Skip to content
syedasadabbas

قضیہ یمن، ایک جائزہ اور تازہ صورتحال

یمن جزیرہ عرب کے جنوب میں قائم دوسری بڑی ریاست ہے، جس کا رقبہ 5,27970 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ اس ریاست کی صحرائی پٹی تقریباً 2000 کلومیڑ پر پھیلی ہوئی ہے، جس کے جنوب میں بحیرہ عرب، شمال میں سعودی عرب، مغرب میں بحیرہ احمر، خلیج عدن جبکہ مشرق میں عمان ہے۔ اس ریاست کے تقریباً 200 کے قریب چھوٹے جزائر ہیں۔ یمن او آئی سی، اقوام متحدہ اور عرب لیگ کا رکن ہے۔ قرآن کریم میں مذکور ملکہ صبا کا تعلق اسی سرزمین سے تھا، جو ایک قدیم تہذیب ہے۔ ابرہہ کا لشکر بھی یمن کی جانب سے سرزمین حجاز پر حملہ آور ہوا۔ اس خطے میں اسلام رسالت ماب ؐ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے ہی پھیلنا شروع ہوگیا تھا۔ یمنی تاجر اور بیت اللہ کے زائرین رسالت ماب کی بعثت سے آگاہ ہوئے تو انھوں نے اس نئے دین کے بارے میں جاننا شروع کیا، یمن میں دین اسلام کی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے رسالت ماب ؐ نے بہت سے صحابہ کو یمن میں تعینات کیا، جن میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام، معاذ بن جبل، مہاجر بن ابی امیہ، عکاشہ بن ثور، ابو موسیٰ اشعری، خالد بن ولید، عمرو بن حزم انصاری، طاہر بن ابی ھالہ، عامر بن شہر رضوان اللہ علیہم شامل ہیں۔

syedasadabbas

روسی ٹوپولیو فضائی کمانڈ کی ایران تعیناتی

مشرق وسطیٰ کے جنگ کے اس الاؤ میں متعدد کردار بالخصوص اسرائیل اپنے حصے کی لکڑیاں ڈال رہا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مفاہمی قرارداد کو سبوتاژ کرنے کیلئے اسرائیل نے پیسہ پانی کی مانند بہایا ہے اور لابنگ بھی کی ہے۔ اسرائیلی اسوقت امریکی نائب صدر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے رہے ہیں، تاہم ٹرمپ انکے اشاروں پر مسلسل ناچ رہا ہے۔ روس کے پاس جنگ میں خاطر خواہ دخالت کے بغیر یوکرین جنگ کا بدلہ لینے نیز جنگ کے حامیوں اور سرپرستوں کو دھول چٹانے کا بہترین موقع موجود ہے۔ پاکستان اور چین کی خواہش ہے کہ معاملات کو گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جائے۔ عرب ریاستوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ مال بچائیں یا ملک۔

syedasadabbas

شہید امت سید علی خامنہ ای بحیثیت قائد و رہبر

انھوں نے امام خمینی کے انقلابی اصولوں پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے ایک طرف جہاں ملکی دفاع کو بیلسٹک میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کی بدولت ناقابلِ تسخیر بنایا اور سائنسی و جوہری میدان میں ایران کو خود کفالت کی راہ پر گامزن کیا، تو دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں "محورِ مزاحمت” کی آبیاری کرکے خطے کے سیاسی نقشے کو بدل کر رکھ دیا۔ ان کی قیادت کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا فکری تدبر ہے، جس کے ذریعے انھوں نے قرآنی تعلیمات کو سیاسی و معاشی نظام کی بنیاد بنایا، مسلم اتحاد کے لیے عملی اقدامات کیے اور اندرونی فتنوں و سازشوں کا مقابلہ بندوق کے بجائے عوامی بصیرت اور قانون کی بالادستی سے کیا۔ خلاصہ یہ کہ وہ محض ایک روایتی مذہبی پیشوا نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک عالمی رہنماء ثابت ہوئے، جنھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وجود کا تحفظ کرتے ہوئے اسے خطے کی ایک ناگزیر اور خود مختار سیاسی و فوجی طاقت بنا دیا۔ خداوند کریم شہید امت کو اپنے برگزیدہ بندوں میں محشور فرمائے۔ آمین