سید ثاقب اکبر

مکتب سلیمانی(مصنف: حسن رضا نقوی)

اگر کوئی اسے غلو نہ سمجھے تو مجھے یوں لگتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حفاظت اور اسلامی مزاحمت کی معجزانہ پیشرفت میں تین افراد کا کردار بنیادی ہے۔ ایک سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، دوسرے حضرت ابو الفضل العباسؑ اور تیسرے ان کے Read more…

سید ثاقب اکبر

پاکستانیو! شیطان کی معرفت ضروری ہے

قرآن حکیم نے شیطان کو انسانوں کا کھلا دشمن قرار دیا ہے۔ یہ وہی کھلا دشمن ہے، جو انسان کو جنت جیسے مقام سے دھوکہ دے کر نکال دیتا ہے۔ یہ شیطان ہے، جو اپنے آپ کو انسان کا خیر خواہ ظاہر کرتا ہے اور پھر انسان کے لیے بلندیوں Read more…

سید ثاقب اکبر

دو برادر ادارے، ملی یکجہتی کونسل اور مجمع تقریب مذاہب اسلامی

ملی یکجہتی کونسل کی دعوت پر ان دنوں مجمع تقریب مذاہب اسلامی کا وفد پاکستان کے دورے پر ہے۔ وفد کی سربراہی مجمع کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ ڈاکٹر حمید شہریاری کر رہے ہیں۔ ان کے وفد میں مولانا نذیر احمد سلامی بھی شامل ہیں، جو ایران کی رہبر کونسل Read more…

سید اسد عباس

الہیٰ سیاست کے خدوخال اسوہ رسول ؐ کے تناظر میں

آج سیاست دھوکہ دہی، استحصال اور بے اصولی کے مترادف ہوچکی ہے۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک، یونین کونسل سے لے کر ملکی اور عالمی سیاست تک، مذہبی سے لے کر سیکولر سیاست دانوں تک عموماً یہی عالم ہے۔ ہم اس امر سے آگاہ ہیں کہ علوم کی ترقی کے ساتھ سیاست نصاب کے طور پر بھی پڑھائی جانے لگی، علم سیاست کو سیاسیات (Political Science) کہتے ہیں۔ آج جس سیاست کو ہم جانتے ہیں، عملی سیاست ہے جبکہ جو کتابوں میں پڑھائی جاتی ہے، وہ علمی سیاست ہے۔ علمی سیاست میں بنیادی طور پر سیاست کے اہداف و مقاصد کو بیان کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ بنیادی طور پر سیاست کو کیا ہونا چاہیئے جبکہ عملی سیاست وہ ہے، جس کو انسان مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں۔ (more…)

اورکزی؛ قومی وحدتِ کونسل کی جانب سے "مسئلہ فلسطین افکار امام خمینی کے تناظر میں” کے عنوان سے عظیم الشان اجتماع

حوزہ/ جامع مسجد کریز ضلع اورکزی میں حضرت امام خمینی رح کی بتیسویں برسی کے حوالے سے قومی وحدتِ کونسل کی طرف سے ‘مسئلہ فلسطین افکار امام خمینی کے تناظر میں’ کے عنوان سے عظیم الشان اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ جسمیں جید علماء کرام نے خطاب فرمایا اور عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ (more…)

سید ثاقب اکبر

کیا امام خمینیؒ کشمیری تھے؟(2)

امام خمینیؒ کے جد اعلیٰ سید حیدر موسوی کشمیر میں
سید حیدر موسوی 776ھ میں کشمیر کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ ماں باپ دونوں کی طرف سے حسینی سید تھے۔ جس زمانے میں سید حیدر کشمیر پہنچے، اس زمانے میں وہاں سلطان شہاب الدین شاہ میری کی حکومت تھی۔ یاد رہے کہ شاہ میری خاندان 1339ء تا 1561ء کشمیر پر حکمران رہا۔ سلطان شہاب الدین شاہ میری سید حیدر موسوی اور دیگر سادات کا بہت احترام کرتا تھا۔ (more…)

تہذیب ساز تبدیلی امت اسلامیہ اور حقیقی تبدیلی

۵ جون تہذیب ساز تبدیلی امت اسلامیہ اور حقیقی تبدیلی

کرونا کی مشکلات کے سبب بہت سے ادارے آن لائن پروگراموں کا انعقاد کر رہے ہیں ، جامعہ المصطفی العالمی نے بھی برسی امام خمینی کے عنوان سے ایک سیمینار در بالا عنوان کے تحت منعقد کیا جس میں ملی یکجہتی کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر زبیر ، علامہ امین شہیدی، مولانا شہنشاہ نقوی ، علامہ سید ثاقب اکبر اور ایرانی مہمان نے شرکت کی ۔ (more…)

سید اسد عباس

امام خمینی سے متعلق عاشق امام کی ایک منفرد تالیف

گذشتہ دنوں ایک انوکھی اور اچھوتی کتاب پڑھنے کا موقع ملا، انوکھی اور اچھوتی یوں کہ امام خمینی کے بارے میں لکھی جانے والی اکثر کتب ان کے ثقیل نظریات اور تحریک سے متعلق ہوتی ہیں۔ یہ ہلکی پھلکی کتاب امام کی شخصیت کے بارے تھی۔ کتاب کا نام اس کے مولف نے ’’یادوں کے اجالے (خمین سے بہشت زھراء تک)” تجویز کیا۔ کتاب کے مولف ڈاکٹر راشد عباس نقوی ہیں، جو اس کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں: (more…)

سید ثاقب اکبر

کیا امام خمینیؒ کشمیری تھے؟

تحریر: ثاقب اکبر حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے بارے میں یہ سوال ہم ایک عرصے سے سنتے آئے ہیں تو کیا وہ کشمیری یا ہندی (ہندوستانی) تھے۔ یہ سوال اس وقت بھی اٹھایا گیا، جب آپ اسلامی تحریک کی قیادت کر رہے تھے۔ سابق شاہ ایران اور اس Read more…

سید ثاقب اکبر

بانی انقلاب اسلامی امام خمینیؒ کی پیشگوئیاں(2)

4۔ عراق کے کویت پر حملے کی پیشگوئی
1980ء میں عراق کے صدر صدام حسین نے عالمی طاقتوں کے ایما پر ایران پر حملہ کر دیا۔ اسے علاقے کے رجعت پسند حکمرانوں اور ڈکٹیٹروں کی حمایت حاصل تھی، جن میں کویت کی شاہی حکومت بھی شامل تھی۔ امام خمینیؒ نے ان حکمرانوں کو مختلف مواقع پر ان کے انجام سے خبردار کیا۔ کویت کے حکمران اس زمانے میں عراق کی بے پناہ مالی امداد کرتے رہے۔ امام خمینیؒ نے انھیں اس کام سے منع کیا۔ آپ نے فرمایا: ’’اس کام سے باز آجائو کیونکہ ایک دن فتنے کی آگ تمھارے دامن تک آپہنچے گی۔۔۔ صدام کی درندگی کی اس عادت میں ذرہ بھر فرق نہیں پڑا بلکہ وہ عالمی اداروں اور لٹیروں کی خاموشی کے باعث ایک زخمی بھیڑیے میں تبدیل ہوچکا ہے، وہ آگے بڑھتا جا رہا ہے، تاکہ جنگ کی آگ کو علاقے کے دیگر ممالک اور خاص طور پر خلیج فارس میں بھڑکا سکے۔‘‘ (صحیفہ امام، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ج20، ص328و329)
(more…)