Skip to content

واشنگٹن میں خوف کے سائے

20 جنوری 2021ء جوں جوں قریب آرہی ہے، امریکہ بھر میں بالعموم اور واشنگٹن ڈی سی میں بالخصوص خوف کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے بھوتوں نے ڈیرہ ڈال لیا ہو۔ پینٹا گون نے نیشنل گارڈز کو نومنتخب صدر جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری والے دن یعنی 20 جنوری کو واشنگٹن میں پچیس ہزار سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کرنے کی ہدایت دے دی ہے۔ حلف برداری کی تقریب والے دن واشنگٹن میں مکمل تعطیل کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ یہاں تک کہ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔

امریکی ریاست کا اگلا سال اور عالمی سیاست

امریکہ کی 231 سالہ تاریخ میں پہلی بار کسی صدر کا دوسری بار مواخذہ کیا جا رہا ہے۔ ایک ایسا صدر جو اپنے دور صدارت کے اقدامات پر پھولا نہیں سماتا تھا اور اسے یقین تھا کہ اسے دوبارہ اس عہدے کے لیے منتخب کیا جائے گا، اس کا یہ انجام انتہائی شرمناک ہے۔ صدارت تو ایک جانب دنیا کی سپر طاقت کے صدر کے سوشل میڈیا اکاونٹس کو بھی خاموش کر دیا گیا ہے، جو امریکی معاشرے کے لیے بھی سبکی کی علامت ہے۔ صدر نہ رہنے کے بعد تو میرے خیال میں ٹرمپ پر مواخذے کا جواز نہیں رہتا بلکہ مقدمہ چلایا جانا چاہیئے، تاہم شاید ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ ٹرمپ کو عبرت کا ایک نشان بنایا جائے۔ عین ممکن ہے کہ ٹرمپ پر مواخذے کے بعد فوجداری مقدمہ بھی چلایا جائے۔

کیا وفاق المدارس العربیہ کے آئندہ صدر مولانا فضل الرحمن ہوں گے؟

گذشتہ روز (13جنوری2021ء) جناب مولانا اسرار مدنی کی ایک تحریر نظر سے گزری، جس میں انھوں نے وفاق المدارس العربیہ کے آئندہ صدر کے حوالے سے بات کی ہے۔ مولانا خود دارالعلوم حقانیہ کے افاضل میں سے ہیں۔ معاشرتی اور سماجی ہم آہنگی کے حوالے سے ایک عرصے سے سرگرم ہیں۔ انھوں نے اس موضوع پر جہاں اپنی معلومات کے مطابق بات کی ہے اور کہا ہے کہ وفاق کے آئندہ متوقع صدر مولانا فضل الرحمن ہوں گے، وہاں انھوں نے اس امر کا بھی جائزہ لیا ہے کہ اس صورت میں ممکنہ طور پر کیا منفی اور مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ہم ذیل میں پہلے برادر محترم مولانا اسرار مدنی کا نقطہ نظر پیش کریں گے اور پھر اس موضوع پر اپنا تجزیہ بھی قارئین کی خدمت میں پیش کریں گے۔

سردار قاسم سلیمانی، اسلامی تعلیمات کا ایک اور معجزہ(1)

سردار قاسم سلیمانی کی شخصیت اگرچہ کروڑوں انسانوں کے دلوں میں اتر چکی ہے اور انھیں بجا طور پر ’’سردار دلہا‘‘ یعنی دلوں کا سردار کہا جاتا ہے، تاہم ہماری رائے یہ ہے کہ ابھی تک دنیا سردار قاسم سلیمانی کو دریافت کرنے کے مرحلے میں ہے۔

امت اسلامیہ کا نوحہ

 امت مظلوم کے کس درد کا نوحہ لکھوں۔ وسائل کی فراوانی کے باوجود مسلم عوام کی کسمپرسی کا حال کہوں، یا سوا ارب سے زیادہ آبادی کے حامل مسلمان ممالک کے نا اہل حکمرانوں کی عیاشیوں کا فسانہ چھیڑوں، امت اسلامیہ کی علمی و فکری پسماندگی کی حکایت بیان کروں یا آپس میں دست و گریباں مسلمانوں کی بپتاکہوں۔ایک جانب پاکستانی حکمران ہیںکہ جنہوں نے اپنے تین بے جرم و خطا شہریوں کے قاتل امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کواپنے ہی قانون کا سہارا لیتے ہوئے فرار کرایاتو دوسری جانب لیبیا اور خلیجی ریاستوں کے حکمران ہیں جو اپنے ہی نہتے عوام کو بارود اور بندوق کے زور پر خاموش کرنے کے درپے ہیں۔

قیام الحسین ؑ ۔فی۔ کلام الحسین ؑ

تلخیص:
تاریخ اسلام گواہ ہے کہ خلفائے راشدینؓ کی خلافت سے صلح امام حسن ؑ تک امت ہر معاملے میں ہمیشہ دو نظریاتی گروہوں میں منقسم رہی۔تاہم حسین ؑ کا قیام ایسا اقدام ہے جس پر مسلمان تو مسلمان ،غیر مسلم بھی امام عالی مقام کی عظمت کے قائل نظر آتے ہیں۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سید المرسلین ؐ کی رحلت کے بعد اسلامی معاشرے میں جس ہستی کے اقدام کو بلا تخصیص مسلک و گروہ حق سمجھا گیا ، امام حسین ؑ کی ذات والا صفات ہے ۔

موحدون، دروزیہ ایک اجمالی تعارف

موحدون یا دروزیہ کا تعلق بھی بنیادی طور پر اسماعیلیہ کے فاطمی سلسلے سے ہے۔ اِس کا شمار بھی دنیا کے اُن فرقوں میں ہوتا ہے جن کی تعداد بہت کم ہے۔موحدون، دروزیہ خالص عرب ہیں۔اِن کی تعداد تقریباً ڈیڑھ ملین سے دو ملین تک ہے۔موحدون، دروزیہ کی ایک بڑی تعداد لبنان، شام اور فلسطین میں آباد ہے؛ جبکہ دنیا کے دیگر ممالک خاص کر مغربی ممالک میں بھی اِن کی کچھ تعداد موجود ہےجو عرب خطوں سے ہجرت کر کے وہاں گئی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا آف براٹینیکا کے مطابق موحدون، دروزیہ کی تعداد لبنان میں تقریباً تین لاکھ سے زائد، شام میں اندازاً چھ لاکھ سے زائد جبکہ فلسطین میں ان کی تعدادکا تخمینہ لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ نفوس یا اس سے زائد پر مشتمل ہے، جبکہ موحدون،دروز کا دعویٰ ہے کہ اُن کی تعداد دو ملین سے کچھ زیادہ ہے۔

عقیدۂ توحید کے معاشرتی اثرات

عقیدے کی وحدت ہی امت کی وحدت پر منتج ہوتی ہے بشرطیکہ عقیدے کو اس کی روح کے ساتھ اختیار کیا جائے۔ عقیدہ توحید ہی اسلام کے ہر دوسرے عقیدے ،اخلاقی تعلیمات اور احکام عبادی کی روح رواں ہے۔ 

اس عقیدے کے معاشرتی پہلوؤں پر غور کیا جائے تو یہ امر کھل کر سامنے آجاتا ہے کہ اس کی مدد سے ہم ایک امت ہی نہیں ،ایک عظیم امت بن سکتے ہیں۔پیش نظرسطور اسی امر کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

معرفت دین کی ابتداء

دین اور غیر دین میں حدفاصل ماورائے مادۂ کائنات کاتصور ہے ۔ایک نظریے کے مطابق ساری کائنات اتفاقات کا نتیجہ ہے۔ یہ لوگ حیات بعد ازممات کو بھی نہیں مانتے کیونکہ یہی ان کے تصور کائنات کا تقاضا ہے ۔

 قرآن شریف میں بھی اس نظریے کے حامیوں کا نقطۂ نظر نقل کیا  گیا ہے :
 وَقَالُوْا مَا ہِیَ اِِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَآ اِِلَّا الدَّہْرُ۔۔۔(۱)