سید ثاقب اکبر

امام حسین علیہ السلام مولانا طارق جمیل کی نظر میں(1)

پاکستان کے انتہائی معروف خطیب اور مبلغ مولانا طارق جمیل اکثر و بیشتر اپنی تقریروں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ ان کی عظمت و محبت کا بڑی رقت قلبی سے اظہار کرتے ہیں۔ وہ خاص طور پر پُرتاثیر لہجے میں امام حسین علیہ السلام کو یاد کرتے ہیں اور ان کی شہادت کا تذکرہ کرتے ہیں۔ ان کی نگرانی اور سرپرستی میں کچھ عرصہ پہلے ایک ضخیم کتاب بعنوان ’’گلدستۂ اہلِ بیت سلام اللہ و رضوانہ علیہم‘‘ شائع ہوئی ہے۔ (more…)

سید اسد عباس

پیر فضل شاہ ایک عہد ساز شخصیت

پیر فضل شاہ 1877ء کے لگ بھگ موضع ملیار ضلع جہلم میں پیدا ہوئے۔ کچھ عرصہ سکول میں پڑھتے رہے، پھر مولانا سید غلام حسین شاہ شیرازی آف کوٹلہ ضلع جہلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کرڑ کے مومنین کی استدعا پر ملیار سے ترک سکونت کرکے موضع کرڑ ضلع خوشاب چلے گئے اور تمام تر توجہ تبلیغ دین کی جانب مبذول کر دی۔ آپ کا زیادہ تر وقت عبادت الہیٰ اور خلق خدا کی خدمت میں گزرتا۔ 1913ء میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ آپ نے اپنے زیر اثر افراد کے بچوں کو دینی تعلیم کے لیے مدارس میں بھجوایا نیز ضلع سرگودھا میں کئی ایک مدارس کی بنیاد رکھی۔ آپ کی ہی تشویق پر دارالعلوم محمدیہ قائم ہوا۔ اسی طرح خوشاب اور بھلوال کے مدارس بھی آپ ہی کی تشویق پر قائم کیے گئے۔ (more…)

سید ثاقب اکبر

کیا امام خمینیؒ کشمیری تھے؟(2)

امام خمینیؒ کے جد اعلیٰ سید حیدر موسوی کشمیر میں
سید حیدر موسوی 776ھ میں کشمیر کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ ماں باپ دونوں کی طرف سے حسینی سید تھے۔ جس زمانے میں سید حیدر کشمیر پہنچے، اس زمانے میں وہاں سلطان شہاب الدین شاہ میری کی حکومت تھی۔ یاد رہے کہ شاہ میری خاندان 1339ء تا 1561ء کشمیر پر حکمران رہا۔ سلطان شہاب الدین شاہ میری سید حیدر موسوی اور دیگر سادات کا بہت احترام کرتا تھا۔ (more…)

سید اسد عباس

امام خمینی سے متعلق عاشق امام کی ایک منفرد تالیف

گذشتہ دنوں ایک انوکھی اور اچھوتی کتاب پڑھنے کا موقع ملا، انوکھی اور اچھوتی یوں کہ امام خمینی کے بارے میں لکھی جانے والی اکثر کتب ان کے ثقیل نظریات اور تحریک سے متعلق ہوتی ہیں۔ یہ ہلکی پھلکی کتاب امام کی شخصیت کے بارے تھی۔ کتاب کا نام اس کے مولف نے ’’یادوں کے اجالے (خمین سے بہشت زھراء تک)” تجویز کیا۔ کتاب کے مولف ڈاکٹر راشد عباس نقوی ہیں، جو اس کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں: (more…)

سید ثاقب اکبر

کیا امام خمینیؒ کشمیری تھے؟

تحریر: ثاقب اکبر حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے بارے میں یہ سوال ہم ایک عرصے سے سنتے آئے ہیں تو کیا وہ کشمیری یا ہندی (ہندوستانی) تھے۔ یہ سوال اس وقت بھی اٹھایا گیا، جب آپ اسلامی تحریک کی قیادت کر رہے تھے۔ سابق شاہ ایران اور اس Read more…

سید ثاقب اکبر

اقبال اور ملا کی تنگ نظری

تحریر: ثاقب اکبر

ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم لکھتے ہیں: ’’علامہ اقبال ایک روز مجھ سے فرمانے لگے کہ اکثر پیشہ ور ملا عملاً اسلام کے منکر، اس کی شریعت سے منحرف اور مادہ پرست دہریہ ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ ایک مقدمے کے سلسلے میں ایک مولوی صاحب میرے پاس اکثر آتے تھے۔ مقدمے کی باتوں کے ساتھ ساتھ ہر وقت یہ تلقین ضرور کرتے تھے کہ دیکھیے ڈاکٹر صاحب آپ بھی عالم دین ہیں اور اسلام کی بابت نہایت لطیف باتیں کرتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ آپ کی شکل مسلمانوں کی سی نہیں، آپ کے چہرے پر ڈاڑھی نہیں۔ میں اکثر ٹال کر کہہ دیتا کہ ہاں مولوی صاحب آپ سچ فرماتے ہیں۔ (more…)

سید ثاقب اکبر

بانی انقلاب اسلامی امام خمینیؒ کی پیشگوئیاں(2)

4۔ عراق کے کویت پر حملے کی پیشگوئی
1980ء میں عراق کے صدر صدام حسین نے عالمی طاقتوں کے ایما پر ایران پر حملہ کر دیا۔ اسے علاقے کے رجعت پسند حکمرانوں اور ڈکٹیٹروں کی حمایت حاصل تھی، جن میں کویت کی شاہی حکومت بھی شامل تھی۔ امام خمینیؒ نے ان حکمرانوں کو مختلف مواقع پر ان کے انجام سے خبردار کیا۔ کویت کے حکمران اس زمانے میں عراق کی بے پناہ مالی امداد کرتے رہے۔ امام خمینیؒ نے انھیں اس کام سے منع کیا۔ آپ نے فرمایا: ’’اس کام سے باز آجائو کیونکہ ایک دن فتنے کی آگ تمھارے دامن تک آپہنچے گی۔۔۔ صدام کی درندگی کی اس عادت میں ذرہ بھر فرق نہیں پڑا بلکہ وہ عالمی اداروں اور لٹیروں کی خاموشی کے باعث ایک زخمی بھیڑیے میں تبدیل ہوچکا ہے، وہ آگے بڑھتا جا رہا ہے، تاکہ جنگ کی آگ کو علاقے کے دیگر ممالک اور خاص طور پر خلیج فارس میں بھڑکا سکے۔‘‘ (صحیفہ امام، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ج20، ص328و329)
(more…)

سید ثاقب اکبر

سردار قاسم سلیمانی، اسلامی تعلیمات کا ایک اور معجزہ(2)

شہید قاسم سلیمانی کو ایک تجربہ حاصل ہوا جسے انھوں نے عالم گیر کر دیا، وہ تجربہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کا تھا۔ وہ 11 مارچ 1957ء کو ایران کے شہر کرمان ایک قصبے میں پیدا ہوئے۔ (more…)

سید ثاقب اکبر

سردار قاسم سلیمانی، اسلامی تعلیمات کا ایک اور معجزہ(1)

سردار قاسم سلیمانی کی شخصیت اگرچہ کروڑوں انسانوں کے دلوں میں اتر چکی ہے اور انھیں بجا طور پر ’’سردار دلہا‘‘ یعنی دلوں کا سردار کہا جاتا ہے، تاہم ہماری رائے یہ ہے کہ ابھی تک دنیا سردار قاسم سلیمانی کو دریافت کرنے کے مرحلے میں ہے۔
(more…)