Skip to content

مینارِ پاکستان اور ملتِ تشیع کی سیاسی و مذہبی جدوجہد، ایک تاریخی و فکری جائزہ

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس نقوی

مینارِ پاکستان محض ایک جغرافیائی مقام یا بلند قامت یادگار نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی تاریخ میں اٹھنے والی تمام بڑی مذہبی اور سیاسی تحریکوں کا مرکز اور ایک عظیم فکری علامت ہے۔ یہ وہی تاریخی میدان ہے جہاں قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں ‘قراردادِ پاکستان’ منظور ہوئی، جس نے قیامِ پاکستان کی بنیاد رکھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہ مقام ملک کے بڑے سیاسی و مذہبی بیانیوں کا محور رہا ہے۔ یہاں ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو جیسے عوامی لیڈروں نے تاریخی خطاب کیے، جبکہ میاں نواز شریف اور عمران خان جیسے سیاست دانوں نے اپنے بڑے عوامی اجتماعات کے ذریعے یہاں سے اپنی سیاسی قوت کا لوہا منوایا اور قوم کو نئے بیانیے دیے۔ اسی طرح مذہبی میدان میں بھی جماعتِ اسلامی، جماعت الدعوۃ اور دیگر دینی و سیاسی جماعتوں کے بڑے اجتماعات اس مقام کی مرکزی حیثیت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں۔

اسی تاریخی تسلسل اور قومی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ملتِ تشیع نے بھی ہمیشہ اس مقام کو اپنے بڑے ملی فیصلوں اور بیداریِ شعور کے لیے منتخب کیا۔ تشیع کی تاریخ میں اس میدان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہاں اب تک چار بڑے تاریخی اجتماعات منعقد ہو چکے ہیں، جن میں سے ہر ایک نے قوم کو ایک نئی سمت عطا کی۔ ان اجتماعات کی مرکزیت کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہیں سے شہیدِ قائد علامہ عارف حسین الحسینیؒ نے ‘ہمارا راستہ’ کے عنوان سے وہ جامع منشور پیش کیا تھا جس نے ملت کی سیاسی و فکری راہ متعین کی۔ ان تاریخی پروگراموں میں جناب سید ثاقب اکبر مرحوم کا نقشِ جاوداں بطور اسٹیج سیکرٹری ثبت ہے.آپ نہ صرف کمال مہارت سے تمام انتظامات سنبھالتے رہے، بلکہ مجمع میں جان ڈال دینے والے آپ کے پرجوش نعرے اور نظمیں آج بھی اس مقام کی فضاؤں میں ایک خاص تڑپ اور بیداری کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ آپ کی وہ پُر اثر نظم جو قرآن و سنت کانفرنس کے موقع پر مینارِ پاکستان کی فضاؤں میں گونجی، آج بھی لہو گرمانے کا سبب ہے:

حق والوں کی حکومت ہوگی سارے پاکستان پر

قرآن و سنت کانفرنس، مینارِ پاکستان پر

فرطِ عقیدت سے چوموں میں ان ہاتھوں کو

جن ہاتھوں نے نامِ حسینیؑ لکھا ہر دیوارِ پاکستان پر

میرے لیے یہ تحریر محض ایک علمی مشق نہیں بلکہ میری زندگی کی انمول یادوں کا ایک حسین تسلسل ہے۔ مجھے آج بھی وہ وقت اچھی طرح یاد ہے جب میں المصطفیٰ سکول (جس کے بانی شہید ڈاکٹر محمد علی نقویؒ تھے) میں چھٹی کلاس کا طالب علم تھا اور اس تاریخی کانفرنس کے لیے ہونے والی تشہیری مہم میں میں نے بھی اپنی بساط کے مطابق کچھ نہ کچھ حصہ ڈالا تھا۔ اسی دوران مجھے اسٹیج پر اپنے والد صاحب کو جوشیلے انداز میں مجمع کا لہو گرماتے ہوئے دیکھنے اور شہیدِ قائد کو بہت قریب سے دیکھنے کا عظیم اعزاز بھی حاصل ہوا۔

تاریخی اجتماعات کا تسلسل اور قرآن و سنت کانفرنس

ملتِ تشیع کا پہلا منظم اور عظیم الشان ملک گیر اجتماع یکم جولائی 1987ء کو شہیدِ قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی قیادت میں مینارِ پاکستان، لاہور کے تاریخی میدان میں منعقد ہوا۔ اس کانفرنس کی خاص بات یہ تھی کہ ابتدا میں اس کے لیے موچی دروازہ اور پھر یونیورسٹی گراؤنڈ کی جگہ تجویز کی گئی تھی، مگر شہید قائدؒ نے محض ایک ہفتہ پہلے اسے مینارِ پاکستان منتقل کرنے کا جرات مندانہ حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ "کانفرنس تاریخی ہے تو جگہ بھی تاریخی ہونی چاہیے”۔

یہاں تک کہ جب انھیں استخارہ کرنے کا مشورہ دیا گیا تو آپ نے یہ تاریخی جواب دیا کہ "استخارہ تب کروں جب مجھے اشتباہ ہو "۔ اس سنگِ میل اجتماع میں شہید علامہ عارف حسین الحسینیؒ نے ایک جامع اور انقلابی خطاب کیا، جس کا مرکزی محور پاکستان میں حقیقی اسلامی نظام کا قیام اور استعماری قوتوں کی غلامی سے نجات تھا۔ آپ نے نہایت پرزور انداز میں واضح کیا کہ اس کانفرنس کا مقصد کسی خاص فرقے کی بالادستی نہیں بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں ایک ایسے عادلانہ معاشرے کی تشکیل ہے جہاں ظلم کا خاتمہ ہو اور محروم طبقات کو ان کے حقوق میسر آئیں۔ آپ نے پاکستان میں امریکی مداخلت کی سخت مذمت کرتے ہوئے پاکستانی عوام کو خودداری اور اتحادِ بین المسلمین کا درس دیا اور یہ واشگاف اعلان کیا کہ ملکی بقا اور اسلامی بیداری صرف فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر متحد ہونے میں ہی مضمر ہے۔ یہ کانفرنس اپنی نظم و ضبط اور فکرِ حسینی کی بدولت آج بھی ملکی تاریخ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک روشن مثال سمجھی جاتی ہے۔

بعد ازاں، شہیدِ ملت کی مظلومانہ شہادت کے بعد 30 ستمبر 1991ء کو ان کی یاد میں ‘شہید الحسینی کانفرنس’ منعقد ہوئی۔ اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے 1994ء میں علامہ ساجد علی نقوی کی قیادت میں ‘عظمتِ اسلام کانفرنس’ کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس سے واپسی پر جی ٹی روڈ پر سرائے عالمگیر کے مقام پر اسلام آباد جانے والے قافلے کی ایک بس کو بزدلانہ دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں شاہ اللہ دتہ سے تعلق رکھنے والے کئی شرکاءنے جامِ شہادت نوش کیا۔

بعد ازاں، ایک طویل وقفے کے بعد 2012ء میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی قیادت میں مجلس وحدتِ مسلمین کے زیرِ اہتمام شہیدِ قائد کی برسی کی مناسبت سے ‘قرآن و سنت کانفرنس’ منعقد ہوئی، جس نے ملتِ تشیع کی قومی فعالیت اور سیاسی جدوجہد میں ایک نئی روح پھونک دی۔ تقریباً 18 سال کے وقفے کے بعد ہونے والا یہ عظیم الشان اجتماع نہ صرف ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا بلکہ اس نے ملی بیداری اور تنظیمی استحکام کی جانب ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔

اتحادِ امت، بیداریِ ملی اور مستقبل کا لائحہ عمل

تاریخ گواہ ہے کہ مخلص قیادت کی فکر اور ان کی قربانیوں نے ہمیشہ معاشروں میں زندگی کی نئی لہر دوڑائی ہے۔ آج رہبرِ معظم حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کی بصیرت اور ان کے فکری افکار نے پاکستانی معاشرے میں ایک ایسی بیداری پیدا کی ہے جو تفرقہ کی دیواروں کو گرا کر وحدت و اخوت کی نئی راہیں کھول رہی ہے۔ اسی بیداری کے نتیجے میں 14 سال کے ایک طویل وقفے کے بعد 2026ء میں ایک بار پھر مینارِ پاکستان کا تاریخی میدان ایک عظیم الشان قومی اجتماع کا گواہ بننے جا رہا ہے۔ اس عظیم الشان اجتماع کا باضابطہ اعلان یکم مئی 2026ء کو لاہور پریس کلب میں منعقدہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ جہاں مجلسِ وحدتِ مسلمین پاکستان، تحریکِ بیداریِ امتِ مصطفیٰ، امامیہ آرگنائزیشن، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور دیگر شیعہ تنظیموں و دینی مدارس نے مل کر "اتحادِ امت فورم پاکستان” کے قیام اور 13 جون کو مینارِ پاکستان پر ”شہیدِ امت کانفرنس“ کے انعقاد کا اعلان کیا۔ پریس کانفرنس سے سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، مرکزی صدر امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان سید امین شیرازی، تحریکِ بیداریِ اُمتِ مصطفیٰ سے علامہ توقیر عباس اور امامیہ آرگنائزیشن پاکستان سے لعل مہدی خان نے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کانفرنس محض ایک روایتی اجتماع نہیں بلکہ ایک انقلاب آفریں فیصلے کی گھڑی ہوگی۔

فورم نے اپنے اعلامیے میں ایران اور امریکہ کی موجودہ جنگ کو حق و باطل کا اٹل معرکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امام خامنہ ایؒ کی شہادت پر پاکستانی قوم، بالخصوص اہلِ سنت علماء کے جذبات نے قرآنی وحدت کی بے مثال تصویر پیش کی ہے۔ پریس ریلیز میں اس امر پر زور دیا گیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے تمام عزائم، خواہ وہ ایران میں رجیم چینج ہو یا نظامِ ولایتِ فقیہ کا خاتمہ، قطعی طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ فورم نے گزشتہ سال مئی میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر یلغار کی مذموم کوشش کے خلاف مسلح افواج اور غیور ملت کے دندان شکن جواب کو "بنیانِ مرصوص” کی قرآنی فتح سے تعبیر کیا۔ اعلامیے کے مطابق آج پاکستان اور امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا واحد حل اتحاد و وحدت ہے، اور وہ تمام فرقہ باز عناصر جو اس بیداری کو دبانا چاہتے ہیں، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ شہید نے امت کو جگا دیا ہے اور اب ہماری ذمہ داری اس بیدار امت کو ایک یکجہت قوت میں بدلنا ہے۔

اس کانفرنس کے بنیادی اغراض و مقاصد میں پاکستان کی جغرافیائی و نظریاتی سالمیت کا تحفظ، ایران کے عوام اور مزاحمتی قیادت کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی اور امریکہ و اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کی مذمت شامل ہے۔ فورم نے واضح کیا کہ ہم فلسطین، لبنان، عراق، یمن اور شام کی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ اپنی فکری و عملی وابستگی کا اعادہ کرتے ہیں اور اصولی مزاحمت کو اپنا دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ 13 جون کا یہ اجتماع دنیا کو یہ پیغام دے گا کہ اگر مودی، ٹرمپ یا کوئی صیہونی طاقت عالمِ اسلام کی طرف ناپاک نگاہ اٹھائے گی تو اسے اپنے سامنے حسینیوں کی صف آرائی نظر آئے گی۔ اس تاریخی مقام سے شیعہ اور سنی مل کر ایک جان ہو کر امریکہ و اسرائیل کے خلاف آواز بلند کریں گے تاکہ فرقہ وارانہ سازشوں کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہو اور نوجوان نسل کو شہدائے اسلام کے اسوۂ حسنہ سے روشناس کرا کے فکری یلغار کیلئے تیار کیا جا سکے۔ یہ اجتماع قائداعظمؒ کے نظریے کے مطابق پاکستان کو ظلم کے خلاف آخری دفاعی دیوار بنانے کے عزم کا عملی اظہار ہوگا۔

کانفرنس کے کامیاب انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جس کا مرکزی دفتر "المصطفیٰ ہاؤس” میں قائم کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی کے تمام تر انتظامی امور کی مجموعی ذمہ داری اطہر عمران صاحب سابق صدر آئی ایس او پاکستان کے سپرد کی گئی ہے۔ اس اعلیٰ سطحی کمیٹی کے زیرِ اہتمام مختلف ذیلی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں، جو پوری مستعدی سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں، جبکہ تیاریوں کو حتمی شکل دینے کیلئے مسلسل مشاورتی نشستوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

آج اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو ان کٹھن راستوں، لازوال قربانیوں اور اس طویل کٹھن جدوجہد سے آگاہ کریں جن سے گزر کر یہ کارواں یہاں تک پہنچا ہے، تاکہ وہ اپنے اسلاف کے نظریاتی ورثے کی حقیقی قدر و قیمت کو پہچان سکیں۔ ہمیں اپنی تحریروں، فکر اور عمل کے ذریعے اس قومی اتحاد کو ایک ایسے مضبوط اور ناقابلِ تسخیر بیانیے میں ڈھالنا ہے جو دشمن کی ہر فکری و نظریاتی سازش کو ناکام بنا دے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں کسی بھی قسم کے فکری انتشار یا نظریاتی ابہام کا شکار ہونے کے بجائے وحدت اور اخوت کے پرسکون سائے میں پروان چڑھ سکیں۔ اگرچہ موجودہ حالات میں حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے حوالے سے کچھ خدشات اور انتظامی رکاوٹیں ضرور سامنے آ رہی ہیں لیکن ان تمام تر چیلنجز کے باوجود یہ کانفرنس ملت کی بیداری، خود مختاری اور باہمی اتحاد کی جانب ایک فیصلہ کن اور نہایت مثبت قدم ثابت ہوگی۔

بشکریہ اسلام ٹائمز