سید ثاقب اکبر

پاکستان، یہ ہُوا تو ہے

پاکستان میں ماضی میں بھی بہت کچھ ہوچکا ہے۔ امریکی مداخلت کی تاریخ کوئی نئی تو نہیں۔ حکومتوں کی تبدیلی میں اس کا کردار پہلے بھی معلوم، ملموس یا مشہود رہا ہے۔ ہمارے حکمران عالمی استعمار کے چشم و ابرو کا اشارہ پا کر کٹھ پتلیوں کی طرح رقص فرما Read more…

سید ثاقب اکبر

پاکستان جو پہلے کبھی نہیں دیکھا

اس وقت پاکستان میں جو فضا ہے، جو اٹھان، جو جوش و خروش، خود اعتمادی ہے اور عوام نیز ان کی قیادت کے مابین جو ولولہ انگیز رشتہ ہے، میں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ مجھے ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ عوام کی محبت کے مظاہرے یاد Read more…

سید ثاقب اکبر

غیر جانبدار رہنے کی قیمت تو دینا ہوگی

آج کل پاکستان میں یہ موضوع بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کے امور میں امریکہ مداخلت کر رہا ہے۔ اس کے لیے خاص طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے پیچھے امریکہ ہے۔ وہ اپنے Read more…

سید اسد عباس

افغانستان میں شرح افلاس اور بے رحم دنیا

افغانستان خطے کے لحاظ سے دنیا کا 41واں بڑا ملک ہے، جس کی آبادی افغانستان کے محکمہ شماریات کے مطابق تقریباً 32.9 ملین ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق یہ آبادی 38 ملین نفوس پر مشتمل ہے۔ ملک کی زیادہ آبادی دیہی علاقوں میں آباد ہے۔ افغانستان Read more…

سید اسد عباس

مسلم یونین کا خواب

انسان روز اول سے اپنے احوال کی بہتری کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس کی ترقی کا نقطہ آغاز ہمیشہ اونچے خوابوں اور تخیلات سے ہوتا ہے۔ کبھی ہواوں میں اڑنے کے خواب، کبھی دریاوں میں غوطہ زن ہونے کے خواب، کبھی خلا نوردی کے خواب، کبھی دولت و ثروت Read more…

سید اسد عباس

ولادیمیر پیوٹن کی سالانہ پریس کانفرنس کے اہم نکات کا خلاصہ

روس کے صدر ولادمیر پیوٹن نے آج یعنی 23 دسمبر کو کچھ دیر قبل ایک روایتی کانفرنس سے خطاب کیا۔ یہ کانفرنس سال کے اختتام پر منعقد کی جاتی ہے، جس میں سال بھر کے امور کے حوالے سے بات کی جاتی ہے۔ دنیا کے ایک موثر ملک کے سربراہ Read more…

سید اسد عباس

او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس اور افغان بحران

ایک ایسا وقت جب پاکستانی عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، روپے کی قیمت مسلسل تنزلی سے دوچار ہے۔ پیٹرول اور اشیائے ضرورت بشمول زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔ بے روزگاری اپنے عروج پر ہے۔ ملک میں گیس کا بحران ہے، ایسے میں حکومت پاکستان افغان ہمسایوں کے غم میں ہلکان ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ بات اکثر پاکستانیوں کے لیے حیران کن ہوسکتی ہے۔ پاکستانی شہریوں اور ہمارے کشمیری بھائیوں کو سوال کرنے کا حق ہے کہ پاکستان نے آج تک کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے او آئی سی کا اجلاس طلب نہیں کیا، اس اہم اجلاس کی کیا وجوہات ہیں اور یہ اجلاس اس قدر اہم کیوں تھا۔؟ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں او آئی سی کے اس غیر معمولی اجلاس میں ستر کے قریب غیر ملکی وفود نے شرکت کی۔ 57 ممبر ممالک میں سے بیس ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے جبکہ دس ممالک کے وزرائے مملکت نے اس اجلاس میں شرکت کی۔ اسی طرح مندوبین اور مبصرین جس میں یورپی یونین، اقوام متحدہ کے عہدیدار شامل ہیں، اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ (more…)

سید ثاقب اکبر

افغانستان میں داعش، چند حقائق

جب سے افغانستان میں طالبان کا اقتدار قائم ہوا ہے، داعش کی فعالیت اور کارروائیوں میں نسبتاً اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں کی رائے میں اس وقت طالبان کو سب سے زیادہ خطرہ داعش ہی سے ہے۔ ماضی میں طالبان حکومت کے مقابلے میں شمالی اتحاد قائم تھا اور افغانستان کے شمال کے کچھ علاقوں پر ان کا اقتدار بھی قائم تھا، لیکن چند ماہ قبل احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کی قیادت میں وادی پنج شیر میں جو مزاحمت معرض وجود میں آئی، طالبان کی اس کے خلاف فوجی کامیابی کے بعد اب اصولی طور پر کوئی قابل ذکر مزاحمت ان کی طرف سے باقی نہیں رہی۔ مزاحمت کا عنوان ان کے لیے اب داعش ہی ہے۔
افغانستان میں داعش کا قیام
(more…)

سید اسد عباس

افغانستان میں نئی عبوری حکومت اور خدشات(2)

طالبان نے افغانستان کے امور کو چلانے کے لیے اپنی 34 رکنی کابینہ کا اعلان کر دیا ہے، جس کا تعارف گذشتہ قسط میں پیش کیا گیا۔ اس کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے دنیا بھر میں جو اعتراض اٹھا، یہی تھا کہ اس کابینہ میں افغانستان کے تمام لسانی، علاقائی اور مذہبی گروہوں کو نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ یہ حکومت عبوری دور کے لیے ہے۔ طالبان کا یہ موقف رہا ہے کہ ہم افغانستان میں ایسی حکومت تشکیل دیں گے، جس میں افغانستان کی تمام قومیتوں، مسالک اور گروہوں کی نمائندگی ہوگی۔ (more…)

سید اسد عباس

افغانستان میں نئی عبوری حکومت اور خدشات(1)

افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضے کے 23 دن بعد افغان طالبان کے ترجمان نے وزیراعظم اور ان کے دو معاونین سمیت طالبان کی 34 رکنی عبوری کابینہ اور حکومت کا اعلان کیا، جس میں 20 وزراء اور سات نائب وزراء شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فوج اور افغان مرکزی بینک کے سربراہ سمیت حکومت کے ڈائریکٹر برائے انتظامی امور کا بھی تقرر کیا گیا ہے۔ ان 34 عہدوں میں تین افراد کے علاوہ تمام پشتون النسل مرد افغان ہیں اور کابینہ میں کسی خاتون کو شامل نہیں کیا گیا۔ طالبان کی اس نئی حکومت اور کابینہ میں 15 افراد کا تعلق جنوبی افغانستان سے، 10 کا جنوب مشرقی، پانچ کا مشرقی اور تین کا شمالی افغانستان سے ہے۔ ملا ہبت اللہ اخونزادہ کو افغان حکومت میں رہبر یا امیر المومنین کی حیثیت حاصل ہے جبکہ ملا حسن اخوند افغانستان کے نئے وزیراعظم، ملا عبدالغنی برادر اور مولوی عبدالسلام حنفی کو نائب وزرائے اعظم مقرر کیا گیا ہے۔ (more…)