Skip to content
syedasadabbas

واقعہ مباہلہ :ہادی، ہدایت اور روش حق

اسلام کا بنیادی پیغام امن، رواداری، احترامِ انسانیت اور معقولیت پر مبنی ہے۔ تاریخِ اسلام اس بات کی شاہد ہے کہ دینِ مبین کی اشاعت کا اصل سبب تلوار کا زور نہیں بلکہ اس کی اخلاقی برتری، اعلیٰ کردار اور حسنِ تعامل تھا۔ اسی سلسلے کا ایک روشن اور عالمگیر باب "واقعہِ مباہلہ” ہے، جو ۹ ہجری میں نجران کے مسیحی وفد اور رسولِ اکرم ﷺ کے مابین پیش آیا۔
زیرِ نظر مقالہ "واقعہ مباہلہ: ہادی، ہدایت اور روشِ حق”، معروف محقق و قلمکار سید اسد عباس کا ایک بصیرت افروز اور علمی کاوش ہے جس میں انہوں نے نجران کے مسیحیوں کے ساتھ رسولِ خدا ﷺ کے مناظرے، رویے اور معاہدہِ صلح کے سیاسی و سماجی پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔
مصنف نے مقالے میں یہ بات واضح کی ہے کہ میدانِ مباہلہ میں پنجتنِ پاک (رسولِ اکرم ﷺ، حضرت علیؑ، حضرت فاطمہؑ، اور حسنین کریمینؑ) کا ورود جہاں اس خانوادے کی بے نظیر معنوی اور الٰہی فضیلت کو آشکار کرتا ہے، وہاں یہ واقعہ عصرِ حاضر میں گفتگو، بین المذاہب مکالمے (Interfaith Dialogue) اور پرامن بقائے باہمی کا ایک بہترین نمونہ بھی پیش کرتا ہے۔ مصنف نے برصغیر کے مفسرین کے نقطہ ہائے نظر کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر آج بھی امتِ مسلمہ شدت پسندی اور انتہا پسندی کے دلدل سے نکلنا چاہتی ہے تو اسے واقعہِ مباہلہ میں موجود ہدایت اور "روشِ حق” کو اپنا مشعلِ راہ بنانا ہوگا۔

syedasadabbas

شان سرورؐ بزبان حیدرؑ

بارگاہِ رسالت مآب ﷺ کی عظمت و رفعت کو سمجھنے کے لیے ہر دور میں محدثین، مفکرین اور قلمکاروں نے اپنے اپنے انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ تاہم، کسی ہستی کی حقیقی معرفت اور شان کا صحیح ادراک وہی شخصیت کرا سکتی ہے جو خود اس کی تربیت گاہ کی پروردہ ہو اور جس نے بچپن سے لے کر ظاہری حیات کے آخری لمحات تک اس کا قرب حاصل کیا ہو۔ سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ والاصفات کی شناسا ترین اور اقرب ترین شخصیت امیر المؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ہے۔
زیرِ نظر مقالہ "شانِ سرورؐ بزبانِ حیدرؑ”، معروف محقق و مصنف سید اسد عباس کی ایک ایسی علمی و فکری کاوش ہے جس میں انھوں نے نہج البلاغہ اور کلامِ امیر المؤمنینؑ کو محور بناتے ہوئے رسالت مآب ﷺ کے مقام، بعثت کے مقاصد، آپؐ کے اخلاق و شجاعت اور عظمتِ خانوادگی کو پیش کیا ہے۔
مضمون نگار نے نہج البلاغہ کے مختلف خطبات سے اقتباسات اور ان کے تراجم کو پیش کرتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے کلام میں حضور اکرم ﷺ کو ایک الٰہی تسلسلِ نبوت، معیارِ حق اور مجسمہِ اخلاق و استقامت کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ یہ مقالہ قارئین کو یہ دعوتِ فکر دیتا ہے کہ اگر ہم سرورِ عالم ﷺ کی حقیقی معرفت اور عشقِ رسولؐ سے اپنے قلوب کو منور کرنا چاہتے ہیں، تو اس کا بہترین اور مستند ذریعہ "نفسِ رسولؐ” یعنی حضرت علی علیہ السلام کے ارشادات اور افکار پر غوروخوض کرنا ہے۔