اقوامِ متحدہ میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا تزویراتی خطاب
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس دنیا کے تمام ممالک کو ایک ایسا عالمی فورم فراہم کرتا ہے، جہاں ریاستیں نہ صرف اپنے قومی مفادات کا دفاع کرتی ہیں بلکہ عالمی نظام کے خدوخال پر بھی گفتگو کرتی ہیں۔ موجودہ دور میں، جب مشرقِ وسطیٰ شدید جنگی کشیدگی کے دہانے پر کھڑا ہے، معاشی پابندیوں کا حربہ عروج پر ہے اور یکطرفہ امریکی بالادستی کے مقابلے میں کثیر القطبی دنیا کی تشکیل کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف بین الاقوامی سیاست میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا، جب ایران پر مغرب کا سیاسی اور اقتصادی دباؤ عروج پر ہے۔ یہ خطاب محض ایک رواں سفارتی تقریر نہیں تھی، بلکہ یہ ایرانی ریاست کے تزویراتی، دفاعی اور اخلاقی اصولوں کا ایک جامع منشور تھا۔ اس تحریر میں ایرانی صدر کی تقریر کے کلیدی اقتباسات کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے، جس کے ذریعے مغربی دوہرے معیارات، ایرانی ایٹمی پالیسی، طاقت کے فلسفے اور علاقائی سلامتی کے بارے میں تہران کے حقیقی بیانیے کو نکھار کر سامنے لایا گیا ہے۔

