Skip to content

حج: عالمی استکبار کے خلاف قیام کا منشور

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس نقوی

حج محض ایک سالانہ مذہبی فریضہ، روایتی اجتماع یا انفرادی نوعیت کی عبادت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ دین اسلام کی ایک ایسی اجتماعی عبادت ہے جس کے دوراںاسلام کا عالمگیر پیغام اپنے مکمل جاہ و جلال، روحانیت اور سیاسی شکوہ کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ یہ عظیم عبادت عالمِ اسلام کی اس وحدتِ اساسی کا عملی مظہر ہے جو رنگ، نسل، زبان، شہریت اور جغرافیائی حدود جیسے تمام مصنوعی و مادی بتوں کو پاش پاش کرکے "امتِ واحدہ” کی وہ ٹھوس بنیاد فراہم کرتی ہے جس کا تصور قرآن و سنت نے پیش کیا ہے۔ رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی نگاہ میں حج کا یہی پہلو اس عبادت کو ایک بے روح اجتماع سے نکال کر ایک زندہ جاوید تحریک میں بدل دیتا ہے۔

حجِ بیت اللہ ہمیشہ سے امتِ مسلمہ کے لیے ایک مرکزِ امید، جائے پناہ اور وحدت کا استعارہ رہا ہے۔ اس برس حج کا موسم ایک ایسے گہرے خلا اور دلدوز احساس کے ساتھ آیا ہے جس نے پوری دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کو سوگوار کردیا ہے۔ تاریخ اس حقیقت پر گواہ ہے کہ گذشتہ تقریباً سینتیس (37) برسوں سے رہبرِ شہید کا پیغامِ حج پوری دنیا کے مسلمانوں اور حریت پسندوں کے لیے ایک سیاسی، سماجی اور روحانی قطب نما ثابت ہوتا رہا ہے۔ ان بصیرت افروز پیغامات نے حج کے اس روحانی اجتماع کو ایک ایسی ہمہ گیر روحانی و سیاسی تربیت گاہ کے طور پر متعارف کرایا، جس کا محور و مرکز اتحادِ امت، بیداریِ ملت اور استکبارِ عالمی کے خلاف سینہ سپر ہونا ہے۔

افسوس اس برس حج کی فضائیں اس حکیمِ امت، بصیرت مند قائد اور مردِ مجاہد کی حکیمانہ رہنمائی اور براہِ راست فیض سے محروم ہیں، جنھوں نے اپنی پوری زندگی اعلائےکلمہ اللہ، احیائے اسلام اور مظلومینِ جہاں کی غیر مشروط حمایت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ بلند پایہ مدبر اور عظیم فقیہ، جن کا علم، تقویٰ، زہد اور بصیرت افروز قیادت عالمِ اسلام کے لیے ایک مضبوط فولادی ڈھال کی مانند تھی، حال ہی میں امریکہ اور اسرائیل کی مسلط کردہ "جنگِ رمضان” میں جامِ شہادت نوش کرکے اپنے رب کے حضور سرخرو ہوگئے۔ آپ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ حج کا اصل پیغام ہی شہادت اور فداکاری کا جذبہ پیدا کرنا ہے اور آج ان کی شہادت نے اس پیغام کو ایک نئی گہرائی بخش دی ہے۔

رہبرِشہید کی فکری بصیرت جس کا منبع قرآن کریم کی تعلیمات ہیں کے مطابق حج کا سفر درحقیقت ایک انسان کی اپنی معمولی، محدود اور مادی زندگی سے ایک "مطلوبہ توحیدی زندگی” کی طرف ہجرت کی ایک شعوری مشق ہے۔ اس مطلوبہ زندگی میں حق کے محور کے گرد دائمی طواف کرنا، مشکل چوٹیوں اور کٹھن راستوں کے درمیان سعی و کوشش کرنا اور انسانیت کے دشمن شر پسند شیطان کو پتھر مارنا محض خشک یا علامتی مناسک نہیں ہیں بلکہ یہ بندگیِ الٰہی کے وہ بنیادی، اساسی اور روح پرور اجزاء ہیں جو انسان کو غیر اللہ کی ہر قسم کی غلامی، طوقِ اسارت اور ذہنی پستی سے نجات دلاتے ہیں۔

رہبرِ شہید کی حج کے پیغامات میں تاکید رہی ہے کہ حج کا اصل فلسفہ ہمیں مستقل بنیادوں پر یہ یاد دلاتا ہے کہ تمام لسانی، قبائلی اور نسلی امتیازات کو پسِ پشت ڈال کر، ایک ہی سادہ لباس (احرام) میں، ایک ہی مرکز (کعبہ) کے گرد، ایک ہی خدا کے سامنے سر بسجود ہونا ہی اصل جوہرِ اسلام ہے۔ ان کے نزدیک حج کا اصل مقصد وہ آہنی اتحاد ہے جو کفر، نفاق، عالمی ظلم اور ان تمام انسانی و غیر انسانی بتوں کے خلاف ہو جنھیں مٹانے کے لیے دینِ مبینِ اسلام آیا ہے۔ یہ اتحاد محض ایک جذباتی نعرہ یا وقتی مصلحت نہیں بلکہ ایک تزویراتی (Strategic) ضرورت ہے، جس کا منطقی مطلب دلوں، افکار، نظریات اور مواقف کا ایک دوسرے کے قریب ہونا، علمی و تجرباتی میدانوں میں باہمی تعاون کرنا اور مشترکہ دشمنوں کے مقابلے میں ایک دوسرے کا دست و بازو بننا ہے۔

رہبرِ شہید نے اپنے بصیرت افروز پیغاماتِ حج میں بارہا اس اساسی نکتے کی وضاحت فرمائی ہے کہ استکبارِ عالمی کے خلاف بیداری اور "برائت از مشرکین” حج کا وہ لازمی اور ناگزیر جزو ہے جو اسے محض ایک شخصی عمل سے بلند کرکے ایک عظیم عالمی تحریک میں تبدیل کر دیتا ہے۔ برائت کا یہ عمل ظالموں، غاصبوں اور مشرک طاقتوں سے بیزاری کے کھلے اور اعلانیہ اظہار کا نام ہے۔ موجودہ دور میں جب عالمی استعمار اور سامراجی قوتیں مسلم ممالک کے گراں قدر وسائل پر قابض ہونا چاہتی ہیں اور مسلمانوں کے صفوں میں فرقہ واریت اور انتشار کی آگ بھڑکا رہی ہیں، حج کے یہ مقدس ایام تمام مسلمانوں کے لیے بہترین موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ اس عالمی استکبار کی گہری سازشوں کو پہچانیں۔ رہبرِ شہید کے پیغامات میں فلسطین اور غزہ کے مظلوموں کا ذکر ہمیشہ اس لیے کلیدی رہا ہے کیونکہ آپ کے نزدیک فلسطین کا مسئلہ صرف ایک خطے کا نہیں بلکہ پوری اسلامی غیرت کا مسئلہ ہےاور حج اس حق پر مبنی آواز کو عالمی سطح پر بلند کرنے کا بہترین وقت ہے۔

رہبرِ شہید حج کی اصل حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے دنیاوی اسفار سے جدا قرار دیتے ہیں۔ ان کا محکم استدلال ہے کہ حج "معمولی زندگی سے مطلوبہ زندگی کی طرف ہجرت کی ایک مشق” ہے۔ وہ اس "مطلوبہ زندگی” کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ دراصل وہ توحیدی زندگی ہے جس میں انسان کا ہر چھوٹا بڑا عمل حق کے محور کے گرد گھومتا ہے۔ اس الٰہی تناظر میں کعبہ کا طواف دراصل حق پر استقامت ہے، صفا و مروہ کے درمیان سعی جہدِ مسلسل کا نام ہے اور منیٰ میں رمیِ جمرات شیطانِ بزرگ اور تمام شر پسند استکباری طاقتوں کے خلاف ایک عملی اعلانِ جنگ ہے۔ رہبرِ معظم کی یہ فکر ہمیں سکھاتی ہے کہ رنگ، نسل اور جغرافیہ کے محدود بتوں کو مٹا کر خدا کی پناہ میں آنا ہی بندگی کی معراج ہے۔

آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی سیاسی حالات اور خاص طور پر غزہ میں جاری انسانیت سوز مظالم کے تناظر میں رہبرِ شہید کا لہجہ مزید سنجیدہ اور امت کو جھنجھوڑ دینے والا رہا۔ آپ اپنے آخری  حج کے پیغام میں اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ یہ مسلسل دوسرا حج ہے جو غزہ کے انتہائی المناک واقعات کے دوران انجام پا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صیہونی مجرم گینگ نے درندگی کی وہ مثالیں قائم کی ہیں جن کا تصور محال ہے۔ جب ننھے معصوم فلسطینی بچے بمباری اور بھوک سے دم توڑ رہے ہوں۔ اس عظیم انسانی المیے کے سامنے کسے قیام کرنا چاہیے؟ رہبر شہید دو ٹوک الفاظ میں یہ موقف اپناتے ہیں کہ یہ فریضہ سب سے پہلے اسلامی حکومتوں پر عائد ہوتا ہے کہ وہ صیہونی ریاست کی ہر قسم کی اقتصادی اور سیاسی امداد فوری طور پر بند کریں۔

رہبرِ شہید اپنے پیغامات میں اس نکتے کو بارہا واضح کرتے ہیں کہ غاصب صیہونی حکومت تنہا نہیں ہے بلکہ امریکہ اس کے تمام تر جرائم کا برابر کا شریکِ کار ہے۔ ان کا بصیرت افروز تجزیہ یہ ہے کہ سامراجی طاقتوں نے ہمیشہ یہ ناپاک کوشش کی کہ مسئلہ فلسطین کو "طاقِ نسیاں” پر رکھ دیں لیکن غزہ کے عوام کی بے مثال مزاحمت نے اسے دوبارہ پوری انسانیت کا سب سے بڑا مسئلہ بنا دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ آج صیہونیوں سے نفرت اپنے عروج پر ہے اور یہ عالمِ اسلام کے لیے ایک سنہرا موقع ہے کہ وہ خوابِ غفلت سے بیدار ہو جائے۔ حج میں "برائت از مشرکین” کا اعلان دراصل اسی عالمی سامراج اور جدید جاہلیت سے بیزاری کا نام ہے، جو ایک شعوری سیاسی اقدام ہے۔

اس برس حج کے ایام ایک خاص روحانی رنگ "نیابتِ شہید” کی صورت میں بھی نمایاں ہوں گے۔ رہبرِ شہید کے افکار اور ان کی انقلابی جدوجہد سے وابستہ لاکھوں زائرین اس مقدس سفر کو "امتِ اسلامی کے اس عظیم شہید” کی یاد سے منسوب کریں گے، جن کی پوری زندگی حرم کی پاسبانی اور امت کی بیداری میں گزری۔اپنی شہادت سے قبل انھوں نے امت کو جس فولادی وحدت کی وصیت کی تھی، اس برس حجاج کرام ان کی نیابت میں مناسک ادا کر کے گویا ان کی ادھوری تمناؤں کو زبان دیں گے۔ طوافِ کعبہ ہو یا سعیِ صفا و مروہ، ہر قدم پر یہ احساس غالب رہے گا کہ یہ محض ایک فرد کی عبادت نہیں، بلکہ اس مشن کو زندہ رکھنے کا عہد ہے جس کے لیے شہید نے اپنا خون پیش کیا۔

زائرین کا یہ ولولہ اور لبیک کی صداؤں میں شہید کی یاد کا شامل ہونا اس حقیقت کا اعلان ثابت ہوگا کہ شہداء کا راستہ مٹایا نہیں جا سکتا۔ یہ نیابت دراصل اس عالمی وحدت اور حریت کی علامت بن کر ابھرے گی جس کا خواب شہداء نے دیکھا تھا۔ دلوں میں ایک عجیب سوز اور تڑپ ہوگی کہ جس مردِ مجاہد نے امت کو قبلہ اول کی آزادی کا راستہ دکھایا، وہ اگرچہ جسمانی طور پر ان صفوں میں موجود نہیں مگر ان کی روح اور ان کا پیغام ہر حاجی کے جذبے میں سانس لے رہا ہوگا۔ یہ نیابت اس سچائی پر مہر ثبت کرے گی کہ شہید مرتا نہیں بلکہ ایک ابدی فکر بن کر لاکھوں دلوں میں دھڑکنے لگتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ رہبرِ شہید کے پیغاماتِ حج امتِ مسلمہ کے لیے ایک ایسے روشن قطب نما کی حیثیت رکھتے ہیں جو تفرقے کے اندھیروں میں منزلِ مقصود کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کا یہ اٹل فیصلہ ہے کہ حج کی عبادات کا اصل ثمر اس وقت حاصل ہوتا ہے جب ایک حاجی خانہِ خدا سے واپسی پر اپنے اندر ظلم کے خلاف شدید نفرت اور مظلوم کے لیے ہمدردی کا جذبہ لے کر آئے۔ اتحاد اور معنویت وہ دو بنیادی ستون ہیں جن کے بغیر امتِ مسلمہ کی سر بلندی ممکن نہیں۔ آج جب صیہونیت اور استکبار اپنے زوال کو بچانے کے لیے آخری ہتھکنڈے آزما رہے ہیں۔ ایسے میں رہبرِ شہید کی پکار یہی ہے کہ امتِ واحدہ بن کر ہی ہم ان استعماری و استکباری بتوں کو پاش پاش کرسکتے ہیں اور زمین پر عدلِ الٰہی کے قیام کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ یہی حج کا اصل پیغام اور دورِ حاضر کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز