Skip to content

بدلتا ہوا مشرق وسطی: خوف کا خاتمہ اور نئی صف بندیاں

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس نقوی

مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال محض کسی وقتی اشتعال، حادثاتی مہم جوئی یا محض ایک محدود علاقائی تنازع کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسے عالمی نظام (Global Order) کی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے اس پورے خطے کو اپنی سیاسی اور عسکری گرفت میں لے رکھا تھا۔ اگر "جنگِ رمضان” سے قبل کے حالات اور موجودہ صورتحال کا باریک بینی سے علمی و تجزیاتی جائزہ لیا جائے تو سب سے بڑی اور بنیادی تبدیلی "خوف کے نفسیاتی بتوں کا ٹوٹنا نظر آتی ہے۔

اس نفسیاتی تبدیلی کی اصل وجہ وہ رعب ہے جو باطل قوتوں کے دلوں میں حق کی جدوجہد سے پیدا ہوتا ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَ مَاوٰىہُمُ النَّارُ وَ بِئْسَ مَثْوَی الظّٰلِمِیْنَ” (آل عمران – 151)”۔ ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب بٹھائیں گے کیونکہ یہ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ ظالموں کے لیے برا ٹھکانا ہے۔”

یہی وہ الٰہی قانون ہے جس نے جدید ترین اسلحہ سے لیس فوج کے اعصاب کو کمزور کر دیا ہے۔ برسوں سے عالمی سطح پر بالخصوص مسلم دنیا کے ذہنوں میں، یہ تاثر ایک ناقابلِ تردید حقیقت کے طور پر راسخ کر دیا گیا تھا کہ اسرائیل ایک ایسی "ناقابلِ تسخیر” عسکری و جاسوسی قوت ہے جسے کسی بھی صورت شکست دینا نامکن ہے۔ اسی بیانیے کا دوسرا رخ یہ تھا کہ امریکہ کی دفاعی چھتری کے سائے میں ہی خلیجی ریاستوں کا امن اور بقا ممکن ہے۔

تاہم، حالیہ واقعات اور مزاحمتی لہر نے اس پورے بنے بنائے اور مصنوعی بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ آج کا مشرقِ وسطیٰ اس نفسیاتی حصار سے باہر نکل رہا ہے۔ وہ ممالک جو کل تک صرف مغرب کی طرف دیکھتے تھے، اب اپنی بقا، سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے نئے راستوں، نئے عالمی اتحادوں اور اپنی مدد آپ کے تحت "خود مختار دفاع” کی تلاش میں ہیں۔ یہ تبدیلی محض سرحدوں کی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک ایسی فکری اور عملی بیداری ہے جو خطے کے مستقبل کا نقشہ نئے سرے سے مرتب کر رہی ہے۔

اس بڑی تبدیلی کا سب سے نمایاں پہلو امریکی ہیبت کا بتدریج خاتمہ ہے۔ خلیجی ممالک جنھوں نے اپنی زمینیں اور وسائل دہائیوں سے امریکی فوجی اڈوں کے لیے وقف کر رکھے تھے، اب ایک سنگین منصوبہ بندی کے بحران کا شکار ہیں۔ عرب قیادت اب یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہے کہ جو طاقت اپنے سب سے قریبی ساتھی (اسرائیل) کا دفاع کرنے میں ناکام رہی، وہ ان کی سلامتی کی ضمانت کیسے دے سکتی ہے؟

دراصل یہ ان باطل سہاروں کی حقیقت ہے جن پر بھروسہ کرنے والے ہمیشہ مایوس ہوتے ہیں، قرآنِ حکیم اس کمزوری کو یوں بیان کرتا ہے: "مَثَلُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ أَوْلِيَاءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَيْتًا وَإِنَّ أَوْهَنَ الْبُيُوتِ لَبَيْتُ الْعَنْكَبُوتِ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ” (العنکبوت – 41)۔ جنھوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا ولی بنایا ہے ان کی مثال اس مکڑی کی سی ہے جو اپنا گھر بناتی ہے اور گھروں میں سب سے کمزور یقینا مکڑی کا گھر ہے اگر یہ لوگ جانتے ہوتے۔

موجودہ حالات نے ثابت کردیا کہ غیر ملکی فوجی اڈے اور بیرونی دفاعی معاہدے مکڑی کے جالے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ یہ محض فوجی ناکامی نہیں بلکہ ایک گہری ذہنی شکست ہے جس نے خلیجی ریاستوں کو اپنی پرانی حفاظتی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اب یہ احساس شدت پکڑ رہا ہے کہ غیر ملکی اڈوں کی موجودگی محض ایک سہولت تو ہو سکتی ہے، لیکن یہ کسی ملک کے حقیقی تحفظ کی ضمانت ہرگز نہیں ہے۔

معاشی تبدیلی اور عالمی طاقتوں کا نیا کردار
مشرقِ وسطیٰ اور مغربی دنیا کے تعلقات کی بنیاد محض سیاست نہیں بلکہ وہ کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ہے جو ایک دوسرے کے مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں مائیکروسافٹ اور ایمازون جیسے اداروں سے لے کر دفاعی ساز و سامان تک، عربوں کی بھاری سرمایہ کاری وہ زنجیریں ہیں جو اس خطے کو مغرب سے جوڑے ہوئے ہیں۔ تیل سے حاصل ہونے والے ڈالرز جب تک مغربی بینکوں میں گردش کرتے رہیں گے، مکمل علیحدگی مشکل ہے، لیکن حالیہ بحران نے اس تعلق کی بنیادوں کو ہلا دیا ہے۔ اب عرب ممالک یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جنھیں انھوں  نے اپنا سرمایہ اور وسائل دیے، وہ مشکل وقت میں ان کے کام آنے کے بجائے صرف اپنے مفادات کے اسیر رہے۔ اسی لیے اب معاشی مرکزِ ثقل مغرب سے ہٹ کر چین اور روس کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔

خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک اس وقت جس غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں، وہ ان کی مستقبل کی سوچ کو بدل رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کے 371 ارب، یو اے ای کے 282 ارب اور کویت کے 456 ارب ڈالرز امریکی مالیاتی نظام میں موجود ہیں۔ صدر ٹرمپ کے دور میں مزید 3600 ارب ڈالرز کے سرمایہ کاری کے وعدے کیے گئے تھے، لیکن اس کے بدلے میں امریکہ نے 1946 سے اب تک صرف اسرائیل کو 310 ارب ڈالرز کی براہِ راست امداد فراہم کی ہے۔ جنگ کی وجہ سے خطے کی 370 ارب ڈالرز کی سیاحتی صنعت اور قطر و امارات جیسی بڑی ایئر لائنز کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق قطر اور کویت کی مجموعی معیشت میں 14 فیصد تک کمی کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔

اسرائیل اس جنگ میں تین بڑے اور واضح اہداف کے ساتھ اترا تھا، پہلا ہدف ایران میں نظام کی تبدیلی (Regime Change) کے ذریعے خطے کے نقشے کو بدلنا تھا، دوسرا ہدف مزاحمتی قوتوں (حماس و حزب اللہ) کا جڑ سے مکمل خاتمہ تھا، اور تیسرا اپنی اس فوجی دھاک اور ہیبت کو بحال کرنا تھا جو گزشتہ دہائیوں میں اس کی پہچان رہی تھی۔ لیکن ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی وہ اپنے کسی ایک مقصد میں بھی کامیاب نہ ہو سکا، بلکہ الٹا ایک ایسی تھکا دینے والی طویل جنگ میں پھنس گیا ہے جس کا کوئی واضح اختتام نظر نہیں آتا۔

اسرائیل کی اس ناکامی میں حزب اللہ کی غیر روایتی حکمتِ عملی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ حزب اللہ کی ابتدائی خاموشی، جسے اسرائیل اس کی کمزوری سمجھ رہا تھا، دراصل ایک گہری منصوبہ بندی کا حصہ تھی جس کا مقصد دشمن کو تھکانا اور اسے غلط فہمی میں مبتلا کرنا تھا۔ اس خاموشی کے بعد جب حزب اللہ نے دوبارہ منظم ہو کر اسرائیلی فوجی ٹھکانوں اور اہم تنصیبات پر حملے کیے، تو اس نے نہ صرف دشمن کے دفاعی نظام کی حقیقت کھول دی بلکہ دنیا کو یہ بھی دکھا دیا کہ "آئرن ڈوم” جیسے جدید ترین نظام بھی ڈرونز اور میزائلوں کے سامنے بے بس ہو سکتے ہیں۔

اس فوجی ناکامی کے اثرات براہِ راست اسرائیل کے سماجی اور معاشی ڈھانچے پر پڑے۔ اسرائیلی شہریوں نے تاریخ میں پہلی بار اپنے محفوظ گھروں کے اوپر دشمن کے ڈرونز اور میزائلوں کو برستے دیکھا، جس نے ان کے اندر برسوں سے قائم سلامتی کے احساس کو جڑ سے ختم کر دیا ہے۔یہ بزدلانہ عسکری مزاج جو صرف حفاظتی دیواروں کے پیچھے سے لڑنا جانتا ہے، قرآن کی اس آیت کی عملی تفسیر پیش کر رہا ہے: "لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرًى مُحَصَّنَةٍ أَوْ مِنْ وَرَاءِ جُدُرٍ بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ   تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَ قُلُوبُهُمْ شَتَّىٰ”۔ یہ سب مل کر تم سے نہیں لڑیں گے مگر قلعہ بند بستیوں یا دیواروں کی آڑ میں سے، ان کی آپس کی لڑائی بھی شدید ہے، آپ انھیں متحد سمجھتے ہیں لیکن ان کے دل منتشر ہیں” (الحشر – 14)

اسرائیل کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور بنکرز میں چھپتی فوج اسی قلبی انتشار کا ثبوت ہے۔ اس کا نتیجہ ایک بڑے نفسیاتی اور آبادیاتی بحران کی صورت میں نکلا ہے؛ وہ صیہونی آباد کار جو دوہری شہریت رکھتے تھے، اب اسرائیل کو ایک محفوظ پناہ گاہ کے بجائے "خطرناک علاقہ” سمجھنے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہاں سے "برین ڈرین” اور "کیپیٹل فلائٹ” کا عمل شروع ہو چکا ہے، جہاں لوگ اپنی جان اور سرمایہ لے کر واپس یورپ اور امریکہ کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔

اسرائیل کی اس عسکری ناکامی اور صیہونی آباد کاروں کے انخلاء نے نہ صرف خطے میں اسرائیل کی پوزیشن کمزور کی ہے، بلکہ اس نے مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں سے قائم امریکی اثر و رسوخ کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ جب امریکہ اپنے سب سے قریبی اتحادی کو اس دلدل سے نکالنے اور اس کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام نظر آیا، تو خطے کے ممالک نے متبادل قوتوں کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔ امریکہ کے گرتے ہوئے اس اثر و رسوخ سے جو سیاسی اور معاشی جگہ خالی ہو رہی ہے، اسے پُر کرنے کے لیے اب چین اور روس انتہائی دانشمندانہ انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

چین کی اس خطے میں آمد محض فوجی مداخلت کے لیے نہیں، بلکہ وہ سیاسی الجھنوں میں پڑے بغیر صرف "تجارت اور کاروبار” کے اصول پر یقین رکھتا ہے۔ عرب ممالک، جو اب امریکی فوجی چھتری کے بجائے معاشی استحکام چاہتے ہیں کے لیے چین کا یہ ماڈل ایک پرکشش اور پرامن راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر جنگ کے بعد تباہ شدہ علاقوں کی دوبارہ تعمیر کا مرحلہ ہو، تو چین اپنی مینوفیکچرنگ کی رفتار اور کم خرچ ٹیکنالوجی کی وجہ سے مغرب کا بہترین بدل بن سکتا ہے۔

دوسری جانب، روس اس جنگی صورتحال سے خاموشی مگر انتہائی مہارت کے ساتھ اپنے بڑے مفادات حاصل کر رہا ہے۔ یوکرین جنگ کے باعث عالمی پابندیوں کی زد میں آنے والا روس، جو پہلے اپنا تیل سستے داموں بیچنے پر مجبور تھا، اب مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس تناؤ کا سب سے بڑا معاشی فائدہ اٹھانے والا ملک بن گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کرنے کے باعث روس اب روزانہ کی بنیاد پر اربوں ڈالر کا اضافی منافع کما رہا ہے، جس نے نہ صرف اس کی معیشت کو سہارا دیا ہے بلکہ اسے خطے میں ایک مضبوط کھلاڑی کے طور پر دوبارہ لا کھڑا کیا ہے۔

ایران کا دفاعی ماڈل اور علاقائی استحکام
ایران نے حالیہ بحرانوں میں دنیا کو یہ دکھایا ہے کہ اس کا قومی دفاع محض جدید ہتھیاروں پر نہیں بلکہ ایک مضبوط بحرانی انتظام  (Crisis Management) پر استوار ہے۔ اس نظام کی خاصیت یہ ہے کہ ایران نے اپنی قیادت اور کنٹرول کے ڈھانچے کو اس طرح تقسیم کر رکھا ہے کہ ٹاپ لیڈرشپ کی غیر موجودگی میں بھی ان کا فوجی اور انتظامی نظام معطل نہیں ہوتا۔ ایران کی اس مزاحمت کی سب سے بڑی طاقت ان کی بے پناہ برداشت اور ثابت قدمی ہے۔ ان کا عالمی برادری کو پیغام واضح ہے کہ وہ بڑے سے بڑا زخم تو سہہ سکتے ہیں لیکن اپنے قومی اور نظریاتی مقاصد سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ایرانی عوام نے بھی معاشی تنگی اور جنگی حالات کے باوجود اپنی قیادت کا بھرپور ساتھ دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

ایران کے اسی غیر متزلزل عزم نے عالمی طاقتوں کے حساب کتاب کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ اور ان کے مشیروں کا یہ خیال تھا کہ ایران پر معاشی اور فوجی دباؤ بڑھا کر اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے گا، مگر یہ تمام اندازے حقیقت کے برعکس نکلے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ سمجھا تھا کہ ایران عالمی تجارت کے متاثر ہونے کے ڈر سے آبنائے ہرمز کو چھیڑنے کی جرات نہیں کرے گا، مگر ایرانی عزم نے اس تزویراتی آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول دکھا کر اور تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا کر مغرب کی معیشت کی بنیادیں ہلا دیں۔

ایران کی اس مزاحمتی پوزیشن اور خطے کی بدلتی صورتحال کا براہِ راست اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال انتہائی نازک ہے کیونکہ وہ کبھی بھی ایران کے خلاف کسی فوجی مہم جوئی کا حصہ بننے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایران کی کمزوری کا مطلب پاکستان کے لیے ایک "دوہرے حصار” کا پیدا ہونا ہے، جہاں ایک طرف بھارت اور دوسری طرف اسرائیل کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ پاکستان کی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بن جائے گا۔ اسی نزاکت کو سمجھتے ہوئے پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ گہرے دفاعی تعلقات کے باوجود، ایران پر حملے کے لیے اپنی زمین یا فضا استعمال کرنے کی اجازت نہ دے کر ایک بڑا سفارتی توازن برقرار رکھا ہے۔ اب پاکستان کے پاس یہ بہترین موقع ہے کہ وہ بیرونی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن جیسے ادھورے منصوبوں کو مکمل کرے تاکہ اپنی معاشی حالت کو مستحکم کر سکے۔

عالمی تبدیلی اور عظیم ایشیائی بلاک کا ظہور
اس تمام تجزیے کا نچوڑ یہ ہے کہ حالیہ واقعات نے عالمی سیاست میں طاقت کا پیمانہ اور معیار ہمیشہ کے لیے بدل دیا ہے۔ یہ جنگ صرف زمین کے ٹکڑے کی نہیں بلکہ بیانیوں کی جنگ تھی، جس میں مادی برتری پر نظریاتی استقامت غالب آئی ہے۔ اب یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ عالمی غلبہ صرف مہنگے ترین ہتھیاروں، جدید ٹیکنالوجی یا وسیع مالیاتی وسائل سے حاصل نہیں کیا جا سکتا، بلکہ حقیقی فتح مضبوط ارادوں، بے لوث عوامی حمایت اور ایسی بہترین حکمتِ عملی سے کشید کی جاتی ہے جو دشمن کی روایتی قوت کو مفلوج کر دے۔

مشرقِ وسطیٰ جو دہائیوں سے استعماری قوتوں کی تجربہ گاہ بنا ہوا تھا، اب بیرونی بیساکھیوں پر چلنے کے بجائے اپنی تقدیر خود لکھنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ وہ "خوف کے بت” جو کبھی ناقابلِ تسخیر سمجھے جاتے تھے، اب پاش پاش ہو چکے ہیں،اور خطے کی اقوام اپنی سلامتی کے لیے کسی واشنگٹن یا لندن کے دفاعی معاہدوں کے بجائے اپنی مقامی قوت اور علاقائی اتحاد پر بھروسہ کر رہی ہیں۔

اس نئے اور بدلتے ہوئے منظرنامے میں پاکستان، ایران، چین، سعودی عرب اور ترکی کا ابھرتا ہوا معاشی اور دفاعی تعاون محض ایک سیاسی ضرورت نہیں بلکہ اس پورے خطے کی بقا اور سلامتی کا واحد ضامن ہے۔ سعودی عرب کی معاشی قوت، ترکی کی جدید دفاعی صنعت، چین کی عالمی اثر پذیری، ایران کی بے خوف مزاحمت اور پاکستان کی جغرافیائی اور دفاعی اہمیت کا یکجا ہونا۔ مغربی اجارہ داری کا مکمل توڑ اور ایشیائی اقوام کے کھوئے ہوئے وقار کی بحالی کا واحد راستہ ہے۔ اگر یہ تمام ممالک اپنے مشترکہ مفادات کو پہچانتے ہوئے ایک بلاک میں متحد ہو جاتے ہیں، تو نہ صرف وہ اپنی معاشی زنجیریں توڑنے میں کامیاب ہو جائیں گے بلکہ ایک ایسی نئی عالمی بساط بچھے گی جہاں فیصلے دارالحکومتوں میں ہوں گے، نہ کہ سمندر پار بیٹھی طاقتوں کے اشاروں پر۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ” (آل عمران – 140): "اور یہ ہیں وہ ایام جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔” یہ آفاقی قانون اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ عروج و زوال کا دارومدار مادی وسائل سے زیادہ انسانی جذبوں اور الٰہی اصولوں پر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنی نفسیاتی غلامی کی زنجیریں توڑ دیتی ہیں، تو وقت کی بساط پلٹ جاتی ہے اور اقتدار کے مراکز بدل جایا کرتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ اسی عظیم تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے، جہاں دہائیوں سے قائم مصنوعی بتوں کا پاش پاش ہونا اس بات کا اعلان ہے کہ اب اقتدار اور فیصلے کا حق بیرونی طاقتوں سے چھن کر مقامی ارادوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔