Skip to content
اموی سکہ

اموی شام، مسیحی اکثریت اور مذہبی رواداری(1)

ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں نے رحلت رسول ؐ کے بعد شام، مصر اور ایران کو فتح کیا، تاہم کیا فتح کے وقت ان علاقوں کی آبادی ویسے ہی حلقہ بگوش اسلام ہوگئی تھی، جیسے فتح مکہ کے وقت ہوئی۔؟ یہ سوال بہت اہم ہے کہ ان ممالک میں تبلیغ دین اسلام کا کیا اہتمام کیا گیا۔؟ کب ان ممالک کی آبادیوں نے اپنے آبائی دین کو چھوڑا۔؟ مسلمانوں کے بارے مقامی آبادیوں کا تصور اور ردعمل کیا تھا۔؟ حملہ آوروں سے نمنٹنے کے لیے سماج نے کیا حکمت عملی اختیار کی۔؟ ہم کہیں کہ شام کے 30 سے 60 لاکھ مسیحی دمشق کی فتح کے ساتھ ہی پکے مسلمان بن گئے تھے تو یہ تاریخی طور پر درست نہیں ہے۔ اسی طرح ایران اور مصر کے بارے بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہاں اتنے بڑے پیمانے پر دین میں بدلاؤ ہوا۔ یہ معلومات ہمیں کہاں سے مل سکتی ہیں۔؟ اسلامی تاریخ تو اس موضوع پر خاموش ہے۔ یہ وہ مقام ہے، جہاں ہمیں ان سماجوں کی علمی روایت کو کھنگالنا ہوگا۔مسلم سماج اور اس کے مفتوحہ علاقوں کو قدیم تاریخی منابع سے سمجھے بغیر ہم رحلت ختمی مرتبت کے بعد کے واقعات کو بھی کماحقہ نہیں سمجھ سکتے، ہمیں نہیں معلوم ہوگا کہ شام کو بنی امیہ کے حوالے کیوں کیا گیا۔؟ جنگ صفین کیوں ہوئی۔؟ امیر المومنین کے خطبات کس تناظر اور کون سے سامعین کو مدنظر رکھ کر دیئے گئے۔؟ جنگ سے اجتناب کے مشورہ کے باوجود ایسا کیوں نہ کیا۔؟ امام حسن صلح پر مجبور کیوں ہوئے۔؟ کربلا کیوں برپا ہوئی۔؟ شام میں اسرائے اہل بیت ؑ کے خطابات کا کیا مطلب تھا، اولاد رسول ؐ کے قتل اور اسارت پر جشن کیوں منایا گیا۔؟ واقعہ حرہ کیوں ہوا۔؟ بیت اللہ کو آگ کیوں لگائی گئی۔؟ مسجد نبوی میں گھوڑے کیوں باندھے گئے۔؟ امام باقر اور امام جعفر صادق نے علوم دین کی ترویج اور شبہات کے جوابات پر توجہ کیوں مرکوز رکھی۔؟ یہ وہ سوالات ہیں، جن کا حقیقی جواب صدر اسلام کی مسلم ریاست کے سماج کو سمجھے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

syedasadabbas

امریکی افواج کا عراق سے دوسرا مکمل انخلاء

امریکی افواج کا عراق سے حالیہ انخلاء ایران امریکہ جنگ کے فیوض و برکات میں سے ایک ہے، تاہم عراقی صورتحال اور ماضی کی مثال کے تناظر میں آنکھیں اور کان کھلے رکھنے کی ضرورت ہے۔ کرد ریاست میں آج بھی امریکی اور اسرائیلی مراکز موجود ہیں، جو کسی وقت عراق کے سیاسی و سکیورٹی حالات کو دگرگوں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 2012ء کا امریکی انخلاء 2014ء میں داعش کا ظہور نیز امریکی افواج کی واپسی قدرتی حادثات نہیں بلکہ ان کے لیے ایک طویل عرصہ منصوبہ بندی، تربیت اور تیاری کی گئی تھی۔ عین ممکن ہے کہ اب بھی کسی ایسی ہی تیاری کے ساتھ عراق کو خیرباد کہا گیا ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عراقی سیاسی نظام، سکیورٹی نظم نیز معاشی معاملات سے امریکہ کو مکمل طور پر بے دخل کر دیا جائے، اس وقت تک عراق میں مطلوبہ تبدیلی ممکن نہیں۔

syedasadabbas

امریکی مڈ ٹرم انتخابات نومبر 2026ء

مڈ ٹرم انتخابات، امریکی صدر کی چار سالہ مدت کے ٹھیک وسط میں ہر چار سال بعد منعقد ہوتے ہیں اور انھیں موجود انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک عوامی ریفرنڈم سمجھا جاتا ہے۔ ان انتخابات میں صدر کا انتخاب نہیں ہوتا بلکہ امریکی عوام ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینٹ کی ایک تہائی (تقریباً 34) نشستوں اور متعدد ریاستوں کے گورنرز و مقامی نمائندوں کو چنتی ہے۔ امریکہ میں اس مرتبہ مڈ ٹرم انتخابات 3 نومبر 2026ء کو ہونا قرار پائے ہیں۔ اس وقت 119ویں کانگریس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو سینٹ کی 100 میں سے 53 اور ایوانِ نمائندگان یعنی کانگریس میں 435 میں سے 218 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل ہیں۔ اگر مڈ ٹرم نتائج میں ڈیموکریٹس کسی ایک یا دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ حکومت کے لیے قانون سازی، بجٹ کی منظوری اور پالیسیوں کا نفاذ شدید دشوار ہو جائے گا اور انتظامیہ کو سخت پارلیمانی تحقیقات و رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ ریپبلکن اکثریت برقرار رہنے کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ بغیر کسی بڑے چیلنج کے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے گی۔ یہ بلا شبہ امریکہ اور دنیا کی حالیہ تاریخ کے سب سے اہم وسط مدتی انتخابات میں سے ایک ہوں گے۔

syedasadabbas

اموی شام کا صلیبی لشکر اور سماج

بعثت رسول اکرم ؐ سے قبل شام نہ فقط تجارتی بلکہ علمی، فکری اور سیاسی مرکز بھی تھا، جہاں سریانی اور یونانی زبان بولی جاتی تھی۔ یہ بازنطینی ریاست کا سرحدی صوبہ تھا، جہاں مختلف مسیحی عرب قبائل اور دیگر اقوام آباد تھیں۔ شام 64 قبل مسیح میں رومن سلطنت کا حصہ بنا۔ Kennedy, David L. (January 2006) اپنے مقالے بعنوان "شام میں آبادی اور ڈیموگرافی” میں تحریر کرتے ہیں کہ پہلی صدی عیسوی میں پوری سرزمینِ شام (لیوانٹ) کی آبادی کے تخمینے 35 سے 40 لاکھ سے لے کر 60 لاکھ کے درمیان ہیں۔ مسلمانوں کی بازنطینی ریاست کے اس صوبے اور بالخصوص عرب مسیحی قبیلے بنی غسان سے مڈبھیڑ کا آغاز رسول اکرم ؐ کی زندگی میں ہوچکا تھا، جو خلفائے ثلاثہ کے ادوار میں جاری رہا۔ 640 عیسوی میں خلیفہ ثانی نے بنی امیہ کی معروف شخصیت ابو سفیان کے فرزند کو شام کا گورنر مقرر کیا، یوں شام میں بنی امیہ کے اقتدار کا آغاز ہوا۔

syedasadabbas

یمن میں بنی فاطمہ کے اقتدار کا چوتھا دور

یمن کل 21 صوبوں (محافظات) اور ایک دارالحکومت کے خصوصی ضلع (أمانة العاصمة) پر مشتمل ہے۔ زمینی کنٹرول کے اعتبار سے یمن اس وقت دو اہم حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ حوثیوں (انصار اللہ) کے پاس ملک کے کل رقبے کا تقریباً 30 سے 35 فیصد علاقہ ہے، لیکن اس علاقے میں یمن کی کل آبادی کا تقریباً 70 سے 80 فیصد حصہ آباد ہے۔صنعاء، صعدہ، عمران، ذمار، محویت، ریمہ، اب، بیضاء، حدیدہ، حجہ پر حوثیوں کا مکمل کنڑول ہے۔ حال ہی میں تعز، الجوف، مارب میں حوثیوں نے پیشرفت کی ہے۔ ان کی افواج گذشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں باب المندب کی اہم بندرگاہ تک پہنچ چکی ہیں۔ عدن، لحج، ابین، الضالع، شبوہ، حضرموت، المہرہ، سقطری پر حوثیوں کا کنڑول نہیں ہے، تاہم عدن، لحج کے علاوہ تمام علاقے صحرائی علاقے ہیں، جہاں آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔

syedasadabbas

واقعہ مباہلہ :ہادی، ہدایت اور روش حق

اسلام کا بنیادی پیغام امن، رواداری، احترامِ انسانیت اور معقولیت پر مبنی ہے۔ تاریخِ اسلام اس بات کی شاہد ہے کہ دینِ مبین کی اشاعت کا اصل سبب تلوار کا زور نہیں بلکہ اس کی اخلاقی برتری، اعلیٰ کردار اور حسنِ تعامل تھا۔ اسی سلسلے کا ایک روشن اور عالمگیر باب "واقعہِ مباہلہ” ہے، جو ۹ ہجری میں نجران کے مسیحی وفد اور رسولِ اکرم ﷺ کے مابین پیش آیا۔
زیرِ نظر مقالہ "واقعہ مباہلہ: ہادی، ہدایت اور روشِ حق”، معروف محقق و قلمکار سید اسد عباس کا ایک بصیرت افروز اور علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے نجران کے مسیحیوں کے ساتھ رسولِ خدا ﷺ کے مناظرے، رویے اور معاہدہِ صلح کے سیاسی و سماجی پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔
مصنف نے مقالے میں یہ بات واضح کی ہے کہ میدانِ مباہلہ میں پنجتنِ پاک (رسولِ اکرم ﷺ، حضرت علیؑ، حضرت فاطمہؑ، اور حسنین کریمینؑ) کا ورود جہاں اس خانوادے کی بے نظیر معنوی اور الٰہی فضیلت کو آشکار کرتا ہے، وہاں یہ واقعہ عصرِ حاضر میں گفتگو، بین المذاہب مکالمے (Interfaith Dialogue) اور پرامن بقائے باہمی کا ایک بہترین نمونہ بھی پیش کرتا ہے۔ مصنف نے برصغیر کے مفسرین کے نقطہ ہائے نظر کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر آج بھی امتِ مسلمہ شدت پسندی اور انتہا پسندی کے دلدل سے نکلنا چاہتی ہے تو اسے واقعہِ مباہلہ میں موجود ہدایت اور "روشِ حق” کو اپنا مشعلِ راہ بنانا ہوگا۔

syedasadabbas

فاطمہؑ کا گھرانہ

اسلامی تاریخ اور فکر میں خانوادہِ وحی و رسالت کو ایک مرکزی اور ممتاز مقام حاصل ہے۔ یہ گھرانہ محض چند افراد کے اجتماعی وجود کا نام نہیں، بلکہ بارگاہِ الٰہی سے منتخب کردہ وہ پاکیزہ مکتب ہے جس کی پرورش خود رسولِ اکرم ﷺ کی آغوشِ تربیت میں ہوئی۔ زیرِ نظر مضمون "فاطمہؑ کا گھرانہ”، مصنف سید اسد عباس کا ایک علمی و تحلیلی کاوش ہے جس میں انہوں نے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کے مقدس خانوادے کی دینی، تاریخی اور معنوی منزلت کو پیش کیا ہے۔

مضمون نگار نے نہج البلاغہ کے خطبات، فریقین کی معتبر کتبِ احادیث اور مسلمہ تاریخی شواہد کی روشنی میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کا حضرت علیؑ اور سیدہ فاطمہؑ سے تعلق محض ایک روایتی پدری یا خاندانی محبت تک محدود نہ تھا، بلکہ یہ ایک الٰہی حسنِ ترتیب اور بصیرت پر مبنی رویہ تھا جو بقائے دین اور حفاظتِ اسلام کی بنیاد بنا۔

اس تحریر کا بنیادی محور یہ سمجھانا ہے کہ اس گھرانے کی تعظیم، ان کی مرضی کو مرضیِ الٰہی قرار دینا، اور ان کی محبت کو فرض قرار دینا دراصل امتِ مسلمہ کو ہدایت کے حقیقی اور غیر متزلزل مرکز سے منسلک رکھنا تھا۔ مصنف نے تاریخی تعصبات اور غیر ضروری مناقشات سے ہٹ کر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ خانوادہِ عصمت و طہارت ہی ہر دور میں معیارِ حق اور دینِ خدا کا حقیقی مدافع رہا ہے۔

syedasadabbas

شہید امت سید علی خامنہ ای بحیثیت قائد و رہبر

انھوں نے امام خمینی کے انقلابی اصولوں پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے ایک طرف جہاں ملکی دفاع کو بیلسٹک میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کی بدولت ناقابلِ تسخیر بنایا اور سائنسی و جوہری میدان میں ایران کو خود کفالت کی راہ پر گامزن کیا، تو دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں "محورِ مزاحمت” کی آبیاری کرکے خطے کے سیاسی نقشے کو بدل کر رکھ دیا۔ ان کی قیادت کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا فکری تدبر ہے، جس کے ذریعے انھوں نے قرآنی تعلیمات کو سیاسی و معاشی نظام کی بنیاد بنایا، مسلم اتحاد کے لیے عملی اقدامات کیے اور اندرونی فتنوں و سازشوں کا مقابلہ بندوق کے بجائے عوامی بصیرت اور قانون کی بالادستی سے کیا۔ خلاصہ یہ کہ وہ محض ایک روایتی مذہبی پیشوا نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک عالمی رہنماء ثابت ہوئے، جنھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وجود کا تحفظ کرتے ہوئے اسے خطے کی ایک ناگزیر اور خود مختار سیاسی و فوجی طاقت بنا دیا۔ خداوند کریم شہید امت کو اپنے برگزیدہ بندوں میں محشور فرمائے۔ آمین