Skip to content
Dr Ali Abbas

قرآن کے ساتھ دوسرے نظریات کو ملانے کی اصلاح

بعض لوگ جیسے ہی کسی آیت کا مطالعہ کرتے ہیں اس کے کسی ایک کلمہ یا لفظ یا کسی عبارت کو دیکھتے ہیں  فوراً کسی دوسرے نظریات کی طرف ان کا ذہن منتقل ہو جاتا ہے جس کو وہ اپنے گمان میں قران جیسا سمجھتے ہیں  اور پھر وہ اس آیت کو اس نظریے سے جوڑنے لگتے ہیں۔ نتیجہ میں پروردگار  کےمقصودِ اصلی سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ خطا کبھی سیکھتے وقت کبھی  استنباط شدہ مطالب کو لکھتے وقت تو کبھی  مجموعی پیغام کی تنظیم و ترتیب  کے وقت  نظر آتی ہے ۔آیات اور سورہ کے مطالعہ کے وقت توجہ صرف قرآنی مطالب کی طرف مرکوز رہنی چاہیئے اور اپنی فکری  ہدایت کے لیے صرف قرآن کو اپنا ہادی اور رہنما بنانا چاہیے  اور خود قرآن سے  ہی استخراج مطالب کی سعی ہونی چاہیے۔

Dr Ali Abbas

قرآن و عترت کےمتعلق طرز فکرکی اصلاح

قرآن کریم سے استفادہ اور تلاوت کے لیے ہمارا طرز نگاہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ہم اکثر غلط طرز نگاہ و نظریہ کے ساتھ کتاب خدا یا دیگر متون سے استفادہ کی کوشش کرتے ہیں جس کے سبب ہم وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرپاتے جو کسی بھی تحریر کے مطالعہ سے حاصل کرنے چاہئیں۔ مطالعہ قرآن کریم، تدبر قرآن کے حوالے سے ہماری سوچ میں کونسی ممکنہ خامیاں ہوسکتی ہیں اور ان کی اصلاح کیسے ممکن ہے اسی عنوان سے تحریروں کا سلسلہ قارئین پیام کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ البصیرہ کے صدر نشین ڈاکٹر علی عباس نقوی جو قرآنیات میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں اور گذشتہ پندرہ برس سے قرآنیات کے شعبے میں عملی خدمات سرانجام دے رہے ہیں نے اس سلسلے میں ’’قرآن کے متعلق طرز نگاہ کی اصطلاح‘‘،’’ طریقہ تلاوت کے متعلق طرز نگاہ کی اصلاح‘‘،’’دیگر نظریات سے قرآن کے مقائسہ کی روش کی اصلاح‘‘ ،’’قرآن فہمی کے حوالے سے اصلاحی نقطہ نظر‘‘ کے عناوین کے ذیل میں اس موضوع سے متلعق اپنی گذارشات کو قارئین پیام کی خدمت میں پیش کیا ہے۔ درج ذیل مضمون اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ امید ہے ان مضامین کے ذریعے ہمیں قرآن کے ذریعے ہمیں قرآن کریم کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کی اصلاح کی توفیق نصیب ہوگی اور ہم بہتر طریقے سے قرآنی معارف سے مستفید ہو سکیں گے۔ 

Dr Ali Abbas

امام خمینی ؒ کی نظر میں فہم ِقرآن کریم کے اصول

امام سید روح اللہ موسوی الخمینیؒ کی عالم گیر شخصیت نہایت جامعیت کی حامل ہے۔آپ ؒ کی شخصیت کے جس پہلو کی جانب نظر کریں،آپ ؒ ہمیں بلندی پر فائز نظر آتے ہیں۔ عام طور پر ان کی زندگی کے سیاسی و اجتماعی پہلو کو دیکھا گیا ہے، حالانکہ آپ ؒ کی شخصیت کے دینی ،عرفانی ، اخلاقی و ملکوتی ،علمی و اجتہادی پہلو آپ ؒ کی شخصیت کو کامل طور پر نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔ آپ ؒ کی شخصیت میں سے ایک اورنمایاں پہلو آپ کا قرآنیات میں متخصص و مفسر ہونا بھی ہے۔ آپ ؒ کی زندگی میں قرآن کریم ایک جزو لا ینفک ہی نہیں بلکہ ایک محور و مرکز کی حیثیت سے دکھائی دیتا ہے۔
ہم زیرِ نظر مضمون میں امام خمینیؒ کی نظر میں فہم قرآن کریم کے اصول و شرائط اور اس کو درپیش موانع اور رکاوٹوں کو زیر ِغور لائیں گے ۔آپ ؒ کے نزدیک فہم قرآن کریم آج کے دور کے بنیادی موضوعات و مسائل میں سے ہے چونکہ جس طرح دنیا نے ارتقاء و کمال کے زینوں کو عبور کیا ہے وہیں لوگوں کے ذہنوں میں ابہام و اشکالات و سوالات نے بھی جنم لیا ہے۔ان اشکالات و سوالات کا حقیقی جواب حاصل کرنے کے لیے ہمیں ِکتابِ خدا کے در پر دستک دینی پڑتی ہے اور اس کے لیے ہماری فہم قرآن کریم سے آگاہی ضروری ہے تاکہ ہم موجودہ دور میں قرآن کریم کے فیوض و برکات سے استفادہ کرتے ہوئے اشکالات کے جوابات بھی دے سکیں اور ابہام کو ختم کر کے معاشرتی ارتقاء کا سفر قرآن کریم کی رہنمائی میں طے کر سکیں۔
یہاں ایک اہم اور بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ کیا قرآن کریم سب کے لیے قابلِ فہم ہے یا فقط ائمہ،مراجع،علماء ،مجتہدین و مفسرین ہی اس کی رحمات کو سمیٹ سکتے ہیں اور اس کے علمی استعداد سے بہرہ ور ہو سکتے ہیں ؟ اس سلسلے میں امام خمینی ؒ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کے انوار و کرامات سے ہر انسان استفادہ کر سکتا ہے مگر اس کے لیے کچھ معیارات و شرائط ہیں چونکہ ہم علمی استعداد سے تو ظواہر قرآن کریم سے مستفید ہو سکتے ہیں مگر بطون قرآن کریم سے بہرہ ور ہونے کے لیے ہمیں باطنی پاکیزگی اور تہذیب ِنفس درکار ہے ۔پہلےہم امام خمینیؒ کی نگاہ میں فہمِ قرآن کریم کی اہمیت و ضرورت کو زیر بحث لائیں گےبعد ازاں اس کے سمجھنے کی شرائط کو بیان کریں گے نیزاسے سمجھنے کی راہ میں درپیش موانع کا ذکر بھی کیا جائے گا ۔ آخر میں آپ کے نزدیک تفسیر کے اصول و مبانی کو بیان کرتے ہوئے تفسیرکرنے کی صحیح روش و طریقہ کار اور قرآن کریم کےاغراض و مقاصد پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

Dr Ali Abbas

تلاوت قرآن کریم کے متعلق طرز عمل کی اصلاح

قرآن کی تلاوت کرنا  یا قرآن پڑھنا   ۔ایسے جملے ہیں جنھیں ہم سب نے بارہا سنا ہےاور ہم ان کے مفاہیم کو سمجھتے ہیں۔ اگر آپ سے یہی پوچھا جائے کہ قرآن کس طرح پڑھنا چاہیے؟ کیا فقط قرآن کریم کو بنا سمجھے پڑھ لینا کافی ہے؟ تلاوت کا بہترین طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟

یقیناًان سوالات کے جوابات معلوم ہونے کے باوجود ہمیں مزیدغور و فکراور تدبر  کی ضرورت رہتی  ہے بلکہ شاید یہ زیادہ  بہتر ہو کہ ڈھلتی عمر کے کے مختلف پڑاؤ پر ہم اپنے آپ سے مذکورہ سوال دہراتے رہیں تاکہ نئے نئے جوابات سے آشنا ہوں اور اس وادی میں ارتقاء کرسکیں۔

قرآن کریم کی بارگاہ میں حاضر ہونے سے ہی ہم اس کی تلاوت کی راہ و روش سے بہتر آشنائی حاصل کر سکتے ہیں۔ذیل میں ہم قارئین کرام کی خدمت میں تلاوت قرآن کریم کی روش کی اصلاح کے حوالے سے چند بنیادی نکات بیان کریں گے۔

Dr Ali Abbas

قرآن اور رشد

“رشد” کو تاریکی سے نکل کر نور میں داخل ہونے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے جو اللہ کی سرپرستی اور اس کی ولایت کو قبول کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔رشد کی اس تعریف کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان خدا پر بھروسا کرے اور اسے اپنی ضرورتوں کا پورا کرنے والا سمجھے تو وہ اس کی سرپرستی کو قبول کرلیتا ہے ا اور پوری رغبت کے ساتھ اس کے احکام پر عمل کرتا ہے۔اس صورت میں وہ رفتہ رفتہ ہر قسم کی تاریکی سے نکل جاتا ہے اور روز بروز زیادہ نورانی ہوتا جاتا ہے۔تاریکی سے نکل کر نور میں داخل ہونا یعنی جہالت سے نکل کر علم میں داخل ہونا،نا توانی سے نکل کر توانائی میں داخل ہونا، افسردگی سے نکل کر فرحت و مسرت میں داخل ہونا، بدحالی سے نکل کر خوشحالی میں داخل ہونا،گناہ اور آلودگی سے نکل کر طہارت اور پاکیزگی میں داخل ہونا۔اس طرح انسانی وجود میں پائی جانے والی تمام تر باطنی قوتیں دین خدا کے دائرے میں رہ کر روز بروز نکھرتی جاتی ہیں اور انسان کے سارے بالقوہ فضائل رفتہ رفتہ فعلیت کی منزل میں آجاتے ہیں اورانسان خداوند عالم سے جو کمال مطلق ہے نزدیک سے نزدیک تر ہوجاتا ہے۔یہی رشد کی حقیقت ہے۔

Dr Ali Abbas

قرآن کریم انسان و معاشرہ ساز کتاب

اس مقالہ میں  ایک مسلمان کی انفرادی اور معاشرتی زندگی میں قرآن کریم کے مقام  و منزلت کے بارے میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای  (مد ظلہ العالی) کے خیالات کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ رہبر انقلاب کی نظر  میں قرآن کریم صرف تلاوت اور حفظ کرنے کی کتاب نہیں ہے بلکہ عمل، غور و فکر، فردی و اجتماعی  تربیت اور الہی اقدار پر مبنی معاشروں کی تعمیر کے لیے نصیحت بھی ہے۔تلاوت و انس با قرآن  کریم ، تدبر و تفکر قرآن کریم  ،اس کے انفرادی و معاشرتی زندگی میں  کردار  کے عناوین کا جائزہ اور تجزیہ  بھی رہبر انقلاب کی نگاہ میں پیش کیا گیا ہے ۔

Dr Ali Abbas

قرآن فہمی کےحوالےسےاصلاحی نقطہ نظر

قرآن کریم میں تدبرو تفکرکی راہ میں ایک مسئلہ یہ پیش آتاہےکہ ہم قرآن کریم سےجوسمجھیں گےاسےکس حدتک اپنی زندگی میں لاگو کر سکتےہیں؟کیابنیادی طورپرایساممکن بھی ہے؟یاقرآن سےسروکاربس انہی افرادکوہےجنہوں نےاس کاترجمہ یاتفسیرکی ہے؟بطورمثال آپ سےپوچھاجاتاہےکہ مندرجہ ذیل آیت میں وضو کےفقہی احکام کےعلاوہ ایسےکونسے نکات پائےجاتےہیں اورحاصل کئےجاسکتےہیں جن کاتعلق ہماری زندگی سےہوسکتاہے؟