Skip to content

۹ جون مشترکات کی اہمیت اور ضرورت

سحر ٹی وی کا یہ پروگرام ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ کی میزبانی میں ایک عرصے سے جاری ہے اس پروگرام کی ریکارڈنگ ہادی ٹی وی کے سٹوڈیو میں ہوتی ہے ۔ پروگرام میں جناب ثاقب اکبر نے امت مسلمہ کے مشترکات اور ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور میزبان کے سوالات کے جوابات دئیے ۔ یہ پروگرام سحر ٹی وی پر نشرہوا۔

طالبان کی مسلسل پیش قدمی اور افغانستان کا مستقبل

گذشتہ چند دنوں میں افغانستان میں طالبان نے پے در پے فتوحات حاصل کی ہیں۔ انھوں نے بہت سے چھوٹے بڑے قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ سرکاری فوجیں پسپا ہو رہی ہیں۔ کابل میں ایک تشویش و اضطراب کا عالم ہے۔ برسراقتدار سیاستدان اپنے حامیوں میں اسلحہ تقسیم کر رہے ہیں۔ انھیں کسی بھی وقت توقع ہے کہ طالبان کابل کا محاصرہ کر لیں گے۔ اگرچہ طالبان نے ابھی تک بڑے شہروں میں سے کسی پر قبضہ نہیں کیا، لیکن سرکاری فوجوں کی جو نفسیاتی کیفیت سامنے آرہی ہے، اس کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ وہ کسی بڑی جنگ کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔

اورکزی؛ قومی وحدتِ کونسل کی جانب سے "مسئلہ فلسطین افکار امام خمینی کے تناظر میں” کے عنوان سے عظیم الشان اجتماع

حوزہ/ جامع مسجد کریز ضلع اورکزی میں حضرت امام خمینی رح کی بتیسویں برسی کے حوالے سے قومی وحدتِ کونسل کی طرف سے ‘مسئلہ فلسطین افکار امام خمینی کے تناظر میں’ کے عنوان سے عظیم الشان اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔ جسمیں جید علماء کرام نے خطاب فرمایا اور عوام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

کیا امام خمینیؒ کشمیری تھے؟(2)

امام خمینیؒ کے جد اعلیٰ سید حیدر موسوی کشمیر میں
سید حیدر موسوی 776ھ میں کشمیر کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ ماں باپ دونوں کی طرف سے حسینی سید تھے۔ جس زمانے میں سید حیدر کشمیر پہنچے، اس زمانے میں وہاں سلطان شہاب الدین شاہ میری کی حکومت تھی۔ یاد رہے کہ شاہ میری خاندان 1339ء تا 1561ء کشمیر پر حکمران رہا۔ سلطان شہاب الدین شاہ میری سید حیدر موسوی اور دیگر سادات کا بہت احترام کرتا تھا۔

امام خمینی سے متعلق عاشق امام کی ایک منفرد تالیف

گذشتہ دنوں ایک انوکھی اور اچھوتی کتاب پڑھنے کا موقع ملا، انوکھی اور اچھوتی یوں کہ امام خمینی کے بارے میں لکھی جانے والی اکثر کتب ان کے ثقیل نظریات اور تحریک سے متعلق ہوتی ہیں۔ یہ ہلکی پھلکی کتاب امام کی شخصیت کے بارے تھی۔ کتاب کا نام اس کے مولف نے ’’یادوں کے اجالے (خمین سے بہشت زھراء تک)” تجویز کیا۔ کتاب کے مولف ڈاکٹر راشد عباس نقوی ہیں، جو اس کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:

یکم جون خاندانی منصوبہ بندی اور اس کے اثرات اسلامی نظریاتی کونسل

اس کانفرنس میں دنیا بھر نیز مسلم ممالک میں خاندانی منصوبہ بندی کے اثرات اور حکمت عملی اور جہتوں پر گفتگو کی گئی ۔ جناب ثاقب اکبر نے مصر ، ایران ، انڈونیشیا اور دیگر مسلم ممالک میں آبادی کے کنڑول کے حوالے سے اپنی عرائض پیش کیں ۔ یہ پروگرام اسلامی نظریاتی کونسل کے تحت منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر صاحبزادہ نور الحق قادری نے بھی شرکت کی ۔

قراردادی مسلمان اور جہادی مسلمان

تحریر: ثاقب اکبر

ویسے تو آج کے مضمون کو تفصیل کی ضرورت نہیں، سرخی میں جو اجمال آگیا ہے، وہی ساری داستان کہنے کو کافی ہے۔ بہرحال اس سے دل کو تشفی نہیں ہوتی، لہٰذا کچھ تو کہنا ہے۔ تو آئیے سابق اسرائیلی وزیراعظم گولڈا مئیر کی ایک بات سے آغاز کلام کرتے ہیں۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ ان کی زندگی کا سب سے برا اور خوشگوار دن وہ تھا، جب انھوں نے مسجد اقصیٰ کو آگ میں جلتے دیکھا۔

دوسری کرونائی عید الفطر

تحریر: ثاقب اکبر

اب کے پھر عیدالفطر کرونا کی وبا کے دوران میں آرہی ہے۔ کرونا کی موجودہ لہر کو انتہائی موذی قرار دیا جا رہا ہے۔ اپنے ہمسایہ ملک بھارت کی طرف دیکھیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے، جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چار ہزار سے زیادہ افراد ہر روز اس وحشت آفریں بلا کا شکار ہو رہے ہیں۔ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق یہ تعداد تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔ پاکستان میں سرکاری بیانات کے مطابق کرونا سے لقمہء اجل بننے والے افراد کی تعداد ہر روز ڈیڑھ سو سے کم اور ایک سو سے زیادہ ہے۔

کیا ویکسین لگوانے والے دو سال میں مر جائیں گے؟

میرا یہ آرٹیکل کرونا ویکسین کے بارے ایک الگ نظریہ سے متعلق ہے، تاہم میں کہنا چاہوں گا کہ اس آرٹیکل کو فقط اپنی معلومات میں اضافے کے لیے مطالعہ کریں اور مزید تحقیقات کریں یا اپنے ڈاکٹر سے اس سلسلے میں رائے لیں اور اسی کی رائے پر عمل کریں۔ گذشتہ دنوں فرانس کے ایک نوبل انعام یافتہ وائرالو جسٹ یعنی وائرس سے پھیلنے والی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر لک مانٹینئیر کی ایک خبر سوشل میڈیا اور پھر پرنٹ میڈیا پر بہت وائرل ہوئی، جس میں لک مانٹینئیر کا کہنا تھا کہ ’’بڑے پیمانے پر ویکسین لگوانا ایک بڑی غلطی ہے، خبر میں کہا گیا کہ وہ لوگ جو اب تک ویکسین لگوا چکے ہیں، وہ اگلے دو برسوں میں مر جائیں گے۔‘‘

نیتن یاہو پر مقدمے اور اسرائیل کا سیاسی عدم استحکام

نیتن یاہو کے خلاف تحقیقات کا آغاز  2016ء میں ہوا۔ نیتن یاہو اور ان کے چند ساتھیوں پر اپنے دور حکومت میں کرپشن کا الزام لگا۔ 2019ء میں رسمی طور پر نیتن یاہو کو کرپشن، رشوت اور اعتماد شکستگی کے جرائم میں ملوث قرار د یا گیا، جس کے نتیجے میں وہ وزارت عظمیٰ کے علاوہ باقی تمام وزارتوں کو چھوڑنے کا پابند ہے۔ نیتن یاہو پر لگنے والے فرد جرم کی تفصیل حسب ذیل ہے:

یوم القدس اور اسلامی مزاحمت کا نقطۂ نظر

تحریر: ثاقب اکبر

عالمی یوم القدس پر اسلامی مزاحمت کے مختلف قائدین کے بیانات یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ایک ہی جذبہ ہے جو حق پرست اور شجاع پیشہ مسلمانوں کے دلوں میں برپا ہے۔ وہ پورے یقین کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل نابودی اور زوال کی طرف بڑھ رہا ہے اور دن بدن کمزور سے کمزور تر ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر بیداری کی ایک لہر موجود ہے۔ یقیناً اس بیداری میں ہر سال برپا کیے جانے والے یوم القدس کا ایک بڑا کردار ہے، جس کی بنیاد حضرت امام خمینیؒ نے رکھی تھی۔ آئیے ذیل میں اسلامی مزاحمت کے چند راہنمائوں کے بیانات پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جو یوم القدس ہی کی مناسبت سے سامنے آئے ہیں: