Skip to content

خوف سے آزاد قوم اور ٹوٹتا ہوا امریکی و اسرائیلی غرور

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس نقوی

جب کسی قوم کے قائدین، مصلحین اور عسکری مجاہدین کا خون زمین کو رنگین کرتا ہے، تو وہ قوم فنا نہیں ہوتی بلکہ اسے ایک نئی اور ابدی زندگی ملتی ہے۔ ایران نے حالیہ حملوں، پے در پے بڑے نقصانات  اور اہم شخصیات کی شہادتوں کے باوجود جس غیر معمولی صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ ان کا بھروسہ محض مادی وسائل اور ٹیکنالوجی پر نہیں، بلکہ اس نورِ شہادت  پر ہے جو کربلا کے تپتے صحرا سے مستعار لیا گیا ہے۔

شہادتوں کا یہ مسلسل سفر خواہ اس میں سیاسی مدبرین نشانہ بنیں یا علمی و عسکری ستون، دراصل اس بھاری قیمت کا نام ہے جو کسی بھی قوم کو اپنی آزادی، خودداری اور سالمیت کے تحفظ کے لیے چکانی پڑتی ہے۔ جب دشمن براہِ راست میدانِ کارزار میں مقابلہ کرنے کے بجائے بزدلانہ حملوں، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پر اتر آئے تو یہ اس کی فوجی برتری نہیں بلکہ واضح اخلاقی شکست اور خوف کی علامت ہوتی ہے۔

موجودہ عالمی تناظر میں ایران کے سامنے دو ہی راستے ہیں؛ ا یک یہ کہ وہ عالمی استکباری قوتوں (امریکہ و اسرائیل) کے سامنے گھٹنے ٹیک کر نام نہاد  عافیت اور مصلحت کی زندگی قبول کر لیتا۔دوسرا یہ کہ وہ اپنے الہامی نظریات پر قائم رہتے ہوئے عزت و خودداری  کا کٹھن مگر معتبر راستہ منتخب کرتا۔

انقلاب کی ابتدا سے اب تک ایرانی قوم نے ہر مشکل گھڑی میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ‘ذلت کی زندگی’ پر ‘عزت کی موت’ کو ترجیح دی ہے۔ یہ وہی راستہ ہے جس کا تعین امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے تپتے میدان میں اپنے اس آفاقی جملے سے کیا تھا: "مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَ يَزِيد”

اسی تناظر میں رہبرِ شہید حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ایؒ نے اپنے آخری خطاب میں اس حسینی فرمان کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ جملہ محض ایک دور تک محدود نہیں، بلکہ رہتی دنیا تک کے لیے حق و باطل کا ایک ابدی معیار ہے۔ اس کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو حسینی نقشِ قدم پر چلنے والا ہے، وہ تاریخ کے ہر اس نظام یا شخصیت کی اطاعت سے انکار کر دے گا جو یزیدی کردار کا حامل ہو۔

آپ نے اس اصولی موقف کو عصرِ حاضر کے حالات پر منطبق کرتے ہوئے فرمایا کہ جو قوم کربلا کے مدرسے کی تربیت یافتہ ہو اور اعلیٰ اسلامی معارف سے سرشار ہو، وہ دورِ حاضر کی استعماری طاقتوں کے سامنے کبھی سر تسلیم خم نہیں کر سکتی۔ یہ انکارِ بیعت دراصل اسی عزت کے راستے کا انتخاب ہے جس کی قیمت آج بھی شہداء اپنے لہو سے چکا رہے ہیں۔

آج تہران کی گلیوں سے لے کر لبنان، فلسطین اور غزہ کے لہو رنگ محاذوں تک جو خون بہ رہا ہے، وہ دراصل اسی مقدس لہو کا تسلسل ہے جو 61 ہجری میں کربلا کی ریت پر بہایا گیا تھا۔ نادان دشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ قد آور شخصیات کو جسمانی طور پر ختم کر کے اس عظیم تحریک کو دبا دے گا، لیکن وہ شاید یہ بھول گیا ہے کہ  کربلا کسی خاص جغرافیے یا زمانے کا نام نہیں، بلکہ ایک عالمگیر فکر اور زندہ جاوید مائنڈ سیٹ کا نام ہے۔

ایران اور جبہہ مقاومت نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے، وہ بلاشبہ کانٹوں بھرا اور کٹھن ہے، لیکن یہی وہ راستہ ہے جو تاریخ میں قوموں کو  زندہ جاوید بناتا ہے۔ یہ شہادتیں کمزوری کی علامت نہیں بلکہ اس عزمِ صمیم کی تجدید ہیں کہ باطل کتنا ہی طاقتور اور لیس کیوں نہ ہو، حق کا سر کبھی اس کے سامنے نہیں جھکے گا۔

اس عظیم قربانی اور لہو کے اس مقدس تسلسل کے سامنے آج عالم اسلام کی خاموشی ایک تکلیف دہ سوال بن کر کھڑی ہے۔ جہاں ایک قوم اپنی بقا اور نظریات کے تحفظ کے لیے اپنے بہترین بیٹوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے، وہاں مسلم ممالک کے حکمران اور مقتدر حلقے مصلحتوں کی چادر اوڑھے محض خاموش تماشائی  بنے ہوئے ہیں۔

یہ بے حسی نہ صرف شہداء کے لہو سے بے وفائی ہے، بلکہ اس اتحادِ امت کے تصور کی نفی بھی ہے جس کا درس قرآن نے دیا تھا۔ یاد رہے کہ تاریخ صرف ان کو یاد نہیں رکھتی جو میدانِ جنگ میں جرات کے علمبردار بن کر لڑتے ہیں، بلکہ وہ ان کا نام بھی عبرت کے طور پر محفوظ رکھتی ہے جو حق اور باطل کے اس معرکے میں اپنی ‘مصلحت پسندی’ کو ‘حکمت عملی’ کا نام دے کر خاموش رہے اور امت واحدہ کے جسد واحد ہونے کے دعوے کو اپنی بے عملی سے جھٹلاتے رہے۔

ان تمام تر چیلنجز اور عظیم شہادتوں کے باوجود، ایرانی قوم کے عزم و حوصلے میں رتی بھر لغزش نہیں آئی، بلکہ یہ سفر ان کی ہمتوں کو مزید جلا بخش رہا ہے۔ وہ دشمن جو اپنی ٹیکنالوجی، بحری بیڑوں اور ناقابلِ تسخیر دفاعی چھتری پر نازاں تھا، آج اسے معلوم ہو چکا ہے کہ اس کے غرور کے حصار میں سوراخ ہو چکے ہیں۔

خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر ہونے والے حالیہ حملے دراصل کسی ملک کی سالمیت پر حملہ نہیں، بلکہ ان غاصب ٹھکانوں کی کمر توڑنے کی شعوری کوشش ہے جو برسوں سے امتِ مسلمہ کے خلاف استعمال ہو رہے تھے۔ آج تہران سے لے کر ایران کے ہر چھوٹے بڑے شہر اور قصبے تک، پوری قوم یکجان ہو کر سڑکوں پر کھڑی ہے۔

یہ عوامی سمندر اپنے انقلاب اور اپنی افواج کی پشت پر کسی خوف اور غم کے بغیر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکا ہے۔ استکباری قوتوں کے تکبر کا سورج اب ڈھل رہا ہے اور ان کے زوال کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ یہ ایران کی وہ دفاعی اور نظریاتی مضبوطی ہے جو ثابت کر رہی ہے کہ فتح مادی وسائل کی نہیں، بلکہ اس بلند حوصلے کی ہوتی ہے جو حق پر ڈٹ جانے سے پیدا ہوتا ہے۔ ان شاء اللہ، شہداء کا یہ خون باطل کی شکستِ فاش کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

بشکریہ اسلام ٹائمز