Skip to content
سید ثاقب اکبر

علامہ اقبال کا تحرک انگیز نظریہ اورنوجوان نسل

علامہ اقبال کا نظریۂ اجتہاد اسلام کی ترقی پسند روح کی عکاسی کرتا ہے، جس کے مطابق بنیادی عقائد، اخلاقی اقدار اور انسانی فطرت کی مستقل خصوصیات میں تبدیلی نہیں آتی، جبکہ قوانین، انتظامی نظام، معاشرتی معاملات اور دیگر انسانی امور وقت، حالات اور ضرورت کے مطابق تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک ترقی کے لیے تغیر اور ثبات میں توازن ضروری ہے اور نوجوان نسل کو رجعت پسندی، جمود اور نئے حالات سے خوف کے بجائے اجتہاد، ارتقا اور مثبت تبدیلی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ والدین کو بھی نئی نسل کے لباس، موسیقی اور ادب جیسے رجحانات کو اس وقت قبول کرنا چاہیے جب وہ بنیادی اخلاقی و انسانی اقدار سے متصادم نہ ہوں۔ اقبال نوجوانوں سے بڑی امیدیں وابستہ کرتے ہیں اور انہیں شاہین کی مانند بلند نظری، خود اعتمادی، بلند پروازی، آزادیِ فکر اور مقصدِ حیات کی جستجو کی تلقین کرتے ہیں؛ وہ ایسی مادی وابستگی سے خبردار کرتے ہیں جو انسان کی روحانی پرواز محدود کردے۔ ان کا تصورِ تعلیم انسان کو اپنی شناخت، مقام اور ذمہ داری کا شعور دینے اور فلسفۂ خودی کے ذریعے اسے اپنی حقیقی حیثیت پہچاننے کی دعوت دیتا ہے۔ اقبال کے نزدیک انسان کائنات میں ایک باوقار مقام رکھتا ہے، اس لیے اسے اپنے مقصد، کردار اور ذمہ داری کو سمجھنا چاہیے۔ اقبال کی فکر کی انفرادیت یہ ہے کہ اس نے ایک عظیم ریاست کے قیام میں فکری بنیاد فراہم کی، اس لیے نوجوان نسل تک ان کا پیغام پہنچانا، نصاب میں اقبال شناسی کو مؤثر طور پر شامل کرنا اور ان کی تعلیمات کو عملی زندگی سے جوڑنا ضروری ہے۔ اقبال کسی ایک قوم تک محدود نہیں بلکہ عالمی فکری سرمایہ ہیں، ان کا پیغام آج بھی حرکت، خودی، ترقی اور انقلاب کی تحریک دے سکتا ہے، جبکہ ایران سمیت دنیا کے مختلف حلقوں میں ان کی فکر سے اثر پذیری اس کی عالمگیریت کو ظاہر کرتی ہے۔

سید ثاقب اکبر

اقبال کا نظریۂ اجماع اور عالم اسلام میں اس کا عملی ارتقاء۔۔۔ایک جائزہ

علامہ اقبال کے نزدیک "اجماع” اسلامی قانون کا ایک بنیادی اور اہم ترین مآخذ ہے، جو تاریخی وجوہات اور ملوکیت کے تسلط کے باعث صدرِ اسلام کے بعد ایک مستقل ادارے کی شکل اختیار نہ کر سکا۔ عصرِ حاضر میں اقبال نے اجماع کی تعبیر یہ کی ہے کہ کسی خطے یا ملک کی نمائندہ قانون ساز اسمبلی شریعت کے مقاصد اور عصری تقاضوں کی روشنی میں اتفاقِ رائے سے فیصلہ کرے۔ عالمِ اسلام میں اس نظریے کا عملی ارتقاء ایران کے ادارے "شورائے نگہبان” اور پاکستان کی "اسلامی نظریاتی کونسل” کی شکل میں سامنے آیا، اگرچہ ایران میں شورائے نگہبان کی توثیق قانون سازی کے لیے لازمی ہے جبکہ پاکستان میں کونسل کی حیثیت بنیادی طور پر مشاورتی ہے۔ جدید دور میں اس اجتہادی و تشریعی سفر کو موثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ روایتی فقہی نصاب کی اصلاح کی جائے اور "مقاصدِ شریعت” (دین، جان، مال، عقل اور نسل کی حفاظت) کو بنیادی رہنماء اصول بنایا جائے۔ عالمِ اسلام میں جمہوری روح کی بیداری اور مجالسِ قانون ساز کا قیام اس بات کا پیش خیمہ ہے کہ منتقل شدہ حقِ اجتہاد کے ذریعے فرقہ وارانہ تعصبات سے بالاتر ہو کر ایک جامع، آفاقی اور تحرک زا اسلامی قانون تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

سید ثاقب اکبر

اقبال اور عشق رسولؐ

عشق دراصل وسیع، ہمہ گیر اور لا متناہی انسانی جذبوںکی پرواز کا نام ہے اور یہ بقا کی طرف ایک سفر ہے اسی میں رمز تخلیق انسانی اور انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا راز پنہاں ہے یہی وہ کیفیت ہے جو انسان کو تمام وابستگیوں سے کاٹ کر ایک سے متصل کر دیتی ہے اور اس میں ارتکاز کی ایک حالت پیدا ہوجاتی ہے۔یہاں تک کہ تمام مادی کائنات انسان کے سامنے ہیچ ہوجاتی ہے ،گویا ایک عاشق کے لیے اس کی یہی کیفیت مادی زندگی کی فنا اور وسیع تر روحانی زندگی کے آغاز سے عبارت ہے ۔جب عشق کی کیفیات انسان کے اندر پھوٹ پڑتی ہیں تو وہ اس کی مادی زندگی کے لیے صورِ اسرافیل بن جاتی ہیں جیسا کہ علامہ اقبال کہتے ہیں:
خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل
اگر ہو عشق سے محکم تو صورِ اسرافیل

سید ثاقب اکبر

حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ اور علامہ اقبالؒ

اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں انبیا ء کی زندگی کے نہایت اہم واقعات بیان کیے ہیں ۔ بعض انبیاء کا ذکر قرآن مجید میں زیادہ نمایاں طور پر آیا ہے۔  ان کی زندگی کے مختلف اتار چڑھائو کو بیان کرکے دراصل قرآن مجید یہ بتانا چاہتا ہے کہ مختلف مراحل درپیش ہوں تو ایک اعلیٰ انسان ان میں سے کیسے گزرتا ہے اور کیسے وہ ان کا سامنا کرتا ہے۔ اصل میں یہ واقعات اور تاریخ کی یہ مثالیں آنے والی نسلوں کے لیے راہنمائی مہیا کرتی ہیں اور کامیابی کے راستوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اسی طرح سے جن قوموں کی زوال کی داستانیں بیان ہوئی ہیں ان کا مقصد بھی یہ بتانا ہے کہ قومیں کون سا راستہ اختیار کریں تو وہ ثریا سے زمین پر دے ماری جاتی ہیں اور کمال سے زوال تک جا پہنچتی ہیں۔ قرآن حکیم کوئی داستانوں کی کتاب نہیں ہے بلکہ بشریت کی ہدایت کے لیے آئی ہے۔ علامہ اقبال نے اسی حیثیت سے قرآن حکیم کا مطالعہ کیا ہے اور وہ قرآنی مثالوں اور نمونوں کو اپنے دور پر منطبق کرتے ہیں اور زوال یافتہ مسلمانوں کو یہ مثالیں اور نمونے یاد دلاتے ہیں تاکہ وہ نشاۃ ثانیہ کی آرزو اپنے دل میں پروان چڑھائیں اور اس کے لیے راستے اور طریقے کو بھی پیش نظر رکھیں۔ حضرت ابراہیمؑ کو آسمانی ادیان کے ماننے والوں میں بہت بلند مقام حاصل ہے۔ قرآن حکیم نے حضرت ابراہیم ہی کی ملت اور دین کو حنیف درست اور سچا قرار دیا ہے اور مسلمانوں کو اسی دین وملت کے اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔

سید ثاقب اکبر

علامہ اقبال ، قائداعظم اور فلسطین

ان دنوں جب کہ فلسطینی مسلمانوں پر صہیونی ریاست اپنے مغربی آقائوں کی سرپرستی میں آگ اور خون کی بارش جاری رکھے ہوئے ہے اور وحشت و درندگی اپنے عروج پر ہے اہل پاکستان کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ اس اسلامی ریاست کے بانیوں کا فلسطین اور صہیونی ریاست کے بارے میں کیا نظریہ رہا ہے تاکہ حکومت کے ذمے دار بھی اس آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ سکیں اور پاکستانی بھی اپنے راہنمائوں کے جرأت مندانہ اوردوٹوک موقف سے آگاہ ہو سکیں۔ ان کے موقف سے آگاہی ہمارے جذبہ ایمانی ہی کو مہمیز کرنے کا ذریعہ نہیں بنے گی بلکہ ہمیں اس مسئلے میں اپنا لائحہ عمل طے کرنے میں بھی مدد دے گی۔ ہم نے اس سلسلے میں خاص طور پر حکیم الامت علامہ اقبال جنھیں بجا طور پر مصور پاکستان کہا جاتا ہے اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کا انتخاب کیا ہے ۔

اموی سکہ

اموی شام، مسیحی اکثریت اور مذہبی رواداری

ہم جانتے ہیں کہ مسلمانوں نے رحلت رسول ؐ کے بعد شام، مصر اور ایران کو فتح کیا، تاہم کیا فتح کے وقت ان علاقوں کی آبادی ویسے ہی حلقہ بگوش اسلام ہوگئی تھی، جیسے فتح مکہ کے وقت ہوئی۔؟ یہ سوال بہت اہم ہے کہ ان ممالک میں تبلیغ دین اسلام کا کیا اہتمام کیا گیا۔؟ کب ان ممالک کی آبادیوں نے اپنے آبائی دین کو چھوڑا۔؟ مسلمانوں کے بارے مقامی آبادیوں کا تصور اور ردعمل کیا تھا۔؟ حملہ آوروں سے نمنٹنے کے لیے سماج نے کیا حکمت عملی اختیار کی۔؟ ہم کہیں کہ شام کے 30 سے 60 لاکھ مسیحی دمشق کی فتح کے ساتھ ہی پکے مسلمان بن گئے تھے تو یہ تاریخی طور پر درست نہیں ہے۔ اسی طرح ایران اور مصر کے بارے بھی نہیں کہا جاسکتا کہ وہاں اتنے بڑے پیمانے پر دین میں بدلاؤ ہوا۔ یہ معلومات ہمیں کہاں سے مل سکتی ہیں۔؟ اسلامی تاریخ تو اس موضوع پر خاموش ہے۔ یہ وہ مقام ہے، جہاں ہمیں ان سماجوں کی علمی روایت کو کھنگالنا ہوگا۔مسلم سماج اور اس کے مفتوحہ علاقوں کو قدیم تاریخی منابع سے سمجھے بغیر ہم رحلت ختمی مرتبت کے بعد کے واقعات کو بھی کماحقہ نہیں سمجھ سکتے، ہمیں نہیں معلوم ہوگا کہ شام کو بنی امیہ کے حوالے کیوں کیا گیا۔؟ جنگ صفین کیوں ہوئی۔؟ امیر المومنین کے خطبات کس تناظر اور کون سے سامعین کو مدنظر رکھ کر دیئے گئے۔؟ جنگ سے اجتناب کے مشورہ کے باوجود ایسا کیوں نہ کیا۔؟ امام حسن صلح پر مجبور کیوں ہوئے۔؟ کربلا کیوں برپا ہوئی۔؟ شام میں اسرائے اہل بیت ؑ کے خطابات کا کیا مطلب تھا، اولاد رسول ؐ کے قتل اور اسارت پر جشن کیوں منایا گیا۔؟ واقعہ حرہ کیوں ہوا۔؟ بیت اللہ کو آگ کیوں لگائی گئی۔؟ مسجد نبوی میں گھوڑے کیوں باندھے گئے۔؟ امام باقر اور امام جعفر صادق نے علوم دین کی ترویج اور شبہات کے جوابات پر توجہ کیوں مرکوز رکھی۔؟ یہ وہ سوالات ہیں، جن کا حقیقی جواب صدر اسلام کی مسلم ریاست کے سماج کو سمجھے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔

Dr Ali abbas naqvi

طوفان الاقصیٰ، قرآنی تعلیمات کی عملی تعبیر اور عالمگیر بیداری کا آغاز

7 اکتوبر 2023ء کی صبح تاریخ عالم کا ایک ایسا سنگ میل ثابت ہوئی، جس نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست کے طے شدہ معادلات کو تہ و بالا کر دیا۔ "طوفان الاقصیٰ” محض ایک عسکری کارروائی یا عارضی ردِعمل نہیں، بلکہ دہائیوں سے جاری جبر و استبداد، محاصرے اور قبلۂ اول کی بے حرمتی کے خلاف ایک منظم، جرات مندانہ اور تاریخ ساز عزم کی علامت بن کر ابھرا۔ اس معرکے نے دنیا پر ثابت کر دیا کہ تاریخ کا دھارا محض ظاہری و مادی قوت سے نہیں، بلکہ ایمانی جذبے، عوامی ارادے اور حق کی خاطر دی جانے والی قربانیوں سے بدلتا ہے۔ یہ تاریخی پیش رفت دراصل فلسطین کے مظلوم عوام کو یاد رکھنے اور ان کے ساتھ عالمی سطح پر یکجہتی کو تازہ کرنے کا اہم ذریعہ بن کر ابھری۔ یہ معرکہ امت مسلمہ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ مظلوم کی حمایت کوئی ثانوی یا سیاسی انتخاب نہیں بلکہ ایک صریح قرآنی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ "وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرَّجَالِ وَالنَّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ” (النساء: 75) "اور تمھیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے (جو پکار رہے ہیں)؟”

syedasadabbas

امریکی افواج کا عراق سے دوسرا مکمل انخلاء

امریکی افواج کا عراق سے حالیہ انخلاء ایران امریکہ جنگ کے فیوض و برکات میں سے ایک ہے، تاہم عراقی صورتحال اور ماضی کی مثال کے تناظر میں آنکھیں اور کان کھلے رکھنے کی ضرورت ہے۔ کرد ریاست میں آج بھی امریکی اور اسرائیلی مراکز موجود ہیں، جو کسی وقت عراق کے سیاسی و سکیورٹی حالات کو دگرگوں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ 2012ء کا امریکی انخلاء 2014ء میں داعش کا ظہور نیز امریکی افواج کی واپسی قدرتی حادثات نہیں بلکہ ان کے لیے ایک طویل عرصہ منصوبہ بندی، تربیت اور تیاری کی گئی تھی۔ عین ممکن ہے کہ اب بھی کسی ایسی ہی تیاری کے ساتھ عراق کو خیرباد کہا گیا ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عراقی سیاسی نظام، سکیورٹی نظم نیز معاشی معاملات سے امریکہ کو مکمل طور پر بے دخل کر دیا جائے، اس وقت تک عراق میں مطلوبہ تبدیلی ممکن نہیں۔

syedasadabbas

امریکی مڈ ٹرم انتخابات نومبر 2026ء

مڈ ٹرم انتخابات، امریکی صدر کی چار سالہ مدت کے ٹھیک وسط میں ہر چار سال بعد منعقد ہوتے ہیں اور انھیں موجود انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک عوامی ریفرنڈم سمجھا جاتا ہے۔ ان انتخابات میں صدر کا انتخاب نہیں ہوتا بلکہ امریکی عوام ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں، سینٹ کی ایک تہائی (تقریباً 34) نشستوں اور متعدد ریاستوں کے گورنرز و مقامی نمائندوں کو چنتی ہے۔ امریکہ میں اس مرتبہ مڈ ٹرم انتخابات 3 نومبر 2026ء کو ہونا قرار پائے ہیں۔ اس وقت 119ویں کانگریس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو سینٹ کی 100 میں سے 53 اور ایوانِ نمائندگان یعنی کانگریس میں 435 میں سے 218 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل ہیں۔ اگر مڈ ٹرم نتائج میں ڈیموکریٹس کسی ایک یا دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ حکومت کے لیے قانون سازی، بجٹ کی منظوری اور پالیسیوں کا نفاذ شدید دشوار ہو جائے گا اور انتظامیہ کو سخت پارلیمانی تحقیقات و رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ ریپبلکن اکثریت برقرار رہنے کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ بغیر کسی بڑے چیلنج کے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا سکے گی۔ یہ بلا شبہ امریکہ اور دنیا کی حالیہ تاریخ کے سب سے اہم وسط مدتی انتخابات میں سے ایک ہوں گے۔

Dr Ali Abbas

انصاراللہ کی تکفیر اور پیغام پاکستان پر دستخط

آج یہ کھیل روزِ روشن کی طرح عیاں ہوچکا ہے کہ اگر غزہ میں مسلمانوں کا خون بہے تو مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے، یمن کے مظلوم و غیور عاشقِ رسولؐ مزاحمت کریں تو ان پر کفر کا ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے اور آلِ سعود و امریکی مفادات کی جی حضوری کر لی جائے تو اسی کو عینِ اسلام قرار دیا جاتا ہے۔ یہ مذہب کے نام پر صادر ہونے والے شرعی فتوے نہیں بلکہ دربارِ اقتدار اور سامراجی طاقتوں کو خوش کرنے کیلئے "حسبِ فرمائش سرٹیفکیٹ” ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مستبد حکمرانوں کو اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کیلئے مذہبی جواز کی ضرورت پڑی ہے، ایسے ہی ریالوں اور ڈالروں پر پلنے والے درباری فتووں نے جنم لیا ہے۔

Dr Ali abbas naqvi

اقوامِ متحدہ میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا تزویراتی خطاب

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس دنیا کے تمام ممالک کو ایک ایسا عالمی فورم فراہم کرتا ہے، جہاں ریاستیں نہ صرف اپنے قومی مفادات کا دفاع کرتی ہیں بلکہ عالمی نظام کے خدوخال پر بھی گفتگو کرتی ہیں۔ موجودہ دور میں، جب مشرقِ وسطیٰ شدید جنگی کشیدگی کے دہانے پر کھڑا ہے، معاشی پابندیوں کا حربہ عروج پر ہے اور یکطرفہ امریکی بالادستی کے مقابلے میں کثیر القطبی دنیا کی تشکیل کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف بین الاقوامی سیاست میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا، جب ایران پر مغرب کا سیاسی اور اقتصادی دباؤ عروج پر ہے۔ یہ خطاب محض ایک رواں سفارتی تقریر نہیں تھی، بلکہ یہ ایرانی ریاست کے تزویراتی، دفاعی اور اخلاقی اصولوں کا ایک جامع منشور تھا۔ اس تحریر میں ایرانی صدر کی تقریر کے کلیدی اقتباسات کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے، جس کے ذریعے مغربی دوہرے معیارات، ایرانی ایٹمی پالیسی، طاقت کے فلسفے اور علاقائی سلامتی کے بارے میں تہران کے حقیقی بیانیے کو نکھار کر سامنے لایا گیا ہے۔

syedasadabbas

اموی شام کا صلیبی لشکر اور سماج

بعثت رسول اکرم ؐ سے قبل شام نہ فقط تجارتی بلکہ علمی، فکری اور سیاسی مرکز بھی تھا، جہاں سریانی اور یونانی زبان بولی جاتی تھی۔ یہ بازنطینی ریاست کا سرحدی صوبہ تھا، جہاں مختلف مسیحی عرب قبائل اور دیگر اقوام آباد تھیں۔ شام 64 قبل مسیح میں رومن سلطنت کا حصہ بنا۔ Kennedy, David L. (January 2006) اپنے مقالے بعنوان "شام میں آبادی اور ڈیموگرافی” میں تحریر کرتے ہیں کہ پہلی صدی عیسوی میں پوری سرزمینِ شام (لیوانٹ) کی آبادی کے تخمینے 35 سے 40 لاکھ سے لے کر 60 لاکھ کے درمیان ہیں۔ مسلمانوں کی بازنطینی ریاست کے اس صوبے اور بالخصوص عرب مسیحی قبیلے بنی غسان سے مڈبھیڑ کا آغاز رسول اکرم ؐ کی زندگی میں ہوچکا تھا، جو خلفائے ثلاثہ کے ادوار میں جاری رہا۔ 640 عیسوی میں خلیفہ ثانی نے بنی امیہ کی معروف شخصیت ابو سفیان کے فرزند کو شام کا گورنر مقرر کیا، یوں شام میں بنی امیہ کے اقتدار کا آغاز ہوا۔