کیا امریکہ افغانستان سے خالی ہاتھ نکل رہا ہے؟(2)

Published by سید اسد عباس تقوی on

سید اسد عباس

گذشتہ قسط میں ہم اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ افغان جنگ جہاں عالمی طاقتوں  کے مابین بین الاقوامی سیاست اور مفادات کی جنگ ہے، وہیں خطے کے ممالک کے لیے یہ اپنے مفادات اور ملکی سالمیت کے تحفط کی جنگ بھی ہے۔ بیس برس افغانستان میں قیام کے بعد امریکا اور نیٹو فورسز نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ گیارہ ستمبر 2021ء کو افغانستان سے چلے جائیں گے۔ ابھی گیارہ ستمبر دور ہے اور امریکی فوجی اپنے اڈے چھوڑ کر رات کی تاریکی میں غائب ہو رہے ہیں۔

افغان حکومت اور افواج کو بجا طور پر یہ شکوہ ہے کہ امریکی فوجی جانے سے قبل ہم سے ہم آہنگی کیے بغیر نکل گئے ہیں۔ امریکی جس مقام کو بھی خالی کر رہے ہیں، وہاں اپنے ہتھیار گاڑیاں اور دیگر جنگی وسائل چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں طالبان تیزی سے پیشقدمی کرتے ہوئے شہروں کے شہر اپنے زیرتسلط لا رہے ہیں، کئی ایک مقامات پر انھوں نے باقاعدہ حکومتیں قائم کر لی ہیں اور سڑکوں کی تعمیرات اور مرمت کا کام بھی شروع کر دیا ہے۔ طالبان اس مرتبہ جلدی میں نہیں ہیں، امریکا کے افغانستان میں قیام کے دوران بھی افغانستان کے بہت سے علاقے طالبان کے کنٹرول میں تھے اور اب جیسے ہی امریکا افغانستان سے نکل رہا ہے تو طالبان نے قبضوں کو توسیع دینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ طالبان اس مرتبہ باہر سے اندر کی جانب سفر کر رہے ہیں، پہلے پہل انھوں نے سرحدی چوکیوں کا کنڑول سنبھالا ہے، تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان، ایران اور پاکستان کے ساتھ ملنے والی سرحدیں طالبان کے کنڑول میں ہیں۔ طالبان جس علاقے میں بھی جا رہے ہیں، وہاں پہلے اعلان کرتے ہیں کہ ہماری افغانوں سے کوئی جنگ نہیں ہے، جو ہتھیار رکھ دے گا یا ہمارے ساتھ شامل ہو جائے گا، اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ اکثر شہروں سے اطلاعات ہیں کہ افغان فوجی اپنے ہتھیار طالبان کے سپرد کرکے ان کی صفوں میں شامل ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی حرکت کے لیے طالبان کے پاس وسائل کہاں سے آرہے ہیں اور کیا افغان حکومت کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ فوج، سکیورٹی اداروں اور دفاع کا انتظام کرسکے۔ افغان حکومت کے بہت سے اراکین ہمسایہ ممالک کی جانب فرار کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں جہاں امریکا افغانستان کو ترک کر رہا ہے، وہاں وہ افغانستان میں موجود حکومت، دفاعی اداروں اور ان کے چلانے کے لیے درکار وسائل کا بھی خاتمہ کیے جا رہا ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں طالبان کے پاس آمدنی کے متعدد ذرائع موجود ہیں۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کے کئی ایسی علاقوں پر قبضے ہیں، جہاں سے معدنیات نکلتی ہیں، اسی طرح ایسے علاقے بھی طالبان کے قبضے میں ہیں، جہاں کا ذریعہ آمدن اوپیم کی کاشت ہے۔ طالبان کا اس آمدن میں ایک حصہ ہے، جو ہمیشہ سے رہا ہے۔ اسی طرح بی بی سی کے مطابق عرب ممالک سے بھی کئی ایک افراد اور تنظیمیں انفرادی طور پر طالبان کو مدد کر رہے ہیں۔ بعض ممالک سے بھی طالبان کو مدد ملنے کا عندیہ دیا گیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کے پاس مالی وسائل کی کمی نہیں ہے، جس سے وہ افغان عوامی فوج اور حکومتی نظام باآسانی تشکیل دے سکتے ہیں۔ ہیبت اللہ اخونزادہ کی سرکردگی میں کام کرنے والے موجودہ طالبان کے بارے یہ تاثر عام ہے کہ انھوں نے اپنے گذشتہ تجربات سے سیکھا ہے اور وہ ایک سافٹ امیج کے ساتھ سامنے آرہے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ہیبت اللہ ایک پڑھے لکھے آدمی ہیں اور طالبان نے یقیناً اپنی گذشتہ غلطیوں سے سیکھا ہوگا، تاہم کوئی بھی معاشرہ، تنظیم یا گروہ کوئی مشین نہیں ہے کہ اس کا ایک بٹن دبایا جائے اور وہ اچانک سے اپنی حالت کو بدل لے۔

طالبان کتنے ہی خندہ روئی کا مظاہرہ کریں، بہرحال وہ ایک خاص مکتب کے علماء یا اس کے طلاب ہیں۔ ان کے لیے بعض بنیادی اصولوں سے صرف نظر ممکن نہیں ہے۔ امارات اسلامیہ کا قیام طالبان کا خواب ہے، وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اس راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ سے نبرد آزما ہوں گے۔ طالبان اپنے فہم اسلام اور ظواہر شریعت سے بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتے، یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ طالبان کے دور حکومت میں کوئی خاتوں طالبان کے ڈریس کوڈ کے خلاف لباس پہنے یا بالوں کی تراش خراش ان کے فہم دین کے خلاف کروائی جائے اور بھی بہت سے ایسے مسائل ہیں، جن سے طالبان پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اگر وہ ان بنیادی چیزوں سے پیچھے ہٹتے ہیں تو اشرف غنی اور ان کی حکومت کے مابین کیا فرق رہ جائے گا۔ ایسی صورتحال میں افغان معاشرے کو یا تو اجتماعی طور پر طالبان کے فہم اسلام کو قبول کرنا ہوگا یا پھر ایک مرتبہ پھر افغانستان سے ترک سکونت کا آغاز ہوگا، جس کا بوجھ یقیناً ہمسایہ ممالک پر پڑے گا۔

امریکہ کی بھرپور کوشش ہوگی کہ افغانستان اور خطے میں بے چینی برقرار رہے، تاکہ اس خطے میں ہونے والی معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں، اس مقصد کے لیے وہ ازبک جنگجوں کو استعمال کرتا ہے یا تاجک قومی فوج کی مدد کرتا ہے، یہ اس کی صوابدید پر ہے۔ داعش کے ذریعے بھی اپنے مقاصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ امارات اسلامیہ کے قیام سے ہمسایہ ممالک میں بسنے والے طالبان کے ہم عقیدہ مسلمانوں کے جذبات، توقعات اور امیدوں نیز سرگرمیوں کا بڑھ جانا ایک بدیہی امر ہے، یہ صورتحال ہمسایہ ممالک کے معاشروں میں بھی بے چینی کو جنم دے گی، جو آج نہیں تو کل بین المعاشرہ ٹکراؤ پر منتج ہوسکتی ہے۔ لہذا کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ افغانستان سے خالی ہاتھ بالکل نہیں جا رہا، وہ اس سرزمین پر نفرت کے وہ بیج بو کر جا رہا ہے، جو اس پورے خطے اور ہمسایہ ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں، مبادا یہ کہ خطے کی طاقتیں اور ہمسایہ ممالک معاملات کو نہایت احتیاط سے ایک ایک کرکے سدھاریں۔