چھے ماہ کی مزاحمت بمقابلہ اسی سالہ حکمت عملی
اس امر پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے کہ دنیا میں بسنے والی ایک دینی رشتے میں بندھی ہوئی مسلم آبادی کا سیاسی بیانیہ افتراق کا شکار رہا ہے۔ قومیتوں، نسلوں کی بنیاد پر تشکیل پانے والی مسلمان ریاستیں واضح دینی تعلیمات کے باوجود اپنی عصبیتوں سے نہ نکل سکیں۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد دینی رشتے اور مرکزی حکومت پر عرب قوم پرستی کو ترجیح دی گئی، جس کے نتیجے میں "سائیکس پیکو معاہدے” (Sykes-Picot Agreement) کے تحت پوری عثمانی ریاست چھوٹے چھوٹے قومی اور لسانی ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ نفسا نفسی کا یہ عالم ہے کہ ہر حکومت کو اپنے اقتدار کا غم کھائے جاتا ہے۔ اکثر ممالک میں آمریت، بادشاہت کا دور دورہ ہے، مقتدر افراد اپنے ہی لوگوں کو فتح کرنے کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے امت کے وسائل کو بے دریغ لٹایا جارہا ہے۔ امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کبھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرتے ہیں، کبھی جہاز تحفے میں دیتے ہیں کبھی ناموس کو ان کے سامنے نچاتے ہیں تاکہ صاحب بہادر خوش ہو جائیں۔

