Skip to content
syedasadabbas

صادق آل محمدؐ

اسلامی تاریخ اور فکر میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی ذاتِ والاصفات علم و حکمت کا وہ بحرِ زخار ہے جس نے نہ صرف اسلامی فکر و فقہ کو جلا بخشی بلکہ عالمِ انسانیت کو سائنسی و عقلی علوم کے بے بہا خزانوں سے بھی نوازا۔ تاہم، عمومی ذہنوں میں آپؑ کی شخصیت کو اکثر صرف ایک خاص فقہی یا مذہبی دائرے تک محدود کر کے دیکھا جاتا ہے، حالانکہ تاریخی حقائق اور سائنسی شواہد اس بات کے گواہ ہیں کہ آپؑ کی علمی سرپرستی کا دائرہ تمام مروجہ و غیر مروجہ علوم پر محیط تھا۔
زیرِ نظر مقالہ "صادق آلِ محمدؐ”، معروف محقق و مصنف سید اسد عباس کا ایک تحلیلی اور بصیرت افروز قلمی کاوش ہے جس میں انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی ہمہ گیر علمی، سائنسی اور معنوی شخصیت کو پیش کیا ہے۔
مصنف نے علامہ شبلی نعمانی، ڈاکٹر محسن نقوی، ابن خلکان اور امام ابو حنیفہ جیسے جلیل القدر علمائے اسلام کے ساتھ ساتھ مغربی مستشرقین اور سائنسدانوں کے اعترافات (جیسے فرانسیسی جامعہ کی تحقیق "سپر برین ان اسلام”) کو شواہد کے طور پر پیش کیا ہے۔ تحریر کا بنیادی مقصد یہ اجاگر کرنا ہے کہ بابائے کیمیا جابر بن حیان جیسے جلیل القدر سائنسدانوں کے استاد، امام جعفر صادق علیہ السلام دراصل "معلمِ انسانیت” اور انوارِ نبوت کے وہ وارث ہیں جن کا علم کسی دنیاوی استاد کا مرہونِ منت نہیں بلکہ بارگاہِ الٰہی کا عطیہ تھا۔

syedasadabbas

واقعہ مباہلہ :ہادی، ہدایت اور روش حق

اسلام کا بنیادی پیغام امن، رواداری، احترامِ انسانیت اور معقولیت پر مبنی ہے۔ تاریخِ اسلام اس بات کی شاہد ہے کہ دینِ مبین کی اشاعت کا اصل سبب تلوار کا زور نہیں بلکہ اس کی اخلاقی برتری، اعلیٰ کردار اور حسنِ تعامل تھا۔ اسی سلسلے کا ایک روشن اور عالمگیر باب "واقعہِ مباہلہ” ہے، جو ۹ ہجری میں نجران کے مسیحی وفد اور رسولِ اکرم ﷺ کے مابین پیش آیا۔
زیرِ نظر مقالہ "واقعہ مباہلہ: ہادی، ہدایت اور روشِ حق”، معروف محقق و قلمکار سید اسد عباس کا ایک بصیرت افروز اور علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے نجران کے مسیحیوں کے ساتھ رسولِ خدا ﷺ کے مناظرے، رویے اور معاہدہِ صلح کے سیاسی و سماجی پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔
مصنف نے مقالے میں یہ بات واضح کی ہے کہ میدانِ مباہلہ میں پنجتنِ پاک (رسولِ اکرم ﷺ، حضرت علیؑ، حضرت فاطمہؑ، اور حسنین کریمینؑ) کا ورود جہاں اس خانوادے کی بے نظیر معنوی اور الٰہی فضیلت کو آشکار کرتا ہے، وہاں یہ واقعہ عصرِ حاضر میں گفتگو، بین المذاہب مکالمے (Interfaith Dialogue) اور پرامن بقائے باہمی کا ایک بہترین نمونہ بھی پیش کرتا ہے۔ مصنف نے برصغیر کے مفسرین کے نقطہ ہائے نظر کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر آج بھی امتِ مسلمہ شدت پسندی اور انتہا پسندی کے دلدل سے نکلنا چاہتی ہے تو اسے واقعہِ مباہلہ میں موجود ہدایت اور "روشِ حق” کو اپنا مشعلِ راہ بنانا ہوگا۔

syedasadabbas

شان سرورؐ بزبان حیدرؑ

بارگاہِ رسالت مآب ﷺ کی عظمت و رفعت کو سمجھنے کے لیے ہر دور میں محدثین، مفکرین اور قلمکاروں نے اپنے اپنے انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ تاہم، کسی ہستی کی حقیقی معرفت اور شان کا صحیح ادراک وہی شخصیت کرا سکتی ہے جو خود اس کی تربیت گاہ کی پروردہ ہو اور جس نے بچپن سے لے کر ظاہری حیات کے آخری لمحات تک اس کا قرب حاصل کیا ہو۔ سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ والاصفات کی شناسا ترین اور اقرب ترین شخصیت امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ہے۔
زیرِ نظر مقالہ "شانِ سرورؐ بزبانِ حیدرؑ”، معروف محقق و مصنف سید اسد عباس کی ایک ایسی علمی و فکری کاوش ہے جس میں انھوں نے نہج البلاغہ اور کلامِ امیر المؤمنینؑ کو محور بناتے ہوئے رسالت مآب ﷺ کے مقام، بعثت کے مقاصد، آپؐ کے اخلاق و شجاعت اور عظمتِ خانوادگی کو پیش کیا ہے۔
مضمون نگار نے نہج البلاغہ کے مختلف خطبات سے اقتباسات اور ان کے تراجم کو پیش کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے کلام میں حضور اکرم ﷺ کو ایک الٰہی تسلسلِ نبوت، معیارِ حق اور مجسمہِ اخلاق و استقامت کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ یہ مقالہ قارئین کو یہ دعوتِ فکر دیتا ہے کہ اگر ہم سرورِ عالم ﷺ کی حقیقی معرفت اور عشقِ رسولؐ سے اپنے قلوب کو منور کرنا چاہتے ہیں، تو اس کا بہترین اور مستند ذریعہ "نفسِ رسولؐ” یعنی حضرت علی علیہ السلام کے ارشادات اور افکار پر غوروخوض کرنا ہے۔

syedasadabbas

فاطمہؑ کا گھرانہ

اسلامی تاریخ اور فکر میں خانوادہِ وحی و رسالت کو ایک مرکزی اور ممتاز مقام حاصل ہے۔ یہ گھرانہ محض چند افراد کے اجتماعی وجود کا نام نہیں، بلکہ بارگاہِ الٰہی سے منتخب کردہ وہ پاکیزہ مکتب ہے جس کی پرورش خود رسولِ اکرم ﷺ کی آغوشِ تربیت میں ہوئی۔ زیرِ نظر مضمون "فاطمہؑ کا گھرانہ”، مصنف سید اسد عباس کا ایک علمی و تحلیلی کاوش ہے جس میں انہوں نے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کے مقدس خانوادے کی دینی، تاریخی اور معنوی منزلت کو پیش کیا ہے۔

مضمون نگار نے نہج البلاغہ کے خطبات، فریقین کی معتبر کتبِ احادیث اور مسلمہ تاریخی شواہد کی روشنی میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کا حضرت علیؑ اور سیدہ فاطمہؑ سے تعلق محض ایک روایتی پدری یا خاندانی محبت تک محدود نہ تھا، بلکہ یہ ایک الٰہی حسنِ ترتیب اور بصیرت پر مبنی رویہ تھا جو بقائے دین اور حفاظتِ اسلام کی بنیاد بنا۔

اس تحریر کا بنیادی محور یہ سمجھانا ہے کہ اس گھرانے کی تعظیم، ان کی مرضی کو مرضیِ الٰہی قرار دینا، اور ان کی محبت کو فرض قرار دینا دراصل امتِ مسلمہ کو ہدایت کے حقیقی اور غیر متزلزل مرکز سے منسلک رکھنا تھا۔ مصنف نے تاریخی تعصبات اور غیر ضروری مناقشات سے ہٹ کر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ خانوادہِ عصمت و طہارت ہی ہر دور میں معیارِ حق اور دینِ خدا کا حقیقی مدافع رہا ہے۔

syedasadabbas

روسی ٹوپولیو فضائی کمانڈ کی ایران تعیناتی

مشرق وسطیٰ کے جنگ کے اس الاؤ میں متعدد کردار بالخصوص اسرائیل اپنے حصے کی لکڑیاں ڈال رہا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مفاہمی قرارداد کو سبوتاژ کرنے کیلئے اسرائیل نے پیسہ پانی کی مانند بہایا ہے اور لابنگ بھی کی ہے۔ اسرائیلی اسوقت امریکی نائب صدر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے رہے ہیں، تاہم ٹرمپ انکے اشاروں پر مسلسل ناچ رہا ہے۔ روس کے پاس جنگ میں خاطر خواہ دخالت کے بغیر یوکرین جنگ کا بدلہ لینے نیز جنگ کے حامیوں اور سرپرستوں کو دھول چٹانے کا بہترین موقع موجود ہے۔ پاکستان اور چین کی خواہش ہے کہ معاملات کو گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جائے۔ عرب ریاستوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ مال بچائیں یا ملک۔

syedasadabbas

شہید امت سید علی خامنہ ای بحیثیت قائد و رہبر

انھوں نے امام خمینی کے انقلابی اصولوں پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے ایک طرف جہاں ملکی دفاع کو بیلسٹک میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کی بدولت ناقابلِ تسخیر بنایا اور سائنسی و جوہری میدان میں ایران کو خود کفالت کی راہ پر گامزن کیا، تو دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں "محورِ مزاحمت” کی آبیاری کرکے خطے کے سیاسی نقشے کو بدل کر رکھ دیا۔ ان کی قیادت کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا فکری تدبر ہے، جس کے ذریعے انھوں نے قرآنی تعلیمات کو سیاسی و معاشی نظام کی بنیاد بنایا، مسلم اتحاد کے لیے عملی اقدامات کیے اور اندرونی فتنوں و سازشوں کا مقابلہ بندوق کے بجائے عوامی بصیرت اور قانون کی بالادستی سے کیا۔ خلاصہ یہ کہ وہ محض ایک روایتی مذہبی پیشوا نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک عالمی رہنماء ثابت ہوئے، جنھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وجود کا تحفظ کرتے ہوئے اسے خطے کی ایک ناگزیر اور خود مختار سیاسی و فوجی طاقت بنا دیا۔ خداوند کریم شہید امت کو اپنے برگزیدہ بندوں میں محشور فرمائے۔ آمین