Skip to content

قراردادی مسلمان اور جہادی مسلمان

تحریر: ثاقب اکبر

ویسے تو آج کے مضمون کو تفصیل کی ضرورت نہیں، سرخی میں جو اجمال آگیا ہے، وہی ساری داستان کہنے کو کافی ہے۔ بہرحال اس سے دل کو تشفی نہیں ہوتی، لہٰذا کچھ تو کہنا ہے۔ تو آئیے سابق اسرائیلی وزیراعظم گولڈا مئیر کی ایک بات سے آغاز کلام کرتے ہیں۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ ان کی زندگی کا سب سے برا اور خوشگوار دن وہ تھا، جب انھوں نے مسجد اقصیٰ کو آگ میں جلتے دیکھا۔

دوسری کرونائی عید الفطر

تحریر: ثاقب اکبر

اب کے پھر عیدالفطر کرونا کی وبا کے دوران میں آرہی ہے۔ کرونا کی موجودہ لہر کو انتہائی موذی قرار دیا جا رہا ہے۔ اپنے ہمسایہ ملک بھارت کی طرف دیکھیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے، جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چار ہزار سے زیادہ افراد ہر روز اس وحشت آفریں بلا کا شکار ہو رہے ہیں۔ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق یہ تعداد تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔ پاکستان میں سرکاری بیانات کے مطابق کرونا سے لقمہء اجل بننے والے افراد کی تعداد ہر روز ڈیڑھ سو سے کم اور ایک سو سے زیادہ ہے۔

کیا ویکسین لگوانے والے دو سال میں مر جائیں گے؟

میرا یہ آرٹیکل کرونا ویکسین کے بارے ایک الگ نظریہ سے متعلق ہے، تاہم میں کہنا چاہوں گا کہ اس آرٹیکل کو فقط اپنی معلومات میں اضافے کے لیے مطالعہ کریں اور مزید تحقیقات کریں یا اپنے ڈاکٹر سے اس سلسلے میں رائے لیں اور اسی کی رائے پر عمل کریں۔ گذشتہ دنوں فرانس کے ایک نوبل انعام یافتہ وائرالو جسٹ یعنی وائرس سے پھیلنے والی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر لک مانٹینئیر کی ایک خبر سوشل میڈیا اور پھر پرنٹ میڈیا پر بہت وائرل ہوئی، جس میں لک مانٹینئیر کا کہنا تھا کہ ’’بڑے پیمانے پر ویکسین لگوانا ایک بڑی غلطی ہے، خبر میں کہا گیا کہ وہ لوگ جو اب تک ویکسین لگوا چکے ہیں، وہ اگلے دو برسوں میں مر جائیں گے۔‘‘

نیتن یاہو پر مقدمے اور اسرائیل کا سیاسی عدم استحکام

نیتن یاہو کے خلاف تحقیقات کا آغاز  2016ء میں ہوا۔ نیتن یاہو اور ان کے چند ساتھیوں پر اپنے دور حکومت میں کرپشن کا الزام لگا۔ 2019ء میں رسمی طور پر نیتن یاہو کو کرپشن، رشوت اور اعتماد شکستگی کے جرائم میں ملوث قرار د یا گیا، جس کے نتیجے میں وہ وزارت عظمیٰ کے علاوہ باقی تمام وزارتوں کو چھوڑنے کا پابند ہے۔ نیتن یاہو پر لگنے والے فرد جرم کی تفصیل حسب ذیل ہے:

یوم القدس اور اسلامی مزاحمت کا نقطۂ نظر

تحریر: ثاقب اکبر

عالمی یوم القدس پر اسلامی مزاحمت کے مختلف قائدین کے بیانات یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ایک ہی جذبہ ہے جو حق پرست اور شجاع پیشہ مسلمانوں کے دلوں میں برپا ہے۔ وہ پورے یقین کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل نابودی اور زوال کی طرف بڑھ رہا ہے اور دن بدن کمزور سے کمزور تر ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر بیداری کی ایک لہر موجود ہے۔ یقیناً اس بیداری میں ہر سال برپا کیے جانے والے یوم القدس کا ایک بڑا کردار ہے، جس کی بنیاد حضرت امام خمینیؒ نے رکھی تھی۔ آئیے ذیل میں اسلامی مزاحمت کے چند راہنمائوں کے بیانات پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جو یوم القدس ہی کی مناسبت سے سامنے آئے ہیں:

یوم القدس کے جلوس میں شرکت اور خطاب

اس برس کرونا کی صورتحال کے سبب حکومت نے یوم القدس کے موقع پر کار اور بائیک ریلی کی اجازت دی ۔ مفاد عامہ اور حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہیں ملک بھر میں یوم القدس کے جلوس کا اہتمام کیا گیا ۔ جناب ثاقب اکبر نے آئی ایس او اور مجلس وحدت کے زیر اہتمام منعقدہ ریلی میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

پاک سعودی تعلقات، مقامات آہ و فغاں

تحریر: ثاقب اکبر

پاک سعودی تعلقات کے خوبصورت اور مثبت پہلو تو بیان ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن اس سفر میں کچھ مقامات آہ و فغاں بھی آتے ہیں، ان کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 4 اگست 2020ء کو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو کے موقع پر سعودی عرب کے حوالے سے کہا تھا: ’’میں آج اسی دوست کو کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کے مسلمان اور پاکستانی جو آپ کی سالمیت اور خود مختاری کے لیے لڑ مرنے کے لیے تیار ہیں،

ناموس رسالت کے قانون کے خلاف یورپی پارلیمان کی قرارداد اور ملی یکجہتی کونسل کا ردعمل

تحریر: ثاقب اکبر

یورپی پارلیمان نے 29 اپریل 2021ء کو بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کی ہے، جس میں حکومتِ پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ توہینِ رسالت کے قانون کی دفعات 295بی اور سی کا خاتمہ کرے۔ اس قرارداد میں یورپی کمیشن سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ 2014ء میں پاکستان کو جی ایس پی (جنرلائزڈ سکیم آف پریفرینسیز) پلس کے تحت دی گئی تجارتی رعائتوں پر فی الفور نظرثانی کرے۔ قرارداد میں حکومتِ پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 1997ء کے انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں بھی ترمیم کرے، تاکہ توہین رسالت کے مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں نہ کی جاسکے اور توہین رسالت کے ملزمان کو ضمانتیں مل سکے۔

۳مئی یوم القدس کے عنوان سے کانفرنس

یوم القدس کے عنوان سے فلسطین فاونڈیشن کے زیر اہتمام پریس کلب اسلام آباد میں ایک کانفرنس میں شرکت کی جس میں مسلم لیگ کے مرکزی راہنما صدیق الفاروق ، سید ثاقب اکبر ، مفتی گلزار احمد نعیمی ، عبد اللہ گل اور سید ناصر شیرازی نے خطاب کیا ۔اس موقع پر درج ذیل پریس ریلیز جاری کی گئی :

امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، ایک نگاہ بازگشت

آج 22 مئی 2021ء ہے، امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا آج پچاسواں یوم تاسیس ہے اور آج سے یہ تنظیم پچاسویں برس میں داخل ہوگئی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں اس کا ایک خاص مقام ہے اور معاشرے کی مجموعی حرکت میں ابھی اس کا مقام باقی ہے۔ ملک بھر میں اس کے فعال اور پرجوش کارکن، اس کے ادارے اور اس کے پروگرام اس امر کی حکایت کرتے ہیں کہ تاریخ سازی میں اس تنظیم کا کردار ابھی باقی ہے۔

ماہ اپریل قرآن آئین زندگی ۔۔خصوصی رمضان پروگرام سچ ٹی وی

ان پروگراموں میں اتحاد امت ، روزے کا فلسفہ ، اخلاقیات ، سماجی مسائل ، اولاد کے حقوق ، والدین کے حقوق، شب قدر، جمعۃ الوداع ، اسلامی مواخات ، مسئلہ فلسطین ، مسئلہ کشمیر ، امت مسلمہ کی وحدت  جیسے موضوعات زیر بحث آئے ۔