Skip to content

امریکہ پر حاکم نظام اور مظلوم امریکی عوام(2)

امریکہ پر حکمران نظام سفید فام امریکیوں کو یہ تاثر دینے میں کامیاب رہا ہے کہ ملک میں ان کے خصوصی حقوق ہیں اور انھیں خصوصی مراعات حاصل ہیں۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ملک کی بڑی آبادی کی ہمدردیاں ریاست اور اس کے نظام کے ساتھ وابستہ رکھی جائیں۔ اس کی مثال بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمت عملی سے دی جاسکتی ہے، جو بڑی ہندو آبادی کو یہ تاثر دیتی ہے کہ حکومت ان کے حقوق کی محافظ ہے اور وہی بھارت کے حقیقی باشندے اور حکمران ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ہی ایسا نہیں کرتی، ماضی میں بھی حکومتیں یہی کچھ کرتی رہی ہیں۔

عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کی خبریں

عراقی اور امریکی حکام نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ رواں برس کے اختتام تک عراق سے امریکی زمینی دستوں کی واپسی پر دونوں حکومتوں کے مابین اتفاق رائے ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ اس طرح کے اعلانات گذشتہ برس سے جاری ہیں۔ 2020ء میں اعلان کیا گیا تھا کہ امریکا ستمبر 2020ء تک اپنے 2500 سو فوجیوں میں سے 2200 فوجیوں کو واپس بلا لے گا، تاہم ایک برس گزرنے کے بعد بھی اس اعلان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ 

امریکہ پر حاکم نظام اور مظلوم امریکی عوام(1)

دنیا میں مختلف اداروں کی طرف سے امریکہ پر حاکم نظام کے بارے میں وحشت ناک رپورٹیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ امریکی ریاست جو کچھ امریکہ سے باہر انجام دیتی ہے اور مختلف ممالک یا خطوں میں جو استعماری حربے اختیار کرتی ہے، ان پر بات ہوتی رہتی ہے، البتہ امریکی عوام پر یہ نظام جو ظلم ڈھاتا ہے، اس پر بات کم ہوتی ہے۔

پیر فضل شاہ ایک عہد ساز شخصیت

پیر فضل شاہ 1877ء کے لگ بھگ موضع ملیار ضلع جہلم میں پیدا ہوئے۔ کچھ عرصہ سکول میں پڑھتے رہے، پھر مولانا سید غلام حسین شاہ شیرازی آف کوٹلہ ضلع جہلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کرڑ کے مومنین کی استدعا پر ملیار سے ترک سکونت کرکے موضع کرڑ ضلع خوشاب چلے گئے اور تمام تر توجہ تبلیغ دین کی جانب مبذول کر دی۔ آپ کا زیادہ تر وقت عبادت الہیٰ اور خلق خدا کی خدمت میں گزرتا۔ 1913ء میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ آپ نے اپنے زیر اثر افراد کے بچوں کو دینی تعلیم کے لیے مدارس میں بھجوایا نیز ضلع سرگودھا میں کئی ایک مدارس کی بنیاد رکھی۔ آپ کی ہی تشویق پر دارالعلوم محمدیہ قائم ہوا۔ اسی طرح خوشاب اور بھلوال کے مدارس بھی آپ ہی کی تشویق پر قائم کیے گئے۔

کامیابیاں طالبان کا امتحان بھی ہیں

دنیا بھر کے نشریاتی ادارے طالبان کی مسلسل اور تیز رفتار کامیابیوں کی خبریں دے رہے ہیں۔ اس مرتبہ طالبان کی عسکری پیش رفت اعلیٰ منصوبہ بندی اور فوجی ذہانت کی بھی عکاس ہے۔ اگر یہ منصوبہ بندی خود طالبان کمانڈروں نے کی ہے تو یہ انتہائی حیران کن بھی ہے۔ اس سلسلے میں یہ نکات بہت اہم ہیں:

کیا امریکہ افغانستان سے خالی ہاتھ نکل رہا ہے؟(2)

گذشتہ قسط میں ہم اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ افغان جنگ جہاں عالمی طاقتوں  کے مابین بین الاقوامی سیاست اور مفادات کی جنگ ہے، وہیں خطے کے ممالک کے لیے یہ اپنے مفادات اور ملکی سالمیت کے تحفط کی جنگ بھی ہے۔ بیس برس افغانستان میں قیام کے بعد امریکا اور نیٹو فورسز نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ گیارہ ستمبر 2021ء کو افغانستان سے چلے جائیں گے۔ ابھی گیارہ ستمبر دور ہے اور امریکی فوجی اپنے اڈے چھوڑ کر رات کی تاریکی میں غائب ہو رہے ہیں۔

انسانی حقوق اور امریکہ کا حقیقی چہرہ

دنیا میں انسانی حقوق کا سب سے بڑا علم بردار امریکہ ہے اور دنیا میں انسانی حقوق کو سب سے زیادہ پامال کرنے والا بھی امریکہ ہی ہے۔ دنیا میں انسانوں کا سب سے زیادہ قتل عام امریکہ ہی نے کیا ہے۔ انسانوں کے قتل عام کے لیے وحشت آفریں ہتھیار امریکہ نے ہی بنائے ہیں اور امریکہ ہی نے بیچے ہیں۔ امریکی معیشت کا سب سے زیادہ انحصار ہتھیاروں کی فروخت پر ہی ہے۔

پاکستان کی پارلیمان میں آزاد روح کا خطاب

30 جون 2021ء کو اسلام آباد میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان خطاب کر رہے تھے۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پارلیمان میں قائداعظم کی آزاد روح کی آواز گونج رہی ہے۔ خود عمران خان نے قائداعظم کا ذکر ان الفاظ میں کیا: "قائداعظم غلام ہندوستان میں ایک آزاد انسان تھے۔” پاکستان کی تشکیل کا پس منظر اور اس سلسلے میں پاکستان کے بانیوں کا ویژن بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا:

داعش کی ماں کب تک خیر منائے گی؟

افغانستان کے بعد امریکا کو عراق سے بھی اپنے پر پرزے سمیٹنے ہوں گے، امریکہ نے عراق سے اپنی واپسی کے پروانے پر دستخط اس روز کیے جب اس نے عراقی سرزمین پر عراقی رضاکار فورس کے کمانڈر ابو مہدی المہندس اور القدس بریگیڈ کے  معروف سربراہ جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ کیا۔ یہ جنوری 2020ء کی بات ہے۔ الحشد الشعبی نے ایک برس انتظار کیا کہ امریکا ہماری سرزمین کو قانونی انداز سے چھوڑ جائے۔ پارلیمان کی قراردادوں، سیاسی شخصیات کے بیانات کے باوجود امریکہ ٹس سے مس نہ ہوا۔

ایف اے ٹی ایف، آئی ایم ایف قوموں کیلئے شکنجہ

ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کی جانب سے 27 میں سے 26 مطالبات پر عمل درآمد، قانون سازی اور اقدامات کے باوجود پاکستان کو مزید ایک برس کے لیے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھے جانے پر اتفاق ہوا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں پاکستان سے مزید سات مطالبات بھی کیے گئے ہیں، جو کہ منی لانڈرنگ پر مزید سخت اقدامات لینے سے متعلق ہیں، پاکستان نے ان سات مطالبات پر ایک سال میں عمل درآمد کرنا ہے۔

عمران خان کا امریکا کو جرات مندانہ جواب

پس منظر اور پیش منظر:
دنیا بھر میں ایک امریکی ٹی وی چینل ایچ بی او کے پروگرام ’’ایکزیوس‘‘ کے میزبان صحافی جوناتھن سوان کے ساتھ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے انٹرویو کی دھوم ابھی باقی تھی اور عمران خان کا  جملہ ’’Absolutely not‘‘ ہرگز نہیں، دل و دماغ پر دستک دے رہا تھا کہ ایسے میں ان کا ایک اہم مضمون واشنگٹن پوسٹ میں سامنے آیا، جس میں رہا سہا پردہ بھی چاک کر دیا گیا اور امریکہ کو فوجی اڈوں کی نئی فرمائش پر صاف انکار کی وجوہات خود وزیراعظم کی طرف سے سامنے آگئیں۔