Skip to content
پیام فروری2021

مسئلہ کشمیر

مصنفہ: پروفیسر ڈاکٹر اویا ایکگوننج
بانی رکن سعادت پارٹی سابق ممبر قومی اسمبلی

تنازعہ کی ابتدا :
دُنیا میں کئی ایسے مسائل موجود ہیں جو کہ دہائیوں سے حل طلب ہیں ، ان میں سے ایک مسئلہ کشمیر ہے- دُنیا کی اخلاقی، سماجی، قانونی ، معاشی اور اسٹریٹیجک اقدار ، اور اس کی ضروریات تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں تاہم پرانے تنازعات جمود کا شکار ہیں – اس وجہ سے کشمیری عوام ، پاکستان اور دیگر علاقوں میں بسنے والے اُن کے عزیز و اقارب کی جانب سے اپنی خوشی سے دی جانے والی عظیم قربانیوں سے متنازعہ علاقہ کے اندر اور باہر بسنے والی نئی نسل ناواقف ہے- اگرچہ دنیا میں رونما ہونے والی ہر بڑی تبدیلی ان کی حیثیت کو تبدیل کر دیتی ہے

پیام فروری2021

مسئلہ کشمیر: کب کیا ہوا؟

گذشتہ 72 سالوں میں کشمیر میں کیا ہوا؟

تحریر: سجاد اظہر

14-15 اگست 1947: برطانیہ سے آزادی کے بعد دو خود مختار ریاستیں پاکستان اور بھارت وجود میں آئیں، ریاستوں اور راجواڑوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ اپنے عوام کی منشا کے مطابق کسی بھی ملک میں شامل ہونے کا فیصلہ کر سکتی ہیں ۔کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت تھی مگر اس کے ہندو راجہ نے وقت پر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

پیام فروری2021

اعلامیہ آل پارٹیز کشمیر کانفرنس

30 اپریل 2014

٭ یہ کانفرنس مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور مسلمہ حق خود ارادیت کے حصول کے لیے ان کی عظیم اور لازوال جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔
٭ کانفرنس مقبوضہ جموں وکشمیر کی حقیقی ترجمان آزادی پسند قیادت کے کردار کو سراہتی ہے جو وہ تحریک آزادی کشمیر کو اس کے حقیقی تناظر میں کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لیے قوی اور بین الاقوامی سطح پر ادا کررہے ہیں۔

مسئلہ کشمیرپر KMS کے سربراہ شیخ تجمل الاسلام کا اہم انٹرویو

اینکر و ترتیب: سید اسد عباس

شیخ تجمل الاسلام کا تعلق وادی کشمیر سے ہے ۔ ان کی پیدائش 1954ء میں سرینگر میں ہوئی۔ وہیں پلے بڑھے اور یونیورسٹی تک کی تعلیم حاصل کی ۔وہ ایک عرصے سے پاکستان میںتحریک آزادی کشمیر کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔1999ء سے کشمیر میڈیا سروس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں اور مسئلہ کشمیر پر گہری نگاہ رکھتے ہیں ۔ شیخ تجمل الاسلام مقبوضہ وادی میںکئی سال تک اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ رہے ۔ سرینگر میں روزنامہ ’’اذان ‘‘کے چیف ایڈیٹر کے علاوہ کئی ہفت روزوں اور روزناموں میںمدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ سرینگر میں ہی وکالت بھی کی ۔ 1975میں شیخ عبد اللہ اور اندرا گاندھی کے معاہدے کے خلاف اور اس کے مضر اثرات کو لوگوںپر آشکار کرنے کے لیے کافی کام کیا ۔ اس سلسلے میں آپ ایک موثر آواز تھے ۔ متعدد بار قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں جس کے بعد آپ کو وادی سے پاکستان کی جانب ہجرت کرنی پڑی ۔

مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات کشمیری صحافی کی زبانی

بھارت پر حاکم انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی نے کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی راہ میں حائل بھارتی آئین کی دفعات 370 اور 35 اے کو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 5 اگست 2019 کو یعنی ایک برس قبل ختم کیا، اگرچہ یہ دفعات بھی کشمیریوں کے اطمینان کے لیے آئین کا حصہ بنائی گئی تھیں جو غیر قانونی ہی تھیں تاہم اس سے کشمیر کے باسیوں کو کم از کم یہ تحفظ حاصل تھا کہ باہر سے کوئی ہندوستانی باشندہ آکر ان کی ریاست میں زمین نہیں خرید سکتا یا مسلم اکثریتی آبادی کے تناسب کو بدلنے کا کوئی حربہ بروئے کار نہیں لایا جاسکتا ہے تاہم اب ہندوستان کی راہ میں ایسی کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔ کشمیری باشندوں کے مطابق یہ بھارت کی طرف سے کشمیر میں 27 اکتوبر 1947کے بعد دوسری بڑی جارحیت تھی۔ یاد رہے کہ 27 اکتوبر 1947 میں بھارت نے تقسیم ہند کے اصول کے منافی نیز کشمیریوں کی خواہشات کے بر عکس سرینگر کے ہوائی اڈے پر فوج اتاردی تھی۔

یوم یکجہتی کشمیر

پاکستان میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم5 فروری یوم کشمیر کے عنوان سے منایا جاتا ہے۔یہ دن منانے کا اعلان جماعت اسلامی کے سابق امیر اور ملی یکجہتی کونسل کے سابق صدر قاضی حسین احمد مرحوم نے 5جنوری 1989کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔اس اعلان کے بعد پنجاب کے اس وقت کے وزیر اعلی میاںمحمد نواز شریف اور سابق وزیر اعظم پاکستان بے نظیر بھٹو نے اس اعلان کی تائید کی۔ پہلا یوم یکجہتی کشمیر5فروری 1989 کو منایا گیا جبکہ 1990میں تمام تر سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوری قوم اور کشمیریوں نے یوم یکجہتی منایا۔اب گذشتہ 31برسوں سے پاکستانی قوم اور دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانی و کشمیری شہری 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے عنوان سے مناتے ہیں۔مرحوم قاضی حسین احمد نے یوم یکجہتی کشمیر کا اعلان مقبوضہ وادی میں بھارتی افواج کی جانب سے ریاستی اسمبلی کے انتخابات کو سبوتاژ کرنے نیز کشمیری عوام کی جانب سے مسلح جدوجہد کے آغاز کے بعد کیا۔کشمیر میں مسلح جدوجہد کے آغاز کے ساتھ ہی کشمیری نوجوانوں کے قافلوں نے آزاد کشمیر کا رخ کیا۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک خصوصی نشست(2)

گذشتہ قسط میں ہم نے جانا کہ یوم یکجہتی کشمیر کا آغاز کیسے ہوا، تحریک آزادی کشمیر کا کچھ حوالہ بھی دیا گیا۔ آزادی کشمیر کی راہ میں حائل حقیقی رکاوٹوں کے حوالے سے کشمیری راہنماء شیخ تجمل الاسلام کا موقف بھی آپ کے سامنے پیش کیا۔ آج ہم اسی نشست کی چند مزید اہم باتوں کو اور اس سے متعلق تفصیلات کو قارئین کی خدمت پیش کریں گے۔ میری اس نشست میں کوشش رہی کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہر موضوع پر بات کی جائے، تاکہ کوئی پہلو تشنہ نہ رہ جائے۔ اسی وجہ سے شیخ تجمل الاسلام کے ساتھ ہماری یہ نشست تفصیلی تھی۔ شیخ تجمل الاسلام جموں و کشمیر میں جمعیت کے ناظم اعلیٰ رہے، وکالت کی سند حاصل کرنے کے بعد سری نگر کی عدالت سے پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز کیا اور پھر کئی ایک رسالوں کے مدیر کے طور پر کام کرتے رہے۔ شیخ صاحب انقلاب اسلامی ایران کے حامیوں میں ایک موثر اور مضبوط آواز تھے۔

بانی انقلاب اسلامی امام خمینیؒ کی پیشگوئیاں

ان دنوں انقلاب اسلامی ایران کی 42ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر انقلاب کے بانی حضرت امام خمینیؒ کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں پر بھی بات کی جا رہی ہے۔ آپ کی شخصیت کے سیاسی، فقہی اور اخلاقی پہلو سے مضامین اور مقالات لکھے جا رہے ہیں۔ ہم اس موقع پر آپ کی روحانی و معنوی شخصیت کے ایک پہلو پر بات کریں گے اور وہ ہے آپ کی بعض پیشگوئیاں، جو آپ کے بُعدِ عرفانی اور قرب الٰہی کی حکایت کرتی ہیں۔ ان میں سے بعض پیشگوئیاں عالمگیر اثرات کی حامل ہیں اور ان کی حیثیت بھی عالمی ہے۔ آپ کی ایسی پیشگوئیوں میں بہت صراحت موجود ہے اور ان کے بارے میں دوسری رائے نہیں ہوسکتی، سوائے اس کے کہ کہا جائے کہ یہ آپ کی سیاسی بصیرت کی غماز ہیں۔ بہرحال امام خمینیؒ کی چند ایک پیشگوئیاں ہم ذیل میں ذکر کرتے ہیں۔

مسئلہ کشمیر اور چین کا کردار

برصغیر پاک وہند کی تقسیم کے بعد سے مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اہم ترین مسائل میں سے شمار ہوتا ہے۔ اسے عام طور پر بھارت اور پاکستان کے مابین ایک مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے بنیادی فریق خود کشمیری ہیں۔ تاہم چین بھی کئی پہلوئوں سے اس مسئلے سے وابستگی رکھتا ہے بلکہ اگر اسے بھی اس مسئلے کا ایک فریق کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سی پیک کے معاہدے کے بعد اس مسئلے سے چین کی دلچسپی اور بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ ہم اس مضمون میں مسئلہ کشمیر سے متعلق چین کے نقطہ نظر کا بھی ذکر کریں گے۔ نیز کشمیر کے بارے میں مختلف حوالوں سے چین کے موقف کو اپنے قارئین کے سامنے پیش کریں گے۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک خصوصی نشست(1)

پاکستان میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم 5 فروری یوم کشمیر کے عنوان سے منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا اعلان جماعت اسلامی کے سابق امیر اور ملی یکجہتی کونسل کے سابق صدر قاضی حسین احمد مرحوم نے 5 جنوری 1989ء کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ اس اعلان کے بعد پنجاب کے اس وقت کے  وزیراعلیٰ میاں محمد نواز شریف اور سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو نے اس اعلان کی تائید کی۔ پہلا یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری 1989ء کو منایا گیا جبکہ 1990ء میں تمام تر سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوری قوم اور کشمیریوں نے یوم یکجہتی منایا۔ اب گذشتہ 31 برسوں سے پاکستانی قوم اور دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانی و کشمیری شہری 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے عنوان سے مناتے ہیں۔ 

طالبان اور ایران کے تعلقات کا مستقبل

طالبان کا ایک سیاسی وفد آج (26 جنوری2021ء کو) تہران پہنچا ہے۔ وفد کی قیادت ملا عبدالغنی برادر کر رہے ہیں۔ وفد ایران میں وزیر خارجہ جواد ظریف اور امور افغانستان میں ایران کے خصوصی نمائندہ سے ملاقات کرے گا۔ ملاقات کے ایجنڈے میں افغانستان میں قیام امن اور دیگر باہمی مسائل اور موضوعات شامل ہیں۔ طالبان کے وفد کی اس وقت تہران میں موجودگی اس پہلو سے اہم ہے کہ امریکہ میں نئی انتظامیہ صدر ٹرمپ کے دور میں طالبان کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے بارے میں نظرثانی کا عندیہ دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں وائٹ ہائوس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کے سکیورٹی کے مشیر جک سالیوان نے اپنے افغان ہم منصب سے فروری 2020ء میں طالبان اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ اس کا نئے سرے سے جائزہ لے گی۔

سنگینوں کے سائے میں امریکی جمہوریت کا سفر

کچھ ہی لمحے قبل امریکہ کے نومنتخب صدر جوزف آر بائیڈن جونیئر نے امریکا کے 46 ویں صدر کا حلف اٹھا لیا۔ ان کے ہمراہ 55 برس کی کمیلا ہیرس نے بھی پہلی امریکی خاتون نائب صدر کا حلف اٹھایا جو کہ افریقن ایشین پس منظر کی حامل امریکی شہری ہیں۔ کمیلا ہیرس کی والدہ کا تعلق ہندوستان سے ہے، جسے ہندوستانی سماح میں امید کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس تقریب میں امریکا کے سابق صدور باراک اوباما اور بل کلنٹن کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا، تاہم سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ  اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ انھوں نے اب بھی اس انتخاب کو قبول نہیں کیا ہے اور اپنے عدم اطمینان کا اظہار انھوں نے اس اہم تقریب میں شرکت نہ کرکے کیا۔ امریکی تاریخ میں ایسا واقعہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔