Skip to content

آغاز بھی رسوائی، انجام بھی رسوائی

پاکستان میں جبری لاپتہ افراد کا مسئلہ برس ہا برس سے چلا آرہا ہے۔ اس سلسلے میں کئی مرتبہ تحریکیں چلیں، لوگوں نے مارچ کیے، دھرنے دیے، ٹی وی چینلز پر پروگرامز ہوئے، سوشل میڈیا نے آواز اٹھائی، مظاہرے کیے گئے، سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیے، وعدے وعید ہوئے لیکن مسئلہ ختم ہونے کو نہیں آتا۔ اصولی طور پر پاکستان میں رائج قانون اور آئینی دفعات کے مطابق کسی ریاستی یا حکومتی ادارے کی جانب سے کسی فرد کو زبردستی اغوا کر لینے یا غائب کر دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

برصغیر میں غیر مسلم اہل قلم کے اردو تراجم و تفاسیر قرآنی

ڈاکٹر ساجد اسد اللہ

Abstract
Islamic literary legacy is diverse and multidimensional in Sub-continent despite its being prone to religious b and the issue of migration integral part of Islamic literary legacy is the Quranic translations & interpretations. The main aspect of these translations & interpretations are the endeavors put forward by Muslim as well as non-Muslim scholars. Keeping in view the endeavors translations & interpretations of Quran, the non-Muslims minorities of sub-continent can be divided into two groups. 

برصغیر کے شیعہ علماء کی تفسیری تالیفات

اس امر کا تعین کہ برصغیر میں سب سے پہلی تفسیر کب لکھی گئی، ایک انتہائی مشکل کام ہے لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ برصغیر کے لوگوں کا مدینہ منورہ کے مرکز اسلام سے رابطہ، دوسری صدی ہجری سے شروع ہوا۔ مسلمان تاجروں کی مدینہ آمد و رفت اس بات کا موجب بنی کہ وہ دینی مسائل سے آشنائی حاصل کریں اور بعد میں یہ تاجر برصغیر میں سکونت پذیر ہوئے جس کے نتیجے میں منصورہ میں انہوں نے ایک حکومت تشکیل دی جس کا حاکم ایک عرب خاندان تھا۔ ۷۱۲؁ ع میں محمد بن قاسم کے برصغیر پر حملے کے بعد عمر بن عبد العزیز نے سندھ کے راجوں اور نوابوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو ان میں سے بہت سوں نے اس دعوت کو خوشی خوشی قبول کر لیا۔

قرآن اور عقل

قرآن حکیم کی دعوت کا رخ عقل انسانی کی طرف ہے۔اس نے فکر کو اپیل کی ہے اور عقل کو حرکت میں آنے کی دعوت دی ہے۔قرآن حکیم کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ کوئی بات خواہ کائنات سے متعلق ہو یا انسان سے،اخلاق سے متعلق ہویا تاریخ سے،عقائد سے متعلق ہو یا احکام سے قرآن حکیم اسے عقل کے پیمانے پر پرکھتا ہے اور اسی معیار پر اسے قبول یا رد کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزدیک اس کی تعلیمات کی سچائی کا انحصار عقل پر ہے اور ان کی سچائی کا پیمانہ عقل ہے۔شاید یہ معلومات قارئین کی نظر میں مفید ہوں: قرآن حکیم میں تقریباً ستر مقامات پر حجیّت عقل کی طرف اشارہ ہوا ہے یعنی عقل کو حق و باطل، سچ جھوٹ اور صحیح وغلط کے پرکھنے کے لئے کسوٹی قرار دیا گیا ہے۔

انسان،کائنات اور قرآن

مدیر اعلی:

انسان اگر اشرف مخلوقات ہے اور اگر اس کا وجود کائنات میں حرکت وارتقا کے تسلسل کے نتیجے میں ہے تو پھر کائنات میں زمین سے ہٹ کر حیات کا وہ تصور جو اس زمین پرہے،کہیں اور بعید دکھائی دیتاہے۔’’انسان‘‘جوموجود کیفیت میں جسم وروح کی ترکیب سے تشکیل پایا ہے، کم ترحیات کی مختلف شکلوں اور جمادات کی مختلف صورتوں کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ حیات کی کم ترشکلیں بھی جمادات کے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ لہٰذا کہیں بھی اورایسی زندگی کے لیے ایسی ہی سرزمین اور حیات کی ایسی ہی کم تر شکلیں (نباتات وحیوانات ) اورجمادات کا ایسا ہی سلسلہ ناگزیر ہے۔زمین پوری کائنات سے جدا نہیں ہے۔ نظام شمسی سے اس کا مختلف حوالوں سے تعلق ہے۔

پاکستان اور خطے کے بدلتے حقائق

اگر گذشتہ تقریباً ایک ماہ کے دوران میں خطے کے چند بڑے واقعات کو سامنے رکھا جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے خطے کے حقائق نہایت تیز رفتاری سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ پاکستان کسی صورت بھی اس تبدیلی کے اثرات سے اپنے آپ کو الگ نہیں رکھ سکے گا۔ ان میں ایک بڑا واقعہ یمن میں سعودیہ کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش ہے۔ اس سلسلے میں انصار اللہ، امریکہ اور اقوام متحدہ کے نمائندگان کی متعدد ملاقاتیں عمان میں ہوچکی ہیں۔

پاکستان، عوام نے بنایا تھا اور عوام ہی بچا سکتے ہیں

23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان لاہور میں منظور ہوئی۔ اس قرارداد کو برصغیر کے مسلمانوں کی پرجوش حمایت حاصل تھی۔ پورے ہندوستان میں انگریزوں سے آزادی کی عوامی تحریک چل رہی تھی۔ ہندو مسلم انگریزوں سے آزادی کے لیے متحد تھے، تاہم مسلمان انگریزوں کے انخلا کے بعد مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل اپنے لیے علیحدہ وطن کے خواہاں تھے۔ اسی آرزو کو 23 مارچ 1940ء کو قائداعظم کی قیادت میں مسلم لیگ کے عظیم الشان تاریخی جلسے میں ’’قرارداد لاہور‘‘ کی شکل دی گئی۔

جلا صوفہ

جب سے مولانا عبدالعزیز نے صوفے پر بیٹھنے کو بدعت قرار دے کر اسے جلوایا ہے، اس واقعے پر طرح طرح کے تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہماری رائے میں یہ ایک سادہ اور معمولی واقعہ نہیں ہے۔ یہ ایک طرز فکر کا غماز ہے، جس کے نتائج بڑے خطرناک اور بھیانک برآمد ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ دنیا میں اسلام کے نام پر معرض شہود میں آنے والے تمام شدت پسند گروہوں کے پیچھے یہی جامد اور بدعتی فکر کارفرما ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ایسی فکر کے حامل افراد دلیل سے بات کرنے کے روادار نہیں ہوتے۔

دینی مدارس کے نصاب کی تشکیل نو

دینی مدارس کے نصاب کے حوالے سے بحث کوئی نئی نہیں۔برصغیر میں سر سید احمد خان کی تحریک کے زمانے میں یہ بحث اپنے عروج پر جاپہنچی تھی۔ خود مدارس کے بزرگ علماء نے اس نصاب کے حوالے سے جو مقالے سپرد قلم کیے ہیں ان میں بھی اس نصاب کو بہتر بنانے کیلئے بہت عمدہ تجاویز موجود ہیں۔ اس سلسلے میں بعض مدارس نے قابل تقلید اقدامات بھی کیے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب ، مصر اور ایران وغیرہ میں جدید اسلامی یونیورسٹیوں کا قیام اسی حوالے سے ایک امید افزاء پیش رفت کی مثالیںہیں۔ علاوہ ازیں بہت سی یونیورسٹیوں میں اصول فقہ، اسلامیات اور سیرت النبیؐ کے خصوصی شعبوں کا قیام بھی ان موضوعات پر جدید انداز سے تحقیقات اور مطالعات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

عدالت در نہج البلاغہ

عامر حسین شہانی
جامعۃ الکوثر اسلام آباد

مقدمہ:
نہج البلاغہ ایک ایسی منفرد کتاب ہے جو علم و حکمت کا بحر بیکراں ہے۔ یہ کتاب وارث منبر سلونی کی حکمت و دانائی سے پر کلام کا مجموعہ ہے۔نہج البلاغہ میں جن موضوعات پربہت زیادہ گفتگو کی گئی ہے اورجنہیں بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے ان میں سے ایک اہم موضوع عدالت ہے۔

مقام مصطفیﷺ حضرت علی علیہ السلام کی نگاہ میں

عون محمد ہادی

خلاصہ تحقیق:حضرت محمدﷺ کائنات کے ہادی و رہبر اور تمام انبیاء کے سردار ہیں، جن کی معرفت اور پہچان ہر زمانے کے مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ سرور دوعالمؐ کا تعارف یاتو خدا کے کلام سےکروایا جانا چاہیے یا رسول اکرمؐ کےا قرباء کے اقوال سے۔ اہلبیتؑ میں سے برگزیدہ ترین ہستی اوررسالت مابؐ کےوصی وجانشین حضرت علیؑ نے اپنے مختلف خطبات کے اندر اپنے آقا و مولا کا تعارف کروایا ہے۔ ان کے خطبات و فرامین کا مجموعہ نہج البلاغہ ہے جو ہر خاص و عام کی نظر میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔

حضرت علی بن عثمان ؒ

داتا گنج بخشؒ(۴۰۰۔۴۶۵ھ)
حضرت علی الہجویریؒ امام حسنؑ کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ افغانستان سے لاہور تشریف لائے۔ برصغیر میں تشریف لانے والے صوفیا میں آپ متقدمین میں سے ہیں۔آپ نے اپنی معروف کتاب کشف المحجوب میں اہل بیت رسالت کے بہت سے فضائل نقل کیے ہیں۔ ان کے اپنے اشعار تو ہمارے پیش نظر نہیں ہیں لیکن انھوں نے اہل بیت کی شان میں معروف عرب شاعر فرزدق (ھَمّام بن غالب بن صّعصّعۃّ الدّارِمی التمیمی ملقب یہ ابو فِراس)کا ایک شہرہ آفاق قصیدہ نقل کیا ہے۔