Skip to content

سردار قاسم سلیمانی، اسلامی تعلیمات کا ایک اور معجزہ(1)

سردار قاسم سلیمانی کی شخصیت اگرچہ کروڑوں انسانوں کے دلوں میں اتر چکی ہے اور انھیں بجا طور پر ’’سردار دلہا‘‘ یعنی دلوں کا سردار کہا جاتا ہے، تاہم ہماری رائے یہ ہے کہ ابھی تک دنیا سردار قاسم سلیمانی کو دریافت کرنے کے مرحلے میں ہے۔

امت اسلامیہ کا نوحہ

 امت مظلوم کے کس درد کا نوحہ لکھوں۔ وسائل کی فراوانی کے باوجود مسلم عوام کی کسمپرسی کا حال کہوں، یا سوا ارب سے زیادہ آبادی کے حامل مسلمان ممالک کے نا اہل حکمرانوں کی عیاشیوں کا فسانہ چھیڑوں، امت اسلامیہ کی علمی و فکری پسماندگی کی حکایت بیان کروں یا آپس میں دست و گریباں مسلمانوں کی بپتاکہوں۔ایک جانب پاکستانی حکمران ہیںکہ جنہوں نے اپنے تین بے جرم و خطا شہریوں کے قاتل امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کواپنے ہی قانون کا سہارا لیتے ہوئے فرار کرایاتو دوسری جانب لیبیا اور خلیجی ریاستوں کے حکمران ہیں جو اپنے ہی نہتے عوام کو بارود اور بندوق کے زور پر خاموش کرنے کے درپے ہیں۔

قیام الحسین ؑ ۔فی۔ کلام الحسین ؑ

تلخیص:
تاریخ اسلام گواہ ہے کہ خلفائے راشدینؓ کی خلافت سے صلح امام حسن ؑ تک امت ہر معاملے میں ہمیشہ دو نظریاتی گروہوں میں منقسم رہی۔تاہم حسین ؑ کا قیام ایسا اقدام ہے جس پر مسلمان تو مسلمان ،غیر مسلم بھی امام عالی مقام کی عظمت کے قائل نظر آتے ہیں۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ سید المرسلین ؐ کی رحلت کے بعد اسلامی معاشرے میں جس ہستی کے اقدام کو بلا تخصیص مسلک و گروہ حق سمجھا گیا ، امام حسین ؑ کی ذات والا صفات ہے ۔

موحدون، دروزیہ ایک اجمالی تعارف

موحدون یا دروزیہ کا تعلق بھی بنیادی طور پر اسماعیلیہ کے فاطمی سلسلے سے ہے۔ اِس کا شمار بھی دنیا کے اُن فرقوں میں ہوتا ہے جن کی تعداد بہت کم ہے۔موحدون، دروزیہ خالص عرب ہیں۔اِن کی تعداد تقریباً ڈیڑھ ملین سے دو ملین تک ہے۔موحدون، دروزیہ کی ایک بڑی تعداد لبنان، شام اور فلسطین میں آباد ہے؛ جبکہ دنیا کے دیگر ممالک خاص کر مغربی ممالک میں بھی اِن کی کچھ تعداد موجود ہےجو عرب خطوں سے ہجرت کر کے وہاں گئی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا آف براٹینیکا کے مطابق موحدون، دروزیہ کی تعداد لبنان میں تقریباً تین لاکھ سے زائد، شام میں اندازاً چھ لاکھ سے زائد جبکہ فلسطین میں ان کی تعدادکا تخمینہ لگ بھگ ڈیڑھ لاکھ نفوس یا اس سے زائد پر مشتمل ہے، جبکہ موحدون،دروز کا دعویٰ ہے کہ اُن کی تعداد دو ملین سے کچھ زیادہ ہے۔

عقیدۂ توحید کے معاشرتی اثرات

عقیدے کی وحدت ہی امت کی وحدت پر منتج ہوتی ہے بشرطیکہ عقیدے کو اس کی روح کے ساتھ اختیار کیا جائے۔ عقیدہ توحید ہی اسلام کے ہر دوسرے عقیدے ،اخلاقی تعلیمات اور احکام عبادی کی روح رواں ہے۔ 

اس عقیدے کے معاشرتی پہلوؤں پر غور کیا جائے تو یہ امر کھل کر سامنے آجاتا ہے کہ اس کی مدد سے ہم ایک امت ہی نہیں ،ایک عظیم امت بن سکتے ہیں۔پیش نظرسطور اسی امر کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

معرفت دین کی ابتداء

دین اور غیر دین میں حدفاصل ماورائے مادۂ کائنات کاتصور ہے ۔ایک نظریے کے مطابق ساری کائنات اتفاقات کا نتیجہ ہے۔ یہ لوگ حیات بعد ازممات کو بھی نہیں مانتے کیونکہ یہی ان کے تصور کائنات کا تقاضا ہے ۔

 قرآن شریف میں بھی اس نظریے کے حامیوں کا نقطۂ نظر نقل کیا  گیا ہے :
 وَقَالُوْا مَا ہِیَ اِِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَآ اِِلَّا الدَّہْرُ۔۔۔(۱)

نبوت ،نبی اور عقل

تلخیص:
جو لو گ عقل کی نفی اور توہین پر عقید ۂ نبوت کی بنا استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ‘ وہ نبو ت کے کمال آفرینی کے اہم منصب اور حکمت نبوت سے ناآشنائی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں ۔ عقل ہی تو انسان کا عظیم مابہ الامتیاز ہے ۔ عقل انسان کو مخلوقات عالم میں ممتاز کرتی ہے ۔ نبوت کی ضرورت کو عقل کی نفی اور کمزوری و نارسائی کی دلیل سے ثابت کرنا عقل کی توہین کے مترادف ہے ۔ ہم قرآن حکیم میں دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بار بار عقل انسانی کو پکارتا ہے ۔ انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے ۔ اندھی تقلید تر ک کرنے کے لیے اسے دلیل کی بنیاد پردعوت دیتا ہے ۔ انسان کو دنیا کے سب رنگوں کو چھوڑ کر فطر ت کا الٰہی رنگ اختیار کرنے کی طر ف ابھارتا ہے ۔ 

نسائیات چند متفرق تحریریں

ہم اپنے اِس مضمون کا آغاز، برصغیر کے مشہور مفسر، مولانا امین احسن اصلاحی کے پیرا گراف سے کرتے ہیں، آپ لکھتے ہیں” آدمی جب تک بیوی سے محروم رہتا ہے وہ کچھ خانہ بدوش سا بنا رہتا ہے۔

 اور اس کی بہت سی صلاحیتیں سکڑی اور دبی ہوئی رہتی ہیں۔ اسی طرح عورت جب تک شوہر سے محروم رہتی ہے اس کی حیثیت بھی اس بیل کی ہوتی ہے جو سہارا نہ ملنے کے باعث پھیلنے اور پھولنے پھلنے سے محروم ہو۔ لیکن جب عورت کو شوہر مل جاتا ہے اور مرد کو بیوی کی رفاقت حاصل ہو جا تی ہے تو دونوں کی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور زندگی کے میدان میں جب وہ دونوں مل کر جدوجہد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی جدو جہد میں برکت دیتا ہے اور ان کے حالات بالکل بدل جاتے ہیں”۔
(تفسیر تدبرِ قرآن، جلد 5، صفحہ 400)

مغرب کے اور ہمارے تصور مذہب میں فرق

مغرب نے عملاً طے کرلیاہے کہ مذہب کا سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے نزدیک مذہب انسان کا پرائیویٹ معاملہ ہے۔ اس کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ آپ عیسائیت‘ یہودیت‘ اسلام یا سکھ مذہب وغیرہ میں سے جو ’’مذہب‘‘ بھی اختیار کرنا چاہیں‘ آزاد ہیں۔

 البتہ آپ کے مذہب کا سوسائٹی‘ گورنمنٹ اور پارلیمنٹ سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔پارلیمنٹ اس سے آزاد رہ کر قانون سازی کرے گی۔ بائیبل کیا کہتی ہے اور قرآن کیا کہتا ہے ریاست کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ یعنی پارلیمنٹ اس لیے شراب کوحرام قرار نہیں دے سکتی کہ قرآن نے اسے نجس اور ’’ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ ‘‘(۶) قرار دیا ہے۔

اسلام ایک ہمہ گیر انسانی تہذیب

اسلامی تہذیب کی بنیاد فطرت اور عقلِ انسانی پر ہے اور یہ کائنات کی فطرت سے ہم آہنگ ہے اور کائنات کی فطرت الٰہی فطرت کا پرتو ہے لہٰذا اس کے خلاف انسان اگر حرکت کرے گا

تو وہ تہذیب اسلامی کے خلاف حرکت ہوگی جوفرد اور معاشرے کے لئے ضرر رساں ہوگی۔ انسان کے کسی بھی عمل اور سوچ کو انسانی معاشرے سے لا تعلق نہیں مانا جاسکتا، اسی طرح انسانی معاشرے کا مجموعی کردار بھی ہر فرد کے لئے تاثیر رکھتا ہے

مفتی امجد عباس

زیدیہ: ایک تعارف

  زیدیہ معروف شیعہ فرقہ ہے جن کا عقیدہ ہے کہ "حضرت علی، امام حسن اور امام حسین اور "زید بن علی" کے بعد امامت کا عہدہ ہر اس فاطمی… 

مفتی امجد عباس

اباضیہ، ایک مختصر تعارف:

اباضیہ کو ہمیشہ "خوارج" کا گروہ کہا گیا ہے، اِس کی بنیادی وجہ اُن کادیگر خارجی رہنماؤں کے ساتھ مل کر اموی حکمرانوں کے خلاف برسرِ پیکار رہنا ہے۔ حافظ…