قضیہ یمن، ایک جائزہ اور تازہ صورتحال
یمن جزیرہ عرب کے جنوب میں قائم دوسری بڑی ریاست ہے، جس کا رقبہ 5,27970 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ اس ریاست کی صحرائی پٹی تقریباً 2000 کلومیڑ پر پھیلی ہوئی ہے، جس کے جنوب میں بحیرہ عرب، شمال میں سعودی عرب، مغرب میں بحیرہ احمر، خلیج عدن جبکہ مشرق میں عمان ہے۔ اس ریاست کے تقریباً 200 کے قریب چھوٹے جزائر ہیں۔ یمن او آئی سی، اقوام متحدہ اور عرب لیگ کا رکن ہے۔ قرآن کریم میں مذکور ملکہ صبا کا تعلق اسی سرزمین سے تھا، جو ایک قدیم تہذیب ہے۔ ابرہہ کا لشکر بھی یمن کی جانب سے سرزمین حجاز پر حملہ آور ہوا۔ اس خطے میں اسلام رسالت ماب ؐ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے ہی پھیلنا شروع ہوگیا تھا۔ یمنی تاجر اور بیت اللہ کے زائرین رسالت ماب کی بعثت سے آگاہ ہوئے تو انھوں نے اس نئے دین کے بارے میں جاننا شروع کیا، یمن میں دین اسلام کی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے رسالت ماب ؐ نے بہت سے صحابہ کو یمن میں تعینات کیا، جن میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام، معاذ بن جبل، مہاجر بن ابی امیہ، عکاشہ بن ثور، ابو موسیٰ اشعری، خالد بن ولید، عمرو بن حزم انصاری، طاہر بن ابی ھالہ، عامر بن شہر رضوان اللہ علیہم شامل ہیں۔

