الہیٰ سیاست کے خدوخال اسوہ رسول ؐ کے تناظر میں

Published by سید اسد عباس تقوی on

سید اسد عباس

آج سیاست دھوکہ دہی، استحصال اور بے اصولی کے مترادف ہوچکی ہے۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک، یونین کونسل سے لے کر ملکی اور عالمی سیاست تک، مذہبی سے لے کر سیکولر سیاست دانوں تک عموماً یہی عالم ہے۔ ہم اس امر سے آگاہ ہیں کہ علوم کی ترقی کے ساتھ سیاست نصاب کے طور پر بھی پڑھائی جانے لگی، علم سیاست کو سیاسیات (Political Science) کہتے ہیں۔ آج جس سیاست کو ہم جانتے ہیں، عملی سیاست ہے جبکہ جو کتابوں میں پڑھائی جاتی ہے، وہ علمی سیاست ہے۔ علمی سیاست میں بنیادی طور پر سیاست کے اہداف و مقاصد کو بیان کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ بنیادی طور پر سیاست کو کیا ہونا چاہیئے جبکہ عملی سیاست وہ ہے، جس کو انسان مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں۔

ہر سوچنے والے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ علمی اور عملی سیاست میں پایا جانے والا بعد کیوں ہے؟ ایک سوال کے جواب کے طور پر ایک چیز جو میرے ذہن میں آتی ہے، وہ یہ کہ اس بعد کی ایک وجہ توحید سے دوری ہے۔ جب انسان خدا پرست ہو، معاد پر یقین رکھتا ہو، اپنے اعمال کی جوابدہی کا تصور رکھتا ہو تو اس کی سیاست عدل و انصاف پر مبنی ہوگی جبکہ وہ شخص جو توحید پرست نہیں ہے، معاد کا قائل نہیں ہے، اسی دنیا کو سبھی کچھ جانتا ہے، اپنے آپ کو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتا۔ قوی امکان یہی ہے کہ اس کی سیاست دھوکہ، استحصال، بے اصولی اور ظلم سے عبارت ہوگی۔

ماہر سیاسیات ہیرولڈ لیسول سیاست کی تعریف یوں کرتے ہیں: "سیاست سے مراد یہ ہے کہ کون، کیسے اور کب، کیا حاصل کرے گا۔” (اس تعریف سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ انسان کے معاشرتی امور کو منظم کرنے کا نام ہے، یا ان اصولوں کا نام ہے، جس کی بنیاد پر اختیارات اور وسائل کو تقسیم کیا جاتا ہے۔) کیمونزم کے بانی لینن کا کہنا تھا کہ "سیاست معیشت کا انتہائی دقیق اظہار ہے۔” برناڈ کرک کے مطابق ’’سیاست قوانین کا ایک ایسا امتیازی مجموعہ ہے، جس میں لوگ اداراتی نظم کے تحت مل کر کام کرتے ہیں اور اپنے اختلافات کو حل کرتے ہیں، تاکہ متنوع مفادات اور اقدار کو حاصل کرسکیں اور مشترکہ اہداف کے لیے عوامی پالیسیاں بنا سکیں۔‘‘ مختلف ماہرین سیاسیات نے لفظ سیاست کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں، جن کو بیان کرنا ہمارا یہاں ہدف نہیں ہے۔ فقط یہ بتانا مقصود تھا کہ سیاست کا دائرہ کار فرد کے دوسروں سے روابط، وسائل اور اختیارات کی تقسیم سے لے کر قوموں کے باہمی روابط تک ہے۔

یہاں ایک واقعہ قابل ذکر ہے کہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی کو جب شاہ ایران کی افواج نے گرفتار کیا تو ساواک کے افسر نے آیت اللہ خمینی کو سمجھانے کی غرض سے کہا کہ آپ مولانا ہیں، سیاست سے آپ کو کیا مطلب، یہ تو ایک غلیظ کام ہے، آپ اس سے اجتناب کیوں نہیں کرتے تو اس افسر کو جواب دیتے ہوئے آیت اللہ خمینی نے کہا کہ ہماری سیاست نیکی کا کام ہے اور خدمت انسانیت سے عبارت ہے۔ یہاں آیت اللہ خمینی نے ایک خدا پرست اور خدا پر عملاً ایمان نہ رکھنے والے فرد کی سیاست کا فرق واضح کیا۔ مسلمانوں کے اندر سیاست اور دین کو جدا جدا کرنے کی تحریک بھی اسی وجہ سے موجود رہی کہ سیاست کو برے افراد کا کام سمجھا جاتا تھا، حالانکہ سیاست جیسا کہ ماہرین سیاسیات کے اقوال بیان کیے گئے، اس چیز کا نام ہے کہ امور کو کیسے منظم کیا جائے اور کسے، کب اور کیا دیا جائے، یعنی وسائل و اختیارات کیسے تقسیم ہوں۔ یہ عادلانہ معاشرے کے قیام کی بنیادی ضرورت ہے، جسے کار انبیاء یا خدمت انسانیت ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔

اس مقالے کو تحریر کرنے کا اصل سبب میرے نزدیک سید المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیاسی روش کو پیش کرنا ہے۔ جس سے ہم الہیٰ سیاست کے خدوخال اور اس کی خصوصیات کو زیادہ بہتر انداز سے سمجھنے کے قابل ہوسکیں گے۔ اردو لٹریچر میں اس موضوع پر دو افراد کی تحریریں میری نظر سے گزریں، ممکن ہے اس کے علاوہ بھی کسی شخص نے کچھ لکھا ہو، تاہم میں اس سے لاعلم ہوں۔ تراجم اس کے علاوہ ہیں۔ ’’رسول اکرم ؐ بحیثیت ایک سیاسی مدبر‘‘ کے زیر عنوان اس موضوع پر بات کرنے والی پہلی شخصیت مولانا سید ابو الاعلی مودودی ہیں اور دوسری شخصیت امین اصلاحی صاحب ہیں۔ امین اصلاحی صاحب نے اپنے مقالے کے اختتام پر اور مولانا مودودی نے اپنے مقالے کے شروع میں اس امر کی وضاحت کی ہے کہ حضور اکرم ؐ فقط ایک سیاست دان نہ تھے بلکہ ایک نبی اور رسول تھے۔ ان دونوں شخصیات نے اپنے مقالات میں رسول اکرم ؐ کی سیاست کے خدوخال اور خصوصیات کو بیان کیا ہے۔

شیخ امین اصلاحی اپنے مقالے میں تحریر کرتے ہیں: ’’اس امر واقعی سے ہر شخص واقف ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ (وآلہ) وسلم کی بعثت سے پہلے عرب قوم سیاسی اعتبار سے ایک نہایت پست حال قوم تھی۔ مشہور مؤرخ علامہ ابن خلدون نے تو ان کو ان کے مزاج کے اعتبار سے بھی ایک بالکل غیر سیاسی قوم قرار دیا ہے۔ ممکن ہے کہ بعض لوگوں کو اس رائے سے پورا پورا اتفاق نہ ہو، تاہم اس حقیقت سے تو کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اہل عرب اسلام سے پہلے اپنی پوری تاریخ میں کبھی وحدت اور مرکزیت سے آشنا نہ ہوئے، بلکہ ہمیشہ ان پر نراج اور انارکی کا تسلط رہا۔ پوری قوم جنگجو اور باہم نبرد آزما قبائل کا ایک مجموعہ تھی، جس کی ساری قوت و صلاحیت خانہ جنگیوں اور آپس کی لوٹ مار میں برباد ہوتی تھی۔ اتحاد، تنظیم، شعور قومیت اور حکم و اطاعت وغیرہ جیسی چیزیں جن پر اجتماعی اور سیاسی زندگی کی بنیادیں قائم ہوتی ہیں، ان کے اندر یکسر مفقود تھیں۔ ایک خاص بدویانہ حالت پر صدیوں تک زندگی گزارتے گزارتے ان کا مزاج نراج پسندی کے لیے اتنا پختہ ہوچکا تھا کہ ان کے اندر وحدت و مرکزیت پیدا کرنا ایک امر محال بن چکا تھا۔

خود قرآن نے ان کو "قَوْمًا لُّدًّا” کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے، جس کے معنی جھگڑالو قوم کے ہیں اور ان کی وحدت و تنظیم کے بارے میں فرمایا ہے کہ "لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِھِمْ” (اگر تم زمین کے سارے خزانے بھی خرچ کر ڈالتے جب بھی ان کے دلوں کو آپس میں جوڑ نہیں سکتے تھے)۔‘‘ امین اصلاحی صاحب کے مطابق رسول اکرم ؐ نے فقط 23 برس کے عرصے میں اسے غیر منظم، بے شعور قوم کو منظم اور باشعور قوم بنا دیا۔ امین اصلاحی اپنے مقالے میں مزید تحریر کرتے ہیں: ’’اس تنظیم و تالیف کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک بالکل اصولی اور انسانی تنظیم تھی۔ اس کے پیدا کرنے میں حضور صلی اللہ علیہ (وآلہ) وسلم نے نہ تو قومی، نسلی، لسانی اور جغرافیائی تعصبات سے کوئی فائدہ اٹھایا، نہ قومی حوصلوں کی انگیخت سے کوئی کام لیا، نہ دنیوی مفادات کا کوئی لالچ دلایا، نہ کسی دشمن کے ہوّے سے لوگوں کو ڈرایا۔ دنیا میں جتنے بھی چھوٹے بڑے مدبر اور سیاست دان گزرے ہیں، انھوں نے ہمیشہ اپنے سیاسی منصوبوں کی تکمیل میں انہی محرکات سے کام لیا ہے۔

اگر حضور صلی اللہ علیہ (وآلہ) وسلم بھی ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتے تو یہ بات آپ کی قوم کے مزاج کے بالکل مطابق ہوتی، لیکن آپ نے نہ صرف یہ کہ ان چیزوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا، بلکہ ان میں سے ہر چیز کو ایک فتنہ قرار دیا اور ہر فتنہ کی خود اپنے ہاتھوں سے بیخ کنی فرمائی۔ آپ نے اپنی قوم کو صرف خدا کی بندگی اور اطاعت، عالم گیر انسانی اخوت، ہمہ گیر عدل و انصاف، اعلاے کلمۃ اللہ اور خوف آخرت کے محرکات سے جگایا۔ یہ سارے محرکات نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ تھے، اس وجہ سے آپ کی مساعی سے دنیا کی قوموں میں صرف ایک قوم کا اضافہ نہیں ہوا، بلکہ ایک بہترین امت ظہور میں آئی، جس کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے: کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ تم دنیا کی بہترین امت ہو، جو لوگوں کو نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لیے اٹھائے گئے ہو
مولانا مودودی نے رسول اکرم ؐ کی سیاسی روش اور ان خصوصیات کو قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ان میں غیر منظم اور بے شعور قوم کی نئی شیرازہ بندی، اصلاح معاشرہ، اصولوں کی پاسداری، اصولوں کی سیاست، خون ریزی سے پاک پرامن انقلاب، دنیاوی کرو فر کے بجائے درویشانہ اور زاہدانہ زندگی کو اختیار کرنا، تربیت یافتہ رفقاء کی تیاری وغیرہ شامل ہیں۔ علمی بنیادوں پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیاسی روش کو اگر بیان کیا جائے تو شاید اس کے لیے کئی کتب درکار ہوں، تاہم جو بات اس سب کا ملخص ہے، وہ عقیدہ توحید اور اس کے مطابق اخلاص سے عمل ہے۔ توحید ہی انسانیت کی فلاح کی کنجی ہے۔ رسالت مآب ؐ نے عرب معاشرے کو جو پتھر کے کئی اصنام اور اپنی ذات کے متعدد بتوں کی پجاری تھے، کو حقیقی معنوں میں ایک خدا کا پیرو بنا دیا۔ اس توحید پرستی نے روحانیت، معنویت اور معاد پر ایمان کو مستحکم کیا۔ اس خدا پرستی نے رحم، ایثار، قربانی اور مساوات کو جنم دیا۔ بکھرے ہوئے معاشرے کو ایک اکائی بنا دیا، یعنی کیسے کیا، کب اور کیسے دینا ہے کے لیے اس فلسفی بنیاد کو مہیا کیا، جو آج تک مغرب کے پاس نہیں ہے۔ مغرب آج ترقی یافتہ سیاسی نظام، قوانین، آئین اور ادارے تو رکھتا ہے، تاہم اس کے پاس وہ کنجی نہیں ہے، جو رسالت مآب ؐ نے چودہ سو برس قبل عرب معاشرے اور تاقیام قیامت آنے والی انسانیت کے سپرد کی۔
بشکریہ: اسلام ٹائمز