Skip to content

اربعین رہبر ایک نئے سفر کا آغاز

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس نقوی

وقت کی گرد بہت سے چہروں کو دھندلا دیتی ہے اور ایام کی گردش بڑے بڑے حادثات کی تپش کو ٹھنڈا کر دیتی ہے، مگر کچھ خون ایسے ہوتے ہیں، جو زمین پر گرتے ہی ایک لافانی شعلے میں بدل جاتے ہیں۔ آج رہبرِ شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای ؒ کی شہادت کو چالیس روز مکمل ہوچکے ہیں۔ یہ چالیس دن محض آنسو بہانے یا سوگ منانے کے نہیں تھے، بلکہ یہ اس حقیقت کے ادراک کے دن تھے کہ ایک فرد کا جسم تو مٹایا جا سکتا ہے، مگر اس کے نظریئے کو دفن کرنا ممکن نہیں۔ گزشتہ چالیس دنوں نے ثابت کر دیا کہ شہید کا لہو اس کی تقریروں سے زیادہ فصیح اور اس کی تدبیروں سے زیادہ موثر ہوتا ہے۔ ان چالیس دنوں میں ہم نے دیکھا کہ شہادت نے نہ صرف ان کے چاہنے والوں کے عزم کو جلا بخشی، بلکہ دشمن کے اس وہم کو بھی خاک میں ملا دیا کہ وہ ایک چراغ بجھا کر اندھیرا کر دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ شہادت کے بعد رہبر کی شخصیت ایک بدن کی قید سے نکل کر آزادی اور جرات و بہادری کا عالمی استعارہ بن چکی ہے۔

پاکستان کی فضاؤں میں گزشتہ چالیس دنوں سے جو سوز و گداز محسوس کیا جا رہا ہے، اس کا عروج پاکستان میں منعقد ہونے والے چہلم آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کے اجتماعات میں دیکھنے کو ملا۔ سکردو کی بلندیوں سے لے کر لاہور اور کراچی کے مراکز تک، یہ اجتماعات اس حقیقت کا اعتراف تھے کہ رہبرِ شہید کا خون کف قاتل سے بہ کر کوچہ و بازار میں آن پہنچا ہے۔ لاہور کے ایک روحانی و معنوی اجتماع میں جسے 18 سے زائد دینی، مذہبی اور قرآنی اداروں نے مل کر منعقد کیا، بچوں اور فیملیز کی بھرپور شرکت نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ مشن اب گھروں کی دہلیز پار کرکے نئی نسل کی رگوں میں دوڑنے لگا ہے۔ اس اجتماع کا بنیادی مقصد نئی نسل کو نظامِ ولایت کی اہمیت، شہدا کی سیرت اور حق و باطل کی پہچان سے روشناس کرانا تھا، جہاں علمائے کرام اور دانشوروں نے اتحادِ امت اور قیادتِ اسلامی کی اطاعت کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

پروگرام کی خاص بات بچوں کے لیے مختص تربیتی سرگرمیاں تھیں، جن میں انقلابی ترانوں، خاکوں اور استعمار دشمنی پر مبنی علامتی مقابلوں کے ذریعے شرکاء نے ولایت و رہبری سے اپنی گہری عقیدت اور باطل قوتوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کے عزم کا بھرپور اظہار کیا۔ لاہور ہی کے ایک معروف علمی ادارے جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے زیرِاہتمام رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے ایک عظیم الشان ”پاک ایران یکجہتی اجتماع“ منعقد ہوا۔ اس قومی اجتماع کی صدارت سربراہ تحریک بیداریِ امتِ مصطفیٰؐ علامہ سید جواد نقوی نے کی، جس میں شیعہ و سنی مرد و خواتین، تمام مکاتبِ فکر کے جید علماء کرام، دانشوروں، صحافیوں اور مختلف طبقاتِ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کر کے اتحاد و وحدت کا عملی ثبوت دیا۔

تقریب سے مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس، سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اور علامہ سید جواد نقوی نے خصوصی خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء میں علامہ حافظ ریاض حسین نجفی (صدر وفاق المدارس الشیعہ)، علامہ اشتیاق حسین کاظمی (صدر شیعہ علماء کونسل پنجاب)، علامہ محمد امین شہیدی (چیئرمین امتِ واحدہ)، ڈاکٹر میر آصف اکبر (صدر نظام المدارس پاکستان) اور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ (امیر جماعت اسلامی لاہور) سمیت دیگر مقتدر شخصیات بھی موجود تھیں۔ سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اپنے خطاب میں واقعہ کربلا کو انسانیت کے لیے ایک زندہ درسگاہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ظلم کے خلاف جدوجہد کسی ایک مسلک تک محدود نہیں بلکہ یہ حق اور باطل کی وہ جنگ ہے، جس میں اصل طاقت ایمان، قربانی اور اتحاد ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ غزہ اور دیگر مظلوم خطوں کے حق میں آواز بلند کرنا ہی اصل ایمان کا تقاضا ہے۔

تحریک کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے فکری پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکہ و اسرائیل کے خلاف پیدا ہونے والی عوامی نفرت کو اندرونی اختلافات یا مقامی سیاسی تنازعات کی طرف موڑنا ایک سنگین فکری غلطی ہوگی، ہمیں عالمی تناظر میں دشمن کو پہچاننا ہوگا۔ آخر میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے شرکاء کے جذبوں کو مہمیز دیتے ہوئے کہا کہ آزادی ایک کٹھن راستہ ہے، جو مسلسل قربانی اور جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ حق کبھی کسی خوف کے سامنے نہیں جھکتا۔ انہی اجتماعات کے تسلسل میں ایک عظیم الشان اجتماع سکردو کے میونسپل اسٹیڈیم میں بھی منعقد ہوا۔ تجلیلِ شہداء و تجدیدِ عہدکے عنوان سے منعقدہ یہ اجتماع گلگت بلتستان کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا ہے، جس کی سب سے نمایاں خوبی عوامی شرکت کی وسعت اور نظریاتی وابستگی تھی۔

کھرمنگ، شگر، گانچھے اور روندو جیسے دور افتادہ علاقوں سے لاکھوں لوگوں کا شدید موسم اور کٹھن راستوں کے باوجود قافلوں کی صورت میں پہنچنا یہ ثابت کرتا ہے کہ رہبرِ شہید کی فکر اب ہر گھر تک پہنچ چکی ہے۔ انجمنِ امامیہ بلتستان کے پلیٹ فارم پر استور، ہنزہ، نگر اور گلگت سمیت پورے خطے کے 40 سے زائد جید علماء اور رہنماؤں کا اتحاد ایک بڑا سیاسی پیغام ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ قوم عالمی استعمار کے خلاف مزاحمت کے مرکز پر متحد ہے۔ نئے رہبر سے تجدیدِ عہد نے واضح کر دیا کہ یہ تحریک کسی فرد تک محدود نہیں بلکہ ایک مستقل نظام  ولایت  سے جڑی ہے، جس نے دشمن کی ان تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے، جو قیادت کی شہادت کے بعد تحریک کے بکھرنے کی توقع کر رہے تھے۔

سکردو کے اس تاریخی اجتماع سے اپنے صدارتی خطاب میں صدر انجمنِ امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی نے تمام شرکاء اور علمائے کرام کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انھوں نے دور دراز کے اضلاع سے قافلوں کی صورت میں آنے والے مومنین اور جوانوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے پروگرام کے کامیاب انعقاد میں تعاون کرنے پر ضلعی انتظامیہ، سکیورٹی اداروں، میڈیا نمائندگان، تاجر برادری، ڈاکٹروں، رضاکاروں اور تمام ماتمی انجمنوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا دل سے شکریہ ادا کیا۔ سید باقر الحسینی نے عالمی سطح پر فلسطین اور خطے میں جاری مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم کی شہادت کے بعد بھی ان کا مشن زندہ ہے اور امتِ مسلمہ ان کے افکار پر متحد ہو کر ظلم کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی۔ اس کے علاوہ بھی ملک کے مختلف شہروں میں تجدید عہد کی تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔

پاکستان بھر میں منعقد ہونے والے یہ پروگرام ایک زندہ ضمیر قوم کا اپنے رہبر سے  عہدِ وفا تھا، جس کا عملی مظاہرہ ملک کے طول و عرض میں رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے چہلم کے ان عظیم الشان اجتماعات کی صورت میں نظر آیا۔ یہ اجتماعات اس حقیقت کا برملا اظہار ہیں کہ شہید کی فکر اور ان کا مشن کسی جغرافیائی سرحد یا جسمانی موت کا پابند نہیں، بلکہ ان کی شہادت نے قوم کے اجتماعی ضمیر کو ایک نئی زندگی عطا کر دی ہے۔ پاکستان میں رہبر شہید کی فکر و نظریات کی سب سے نمایاں خصوصیت سنی و شیعہ اتحاد اور بین المسالک ہم آہنگی ہے، جس کا عملی مظاہرہ  ان اجتماعات میں دیکھنے کو ملا۔ عوام بالخصوص نئی نسل کی ان اجتماعات میں بھرپور شرکت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ رشتہ اب ایک ایسی اٹل نظریاتی بنیاد پر استوار ہوچکا ہے، جو فرقہ واریت سے بالاتر ہے، جہاں ہر فرد اپنے عمل سے یہ گواہی دے رہا ہے کہ وہ عالمی استعمار کے خلاف اپنے رہبر کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کے لیے تیار ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز