تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس نقوی
موجودہ دور میں میڈیا محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ عالمی سطح پر نظریات کی تشکیل اور مخصوص ایجنڈوں کی ترویج کا ایک طاقتور ہتھیار بن چکا ہے کچھ عرصہ قبل ایران میں سے مغربی ذرائع ابلاغ پر "زن، زندگی، آزادی” کے عنوان سے ایک منظم مہم مشاہدہ کی گئی، جس کا بظاہر مقصد ایرانی خواتین کے حقوق کا تحفظ تھا، لیکن درحقیقت یہ اسلامی معاشرت کو ایک خاص انداز سے پیش کرنے کی سعی تھی۔ مغربی ذرائع ابلاغ ایک عرصے سے اسلامی معاشروں کو تنگ نظر ، پسماندہ حتی وحشی سماج کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایران میں زن زندگی آزادی کا نعرہ اور اس کی مغربی ذرائع ابلاغ پر ترویج اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ اس پروپیگنڈے کے ذریعے عالمی سطح پر یہ تاثر عام کرنے کی کوشش کی گئی کہ اسلام خواتین کے حقوق، آزادیوں اور زندگی کا غاصب ہے اور انہیں لباس، طرزِ زندگی یا دیگر شخصی آزادیوں سے محروم رکھتا ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آزادی کا پیمانہ صرف وہی ہے جو مغرب نے طے کردیا ہے؟ مغربی معاشروں میں آزادی کا معیار اکثر و بیشتر ظاہری نمائش، بالوں کو کھلا چھوڑنے یا مخصوص وضع قطع کے لباس تک محدود کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک انتہائی سطحی نقطہ نظر ہے جو آزادی جیسے وسیع اور گہرے تصور کو صرف جسمانی نمائش تک مقید کر دیتا ہے۔ مغربی بیانیے کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ ایرانی معاشرے کی گہری مذہبی اور ثقافتی جڑوں کو یکسر نظر انداز کر دیتا ہے۔ کسی بھی قوم کی پہچان اس کی روایات اور عقائد سے ہوتی ہے۔ ایرانی عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت اپنے دین اور اپنی روایتی اقدار سے والہانہ لگاؤ رکھتی ہے۔ ان کے نزدیک حیا، حجاب اور خاندانی نظام محض پابندیاں نہیں بلکہ ان کی اپنی شناخت اور فخر کا حصہ ہیں۔ جب میڈیا ان حقائق کو فراموش کر کے صرف ایک مخصوص طبقے یا مخصوص نظریے کو اچھالتا ہے، تو وہ صحافتی بددیانتی کا مرتکب ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حقوقِ نسواں کا نام لے کر کسی معاشرے کی مذہبی اقدار پر حملہ کرنا خود ایک قسم کا فکری جبر ہے۔ اسلام نے خواتین کو وراثت، تعلیم، اور معاشی خودمختاری کے جو حقوق چودہ سو سال پہلے عطا کیے تھے، وہ دورِ جدید کے مادی معیارات سے کہیں بلند ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آزادی کو کسی دوسرے کے نقطہ نظر سے دیکھنے کے بجائے ہر معاشرے کے اپنے مخصوص پس منظر، مذہب اور ثقافت کے آئینے میں دیکھا جائے۔مغربی میڈیا کی یہ مہم حقوق کی جنگ سے زیادہ ایک تہذیبی تصادم کی کوشش نظر آتی ہے۔ ایک متوازن معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کی اقدار کا احترام کریں اور آزادی کے اس جھوٹے معیار کو مسترد کر دیں جو انسان کو اس کی جڑوں سے کاٹ کر صرف ایک نمائش کی چیز بنا دیتا ہے۔ حقیقی آزادی وہی ہے جہاں انسان اپنے عقیدے اور ضمیر کے مطابق زندگی گزار سکے، نہ کہ وہ جو کسی بیرونی پروپیگنڈے کے تحت زبردستی مسلط کی جائے۔
اسی تناظر میں، ایران میں گزشتہ چالیس روز کے دوران پیش آنے والے واقعات نے عالمی منظرنامے پر ایک بالکل مختلف اور اچھوتا رخ پیش کیا ہے۔ درحقیقت امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے دوران یہ چالیس راتیں استقامت کی راتیں تھیں۔ دشمن کا خیال تھا کہ وہ اس جارحیت کے ذریعے ایرانی قوم کے حوصلے پست کر دے گا لیکن اسی حملے اور بحران کے دوران ہمیں یہ دیکھنے کا موقع ملا کہ ایرانی خواتین کس طرح اپنے انقلاب اور وطن کے دفاع کے لیے میدان میں نکل آئیں۔جو مغربی میڈیا کے یکطرفہ بیانیے کے برعکس ایک نئی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔
جہاں ایک مخصوص طبقے کی جانب سے "زن، زندگی، آزادی” کا نعرہ لگا کر معاشرے میں فکری و عملی انتشار پھیلانے کی کوشش کی گئی، وہیں اس کا ردِعمل ایک غیر متوقع عوامی اتحاد کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ صورتحال اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ جب کسی قوم کے نظریات، اس کی شناخت اور سالمیت پر حملہ ہوتا ہے، تو داخلی اختلافات ثانوی ہو جاتے ہیں اور قومی غیرت سب سے مقدم ٹھہرتی ہے۔ ان واقعات نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے مسلط کردہ مصنوعی نظریات کسی زندہ قوم کے ضمیر کو نہیں خرید سکتے، بلکہ ایسی کوششیں الٹا قوم کو اپنے دفاع کے لیے پہلے سے زیادہ بیدار اور متحد کر دیتی ہیں۔
اس دوران ایران کی گلیوں اور چوراہوں نے وہ منظر دیکھا جہاں ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والی خواتین اپنی تمام تر سماجی تقسیم کو بالائے طاق رکھ کر میدانِ عمل میں نکل آئیں۔ ان احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کی خاص بات یہ تھی کہ ان میں صرف روایتی طور پر مذہب پسند خواتین ہی شامل نہیں تھیں، بلکہ وہ خواتین بھی پیش پیش نظر آئیں جو شاید اپنی روزمرہ زندگی میں عملی طور پر اتنی مذہبی نہیں تھیں یا جن کا طرزِ زندگی جدیدیت کی طرف مائل تھالیکن جب بات وطن کے تحفظ، نظام کی بقا اور بیرونی سازشوں کو ناکام بنانے کی آئی، تو ان سب نے یک زبان ہو کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ اپنے قومی پرچم، اپنی سرزمین اور اپنے رہبر کے ساتھ پوری قوت سے کھڑی ہیں۔ ان کا میدان میں ہونا اس حقیقت کا غماز تھا کہ مسلط کردہ جنگ چاہے سرحدوں پر ہو یا ذہنوں پر، ایرانی خاتون اپنے انقلاب کے دفاع کے لیے ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن کر ابھرتی ہے۔
حیرت انگیز طور پر ایسی خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی منظرِ عام پر آئی جو ماضی میں اپنی کسی کوتاہی یا رہبر شہید کی تعلیمات پر مکمل عمل نہ کر پانے کی وجہ سے دل میں افسردگی اور پچھتاوا رکھتی تھیں۔ آج وہی خواتین محض دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ دشمن کو ایک دو ٹوک پیغام دینے کے لیے روایتی وقار کے ساتھ میدان میں نکلیں۔ ان کا یہ عمل اس بات کا واضح اعلان تھا کہ وہ اپنے داخلی معاملات میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو قبول نہیں کریں گی اور اپنے نظریاتی دفاع کے لیے کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کریں گی۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ مغربی میڈیا جسے "بغاوت” قرار دے رہا تھا، وہ درحقیقت ایک ایسی بیداری کی لہر میں بدل گئی جس نے ایرانی معاشرے کے مذہبی اور قومی تشخص کو مزید مستحکم کر دیا۔
عورت کی طاقت کے حوالے سے موزے تنگ کا یہ قول نہایت معنی خیز ہے کہ خاتون آدھا آسمان اپنے سر پر اٹھائے رکھتی ہے، لیکن اگر وہ ہتھیار اٹھا لے تو دشمن کے لیے زمین تنگ کر دیتی ہے۔ یہ وہی جذبہ ہے جو ایرانی خواتین میں نظر آیا، کیونکہ ایک تربیت یافتہ عورت ہی معاشرے کو ہمت دیتی ہے۔ جب گھر کی عورت مرد سے کہتی ہے کہ وطن کے دفاع اور شہادت کے لیے نکلنا ہے، تو مرد کے پاس پیچھے ہٹنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ ایسی مائیں بھی دیکھیں جنھوں نے اپنے آٹھ آٹھ فرزندوں کی قربانی دی مگر ایک رات بھی میدان خالی نہیں چھوڑا۔ یہ اسی تربیت کا نتیجہ ہے جس کا ذکر امام خمینیؒ نے کیا تھا کہ ان کی سپاہ ماؤں کی گود میں پل کر تیار ہو رہی ہے۔
ایرانی خواتین نے اپنے عمل سے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ آزادی کا مطلب صرف لباس کی تبدیلی نہیں، بلکہ اپنے ملک کے فیصلے خود کرنے اور غیر ملکی تسلط کو مسترد کرنے کا نام ہے۔ معیشت اور سیاست کو اپنے کنٹرول میں رکھنا اور دشمن کے پروپیگنڈے کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جانا ہی اصل خود مختاری ہے۔ بہت سی خواتین نے دورانِ احتجاج اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ وہ رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کی ہدایات کو سمجھنے میں دیر کر گئیں، لیکن اب وہ پرچم اٹھا کر نظام کے ساتھ کھڑی ہیں۔
خواتین کی اسی سماجی حیثیت اور اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے رہبرِ شہید کا یہ فکر انگیز موقف قابل ذکر ہے کہ خواتین محترم ہیں اور کسی نے یہ نہیں کہا کہ عورتیں سماجی میدانوں میں قدم نہ رکھیں، یا ذمہ داریاں قبول نہ کریں، یا علم حاصل نہ کریں۔ آج ایران کی بہترین ماہرینِ تعلیم و سائنس، بہترین لکھاریوں اور نمایاں ترین ثقافتی شخصیات میں ایسی بے شمار خواتین شامل ہیں جو اسلامی جمہوریہ ایران اور ‘انقلاب’ کے فیض بخش عہد میں ابھر کر افقِ عالم پر نمودار ہوئی ہیں۔ یہ حقیقت ذہن نشین رہے کہ انقلاب سے پہلے ایسی صورتحال ہرگز نہ تھی۔ آج ایران میں جو مسلمان عورت ترقی کی راہ پر گامزن ہے، وہ اپنی ایک آزاد اور خود مختار ثقافتی شناخت رکھنے کی مکمل اہلیت رکھتی ہے۔
رہبرِ معظم کے اسی بیان کردہ افکار اور عطا کردہ خود اعتمادی کے نتیجے میں دخترانِ ایران کے اس جذبۂ قربانی اور بیداری کا ظہور ہوا ، جس کا براہِ راست تعلق کربلا اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت سے ہے۔ جس طرح جنابِ زینبؑ نے یزید کے دربار میں جرات مندانہ خطبے دیے اور حق کا دفاع کیا، وہی نقش قدم آج کی ایرانی عورت کی تربیت کا حصہ ہے۔ ایک باشعور عورت ہی وہ نسل تیار کرتی ہے جو نظریے اور افکار کا دفاع کر سکے۔ آج خواتینِ ایران نے 47 سالہ انقلابی جدوجہد کے بعد دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ "زن، زندگی، آزادی” کا درست مفہوم اپنی اقدار کے اندر رہ کر وطن کا دفاع کرنا اور سماجی و اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے ترقی کرنا ہے۔ یہ پیغام نہ صرف ایران بلکہ ہر مسلم ملک کی خاتون کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ وہ اپنی شناخت پر سمجھوتہ کیے بغیر ہر میدان میں اپنا لوہا منوا سکتی ہیں۔
بشکریہ اسلام ٹائمز