Skip to content

امریکہ اسرائیل جارحیت کا آڈٹ

تحریر: سید اسد عباس

امریکہ بلاشبہ دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور عسکری طاقت ہے، جس کی معیشت کا حجم (خام ملکی پیداوار/جی ڈی پی) 2026ء کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 31.8 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو اسے عالمی معیشت کا سب سے بڑا مرکز بناتا ہے۔ عسکری میدان میں، امریکہ کا دفاعی بجٹ 2026ء میں 1 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے اور اس کے پاس تقریباً 2.1 ملین فعال اور ریزرو فوجی اہلکاروں پر مشتمل جدید ترین اور تکنیکی لحاظ سے برتر فوج موجود ہے۔ اس کی تزویراتی (اسٹریٹجک) طاقت کا اندازہ اس کے گہرے سفارتی اثر و رسوخ، نیٹو (NATO) جیسے بڑے دفاعی اتحادوں کی قیادت، اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور خلائی تحقیق جیسے شعبوں میں اس کی کلیدی بالادستی سے لگایا جا سکتا ہے، جو اسے عالمی سطح پر ایک فیصلہ کن اور سب سے زیادہ بااثر ملک بناتا ہے۔

اسرائیل مشرق وسطیٰ میں ایک نمایاں، جدید اور انتہائی ترقی یافتہ عسکری ملک کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسرائیل نے 2026ء کے لیے اپنا اب تک کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ تقریباً 45.8 بلین ڈالر (143 بلین شیکل) مختص کیا ہے اور اس کی فوج جدید ترین ہتھیاروں، مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹمز (جیسے ایرو اور آئرن ڈوم) سے لیس ہے۔ اس کی تزویراتی (اسٹریٹجک) طاقت کا اندازہ اس کی مقامی دفاعی صنعتوں کے 85 بلین ڈالر سے زائد کے بیک لاگ اور امریکہ سمیت دیگر مغربی طاقتوں کے ساتھ گہرے تزویراتی اور سفارتی تعاون سے لگایا جا سکتا ہے، جو اسے خطے میں غیر معمولی عسکری اور سیاسی برتری فراہم کرتے ہیں۔

2026ء کی رمضان جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کا اجتماعی معاشی اور عسکری خرچ تقریباً 75 سے 100 بلین ڈالر تک رپورٹ کیا گیا ہے، جس میں امریکی پینٹاگون کے مطابق براہ راست جنگی اخراجات 25 بلین ڈالر تک رہے (تاہم غیر سرکاری اندازوں کے مطابق یہ 50 بلین ڈالر تک ہو سکتے ہیں)، جبکہ اسرائیل کو تقریباً 50 بلین ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔ دوسری جانب، ایرانی حکومت اور بین الاقوامی تجزیات کے مطابق اس جنگ میں ایران کو 300 بلین ڈالر سے 1 ٹریلین ڈالر تک کا براہ راست معاشی اور بنیادی ڈھانچے کا نقصان برداشت کرنا پڑا، جس میں تقریباً 3,468 افراد کی  شہادت اور بھاری عسکری ساز و سامان کی تباہی شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ جنگ کا ہدف کیا تھا، کیا فقط ایران کے معاشی ، ریاستی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا؟

امریکی و اسرائیلی قیادت کے مطابق 28 فروری 2026ء کو شروع کی جانے والی جنگ کا ہدف ایران میں حکومت اور نظام کی تبدیلی، ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کرنا، اس کی بحریہ کو ختم کرنا اور ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ کرکے اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا۔ متعدد اہم شخصیات منجملہ سپریم لیڈر ایران، نیشنل سیکورٹی کونسل کے سربراہ، ایران کے وزیر دفاع، پاسداران کے کمانڈر ان چیف، ایرانی دفاعی کونسل کے سیکریٹری جنرل، ایرانی افواج کے چیف آف آرمی اسٹاف، انٹیلجنس کے سربراہان اور بحری فوج کے سربراہ کی الم انگیز شہادتوں کے باوجود نظام قائم رہا، ایران کا میزائل پروگرام فعال رہا، ایرانی بحریہ کا ہرمز پر مکمل تسلط ہے اور ایٹمی پروگرام بھی جاری ہے، جس سے صاف ظاہر ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو پوری طاقت کے استعمال کے باوجود اپنے کلیدی اہداف کے حصول میں ناکامی ہوئی۔

ایران نے جو جوابی حملے کیے اس میں امریکہ کا اربوں ڈالر کا عسکری ساز و سامان تباہ ہوا جس میں جدید ای-3 (E-3 AWACS) ریڈار طیارہ، ایف 15 جہاز، نقل و حمل کے لیے استعمال ہونے والے جہاز، ڈرونزاور تھاڈ (THAAD) میزائل ڈیفنس سسٹمز کے ریڈار شامل ہیں۔ اپنے کلیدی اہداف میں ناکامی، جنگ کے آغاز کے قانونی تقاضوں کو پورا نہ کرنے، غیر ذمہ دارانہ بیانات، ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی کے سبب ٹرمپ اس وقت اندرونی طور پر  شدید سیاسی دباؤ کا شکار ہے جس کے اثرات یقیناً دور رس ہوں گے۔ عالمی سطح پر امریکا کو تنہائی کا سامنا ہے، نیٹو، پوپ واضح طور پر ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کر چکے ہیں، ہرمز کی بندش کے بعد ٹرمپ مدد کے لیے پکارتا رہا مگر اتحادیوں نے ان سنی کردی۔ تزویراتی طور پر امریکی بالادستی، دفاعی نظام، تھاڈ، راڈار سسٹم، جہاز سب  کا سب زیر سوال آچکا ہے۔

ایسے ہی اسرائیل کو معاشی نقصانات کے علاوہ عالمی تنہائی کا سامنا ہے، یورپی ممالک کھل کر اسرائیل پر تنقید کر رہے ہیں، اس کا ناقابل تسخیر ہونے کا تصور، آئرن ڈوم، دفاعی شیلڈ سب شک کی نگاہوں سے دیکھے جارہے ہیں۔ ابراہیم اکارڈ، غزہ امن فورس کے ڈرامے فلاپ ہوگئے ہیں۔ وہ جنہوں نے ان کی دفاعی صلاحیتوں پر انحصار کیا اور اپنی سرزمین دوسرے ممالک کی خودمختاری اور سالمیت کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دی یا اس پر تجاہل عارفانہ برتاؤ، اب ڈالر کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اوپیک، اوپیک پلس سے نکل کر زیادہ تیل و گیس کے اخراج کی فکر میں ہیں حالانکہ ان کے پاس اس تیل و گیس کو بیچنے کے لیے ہرمز کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ امید واثق ہے کہ خلیج پر برسنے والی اس آفت کے حوالے سے شیوخ ضرور غور و فکر فرمائیں گے اور اپنی سیاسی، دفاعی، عسکری، سفارتی اور خارجہ حکمت عملی کو بدلیں گے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز