تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس نقوی
ایران پر ہونے والی امریکہ اور اس کی ناجائز اولاد اسرائیل کی حالیہ جارحیت کو بیس دن سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن تہران کے انقلاب اسکوائر سے لے کر قم کی مقدس گلیوں اور مشہد کے وسیع صحنوں تک، خوف کا نام و نشان تک نہیں۔ یہ راتیں اب ماتم کی نہیں بلکہ استقامت کی علامت بن چکی ہیں۔ جہاں دنیا سمجھتی تھی کہ میزائلوں کی گونج لوگوں کو گھروں میں محصور کر دے گی، وہاں ایرانی عوام نے سڑکوں کو اپنی عبادت گاہ اور محاذ بنا لیا ہے۔ یہاں ہر رات لوگ اپنے گھروں سے نکلتے ہیں اور جوق در جوق سڑکوں پر آ کر اپنی بیداری کا ثبوت دیتے ہیں۔ یہ ایک معرکہِ صیام ہے، جہاں ایک طرف روزے کی پیاس ہے اور دوسری طرف بارود کی تپش، مگر عوامی حوصلے ہمالیہ سے بھی بلند ہیں۔ یہ لوگ قرآن کے اس وعدے پر یقین رکھتے ہیں کہ فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۔ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
حالیہ یوم القدس کے مناظر اس جذبے کی گواہی دے رہے تھے جب غزہ اور فلسطین کی حمایت میں لاکھوں کا مجمع سڑکوں پر نکلا۔ اس میں نہ صرف عوام بلکہ ملک کی تمام اہم شخصیات، صدرِ مملکت، اسپیکر پارلیمنٹ اور سیکرٹری سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سمیت تمام عسکری و سول قیادت بھی عام شہریوں کے شانہ بشانہ موجود تھی۔ یہ اتحاد اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران میں قیادت اور عوام کے درمیان کوئی دیوار نہیں ہے۔ دشمن نے میزائل داغے، دھماکے کیے تاکہ اس عزم کو متزلزل کر سکے، لیکن تہران کے اسکوائرز میں تلاوتِ قرآن کی روح پرور صدائیں گونجتی رہیں اور لوگ ذرا نہ گھبرائے۔
ان استقامت کی راتوں میں ایرانی قوم کا اپنے قائدین کے ساتھ والہانہ عشق ایک نئی صورت میں سامنے آیا ہے۔ رہبر شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کی بصیرت انگیز قیادت پر عوام کا غیر متزلزل بھروسہ اور شہدائے مقاومت کی قربانیوں نے قوم کے رگ و پے میں اتحاد کی نئی روح پھونک دی ہے۔ جب ان کے جلیل القدر جرنیل اور قد آور شخصیات شہید ہوئیں، تو ان کے جنازوں میں امڈنے والے ٹھاٹھیں مارتے سمندر نے دنیا کو بتا دیا کہ شہادت اس قوم کے لیے کمزوری نہیں بلکہ طاقت کا سرچشمہ ہے۔ عوام نے ان کٹھن لمحات میں نہ صرف شہداء کے لہو سے وفا کا عہد کیا بلکہ آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای جیسی علمی و انقلابی شخصیات کے گرد جمع ہو کر یہ پیغام دیا کہ انقلاب کی یہ مشعل نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے اور قیادت و عوام کا یہ رشتہ دشمن کی ہر سازش سے بالاتر ہے۔ یہ قوم پکار پکار کر کہہ رہی ہے:
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
دنیا کی تاریخ میں ایسی قوم کم ہی نظر آتی ہے جو دشمن کے براہِ راست حملے کے دوران سڑکوں پر نکل کر جشنِ استقامت منائے۔ یہ صرف تہران، اصفہان، شیراز یا تبریز تک محدود نہیں، بلکہ ایران کے ہر چھوٹے بڑے شہر، قصبے اور گاؤں میں یہی کیفیت طاری ہے۔ دشمن سمجھتا تھا کہ وہ خوف کی نفسیات پھیلائے گا، مگر ایران کے غیور عوام نے خوف کو ہی شکست دے دی ہے۔ معصوم بچے اور بچیاں اپنے والدین کے ہمراہ پرچم اٹھائے سڑکوں پر نکل کر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مزاحمت ان کی گھٹی میں پڑی ہے۔ ہیہات منا الذلہ کا نعرہ ان کے رگ و پے میں بسا ہوا ہے۔ وہ سڑکوں پر کھڑے ہو کر پکارتے ہیں کہ ہمیں بھوک، پیاس اور بمباری قبول ہے، لیکن سامراج کی غلامی اور ذلت کبھی قبول نہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس شدید کشیدگی کے باوجود ایران کا نظامِ زندگی پوری آب و تاب سے بحال ہے۔ یہ نارمل زندگی اور استقامت کا ایک انوکھا امتزاج ہے۔ دکانیں کھلی ہیں، بازاروں میں زندگی کی چہل پہل ہے اور کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ عوام دن بھر روزے کی حالت میں اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور رات ڈھلتے ہی استقامت کی ان محفلوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ بائیک سواروں کے دستے اور گاڑیوں کے قافلے دشمن کے نفسیاتی وار کے خلاف ایک زندہ انسانی دیوار ہیں۔ جگہ جگہ لگے ہوئے اسٹالز اور موکب اس استقامت کو سماجی رنگ دے رہے ہیں، جہاں عام شہری ایک دوسرے کی خدمت کر کے اس عزم کو دہراتے ہیں کہ وہ کسی قیمت پر دشمن کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
ان استقامت کی راتوں کی سب سے بڑی روحانی جھلک شبِ قدر کے اعمال میں نظر آئی۔ لاکھوں لوگوں نے کھلے آسمان تلے، جہاں اوپر سے میزائلوں کے گرنے کا خطرہ تھا، ماتھے خاکِ شفا پر رکھ کر اللہ سے مناجات کیں۔ یہ ایک عجیب منظر تھا۔ ایک طرف انقلابی ترانے لہو گرما رہے تھے اور دوسری طرف گریہ و زاری اور نوحہ و مناجات کی محفلیں دلوں کو جلا بخش رہی تھیں۔ خواتین، بچے اور پورے پورے خاندان ان اعمال میں شریک ہوئے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس قوم نے کربلا سے یہ سبق سیکھا ہے کہ اصل فتح خون کی تلوار پر ہوتی ہے۔ ان کا یہ ایمان قرآن کی اس آیت کی عملی تصویر ہے: كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ۔
آج ایران کی یہ استقامت دنیا بھر کی مظلوم اقوام اور بالخصوص مسلم امہ کے لیے ایک روشن مینار اور ایک خاموش پیغام ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب ایمان اور اتحاد یکجا ہو جائیں تو عالمی استعمار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیا جا سکتا ہے۔ مسلم ممالک کو دیکھنا چاہیئے کہ کس طرح موت کے خوف سے آزادی ہی دراصل حقیقی زندگی کا آغاز ہے۔ یہ استقامت کی راتیں اس عظیم صبح کا پیش خیمہ ہیں جہاں باطل کو شکستِ فاش ہوگی اور حق کا بول بالا ہوگا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کے دلوں سے موت کا خوف نکل جائے تو بڑی سے بڑی سلطنتیں ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہیں۔ یہ ایمان کی طاقت ہی ہے جو ان شاء اللہ بہت جلد ایک بڑی فتح کی نوید بنے گی اور دشمن اپنے تمام تر مادی غرور کے ساتھ خاک میں مل جائے گا۔ (ان شاء اللہ)
بشکریہ اسلام ٹائمز