Skip to content

اقوال امام علی علیہ السلام انتخاب از نہج البلاغہ

انتخاب : سید اسدعباس

آج مسلمان روسو، ڈیکارٹ، کانٹ، مارکس اور لینن جیسے درجنوں دانشوروں کے اقوال و نظریات میں اپنے درد کا درمان اور اپنے زخم کا مرہم ڈھونڈتے ہیں۔ دوسری قوموں کے رہبروں کے اقوال و تصانیف کو شمع ہدایت قرار دیتے ہیں مگر قرآن اور اپنے راہنماؤں کے ارشادات کو دیکھنے اور پڑھنے کی فرصت نہیں۔آئیں امیرالمؤمنینؑ ؑکے ان فرامین میں غور کریں۔ ان اقوال کے مطالعہ سے معلوم ہوگا کہ زندگی کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا اسلام نے کوئی حل پیش نہ کیا ہو۔ دنیاں کی بے وفائیوں، زندگی کی ناہمواریوں، مشکلوں کے طوفانوں کے مقابلے کےحل موجود ہیں۔ ناکامیوں کے اسباب اور ان کا حل، بلندیوں کو جاننے اور ان کے حصول کے طریقے سب ان میں موجود ہیں۔

ماہ رجب المرجب

ترتیب: سید اسد عباس

ماہ مارچ کا شمارہ آپ کے پیش نظر ہے ، قمری کیلنڈر کے روسے یہ رجب کا مہینہ ہے جس کی فضیلت میں بہت سی روایات موجود ہیں ۔ طلوع اسلام سے قبل بھی ماہ رجب ان مہینوں میں شمار ہوتا تھا جو حرمت والے جانے جاتے تھے ۔ان مہینوں میں عرب بدو بھی طویل جنگ و جدال کا سلسلہ ترک کر دیتے تھے ۔ اسلام نے بھی حرمت کے ان مہینوں کی تکریم کو برقرار رکھا ۔رجب کو بعض دیگر ناموں اور صفات سے بھی یاد کیا جاتا ہے، جن میں سے ایک رجب الفرد ہے۔ یہ اسلئے کہا جاتا ہے کہ یہ مہینہ دوسرے حرام مہینوں ذی القعدہ، ذی الحجہ اور محرم الحرام سے الگ ہے جبکہ دوسرے مہینے ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں۔ اسی طرح اس مہینہ کو رجب المُضَر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ قبیلہ مُضَر (پیغمبر اکرمؐ کے اجداد میں سے) بطور خاص اس مہینہ کے احترام کے قائل تھے۔ اس کے علاوہ رجب الاصم، رجب المُرَجَّب، رجب الحرام، مُنصَل الأَسِّنہ اور مُنصِل الألّ بھی اسی مہینے کے نام ہیں۔

طالبان امریکہ امن معاہدہ اور داعش

یوں معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کی نئی حکومت داعش کے بہانے افغانستان میں رہنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں بہت سے اشارے سامنے آرہے ہیں۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عراق اور افغانستان میں امریکہ کو فوجی مداخلت بہت مہنگی پڑی ہے۔ گویا ان کے نزدیک امریکی فوجیوں کے عراق اور افغانستان سے انخلاء کی بنیادی وجہ امریکی فوج اور مشینری کی وہاں موجودگی کا مہنگا ہونا ہے۔ ویسے بھی امریکہ کے لیے یہ تجربہ بہت کامیاب رہا ہے کہ دہشت گرد گروہوں سے کام لیا جائے اور ملکوں کو غیر مستحکم کرکے وہاں سے اپنے مالی اور تزویراتی مفادات حاصل کیے جائیں۔

یمن سے سعودی عرب کی ’’آبرومندانہ‘‘ واپسی کی تیاری

یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں سعودی عرب یمن کی دلدل سے ’’آبرومندانہ‘‘ انخلا کی تیاری کر رہا ہے۔ علاقے میں اس کے اتحادیوں کو بھی فکر لاحق ہے اور امریکہ نے بھی سعودی عرب اور امارات پر مزید اسلحے کی فراہمی کو روکنے کا اعلان کرکے آنے والے وقت میں اپنے دوستوں کو بچانے کی ہی ایک تدبیر کی ہے۔ اس تدبیر سے خود امریکہ کو بھی اپنی آبرو بچانے کی فکر لاحق ہے، کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ سعودی اتحاد یمن کے خلاف امریکی سرپرستی ہی میں چھ سال سے مصروف جنگ ہے۔

عقیدے کی بنیاد پر قتل انسانیت کا قتل ہے

بحیثیت مسلمان اور ہاشمی النسب انسان، میری نظر میں ناپسندیدہ ترین عقیدہ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنا اور ختمی مرتبتﷺ کے بعد کسی انسان کی نبوت کا قائل ہونا ہے۔ خواہ اسے بعدہ مسیح موعود یا مہدی موعود کہہ کر اپنے بنیادی دعوے کو چھپانے کی کوشش کی جائے۔ آئین پاکستان میں بھی اسی لیے اس عقیدہ کے حامل شخص کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے، تاہم اس نظریہ اور عقیدہ کے باوجود میرا دین یعنی دین اسلام (سلامتی) مجھے اجازت نہیں دیتا کہ میں ایک ناپسندیدہ عقیدے کے سبب کسی بھی انسان کے جان و مال کو کوئی نقصان پہنچاؤں یا اس نقصان کی حمایت کروں، بلکہ اس کے برعکس میرا دین مجھے حکم دیتا ہے کہ ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے‘‘، کوئی شخص کافر ہو یا مشرک، یا اسی طرح کسی بھی دوسرے مذہب اور عقیدے کا حامل، اس سے عقیدتی اختلاف اس بات کا باعث نہیں بنتا کہ میں ایسے شخص کے جان و مال کو اپنے لیے مباح سمجھنے لگوں۔

کیا مغرب کو یمنیوں پر رحم آگیا ہے؟

ان دنوں کچھ ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ امریکہ نے یمن پر سعودی حملوں کی حمایت روک دی ہے، امریکہ نے سعودی عرب اور امارات کو ہتھیاروں کی فروخت بھی روک دی ہے اور یورپی پارلیمینٹ نے بھی سعودی عرب اور امارات کو اسلحے کی فروخت روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور انھیں اسلحے کی فراہمی کو یمن میں حقوق انسانی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ’’یمن کی جنگ نے ایک انسانی اور اسٹریٹیجک تباہی کو جنم دیا ہے اور ہم یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارت کاری کو تیز کر رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ”اس جنگ کو ختم ہونا چاہیے اور اس جنگ کے حوالے سے اپنے عزائم واضح کرنے کے لیے ہم یمن میں ہر قسم کا امریکی تعاون ختم کر رہے ہیں، جس میں اسلحے کی فروخت بھی شامل ہے۔“

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک خصوصی نشست(3)

مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے متعدد سوالات ایسے ہیں، جن پر ہمارے معاشرے میں مخمصے یا شبہات پائے جاتے ہیں، بلکہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس سلسلے میں بھارتی پراپیگنڈہ زیادہ تاثیر رکھتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک عمومی تاثر ہے کہ بھارت مذاکرات کی میز پر ہمیشہ پاکستان کو مات دیتا رہا ہے، یعنی میدان جنگ میں شہداء کی قربانیوں سے حاصل کی ہوئی کامیابیاں ہمارے سیاستدانوں ںے مذاکرات کی میز پر شکست سے بدل دیں۔ مسئلہ کشمیر کے سلسلے مٰیں منظور ہونے والی قراردادوں کو اس سلسلے میں خاص طور پر بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔ کشمیری راہنماء شیخ تجمل الاسلام کا کہنا ہے کہ:

بانی انقلاب اسلامی امام خمینیؒ کی پیشگوئیاں(2)

4۔ عراق کے کویت پر حملے کی پیشگوئی
1980ء میں عراق کے صدر صدام حسین نے عالمی طاقتوں کے ایما پر ایران پر حملہ کر دیا۔ اسے علاقے کے رجعت پسند حکمرانوں اور ڈکٹیٹروں کی حمایت حاصل تھی، جن میں کویت کی شاہی حکومت بھی شامل تھی۔ امام خمینیؒ نے ان حکمرانوں کو مختلف مواقع پر ان کے انجام سے خبردار کیا۔ کویت کے حکمران اس زمانے میں عراق کی بے پناہ مالی امداد کرتے رہے۔ امام خمینیؒ نے انھیں اس کام سے منع کیا۔ آپ نے فرمایا: ’’اس کام سے باز آجائو کیونکہ ایک دن فتنے کی آگ تمھارے دامن تک آپہنچے گی۔۔۔ صدام کی درندگی کی اس عادت میں ذرہ بھر فرق نہیں پڑا بلکہ وہ عالمی اداروں اور لٹیروں کی خاموشی کے باعث ایک زخمی بھیڑیے میں تبدیل ہوچکا ہے، وہ آگے بڑھتا جا رہا ہے، تاکہ جنگ کی آگ کو علاقے کے دیگر ممالک اور خاص طور پر خلیج فارس میں بھڑکا سکے۔‘‘ (صحیفہ امام، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ج20، ص328و329)

پیام فروری2021

قائد اعظم اور کشمیر

محمد صادق جرال
قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ ان کی اہمیت کا اعتراف مخالفین بھی کرتے تھے ۔ قائد اعظم غیر معمولی انسان تھے۔ انہوں نے منتشرالخیال مسلمانوں کو یکجاء کیا۔ بیک وقت ہندو کی عیاری اور انگریز کی مکاری کا مقابلہ کیا۔ حسن سیرت اور کردار کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ انہوں نے اپنے قول و فعل سے ثابت کر دیا کہ ایک لیڈر اور سیاسی رہنماء کی زندگی بھی بے عیب ہو تی ہے۔ آپ کی صاف گوئی ، قوت فیصلہ اور جرأت نہیںمسلمانوں میں قومیت کا حقیقی شعور پیدا کیا۔ چرچل اور گاندھی کی چالوں کا صاف گوئی سے مقابلہ کیا۔ جھوٹی سیاست کو صاف ستھری سیاست سے مات دی۔ انہوںنے ثابت کیا کہ بڑے وسائل اور طاقتور حکمرانوں کا مقابلہ کم وسائل عزم اور یقین کامل سے کیا جا سکتا ہے۔ انہوںنے جیل جائے ، لاٹھی مارے اور کھائے بغیر آزادی کی جنگ آئینی حدود میں رہتے ہوئے لڑ کر مخالفین کو شکست دی۔

پیام فروری2021

علامہ اقبال ، قائداعظم اور کشمیر

ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم

مصوّرِ پاکستان ، دانائے راز، حکیم الامت، ڈاکٹر علامہ محمدا قبال نے 1930ء میں برعظیم پاک و ہند کے لا تعداد مسائل کا حل خطبۂ الٰہ آباد ” میں پیش کیا۔ علامہ محمد اقبال کا تعلق کشمیر سے تھا ، اس لئے وہ کشمیر اور اہلِ کشمیر کے تمام مسائل کو سمجھتے اور اُن کا حل تلاش کرنے میں معاونت کرتے رہے۔ چودھری رحمت علی نے علامہ اقبال کے خواب کو پاکستان کا نام دیا۔ اس جغرافیائی وحدت میں پنجاب ، سرحد، بلوچستان ، سندھ اور کشمیر کے علاقہ جات ہیں۔