Skip to content

نبوت ،نبی اور عقل

تلخیص:
جو لو گ عقل کی نفی اور توہین پر عقید ۂ نبوت کی بنا استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں ‘ وہ نبو ت کے کمال آفرینی کے اہم منصب اور حکمت نبوت سے ناآشنائی کا ثبوت فراہم کرتے ہیں ۔ عقل ہی تو انسان کا عظیم مابہ الامتیاز ہے ۔ عقل انسان کو مخلوقات عالم میں ممتاز کرتی ہے ۔ نبوت کی ضرورت کو عقل کی نفی اور کمزوری و نارسائی کی دلیل سے ثابت کرنا عقل کی توہین کے مترادف ہے ۔ ہم قرآن حکیم میں دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بار بار عقل انسانی کو پکارتا ہے ۔ انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے ۔ اندھی تقلید تر ک کرنے کے لیے اسے دلیل کی بنیاد پردعوت دیتا ہے ۔ انسان کو دنیا کے سب رنگوں کو چھوڑ کر فطر ت کا الٰہی رنگ اختیار کرنے کی طر ف ابھارتا ہے ۔ 

نسائیات چند متفرق تحریریں

ہم اپنے اِس مضمون کا آغاز، برصغیر کے مشہور مفسر، مولانا امین احسن اصلاحی کے پیرا گراف سے کرتے ہیں، آپ لکھتے ہیں” آدمی جب تک بیوی سے محروم رہتا ہے وہ کچھ خانہ بدوش سا بنا رہتا ہے۔

 اور اس کی بہت سی صلاحیتیں سکڑی اور دبی ہوئی رہتی ہیں۔ اسی طرح عورت جب تک شوہر سے محروم رہتی ہے اس کی حیثیت بھی اس بیل کی ہوتی ہے جو سہارا نہ ملنے کے باعث پھیلنے اور پھولنے پھلنے سے محروم ہو۔ لیکن جب عورت کو شوہر مل جاتا ہے اور مرد کو بیوی کی رفاقت حاصل ہو جا تی ہے تو دونوں کی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور زندگی کے میدان میں جب وہ دونوں مل کر جدوجہد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی جدو جہد میں برکت دیتا ہے اور ان کے حالات بالکل بدل جاتے ہیں”۔
(تفسیر تدبرِ قرآن، جلد 5، صفحہ 400)

مغرب کے اور ہمارے تصور مذہب میں فرق

مغرب نے عملاً طے کرلیاہے کہ مذہب کا سوسائٹی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے نزدیک مذہب انسان کا پرائیویٹ معاملہ ہے۔ اس کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ آپ عیسائیت‘ یہودیت‘ اسلام یا سکھ مذہب وغیرہ میں سے جو ’’مذہب‘‘ بھی اختیار کرنا چاہیں‘ آزاد ہیں۔

 البتہ آپ کے مذہب کا سوسائٹی‘ گورنمنٹ اور پارلیمنٹ سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔پارلیمنٹ اس سے آزاد رہ کر قانون سازی کرے گی۔ بائیبل کیا کہتی ہے اور قرآن کیا کہتا ہے ریاست کو اس سے کوئی سروکار نہیں۔ یعنی پارلیمنٹ اس لیے شراب کوحرام قرار نہیں دے سکتی کہ قرآن نے اسے نجس اور ’’ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ ‘‘(۶) قرار دیا ہے۔

اسلام ایک ہمہ گیر انسانی تہذیب

اسلامی تہذیب کی بنیاد فطرت اور عقلِ انسانی پر ہے اور یہ کائنات کی فطرت سے ہم آہنگ ہے اور کائنات کی فطرت الٰہی فطرت کا پرتو ہے لہٰذا اس کے خلاف انسان اگر حرکت کرے گا

تو وہ تہذیب اسلامی کے خلاف حرکت ہوگی جوفرد اور معاشرے کے لئے ضرر رساں ہوگی۔ انسان کے کسی بھی عمل اور سوچ کو انسانی معاشرے سے لا تعلق نہیں مانا جاسکتا، اسی طرح انسانی معاشرے کا مجموعی کردار بھی ہر فرد کے لئے تاثیر رکھتا ہے

مفتی امجد عباس

زیدیہ: ایک تعارف

  زیدیہ معروف شیعہ فرقہ ہے جن کا عقیدہ ہے کہ "حضرت علی، امام حسن اور امام حسین اور "زید بن علی" کے بعد امامت کا عہدہ ہر اس فاطمی… 

مفتی امجد عباس

اباضیہ، ایک مختصر تعارف:

اباضیہ کو ہمیشہ "خوارج" کا گروہ کہا گیا ہے، اِس کی بنیادی وجہ اُن کادیگر خارجی رہنماؤں کے ساتھ مل کر اموی حکمرانوں کے خلاف برسرِ پیکار رہنا ہے۔ حافظ… 

مفتی امجد عباس

اسماعیلیہ؛ ایک اجمالی تعارف (1)

اسماعیلی، شیعہ اثنا عشری کے پہلے چھ اماموں کی امامت کے قائل ہیں؛ بعد ازاں وہ امام جعفر صادق کے بعد اُن کے بڑے بیٹے اسماعیل یا اسماعیل کے بیٹے محمد کی امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اِس طرح وہ سات اماموں کی امامت کے قائل ہیں۔ یہ عقیدہ تمام اسماعیلی فرقوں میں مشترک ہے اور اسی لیے اسماعیلیہ کو سبعہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس نام کی ایک وجہ تسمیہ یہ بھی ہے کہ اسماعیلیہ، شیعہ اثنا عشریہ سے ساتویں امام پر اختلاف کرتے ہیں۔درج ذیل تحقیق مقالے میں البصیرہ کے محقق جناب مفتی امجد عباس نے اسماعیلیہ کے عقائد، نظریات، فرقوں ، دیگر مسلمانوں سے اختلافات اور امتیازات، بنی فاطمہ کی مصر میں حکومت اور اسی طرح کے موضوعات کا ایک اجمالی جائزہ پیش کیا ہے ۔مفتی امجد عباس اس سے قبل زیدیہ ، اباضیہ کے حوالے سے بھی ایسے ہی مضامین تحریر کر چکے ہیں ۔ یہ مضامین ان فرقوں کو جاننے کے لیے ایک اہم تعارفی منبع ہیں۔ (ادارہ)

مفتی امجد عباس

اسماعیلیہ ایک مختصر تعارف(2)

اسماعیلیہ بھی دیگر شیعہ مسالک کی طرح امام علیؑ کو امامِ منصوص مانتے ہی وہ شیعہ اثنا عشریہ کے پہلے چھ اماموں کی امت کے قائل ہیں؛ بعدازاں وہ امام جعفر صادقؑ کے بعد ان کے بڑے بیٹے اسماعیل یا اسماعیل کے بیٹے محمد کی امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔اس طرح وہ سات اماموں کی امامت کے قائل ہیں۔ یہ عقیدہ تمام اسماعیلی فرقوں میں مشترک ہے۔ گذشتہ قسط میں جناب مفتی امجد عباس نے اسماعیلیہ کی تاریخ، فرقوں اور ان کے بنیادی اعتقادات کا اجمالی جائزہ پیش کیا تھا۔ زیر نظر مقالے میں معاصر اسماعیلی فرقوں؛ آغا خانیوں اور بوہروں کی آبادی اور ان کے عقائد و نظریات کا اختصار سے جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ آئندہ دروزیہ کے عقائد و نظریات کا جائزہ بھی پیش کیا جائے گا۔ مفتی امجد عباس اس سے قبل زیدیہ، اباضیہ اور نور بخشی فرقہ کے حوالے سے بھی ایسے مضامین تحریر کر چکے ہیں۔ یہ مضامین ان فرقوں کو جاننے کے لیے ایک اہم تعارفی منبع ہیں۔ (ادارہ)

عورتوں کی تعلیم سے متعلق ایک روایت کا جائزہ

سنی و شیعہ مصادر میں اِس مضمون کی ایک روایت وارد ہوئی ہے “لا تنزلوا النساء بالغرف ولا تعلموهن الكتابة” کہ عورتوں کو بالا خانوں میں نہ بیٹھنے دیا کرو اور اُنھیں لکھنا نہ سکھاؤ۔ اِن جملوں کے علاوہ بعض مقامات پر ساتھ یہ بھی ہے کہ اُنھیں “کڑھائی/ کپڑا بننا” سکھاؤ، سورہ نور کی تعلیم دو، سورہ یوسف نہ پڑھاؤ۔ شیعہ کتب میں یہ روایت معمولی سی تبدیلی کے ساتھ نبی کریم اور امام علی سے الکافی اور تہذیب الاحکام میں مذکور ہے جبکہ سُنی کتب میں یہ روایت حضرت عائشہ کی زبانی، نبی کریم سے معجم الاوسط للطبرانی، مستدرکِ حاکم۔۔۔

امریکہ میں جمہوریت کا مستقبل

گذشتہ بدھ 6 جنوری 2021ء کو امریکی پارلیمان کی عمارت پر صدر ٹرمپ کے حامیوں کی چڑھائی نے امریکہ میں جمہوریت کے مستقبل پر بنیادی سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر امریکی وفاق کا مستقبل زیر سوال آگیا ہے۔ امریکہ کے منتخب نمائندوں کے لیے یہ دن بہت خوفناک تھا، جب صدر ٹرمپ کی ترغیب اور تحریک پر ان کے حامی امریکی کانگرس کی عمارت پر چڑھ دوڑے۔ منتخب نمائندگان کے علاوہ میڈیا اراکین اور دیگر مامورین کی دوڑیں لگ گئیں۔ پولیس نے کانگرس کے اراکین کو فرش پر لیٹ جانے کا حکم دیا۔