کیا قبائلی علاقوں میں ٹی ٹی پی اپنی حکومت قائم کرچکی ہے؟

Published by fawad on

تحریر: سید ثاقب اکبر

2021ء میں افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی کے بعد ٹی ٹی پی کی کارروائیاں پاکستان کے سابق قبائلی علاقوں میں بڑھنا شروع ہوگئیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں سیکورٹی فورسز کا بھی جانی نقصان ہوا۔ اس سلسلے میں پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کئی ایک بیانات میں اپنے افسروں اور جوانوں کے ہونے والے جانی نقصانات کی تفصیل بتائی ہے۔ ٹی ٹی پی کو بھی کئی ایک واقعات میں نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں خود مختار تحقیقاتی ادارہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹیڈیز (پیپس) کی جانب سے جمع کی گئی معلومات اور اعداد و شمارکے مطابق 2021ء کے ابتدائی چھ مہینوں میں جہاں تحریک طالبان پاکستان نے 44 حملوں کا دعویٰ کیا تھا، وہیں یکم جولائی سے 15 ستمبر تک ایسے مبینہ حملوں کی تعداد 53 ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کے دوران میں جو مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تھا، بظاہر وہ ختم ہوچکا ہے، لیکن ٹی ٹی پی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ تحریک انصاف کے راہنماء مراد سعید نے اپنے کئی ایک بیانات میں سوات اور خیبر پختونخوا کے دیگر کئی علاقوں میں ٹی ٹی پی کی دہشتگردانہ کارروائیوں کا ذکر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سیکورٹی کے اداروں سے جو مذاکرات ہوئے ہیں، وہ ان میں ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کرتے۔ مراد سعید اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ جب پاک افغان بارڈر پر باڑ لگائی جا چکی ہے تو افغانستان سے کس طرح سے دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔

سائوتھ ایشن وائسز ڈاٹ او آر جی (southasianvoices.org) نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے: ’’باڑ لگانے کے باوجود، ٹی ٹی پی اپنے سرحد پار، نسلی عسکریت پسند گروپوں جیسے حقانی نیٹ ورک (پشتون غالب) کے ساتھ بین الاقوامی روابط کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے ارکان اب طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں اعلیٰ قیادت کے عہدوں پر قابض ہیں۔ درحقیقت، ٹی ٹی پی کو حال ہی میں طالبان کی قیادت کے ہاتھوں اس کے سینکڑوں ارکان کی سابقہ افغان حکومت کے زیر انتظام جیلوں سے رہائی کے بعد تقویت ملی ہے۔ ٹی ٹی پی کا 2021ء میں دوبارہ ظہور اس بات کو واضح کرتا ہے کہ دہشت گردی کے انسداد میں سرحد پر باڑ لگانے کے عمل کی افادیت محدود ہے اور یہ کہ کس طرح نسلی عسکریت پسند گروہوں کی نسلی و سیاسی وابستگی زمینی سرحدوں سے باہر پھیلی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سرحد پر باڑ لگانے سے القاعدہ اور ٹی ٹی پی جیسے بین الاقوامی دہشت گرد اور نسلی عسکریت پسند گروپوں کے خطرے کے تصور میں مزید اضافہ ہوا ہے۔  2021ء سے سرحدی علاقوں (فاٹا اور بلوچستان دونوں میں) کے قریب ان کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔‘‘

20 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خاں کے ضلعی پولیس افسر کے دستخطوں سے ایک چٹھی جاری کی گئی ہے، جس کا نمبر ہے: 10583-611/C، اس میں تمام پولیس افسران کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے: ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک پاکستان (TTP) سے مذاکرات کے نتیجے میں مولانا فضل اللہ گروپ کے کارکنوں کی رہائی کے بعد دہشتگرد تنظیموں نے حملے جاری رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ پاکستان میں سرگرم تنظیمیں درج ذیل ہیں:
۱۔ جماعۃ الاحرار (JUA)
۲۔ کمانڈر محمد حسین گروپ
۳۔ عبداللطیف عرف کرنل گروپ
۴۔ الجہاد گروپ
۵۔ جھنگوی فدائی فورس
دہشتگرد تنظیموں نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کے حق میں کام کرنے والے گروپوں کو نشانہ بنایا جائے۔ ہم نے یہ سرکولر سوشل میڈیا پر دیکھا ہے، اس کے بارے میں درست رائے ڈی آئی خان کے پولیس حکام ہی دے سکتے ہیں۔

ان دنوں ٹی ٹی پی کے عہدیداروں کے نام، فون نمبر اور وٹس ایپ باقاعدہ جاری کیے جا رہے ہیں، جن میں عوام کو ٹی ٹی پی کے مسئولین سے رابطہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ ٹی ٹی پی کے ایک سرکولر کے مطابق اہم عہدوں پر نئی تقرریاں کی گئیں ہیں۔ اس سلسلے میں ٹی ٹی پی کی طرف سے کی گئی تقرریوں کو ایک خبر میں یوں بیان کیا گیا ہے: پشاور: گذشتہ شب تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر تنظیم میں ہونے والی نئی تبدیلیوں اور تقرریوں سے آگاہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ٹی ٹی پی تنظیمی اصلاحات اور ترقی کیلئے وقتاً فوقتاً تبدیلیاں کرتی رہتی ہے اور یہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ بیان میں پشاور، ملاکنڈ، مردان، کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان ڈویژنز کو ولایات کا نام دے کر اس کے لیے گورنر، ڈپٹی گورنر اور استخبارات یا انٹیلیجنس کیلئے ذمہ دار کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ شمالی و جنوبی زونز کیلئے نظامی یا ملٹری کمیشنز کیلئے بھی تقرریاں ہوئی ہیں۔

تقرریوں کی لسٹ درج ذیل ہے:
ولایتِ ڈی آئی خان (ڈی آئی خان ڈویژن):
گورنر: مولوی شاہد عمر باجوڑی
ڈپٹی گورنر: مولوی منصور
انٹلیجنس چیف: مولوی اخلاص یار محسود

ولایت بنوں (بنوں ڈویژن):
گورنر: گوہر وزیر
ڈپٹی گورنر: استاد احسان سواتی
انٹلیجنس چیف: احمد داوڑ

ولایت کوہاٹ (کوہاٹ ڈویژن):
گورنر: عمر خراسانی
ڈپٹی گورنر: اعجاز آفریدی
انٹلیجنس چیف: منصور

ولایت ملاکنڈ (ملاکنڈ ڈویژن):
والی: مولوی ابو عمر محسود
نائب اول: مولوی اسد دیروی
نائب دوم: ڈاکٹر برہان باجوڑی
انٹلیجنس چیف: سلمان سواتی

ولایت پشاور (پشاور ڈویژن):
گورنر: عظمت اللہ محسود
ڈپٹی گورنر: سربکَف مہمند
انٹلیجنس چیف: قاری کامران

ولایت مردان (مردان ڈویژن):
گورنر: قاری گل رحمان
ڈپٹی گورنر: محسن
انٹلیجنس چیف: علی حیدر

ولایت ہزارہ (ہزارہ ڈویژن):
گورنر: قاری اسداللہ کابلگرامی
ڈپٹی گورنر: نعمان ہزاروی
انٹلیجنس چیف: مولوی عبیدہ

نظامی/ملٹری کمیشن (شمالی زون)
مسئول: مولوی نوراللہ محسود
نائب: غزوان غازی
منتظم: ہلال غازی
ارکان:سیف اللہ حقانی، مولوی ملنگ باچا،طلحہ آفریدی، اسد آفریدی

نظامی/ملٹری کمیشن (جنوبی زون)
مسئول: مفتی بُرجان سواتی
نائب: مولانا انعام اللہ وزیر
منتظم: منیب
ارکان:ابو یاسر محسود،مولوی ذوالفقار وزیر
یاد رہے کہ اس سے قبل باجوڑ، درہ آدم خیل اور خیبر ایجنسی کو بھی ولایت کی حیثیت دی گئی تھی، جو اب بالترتیب ملاکنڈ اور پشاور میں ضم کر دیئے گئے ہیں۔

پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ پاکستان اور خاص طور پر خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع اور قبائلی علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ دور حکومت میںیہ واقعات تقریباً ختم ہوچکے تھے۔ کسی جگہ پر بھی ٹی ٹی پی کی طرف سے امراء اور عہدیدار موجود نہیں تھے۔ علاقے کے معززین اور عوام ٹی ٹی پی کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھیں پہلے کی طرح سے عوام کی تو نہیں، لیکن خاص اداروں کی حمایت حاصل ہے۔ ایسی خبریں بھی ہیں، جن کے مطابق کرم ایجنسی کی سرحد کے اُس پار داعش بھی اپنی قوت میں اضافہ کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: https://albasirah.com/urdu/taliban-ki-amad-r-india-ki-phonken/

اس سلسلے میں سیکورٹی ادارے کیا کر رہے ہیں، اس کی وضاحت تو وہ ہی کریں گے، لیکن یوں معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کی خواہش پر وہ قبائلی علاقے جو بندوبستی علاقوں میں ضم کر دیئے گئے تھے، انھیں پھر سے پہلے والا سٹیٹس دینے کے لیے فضا تیار کی جا رہی ہے۔ ان علاقوں سے جن مالی اور انتظامی وسائل کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ موجودہ وفاقی حکومت نے روک لیے ہیں اور ان کے بجٹ میں بہت بڑی کٹوتی کی ہے۔ باڑ لگنے کے باوجود دہشت گردوں کا افغانستان سے پاکستان میں آنا جانا شروع ہوچکا ہے۔ مولانا فضل الرحمن اور بعض دیگر راہنماء قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں ادغام کے بارے میں پہلے ہی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں اور ان دنوں ان کی اس مخالفت میں اضافہ ہوا ہے، چونکہ اس ادغام کے نتیجے میں ان علاقوں میں ان کی سیاسی مقبولیت بھی کم ہوئی ہے۔

یہ تمام امور بہت تشویش ناک ہیں۔ پہلے ہی پاکستان دہشتگردی کے ہولناک نتائج بھگت چکا ہے۔ جن قوتوں کی فرمانبرداری اور حمایت کے نتیجے میں ہم نے یہ زخم اٹھائے ہیں، انھیں اپنا دوست سمجھنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ پاکستان کے ہزاروں فوجی افسر اور جوان دہشت گردی کی نام نہاد جنگ میں اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ پاکستان کے عوام بھی بہت بڑی قربانی دے چکے ہیں۔ ان علاقوں کے عوام ایک طویل عرصے سے ناامنی کا شکار ہیں۔ انھوں نے سب سے بڑھ کر قربانیاں پیش کی ہیں۔ اب وقت آجانا چاہیے کہ ہم اس علاقے کے لوگوں کے ساتھ مزید ناانصافی نہ کریں اور اپنی فوج کے جوانوں اور افسروں کی قدر کریں اور ان کی جانوں کو عزیز جانیں۔ ٹی ٹی پی اور داعش کو پاکستان کا دشمن اور دشمنوں کا آلہ کار سمجھ کر ہی ہم اس خطے کی حفاظت کرسکتے ہیں۔