حضرت علی بن عثمان ؒ

Published by محققین البصیرہ on

داتا گنج بخشؒ(۴۰۰۔۴۶۵ھ)
حضرت علی الہجویریؒ امام حسنؑ کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ افغانستان سے لاہور تشریف لائے۔ برصغیر میں تشریف لانے والے صوفیا میں آپ متقدمین میں سے ہیں۔آپ نے اپنی معروف کتاب کشف المحجوب میں اہل بیت رسالت کے بہت سے فضائل نقل کیے ہیں۔ ان کے اپنے اشعار تو ہمارے پیش نظر نہیں ہیں لیکن انھوں نے اہل بیت کی شان میں معروف عرب شاعر فرزدق (ھَمّام بن غالب بن صّعصّعۃّ الدّارِمی التمیمی ملقب یہ ابو فِراس)کا ایک شہرہ آفاق قصیدہ نقل کیا ہے۔

اس کا پس منظر بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں: حکایات میں ہے کہ ہشام بن عبدالملک بن مروان ایک سال حج کو آیا۔ خانہ کعبہ کا طواف کررہا تھا جب حجر اسود پر بوسہ دینے کا ارادہ کیا تو خلقت کے ہجوم کی وجہ سے اسے راستہ نہ ملا۔ وہ منبر پر چڑھا اور خطبہ پڑھنا شروع کیا۔ اسی وقت حضرت زین العابدینؑ تشریف لائے چہرہ ماہ کامل کی طرح روشن، رخسار دمکتے ہوئے اور لباس خوشبو سے معطّر۔ انہوں نے طواف کیا جب حجرِ اسود کے پاس آئے تو لوگ تعظیماً ایک طرف ہٹ گئے اور آپؑ نے بڑھ کر پتھر کو بوسہ دیا۔ ہشام بن عبدالملک سے کسی نے کہا آپ امیر المؤمنین ہیں، آپ کو حجر اسود تک بازیابی نہ ہوئی، وہ جو ان رعنا آیا تو سب لوگ ایک طرف ہٹ گئے اور سنگ ِ اسود اس کے لیے خالی کردیا۔ ہشام نے کہا کہ میں اس کو نہیں جانتا۔ ہشام کا مطلب یہ تھا کہ اس کے لوگ حضرت زین العابدینؑ کو پہچان کر ان کی طرف داری اختیار کرکے انہیں امیر بنانے کی کوشش نہ کریں۔ فرزدق شاعر موجود تھا۔ اس نے کہا میں جانتا ہوں۔ لوگوں نے کہا تو بیان کر وہ کون ہے؟ اس کے چہرے سے کیا ہبیت ٹپک رہی ہے۔ فرزدق نے کہا: سو میں اس کے صفات اور اس کے نسب کو بیان کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر فرزدق نے اشعار پڑھے:
ھَذا الّذی تَعرِفُ البَطْحاءُ وَطْأتَہُ
وَالبَیْتُ یعْرِفُہُ وَالحِلُّ وَالحَرَمُ
ھذا ابنُ خَیرِ عِبادِ اللہ کُلّھِمُ
ھذا التّقیّ النّقیّ الطّاھِرُ العَلَمُ
ھذا ابنُ فاطمَۃٍ اِنْ کُنْتَ جاھِلَہُ
بجَدّہِ أنْبِیَاءُ اللہ قَدْ خُتِمُوا
وَلَیْسَ قَوْلُکَ: مَن ھذا؟ بضَائرِہ
العُرْبُ تَعرِفُ من أنکَرْتَ وَالعَجمُ
اللہ شَرّفَہُ قِدْماً، وَعَظّمَہُ
جَرَی بِذاکَ لَہُ فی لَوْحِہِ القَلَمُ
أیُّ الخَلائِقِ لَیْسَتْ فی رِقَابِھِمُ
لأوّلِیّۃِ ھَذا، أوْلَہُ نِعمُ
ترجمہ:وہ جنھیں تم نہیںپہچانتے وہ وہی ہیں سرزمین بطحا جن کے نقش قدم کو پہچانتی ہے اور انھیں پہچاننے میں کعبہ، حل اور حرم اُس کے ساتھ ساتھ ہیں۔یہ اُن کے بیٹے ہیں جو تمام بندگان خدا سے بہتر ہیں، یہ تقی ہیں، نقی ہیں، طاہر ہیں اور علم و فضیلت کا کوہ بلند ہیں۔اگر تم انھیں پہچاننے میں جاہل ہو تو جان لو کہ یہ فاطمہ کے بیٹے ہیں اور ان کے نانا وہ ہیں کہ جن پر سلسلہ نبوت تمام ہوا۔تمھارا یہ کہنا کہ یہ کون ہیں؟انھیں کوئی ضرر نہیں پہنچاتا کیونکہ عرب و عجم انھیں بخوبی پہچانتے ہیں۔اللہ نے انھیں شرف و عظمت بخشی ہے اور اس مشیت کو حقیقت بخشنے کے لیے لوح پر قضا کا قلم چلایا ہے۔اللہ کی مخلوقات میں سے کونسا گروہ ہے جو ان کے بزرگوں یا خود ان کی ذات کریم کا احسان مند نہ ہو۔
ہشام برافروختہ ہوگیا اور اس نے فرزدق کو مدینہ اور مکہ کے درمیان عسفان کے مقام پر قید کردیا۔ جب یہ خبر حضرت زین العابدینؑ کو ملی تو انھوں نے بارہ ہزار درہم فرزدق کو بھجوائے اور کہلا بھیجاکہ ہم مجبور ہیں، اس سے زیادہ ہمارے پاس نہیں۔ فرزدق نے وہ روپیہ یہ کہہ کر واپس کردیا کہ اے فرزند پیغمبرؐ !میں تمام عمر مال و زرکے لیے بادشاہوں اور امیر لوگوں کے قصائد لکھتا رہا ہوں اور ان کی تعریف میں جھوٹ بولتا رہا ہوں۔ یہ اشعار میں نے اہل بیتؑ کی تعریف میں از رہِ کفارہ کہے ہیں۔ جب یہ پیغام امام زین العابدین ؑ کو ملا۔ انہوں نے رقم واپس بھجوا دی اور کہا:
اے فرزدق! اگر تمھیں واقعی ہمارے ساتھ ارادت ہے تو یہ خیال نہ کرو کہ ہم جو کچھ دے چکے اسے واپس لے لیں گے ۔ ہم اس کی ملکیت سے دست بردار ہوچکے ہیں۔
حضرت زین العابدینؑ کے مناقب اتنے ہیں کہ احاطہ تحریر میں نہیں آسکتے۔(۴)
٭٭٭٭٭
حضرت معین الدین چشتیؒ (۵۳۶۔۶۳۳ ھ)
حضرت معین الدین چشتیؒ سلسلہ چشتیہ کے بانی ہیں۔آپ حضرت امام موسیٰ کاظمؑ بن امام جعفر صادقؑ بن امام محمد باقرؑ بن امام علی زین العابدینؑ کی اولاد امجاد میں سے ہیں۔ ایک دولت مند خاندان میں پیدا ہوئے لیکن ایک ولی اللہ نے ایسی نظر کرم کی کہ سب کچھ چھوڑ کر راہ ولایت و عرفان اختیار کی۔ آپ نے حضرت علی ہجویریؒ کے مزار پر چلہ کشی بھی کی۔ آپ کئی ایک کتابوں کے مصنف ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں آپ کی ایک معروف منقبت سے چند اشعار پیش خدمت ہیں:
بی حاصلیم گرچہ از دھروملک و مالش
مارا بس است حاصل مہر علی و آلش
ھرگلرخی کہ نی خود ھمرنگ آل حیدر
بگریز ازان کہ صد بار ہجران بہ از وصالش
کفار خارجی را باور مکن اگرچہ
قال الرسول گوید کذب است قیل وقالش
آن را کہ غیر حیدر باشد امام و رہبر
دارد خیال باطل، باطل بود خیالش
بر دشمنان حیدر لعنت بکن میندیش
ای مومن موالی زنھار از وبالش
ترجمہ:اگرچہ ہمارے پاس نہ دنیا ہے، نہ حکومت ہے اور نہ اس کا مال لیکن ہمارے لیے علی اور آپ کی آل کی محبت ہی کافی ہے۔ ہر گل رخ اور حسین کہ جو آل حیدر سے ہم رنگ نہیں ہے اس سے دوری اختیار کر کہ اس کے وصال سے اس کا ہجر سو بار بہتر ہے۔خارجی کافروں کی بات کا یقین نہ کرو اگرچہ وہ یہ کہتا ہو کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا ہے کیونکہ اس کی بات اور اس کا قول جھوٹا ہے۔ جس نے بھی علیؑ کو چھوڑ کر اپنا امام اور رہبر بنایا اس کے دل میں باطل کا خیال ہے اور اس کا خیال بھی باطل ہے۔اے مولا کے ماننے والے مومن! حیدر کے دشمنوں پر لعنت بھیج اور اس کا جو بھی نقصان ہوتا ہو اس کی ہرگز پرواہ نہ کر۔(۵)
امام حسینؑ کے حضور آپ کے اس نذرانۂ عقیدت کو شہرت دوام حاصل ہو گئی ہے:
شاہ است حسینؑ، پادشاہ است حسینؑ
دین است حسینؑ دین پناہ است حسینؑ
سردار نداد دست در دست یزید
حقا کہ بنائے لا الٰہ است حسینؑ
٭٭٭٭٭
حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ (۶۳۴ھ)
آپ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے حلقہ ارادت سے وابستہ تھے۔ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں آپ کی منقبت کے چند شعر:
بود موصوف از صفات خدا
زان سبب گشتہ بود راہ نما
ھستم از دشمن علی بیزار
حق گواہ است اندرین گفتار
ھر کہ چون قطب دین گدای علی است
کوس شاہی بہ نام او ازلی است
ترجمہ:آپ میں صفات الٰہی جلوہ گر تھیں اسی لیے آپ راہنما قرار پائے ۔ میں علی کے دشمن سے بیزار ہوں اور میری اس بات پرحق تعالیٰ گواہ ہے ۔جو کوئی بھی قطب الدین (بختیار کاکیؒ) کی طرح علی ؑ کی بارگاہ کا گدا ہو جائے گاازلی بادشاہت کا نقارہ اس کے نام بجے گا۔(۶)
ایک اور منقبت سے ایک شعر ملاحظہ فرمائیں:
در روز حشر ہر کس امامے طلب کند
مارا وسیلہ نیست بجز مرتضیٰ علیؑ
ترجمہ:قیامت کے دن جب بھی ہر کسی کو اس کے امام کے بارے میں پوچھا جائے گا تو ہمارا وسیلہ علی مرتضیٰ کے سوا کوئی نہ ہوگا۔(۷)
٭٭٭٭٭
مولانا جلال الدین رومیؒ(۶۰۴ھ/۱۲۰۷۔۱۲۷۳ء)
اللہ تعالیٰ نے جو بلند مقام سخنوری میں مولانا جلال الدین کو عطا فرمایا ہے وہ شاذونادر ہی کسی کے حصے میں آیا ہے۔ علامہ اقبالؒ انھیں اپنا مرشد کہتے ہیں۔
ان کی مثنوی کے بارے میں کہا جاتا ہے:
ع ہست قرآن در زبان پہلوی
آپ ایک مرد عارف اور اسلام شناس کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ آپ حضرت صدر الدین قونوی کے توسط سے حضرت محی الدین ابن عربی کے سلسلۂ فیضان سے تعلق رکھتے ہیں۔ اہل بیتؑ کی شان میں آپ کے بہت سے اشعار ہیں۔ امیرالمومنینؑ کی خدمت میں آپ کی معروف منقبت میں سے چند اشعار پیش خدمت ہیں:
اے شاہِ شاہانِ جہاں واللہ مولانا علیؓ
اے نورِ چشمِ عاشقاں واللہ مولانا علیؓ
قاضی و شیخ و محتسب دارند بدل بغض علیؓ
ہرسہ شدند از دین بری واللہ مولانا علیؓ
ترجمہ:اے دنیا کے بادشاہوں کے بادشاہ قسم باخدا ہمارے مولا علی ؑ آپ ہیں۔ اے عاشقوں کے نور چشم باخدا ہمارے مولا علی ؑ آپ ہیں۔قاضی ، شیخ اور محتسب تینوں کے دل میں علی ؑ کا بغض ہے، یہ تینوں دین سے نکل گئے ہیں باخدا اے ہمارے مولا علی ؑ ۔(۸)٭٭٭٭٭
لال شہباز قلندرؒ (۵۷۸۔۶۷۳ھ)
آپ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ کا اصلی نام سید عثمان مروندی ہے۔ اہل بیتؑ کی شان میں آپ کے بہت سے قصائد ہیں ہم ایک منقبت سے ان کا فقط ایک بند نقل کررہے ہیں:
از میٔ عشق شاہ سر مستم
بندہ مرتضی علی ھستم
من بہ غیر از علی ندانستم
علی اللہ از ازل گفتم
حیدری ام قلندرم مستم
بندۂ مرتضی علی ھستم
ترجمہ:میں علی ؑ بادشاہ کے عشق میں سرمست ہوں اور علی ؑ مرتضیٰ کا غلام ہوں ۔میں علی ؑ کے سوا کسی کو جانتا ہی نہیںاورمیں نے ازل سے علی اللہ کہا ہے۔میں حیدری ہوں، میں قلندر ہوں، میں مست ہوں، میں علی مرتضیٰ ؑ کا غلام ہوں۔(۹)
٭٭٭٭٭
حضرت علائو الدین صابر کلیریؒ(۵۹۲۔۶۹۰ھ)
سلسلہ چشتیہ کے معروف بزرگ حضرت علائو الدین علی احمد صابر کلیری پاک پتن میں پیدا ہوئے ۔ آپ حضرت خواجہ فرید الدین شکر گنج کے بھانجے اور مرید تھے۔ حضرت علی علیہ السلام کی منقبت سے چند اشعار:
ای محرم راز خدا
ای نور چشم مصطفی
ای صاحب ھر دوسرا
مستان سلامت می کنند
ای صاحب عالی نسب
عالم ز تو اندر طرب
داری اسد اللہ لقب
مستان سلامت می کنند
ترجمہ: اے اللہ کے رازوں کے محرم، اے مصطفیٰ کی آنکھوں کے نور۔اے دو جہانوں کے بادشاہ! تیری محبت کے متوالے تجھے سلام پیش کرتے ہیں۔اے بلند نسب والے کہ جس کا لقب اسد اللہ ہے ۔تیرے ذکر سے ایک دنیا طرب انگیزاور حال وجد میں ہے تیری محبت کے متوالے تجھے سلام پیش کرتے ہیں۔(۱۰)
حضرت نظام الدین اولیاؒ (۶۳۲۔۷۲۵ھ)
آپ کا اسم گرامی سید محمد بن سید احمد بن دانیال ہے۔ آپ کو نظام الدین اولیا اور محبوب الٰہی کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔آپ حضرت امام علی نقیؑ بن امام محمد تقیؑ بن امام علی رضاؑ بن امام موسیٰ کاظمؑ بن امام جعفر صادقؑ کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ حضرت فرید الدین گنج شکرؒ کے مرید ہیں۔ مولا علی علیہ السلام کے حضور ایک معروف منقبت سے چند اشعار پیش خدمت ہیں:
امامت را کسی شاید کہ شاہ اولیا باشد
بہ زھد وعصمت و دانش مثال انبیا باشد
امام حق کسی باشد کہ اندر جملۂ قرآن
بہ ھر آیت کہ برخوانی در آن مدح و ثنا باشد
امام حق کسی باشد کہ یزدان بست عقد او
بود خیر النساء زوجہ و خسرش مصطفی باشد
امام حق کسی باشد کہ باشد بت شکن در دین
نہ ھم چون ناصبی بی دین کہ معبودش ریاباشد
ترجمہ: امامت اس کو زیبا ہے کہ جو اولیاء کا بادشاہ ہے اور جو زہد،عصمت اور علم میں انبیاء کی مثال ہے۔حق کا پیشوا وہ ہے کہ سارے قرآن کے اندر آپ جس آیت کو بھی پڑھیں گے آپ کو اسی کی مدح و ثنا ملے گی۔ حق کا پیشوا وہی ہے کہ جس کا نکاح اللہ کے حکم سے ہوا اور خیرالنساء جس کی زوجہ بنیں اور مصطفیٰ جس کے سُسر قرار پائے۔حق کا پیشوا وہی ہے کہ جو دین میں بت شکن قرار پایا،کوئی ناصبی بے دین حق کا پیشوا نہیں ہوسکتا کہ جس کا معبود ریا کاری ہے۔(۱۱)
٭٭٭٭٭
حضرت امیر خسرو دھلویؒ (۶۵۱۔۷۲۵ھ)
آپ کا نام یمین الدین ابوالحسن ہے۔ امیر خسرو کے نام سے مشہور ہوئے۔ حضرت نظام الدین اولیاؒ کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کے خلیفہ قرار پائے۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں ان کی ایک منقبت سے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
شھر دل آباد شد از رحمت پروردگار
کاندرین شھری است حیدر برگزیدہ شھریار
گرنہ افضل برھمہ چون آمد این ھاتف زغیب
لافتی الاعلی لا سیف الاذوالفقار
گر تن خسرو دھی در زیر پای فیل مست
حب از دل برندارد زان شہ دلدل سوار
ترجمہ: دل پروردگار کی رحمت سے آباد ہو گیا کیونکہ اس شہر کا برگزیدہ اور منتخب بادشاہ حیدر ہے۔وہ سب سے افضل کیوں نہ ہو کہ جس کے لیے غیب سے ہاتف کی آواز آئی کہ علی جیسا کوئی مرد نہیں اور ذوالفقار جیسی کوئی تلوار نہیں۔اگر خسرو کا بدن مست ہاتھی کے پائوں کے نیچے بھی رکھ دو تو شہ دلدل سوار علی کی محبت تم اس کے دل سے نہیں نکال سکتے۔(۱۲)
آپ کی ایک اور نہایت بے ساختہ اور عاشقانہ منقبت ہے، ملاحظہ فرمائیں:
امیرالمؤمنین را می پرستم
امام المتقین را می پرستم
نبی مِنّی، فتیٰ گفتہ است جبریل
امام این چنین را می پرستم
وصیّ و ابن عمّ ویار احمد
امام السابقین را می پرستم
علی والیٔ شمشیر دو پیکر
امام الناصرین را می پرستم
دلا از عشق آن شہ رومگردان
علی را منقبت ھا گفت یزدان
مرا عشق است بر اولاد حیدر
امام العاشقین را می پرستم
امام الراشدین را می پرستم
امام العارفین را می پرستم
قسیم نار وجنت شاہ مردان
امام القاسمین را می پرستم
تو خسرو مذہب خود را بگویی
امام راستین را می پرستم
ترجمہ:میں امیرالمومنین ؑ سے عشق رکھتا ہوں، امام المتقین ؑ سے عشق رکھتا ہوں۔ نبیؐ نے ان کے بارے میں کہا کہ علی ؑ مجھ سے ہے اور میں علی ؑ سے ہوں اور جبریل نے ان کے بارے میں لافتیٰ الا علی کہا، میں ایسے امام سے عشق رکھتا ہوں۔آپ احمد مجتبیٰؐ کے وصی، چچا زاد اور ساتھی ہیں،میں سبقت کرنے والوں کے ایسے امام سے عشق کرتا ہوں۔علی ؑ کی شمشیر دو سروں والی تھی میں ایسے امام الناصرین سے عشق رکھتا ہوں۔اے میرے دل! ایسے بادشاہ کے عشق سے منہ نہ موڑ کہ میں اس عاشقوں کے امام سے عشق رکھتا ہوں۔علی ؑ کی منقبتیں خود اللہ نے بیان کی ہیں میں ہدایت کرنے والوں کے ایسے پیشوا سے عشق رکھتا ہوں۔میں اولاد حیدر سے عشق رکھتا ہوں اور عارفوں کے پیشوا علی ؑ کی پوجا کرتا ہوں۔شاہ مرداں علی ؑ دوزخ اور جنت کو تقسیم کرنے والے ہیں۔ میں ایسے ہی تقسیم کرنے والوں کے پیشوا سے عشق رکھتا ہوں۔ اے خسرو! تم اپنا مذہب بیان کردو اور کہہ دو کہ میں سچوں کے پیشوا علی ؑ سے عشق رکھتا ہوں۔(۱۳)
٭٭٭٭٭
حضرت مولانا عبدالرحمن جامیؒ(۱۴۱۴۔۱۴۹۲ء)
آپ بھی ایک عارف باللہ کی شہرت رکھتے ہیں۔ نعت گوئی میں اللہ نے آپ کو شرف قبولیت اور حسن شہرت عطا فرمایا ہے۔ آئمہ اہل بیتؑ کی مدح میں آپ کے بہت سے اشعار ہیں۔ امام علیؑ کے حضور آپ کی معرکۃ الآرا منقبت سے چند شعر پیش خدمت ہیں:
علیؑ شاہِ حیدر اماماً کبیراً
بجنگ اُحد چون نبیؐ ماند تنہا
بہ بد خواہ اولاد حیدرؑ خدا گفت
زتو نیست پوشیدہ احوال جامیؔ
کہ بعد از نبیؐ شد بشیراً نذیراً
خدائش فرستادہ ناد علیؑ را
کہ َ یَدْعُوْا ثُبُوْرًا وَّیَصْلٰی سَعِیْرًا
کہ ہستی بمعنیٰ سمیعاً بصیراً
ترجمہ:علی ؑ شاہ حیدر امام کبیر ہیں کہ جو نبی کے بعد بشیر و نذیر کی منزلت پر فائز ہوئے۔جنگ احد میں جب نبی کریمؐ تنہا رہ گئے تو آپؐ کے خدا نے ’’ناد علی‘‘ کو نازل کیا۔اولاد حیدرؑ کے بدخواہ دشمن سے کہہ دے کہ عنقریب وہ موت مانگے گا اور آگ میں داخل کیا جائے گا۔اے علی! تجھ سے جامی کے احوال پوشیدہ نہیں ہیں کہ تو صحیح معنی میں سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔(۱۴)
٭٭٭٭٭
حضرت سلطان باھوؒ(۱۰۳۹۔۱۱۰۲ھ)
حضرت سلطان باھوؒ سروری قادری سلسلے کے بانی ہیں اور بلند مرتبہ عارف کی شہرت رکھتے ہیں۔ نسب کے لحاظ سے آپ قطب شاہی اعوان ہیں جو حضرت عباس ابن علی علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ اگرچہ آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ اویسی طریقے سے روحانی مقام تک جا پہنچے لیکن اپنی والدہ کی تاکید کی بنا پر آپ نے قادری سلسلے کے ایک بزرگ سے بیعت کی۔آپ کی بہت سی کتب ہیں اور آپ کا زیادہ تر کلام اور نثر فارسی زبان میں ہے تاہم آپ کے سرائیکی کلام نے انتہائی مقبولیت حاصل کی۔ یہ نہایت معنی خیز اور پرتاثیر کلام ہے اور انسان کی باطنی تربیت کے لیے بہت نتیجہ خیز ہے۔اس میں اہل بیت رسالتؑ کی مدح بھی موجود ہے۔ امام حسین ؑکے بارے میں ایک مشہور بند ملاحظہ فرمائیے:
جے کر دین علم وچ ہونداسر نیزے کیوں چڑھدے ہو
اٹھارہ ہزار جو عالم آہا اگے حسین ؑ دے مردے ہو
جے کر بیعت رسولی مندے پانی کیوں بند کردے ہو
صادق دین تنہاں دا باہوجو سر قربانی کردے ہو(۱۵)
٭٭٭٭٭
حضرت احمد رضا خان بریلویؒ (۱۲۷۷۔۱۳۴۰ھ)
حضرت احمد رضا خان بریلویؒ اہل سنت بریلوی کے امام ہیں۔ نعت گوئی میں ان کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ مولا علی علیہ السلام کی منقبت میں ان کے چند شعر ملاحظہ ہوں:
مرتضی شیر خدا مرحب کشا خیبر گشا
سرورا لشکر کشا مشکل گشا امداد کن
ای خدا را تیغ و ای اندام احمد را سپر
یا علی یا بوالحسن یا بوالعلیٰ امداد کن
ای شب ہجرت بہ جای مصطفیٰ بر رخت خواب
ای دم شدت فدای مصطفیٰ امداد کن
ترجمہ: اے علی مرتضیٰ ؑ اے شیر خدا اے مرحب کو قتل کرنے والے اے فاتح خیبر اے سید و سردار اے لشکروں کے فاتح اے مشکل کشا میری مدد کیجیے ۔اے وہ کہ تواللہ کی تلوار ہے اور احمد مجتبیٰؐ کے لیے سپر ہے اے علی ؑ اے ابو الحسن اے ابوالعلیٰ میری مدد کیجیے۔اے وہ کہ جو ہجرت کی رات مصطفی کے بستر پر سو گیا اے وہ کہ جو مصیبت کے وقت مصطفی پر فدا ہو گیا، میری مدد کو پہنچ۔(۱۶)
ایک اور شعر ملاحظہ کیجیے:
کیا با ت ر ضا اس چمنستان کرم کی
زہراؓ ہے کلی جس میں حسینؓ اورحسنؓ پھول(۱۷)
امیرالمومنینؑ کے بارے میں دو شعر اور دیکھیے:
ہجرت کی شب ملا جو تجھے بستر رسولؐ
ایمائے ایزدی کی ادا بھا گئی تجھے
کیا نفس مطمئن تھا کہ ہنس کر کیا قبول
پُر ہول خوابگاہ میں نیند آ گئی تجھے(۱۸)
حضرت سچل سرمستؒ(۱۷۳۹۔۱۸۲۹ء)
حضرت سچل سرمستؒ بزرگ عارف اور ہفت زبان شاعر کی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا کلام عربی ،فارسی ،اردو،سندھی ،سرائیکی وغیرہ میں موجود ہیں۔ اہل بیتؑ رسالت کی محبت میں آپ کو بلند مقام حاصل ہے۔ آپ کی محبت اور سرمستی آپ کے کلام میں بھی جھلکتی ہے ملاحظہ فرمائیں:
سچل سارا نور الٰہی
علیؑ ولی دی ہے ہمراہی
میں ہر دم رب رب کر دی(۱۹)
خواجہ غلام فریدؒ(۱۸۴۵۔۱۹۰۱ء)
خواجہ غلام فریدؒبلند مرتبہ صوفی بزرگ تھے۔ ان کا تعلق چشتی نظامی سلسلے سے ہے۔ کوٹ مٹھن میں آپ کی درگاہ شریف ہے۔ آپ کا شیریں کلام سرائیکی کی مٹھاس لیے ہوئے آج بھی زبان زد خاص و عام ہے۔ اہل بیت ؑ رسالت سے آپ کی دیوانہ وار محبت کسی سے مخفی نہیں ہے۔ نمونۂ کلام دیکھیے:
ہک معنیٰ ہر ہر طرف ڈٹھم
سبھ اعلیٰ اعلیٰ شان ڈٹھم
چو گوٹھ ڈٹھم چودھار ڈٹھم
حسنینؓ تے شاہ مردانؓ ڈٹھم(۲۰)
٭٭٭٭٭
حضرت پیرمہر علی شاہؒ (۱۲۷۵۔۱۳۵۶ھ)
حضرت پیرمہر علی شاہ گیلانیؒ سلسلہ چشتیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے ملتا ہے جو حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے توسط سے امام حسنؑ مجتبیٰ کی اولاد میں سے ہیں۔ اسلام آباد میں گولڑہ میں آپ کا مرقد شریف ہے۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں ان کی ایک منقبت پیش خدمت ہے:
آری آنان کہ غلام حیدر اند
گوی سبقت می برند از ھر کسی
کیست مولای علی مولای کل
از نفوس ماست اولی تر نبی
از دل و جان شان رھین صفدر اند
دارند از مولا علی نصرت بسی
ھکذا قد قالہ خیر الرسل
پس علی را این چنین دان یا اخی
گشت اول از ھمہ نور نبی
بود اقرب تربہ او نور علی
ترجمہ:ہاں وہ کہ جو حیدر کے غلام ہیں اور اسی حیدر صفدر کو جنھوں نے اپنا دل اور جان سپرد کر دیے ہیں ۔گویا وہ ہر کسی پر سبقت لے جاتے ہیں کیونکہ انھیں مولا علی ؑ کی نصرت اورمدد حاصل ہو جاتی ہے۔مولا علی ؑ کون ہیں وہی جو مولائے کل ہیں۔ خیر الرسل محمد مصطفی نے ان کے بارے میں یونہی فرمایا ہے۔نبیؐ ہمارے نفوس سے اولیٰ تر ہیں اور مقدم تر ہیں پس اے بھائی! علی کو بھی ایسا ہی جان ۔ نور نبیؐ سب سے پہلے تھا اور اس کے نزدیک ترین علی ؑ کا نور ہے۔(۲۱)
مولاعلی ؑ کی منقبت میں آپ کا ایک اردو شعر بھی ملاحظہ ہو:
مہر علیؑ ہے حبّ نبیؐ، حبِ نبیؐ ہے مہر علیؑ
’’لحمک لحمی جسمک جسمی‘‘ فرق نہیں مابین پیا(۲۲)
٭٭٭٭٭
علامہ محمد اقبالؒ(۱۸۷۶۔۱۹۳۹ء)
حکیم الامت شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے اہل بیتؑ اطہار کے حضور اس قدر خراج عقیدت پیش کیا ہے کہ بہت سے دانشوروں اور اہل قلم نے اس موضوع پر باقاعدہ کتب تصنیف کی ہیں جن میں موضوع کی مناسبت سے علامہ اقبال کے اشعار جمع کیے گئے ہیں۔ ہم چند ایک اشعار نذرقارئین کرتے ہیں:
مسلم اول شہ مردان علی
از ولای دودمانش زندہ ام
عشق را سرمایۂ ایمان علی
در جھان مثل گھر تابندہ ام
ترجمہ:علی ؑ شاہ مرداں مسلم اول ہیں اور عشق کے لیے علی ؑ سرمایۂ ایمان کی حیثیت رکھتے ہیں۔آپ کی اولاد کی محبت کے طفیل میں زندہ ہوں اور اسی محبت کے طفیل پوری دنیا میں میں گوہر کی طرح چمک رہا ہوں۔(۲۳)
امیرالمومنینؑ کے بارے میں چند مزید شعر دیکھیے:
دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہیؓ(۲۴)
۔٭۔٭۔
تری خاک میں ہے اگر شرر تو خیال فقر و غنا نہ کر
کہ جہاں میں نانِ شعیر پر ہے مدارِ قوت حیدری (۲۵)
۔٭۔٭۔
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانشِ فرنگ
سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف(۲۶)
٭٭٭٭٭
حضرت خواجہ محمد یارفریدیؒ(۱۸۸۱۔۱۹۴۸ء)
خواجہ محمد یار فریدیؒ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے شاگردوں میں سے ہیں۔اپنے مرشد کے بعد ان کے خلفا سے بھی کسب فیض کرتے رہے۔صاحب کرامت بزرگوں میں آپ کا شمار ہوتا ہے۔
اہل بیتؑ رسالت کے ساتھ آپ کی والہانہ محبت کا غماز آپ کا کلام ہے جس کا ایک نمونہ پیش خدمت ہے۔
حقیقت محمدؐ دی پا کوئی نئیں سگدا
اتھاں چُپ دی جا اے اَلا کوئی نئیں سگدا
علیؑ شیر حق پیر مشکل کشا دے
سوا جامِ کوثر پلا کوئی نئیں سگدا
ز آغاز و انجام پاک است یارمؔ
زبان ڈلدی ہے حق اَلا کوئی نئیں سگدا(۲۷)
٭٭٭٭٭
حضرت امام علی شاہ بخاریؒ (۱۹۷۷ء)
آپ کا نسبی تعلق نقوی بخاری سادات سے ہے۔ آپ حضرت پیر سید زمان علی شاہؒ کے توسط سے نوشاہی سلسلے سے بیعت ہیں۔ جھگیاں امام علی شاہ محمود بوٹی بند روڈ لاہور میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔ آئمہ اہل بیت ؑکے حضور آپ کی کئی منقبتیں شہرت رکھتی ہیں ۔
امیرالمومنینؑ کی مدح میں آپ کا ایک بے ساختہ قصیدہ پیش خدمت ہے:
علیؑ مولیٰ الموالی ہے
یہ وجہ اللہ نرالی ہے
علیؑ نور الھدیٰ جانو
علیٌّ لایزالی ہے
یہ رُؤیت حق تعالی ہے
علیؑ نور و ضیا جانو
علیؑ مالک کلاماں دا
علیؑ مولا غلاماں دا
اوہ حکم ارض و سما جانو
علیؑ والی ولایت دا
علیؑ منبع عنایت دا
علیؑ بابُ العُلیٰ جانو
علیؑ سلماں بچایا ہے
علیؑ کلمہ پڑھایا ہے
علیؑ کَہفُ الوریٰ جانو
علیؑ طیّب و طاہر ہے
علیؑ اصل مظاہر ہے
علیؑ عقدہ کشا جانو
علیؑ باب المدینہ ہے
علیؑ وحدت دا زینہ ہے
علیؑ کانِ سخا جانو
علیؑ عین الکمالی ہے
جلالی ہے جمالی ہے
علیؑ مشکل کشا جانو
یہ صورت بے مثالی ہے
یہی وصل وصالی ہے
علیؑ مشکل کشا جانو
علیؑ صاحب اماماں دا
علیؑ حاکم نظاماں دا
علیؑ مشکل کشا جانو
علیؑ ھادی ہدایت دا
علیؑ مخزن نہایت دا
علیؑ مشکل کشا جانو
علیؑ غنچہ کھلایا ہے
علیؑ رستے چلایا ہے
علیؑ مشکل کشا جانو
علیؑ باطن و ظاہر ہے
اوہ سب علماں دا ماہر ہے
علیؑ مشکل کشا جانو
علیؑ مخزن خزینہ ہے
علیؑ افضل قرینہ ہے
علیؑ مشکل کشا جانو
علیؑ گنج معانی ہے
علیؑ ناطق قرآنی ہے
علیؑ کا ماجرا جانو
علیؑ ھادی مدلّل ہے
علیؑ کامل مکمّل ہے
علیؑ بدرالدجیٰ جانو
علیؑ کامل کفیلہ ہے
علیؑ صورت جمیلہ ہے
علیؑ شمس الضحیٰ جانو
علیؑ گوہر فشانی ہے
علیؑ افضل بیانی ہے
علیؑ مشکل کشا جانو
علیؑ داسب تجمّل ہے
علیؑ سورت مزمّل ہے
علیؑ مشکل کشا جانو
علیؑ سوہنا وسیلہ ہے
علیؑ سیرت جلیلہ ہے
علیؑ مشکل کشا جانو
٭٭٭٭٭
واصف علی واصفؒ(۱۹۲۹۔۱۹۹۳ء)
آپ استاد،لکھاری، شاعر اور بہت کچھ تھے لیکن عرفان و تصوف میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو شہرت اور محبوبیت سے نوازا۔ اہل بیتؑ رسالت اور خاص طور پر مولا علی ؑ سے آپ کی محبت عشق و وارفتگی کی عمدہ مثال ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
یا علیؑ وِرد کی پکار ہوں میں
جن کی ٹھوکر سے جام بھرتے ہیں
ہوش رکھتا ہوں مست وار ہوں میں
پائے ساقی پہ اشکبار ہوں میں(۲۸)
۔٭۔٭۔
بتا سکوں گا کہاں میں قلندری کیا ہے
نگاہِ شوق سے پوچھو کہ دلبری کیا ہے
علیؑ کا رند ہوں کہنے کی بات ہے اتنی
جہان راز ہے میخانہ حیدری کیا ہے(۲۹)
۔٭۔٭۔
علیؑ سے اولیاء کی زندگی ہے
علیؑ کی ذات ہی روح رواں ہے
علیؑ کی یاد ہے واصفؔ علی کو
علیؑ خود اس زمیں کا آسماں ہے!(۳۰)
٭٭٭٭٭
حضرت نصیرالدین نصیرؒ گولڑوی(۱۹۴۹۔۲۰۰۹ء)
آپ سلسلہ چشتیہ کے معروف صوفی بزرگ حضرت پیر مہر علی شاہؒ کی اولاد میں سے ہیں۔ شعر و سخن میں آپ کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ مدح اہل بیتؑ میں آپ کو اللہ نے بہت شہرت عطا فرمائی۔ مولا علی علیہ السلام کی منقبت میں چند ایک اشعار پیش خدمت ہیں:
فقر است ھمہ لطف و عطای حیدر
مارا نبود باک زھول محشر
در مصحف حق آیت دین است علی
گوید چہ نصیر از علو قدرش
شاھنشا ھیست زیر پای حیدر
داریم بدل نقش ولای حیدر
بر چرخ عطا مھر مبین است علی
در بزم ولا صدر نشین است علی
ترجمہ:فقر سارے کا سارا حیدر کا لطف و عطا ہے۔ بادشاہی حیدر کے قدموں کے نیچے ہے۔ ہمیں ہول محشر کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ ہمارے دل پر حیدر کرار ؑ کا نقش کندہ ہے۔مصحف حق میں دین کی آیت علی ؑ ہیں اور آسمان عطا پر چمکتے ہوئے سورج علی ؑ ہیں۔نصیر آپ کی عظمت کا کیا بیان کرے کہ ولایت کی محفل کے صدر نشین علی ؑ ہیں(۳۱)
امیرالمومنینؑ کے بارے میں پیر نصیرالدین نصیرؒ کا ایک اردو شعر ملاحظہ کیجیے:
جن کے چہرے پر نظر کرنا عبادت ہے نصیرؔ
وہ حدیثِ مصطفیٰؐ کی رو سے ہیں مولا علیؑ(۳۲)

حوالہ جات
۱) ابن عساکر(م۵۷۱ھ) تاریخ مدینۃ دمشق،بیروت،لبنان،دارالفکر، طبع ۱۴۱۵ھ، ج۴۲،ص ۳۷۸ و محمدبن طلحہ شافعی (م ۶۵۲ھ)مطالب السؤول، فی مناقب آل الرسول،ج۱،ص۱۳۰ومتقی ہندی (م۹۷۵ھ)کنزالعمال،بیروت، لبنان، موسسہ الرسالہ، طبع ۱۹۷۹،ج۱۱،ص۶۰۰،ح۲۲۸۸۹
۲) یہ حدیث معتبر ترین کتب میں مختلف الفاظ مگر ایک مفہوم کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ ہم چند ایک کتب کی طرف اشارہ کرتے ہیں:امام احمد ابن حنبل (م۲۴۱ھ) مسند احمد، بیروت، لبنان، دارصادر، ج۳، ص۱۴ و مسلم نیشاپوری(م۲۶۱ھ)صحیح مسلم،بیروت، لبنان، دارالفکر،ج۷،ص۱۲۳و نسائی(م۳۰۳ھ) السنن الکبری،بیروت، لبنان، دارالکتب، العربی، طبع ۱۹۹۱،ج۵،ص۵۱،ح۸۱۷۵وبیہقی(م۴۵۸ھ)السنن الکبری،بیروت، لبنان، دارالفکر، ج۲،ص۱۴۸
۳) طبرانی(م۳۶۰ھ)المعجم الکبیر، بیروت، لبنان، داراحیاء التراث العربی، طبع دوئم، ج۱۱،ص ۵۵و حاکم نیشا پوری(م۴۰۵ھ)المستدرک،بیروت، لبنان، دارالمعرفۃ، ج ۳،ص ۱۲۶و مناوی (م۱۰۳۱ھ) فیض القدیر،بیروت، لبنان ، دارالکتب العربی، طبع ۱۹۹۴،ص ۶۰
۴) حضرت علی بن عثمان ہجویری کی کشف المحجوب کا ایک ترجمہ علامہ فضل الدین گوہر نے کیا ہے جو ہمارے پیش نظر ہے نثری عبارت کا ترجمہ ہم نے انہی سے نقل کیا ہے۔ اسے ضیاء القرآن پبلیشکشنز لاہور نے شائع کیا ہے۔ (جنوری 1986ء) دیکھیے صفحہ 146تا148جبکہ اشعار کا ترجمہ ہم نے خود کیا ہے کیونکہ علامہ صاحب نے صرف تین اشعار کا ترجمہ دیا ہے۔ ہمارے خیال میں انھیں ان تمام اشعار کا ترجمہ دینا چاہیے تھا جو حضرت علی الہجویریؒ نے نقل فرمائے ہیںجن کی تعداد 17ہے جبکہ اصل قصیدہ 27اشعار پر مشتمل ہے۔فرزدق(۳۸۔۱۱۰ھ) کا یہ قصیدہ اہل بیتؑ رسالت کی عظمت و بزرگی کے حوالے سے ایک بڑی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ہماری بنا چونکہ انتخاب و اختصار پر ہے اس لیے ہم نے
فقط 6اشعار کا انتخاب کیا ہے۔ اصل فارسی کتاب کے کئی متن اس وقت گوگل (Google)پر دیکھے جاسکتے ہیں۔
۵) نوائے صوفیہ، ص ۱۳۱۔۱۲۸۔ ۶) مثنوی میرنگ، نولکشور لکھنو، ۱۸۹۰ء، صفحہ ۷۔
۷) ڈاکٹر مخدوم محمد حسین: حضرت علی: احوال ، کلام، ان کی مدح، صفحہ ۱۰۶
۸) ایضاً، صفحہ ۱۲۳ ۹) برآستانۂ مولا علی، ص ۱۸۱۔۱۷۷، نوائے صوفیہ، ص ۷۹۔۷۴۔
۱۰) دیوان صابر۔ نولکشور کانپور ۱۸۹۷ء صفحہ ۴۰، نوائے صوفیہ، صفحہ ۱۵۱۔۱۵۰
۱۱) برآستانۂ مولا علی، صفحہ ۱۰۲۔۹۸، نوائے صوفیہ، صفحہ ۱۲۷۔۱۲۴۔
۱۲) آئینہ تصوف، صفحہ ۳۳۔۳۴، برآستانہ مولا علی، ۱۵۸۔۱۵۷
۱۳) آئینہ تصوف، صفحہ ۳۴، برآستانہ مولا علی، ص ۱۵۵۔۱۵۴
۱۴) حضرت علی: احوال ، کلام، ان کی مدح، صفحہ ۱۳۳و۱۳۴
۱۵) حضرت سلطان باہوؒ: ابیات باہو، سلطان باہو پبلیشرز اردو بازار، لاہور
۱۶) حدائق بخشش، صفحہ ۲۲۷۔۲۲۵ ۱۷) حضرت علی: احوال ، کلام، ان کی مدح، صفحہ ۱۵۸
۱۸) ایضاً، صفحہ ۱۵۹ ۱۹) ایضاً، صفحہ ۱۴۶ ۲۰) ایضاً، صفحہ ۱۴۹
۲۱) مرآہ العرفان، صفحہ ۱۱۔۱۰ ۲۲) حضرت علی: احوال ، کلام، ان کی مدح، صفحہ ۱۴۵
۲۳) کلیات اقبال ، شیخ غلام علی اینڈ سنزلاہور، صفحہ ۴۷
۲۴) کلید کلیات اقبال، اردو (لاہور،ادارہ اہل قلم ،دسمبر۲۰۰۵)، صفحہ ۳۸۶
۲۵) ایضاً، صفحہ ۲۸۰ ۲۶) ایضاً، صفحہ ۳۷۳ ۲۷) حضرت علی: احوال ، کلام، ان کی مدح، صفحہ ۱۵۷
۲۸) ایضاً، صفحہ ۱۹۲ ۲۹) ایضاً، صفحہ ۱۹۴ ۳۰) ایضاً، صفحہ ۲۱۴
۳۱) آغوش حیرت، صفحہ ۱۳۴ بحوالہ مناقب حضرت علیؑ از ڈاکٹر محمد سرفراز ظفر صفحہ ۳۰۶
۳۲) حضرت علی: احوال ، کلام، ان کی مدح، صفحہ ۲۸۹
٭٭٭٭٭