877ء کے لگ بھگ موضع ملیار ضلع جہلم میں پیدا ہوئے۔ کچھ عرصہ سکول میں پڑھتے رہے، پھر مولانا سید غلام حسین شاہ شیرازی آف کوٹلہ ضلع جہلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کرڑ کے مومنین کی استدعا پر ملیار سے ترک سکونت کرکے موضع کرڑ ضلع خوشاب چلے گئے اور تمام تر توجہ تبلیغ دین کی جانب مبذول کر دی۔ آپ کا زیادہ تر وقت عبادت الہیٰ اور خلق خدا کی خدمت میں گزرتا۔ 1913ء میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ آپ نے اپنے زیر اثر افراد کے بچوں کو دینی تعلیم کے لیے مدارس میں بھجوایا نیز ضلع سرگودھا میں کئی ایک مدارس کی بنیاد رکھی۔ آپ کی ہی تشویق پر دارالعلوم محمدیہ قائم ہوا۔ اسی طرح خوشاب اور بھلوال کے مدارس بھی آپ ہی کی تشویق پر قائم کیے گئے۔ (more…)

سید ثاقب اکبر

کیا امام خمینیؒ کشمیری تھے؟(2)

امام خمینیؒ کے جد اعلیٰ سید حیدر موسوی کشمیر میں
سید حیدر موسوی 776ھ میں کشمیر کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ ماں باپ دونوں کی طرف سے حسینی سید تھے۔ جس زمانے میں سید حیدر کشمیر پہنچے، اس زمانے میں وہاں سلطان شہاب الدین شاہ میری کی حکومت تھی۔ یاد رہے کہ شاہ میری خاندان 1339ء تا 1561ء کشمیر پر حکمران رہا۔ سلطان شہاب الدین شاہ میری سید حیدر موسوی اور دیگر سادات کا بہت احترام کرتا تھا۔ (more…)

سید اسد عباس

امام خمینی سے متعلق عاشق امام کی ایک منفرد تالیف

گذشتہ دنوں ایک انوکھی اور اچھوتی کتاب پڑھنے کا موقع ملا، انوکھی اور اچھوتی یوں کہ امام خمینی کے بارے میں لکھی جانے والی اکثر کتب ان کے ثقیل نظریات اور تحریک سے متعلق ہوتی ہیں۔ یہ ہلکی پھلکی کتاب امام کی شخصیت کے بارے تھی۔ کتاب کا نام اس کے مولف نے ’’یادوں کے اجالے (خمین سے بہشت زھراء تک)” تجویز کیا۔ کتاب کے مولف ڈاکٹر راشد عباس نقوی ہیں، جو اس کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں: (more…)

سید ثاقب اکبر

اقبال اور ملا کی تنگ نظری

تحریر: ثاقب اکبر

ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم لکھتے ہیں: ’’علامہ اقبال ایک روز مجھ سے فرمانے لگے کہ اکثر پیشہ ور ملا عملاً اسلام کے منکر، اس کی شریعت سے منحرف اور مادہ پرست دہریہ ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ ایک مقدمے کے سلسلے میں ایک مولوی صاحب میرے پاس اکثر آتے تھے۔ مقدمے کی باتوں کے ساتھ ساتھ ہر وقت یہ تلقین ضرور کرتے تھے کہ دیکھیے ڈاکٹر صاحب آپ بھی عالم دین ہیں اور اسلام کی بابت نہایت لطیف باتیں کرتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ آپ کی شکل مسلمانوں کی سی نہیں، آپ کے چہرے پر ڈاڑھی نہیں۔ میں اکثر ٹال کر کہہ دیتا کہ ہاں مولوی صاحب آپ سچ فرماتے ہیں۔ (more…)

سید ثاقب اکبر

بانی انقلاب اسلامی امام خمینیؒ کی پیشگوئیاں(2)

4۔ عراق کے کویت پر حملے کی پیشگوئی
1980ء میں عراق کے صدر صدام حسین نے عالمی طاقتوں کے ایما پر ایران پر حملہ کر دیا۔ اسے علاقے کے رجعت پسند حکمرانوں اور ڈکٹیٹروں کی حمایت حاصل تھی، جن میں کویت کی شاہی حکومت بھی شامل تھی۔ امام خمینیؒ نے ان حکمرانوں کو مختلف مواقع پر ان کے انجام سے خبردار کیا۔ کویت کے حکمران اس زمانے میں عراق کی بے پناہ مالی امداد کرتے رہے۔ امام خمینیؒ نے انھیں اس کام سے منع کیا۔ آپ نے فرمایا: ’’اس کام سے باز آجائو کیونکہ ایک دن فتنے کی آگ تمھارے دامن تک آپہنچے گی۔۔۔ صدام کی درندگی کی اس عادت میں ذرہ بھر فرق نہیں پڑا بلکہ وہ عالمی اداروں اور لٹیروں کی خاموشی کے باعث ایک زخمی بھیڑیے میں تبدیل ہوچکا ہے، وہ آگے بڑھتا جا رہا ہے، تاکہ جنگ کی آگ کو علاقے کے دیگر ممالک اور خاص طور پر خلیج فارس میں بھڑکا سکے۔‘‘ (صحیفہ امام، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ج20، ص328و329)
(more…)