Skip to content

انصاراللہ کی تکفیر اور پیغام پاکستان پر دستخط

تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس نقوی

تاریخِ اسلام اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی دینِ مبین کے عالمگیر اصولوں کو ذاتی مفادات، حکمرانوں کی خوشنودی اور سیاسی اقتدار کی بقا کے لیے استعمال کیا گیا، تو سب سے بڑا نقصان خود امتِ مسلمہ کے اتحاد اور اخلاقی وقار کو پہنچا۔ قرآنِ مجید نے جہاں مؤمنین کو سچائی اور حق گوئی کا درس دیا ہے، وہاں باطل کے سامنے سرنگوں ہونے والے اور دین کا سودا کرنے والے درباری رویوں پر سخت ترین تنقید کی ہے۔ منافقت کا یہ رویہ کسی ایک دور تک محدود نہیں، بلکہ جب بھی مذہب کو اقتدار کے ایوانوں میں تسلط قائم رکھنے یا مظلوم کی آواز دبانے کا ذریعہ بنایا جاتا ہے، منافقت کا یہ چہرہ نئی شکلوں میں نمودار ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید میں منافقین کے اسی المناک اور ذلت آمیز انجام کو بیان کرتے ہوئے ارشادِ باری تعالیٰ ہوتا ہے: "إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا” (النساء: 145) "منافقین تو یقیناً جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے اور آپ کسی کو ان کا مددگار نہیں پائیں گے۔”

یہ آیتِ مبارکہ ان نام نہاد، مفاد پرست اور تاجرانِ دین کے رویئے پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے، جنھوں نے اسلام، مذہب اور تقدیسِ حرمین جیسے مقدس مفاہیم کو اپنے ذاتی مفادات، چندوں، ریالوں اور ڈالروں کو حلال کرنے کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک یہی تاجرانِ دین گلے پھاڑ پھاڑ کر تقدیسِ حرمین اور دفاعِ حجاز کے نعرے لگا رہے تھے۔ دعوے کیے جا رہے تھے کہ ہم حجازِ مقدس کی حفاظت کے لیے کٹ مرنے کو تیار ہیں اور حرمین شریفین کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ پھوڑ دیں گے اور ہر ناپاک ہاتھ توڑ ڈالیں گے۔ یہ لوگ قبلہ اول کی آزادی فلسطینی عوام پر ہونے والے مظالم پر یوں چپ سادھ لیتے ہیں، جیسے یہ مقام مقدسات اسلام میں سے ہے ہی نہیں اور اہل غزہ جیسے غیر مسلم ہوں، جبکہ حرمین کی حرمت کی قسمیں کھانے والے اہل غزہ کی حمایت میں اسرائیل پر حملے کرنے والے باوفا عشاق رسولؐ انصاراللہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔

سعودی حکومت انصاراللہ کی جانب سے مکہ مکرمہ یا خانہ کعبہ پر ڈرون حملے کا کوئی ایک ثبوت پیش نہ کرسکی اور نہ ہی امریکی سیٹلائٹ تصاویر سے ایسی کسی کارروائی کی تصدیق ہوئی۔ حقیقت میں یہ محض انصاراللہ یمن اور غیور یمنیوں کو بدنام کرنے کے لیے رچایا گیا ایک "فالس فلیگ آپریشن” تھا۔ اس کے باوجود، صرف اپنے مشرقی و مغربی آقاؤں سے ملنے والے ریالوں اور ڈالروں کو حلال کرنے کی خاطر، طوافِ کعبہ کی ویڈیوز اور جذباتی بیانات کے ذریعے عوام کے جذبات سے کھیلا جاتا رہا۔ لیکن جب سعودی عرب کے "نیشنل ڈے” کے موقع پر ایسی نازیبا ویڈیوز سامنے آئیں، جنھیں دیکھ کر کسی بھی غیرت مند مسلمان کا سر شرم سے جھک جائے، تو ان تمام نعرے بازوں کو سانپ سونگھ گیا۔ سرزمینِ مقدس پر برپا کی جانے والی بے حیائی، فحاشی اور بے شرمی پر ان کے منہ سے مذمت کا ایک لفظ تک نہ نکلا۔ اگر یہی کچھ کسی اور جگہ ہوا ہوتا تو یہی معتقدین فتویٰ سازی کی فیکٹریاں کھول بیٹھتے، لیکن یہاں ان کا ضمیر اور نام نہاد غیرت بالکل مفلوج ہوگئی۔

اس پوری صورتحال میں درباری ملاؤں اور مفاد پرست ٹولے جیسے کردار سرِفہرست نظر آتے ہیں، جنھیں عوام میں "ریال اور ڈالر خور مافیا” کے روپ میں جانا جاتا ہے۔ جن کے ساتھ مذہب کے نام پر بھتہ خوری، فتووں کی تجارت اور اخلاقی بے راہ روی کی داستانیں منسوب رہی ہیں، وہ آج ان یمنی مسلمانوں کے ایمان کا فیصلہ سنانے نکلے ہیں، جو دنیا بھر میں سچے عاشقِ رسولؐ اور غیرتِ ایمانی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کے فتووں اور غیرت کی ضرورت اس وقت کہاں تھی، جب غزہ کی سرزمین پر آگ و خون کا ہولناک کھیل کھیلا جا رہا تھا۔؟ جب فلسطینی بچوں کے جسم چتھڑوں میں بدل رہے تھے اور امریکی و اسرائیلی بمباری مسجدوں، ہسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں کو پیوندِ خاک کر رہی تھی۔؟ اس وقت ان درباری معتقدین کا فتویٰ کہاں دفن تھا۔؟ اس وقت کافر کون تھا اور فتویٰ کس کے خلاف صادر ہوا۔؟ آلِ سعود اور واشنگٹن کے ایوانوں کے چکر لگانے والوں کے منہ سے اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کے خلاف ایک لفظ بھی کیوں نہ نکلا۔؟

آج یہ کھیل روزِ روشن کی طرح عیاں ہوچکا ہے کہ اگر غزہ میں مسلمانوں کا خون بہے تو مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے، یمن کے مظلوم و غیور عاشقِ رسولؐ مزاحمت کریں تو ان پر کفر کا ٹھپہ لگا دیا جاتا ہے اور آلِ سعود و امریکی مفادات کی جی حضوری کر لی جائے تو اسی کو عینِ اسلام قرار دیا جاتا ہے۔ یہ مذہب کے نام پر صادر ہونے والے شرعی فتوے نہیں بلکہ دربارِ اقتدار اور سامراجی طاقتوں کو خوش کرنے کے لئے "حسبِ فرمائش سرٹیفکیٹ” ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مستبد حکمرانوں کو اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کے لیے مذہبی جواز کی ضرورت پڑی ہے، ایسے ہی ریالوں اور ڈالروں پر پلنے والے درباری فتووں نے جنم لیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ باعمل، حق گو اور باضمیر علماء کا احترام ہر مسلک میں واجب ہے، لیکن دین کا لباس اوڑھنے والے ان منافقین اور مفاد پرستوں کا اصل چہرہ اب مکمل طور پر بے نقاب ہوچکا ہے۔ یمن کے غیرت مند اور سچے عاشقانِ رسولؐ کا ایمان کسی درباری فتویٰ کا محتاج ہے اور نہ ہی آلِ سعود کی حقیقی پالیسیاں کسی مصنوعی دفاع سے چھپ سکتی ہیں۔ حق و باطل کے اس واضح معرکے میں تماشائی بنے رہنا منافقت کا ساتھ دینے کے مترادف ہے، کیونکہ تاریخ کبھی ان لوگوں کو معاف نہیں کرتی، جو دین کو اقتدار کی قربان گاہ پر چڑھا کر خاموش رہتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ امتِ مسلمہ جذباتی بلیک میلنگ سے باہر نکلے اور سچے علماء و درباری تاجروں کے درمیان واضح لکیر کھینچے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز