Skip to content

اکیسویں صدی امریکی جارحیتوں کا موازنہ

تحریر: سید اسد عباس

امریکہ اور اسرائیل ایران میں کیوں شکست کھا چکے ہیں اس امر کا ادراک ان دونوں ممالک بالخصوص امریکہ کی سابقہ جارحیتوں کے اہداف، ابتدائی حملوں کے نتائج کو جانے بغیر ممکن نہیں ہے۔ سطور ذیل میں افغانستان، عراق، لیبیا پر ہونے والے امریکی حملوں بالخصوص ان حملوں کی ابتدائی لہر نیز اس کے اثرات کا مختصر جائزہ پیش کیا جائے گا اور پھر ہم ایران پر ہونے والے حملے کا ان کارروائیوں سے موازنہ کریں گے جس سے آپ پر واضح ہو جائے گا کہ امریکہ اور اسرائیل کی شکست کس قدر عیاں ہے۔ نائن الیون (11 ستمبر 2001ء) کا پس منظر جو بھی تھا مگر اس واقعہ کے بعد امریکی دفاعی و خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی آئی۔ امریکہ نے "دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ” اور "پیشگی حملہ کے نظریے”کو بنیاد بنا کر مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں متعدد فوجی اور عسکری کارروائیاں کیں۔ ان عسکری مہموں میں افغانستان، عراق اور لیبیا پر کیے گئے براہِ راست حملے اہم شمار کیے جاتے ہیں۔ ان ممالک پر امریکی حملوں کے پیچھے اعلانیہ مقاصد کے ساتھ ساتھ اہم جیو پولیٹیکل اور معاشی اہداف بھی شامل تھے۔

افغانستان میں امریکی حملے کا آغاز 7 اکتوبر 2001ء کو "آپریشن اینڈئورنگ فریڈم” کے تحت ہوا۔ حملے کا اعلانیہ مقصد القاعدہ اور اس کے رہنما اسامہ بن لادن نیز طالبان رژیم  کا خاتمہ تھا، جبکہ غیر اعلانیہ مقصد وسطی ایشیا میں اپنا عسکری و سیاسی اثر و رسوخ قائم کرنا تھا۔ حملے کی پہلی لہر میں کروز میزائلوں، B-52 بمبار طیاروں اور افغان ناردرن الائنس کے ذریعے شدید زمینی و فضائی حملہ کیا گیا۔حملے کے پہلے دن امریکی اور برطانوی بحری جہازوں اور آبدوزوں سے تقریباً 50 ٹوماہاک (Tomahawk) کروز میزائل داغے گئے۔ B-1، B-2، B-52 بمبار طیاروں اور F-14 و F/A-18 جنگی طیاروں نے پہلے مرحلے میں 31 سے زائد طے شدہ اہداف پر بمباری کی 40 سے زائد پروازیں مکمل کیں، جس سے طالبان کی ہوا اکھڑ گئی اور وہاں رژیم چینج کی راہ صاف ہوئی۔

20 سال جاری رہنے والی اس جنگ میں امریکہ کےتقریبا 2 کھرب ڈالر سے زائد اخراجات آئے اور 2,400 امریکی فوجی جاں بحق اور تقریبا 1,70,000 سے زائد افغان شہری شہید ہوئے۔ اگرچہ امریکہ کو ابتدائی طور پر طالبان کو اقتدار سے ہٹانے اور 2011ء میں اسامہ بن لادن کو مارنے میں کامیابی ملی لیکن اگست 2021ء میں امریکی انخلا کے فوراً بعد طالبان نے دوبارہ کابل پر قبضہ کرلیا، جس نے طویل المدتی جمہوری و سیاسی اہداف کو ناکام بنا دیا۔ عراق پر حملے کا آغاز 20 مارچ 2003ء کو "آپریشن عراق فریڈم” کے نام سے ہوا۔ امریکہ کا اعلانیہ مقصد صدام حسین کے ممنوعہ کیمیائی و حیاتیاتی مہلک ہتھیاروں نیز صدام رژیم کا خاتمہ تھا، جبکہ غیر اعلانیہ اہداف میں مشرقِ وسطیٰ کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا شامل تھا۔ حملے کی پہلی لہر "خوف اور ہیبت” کی مشہور فضائی تکنیک پر مبنی تھی، جس کے تحت بغداد پر ہزاروں ٹن بارود برسا کر عراقی کمانڈ سسٹم کو مفلوج کر دیا گیا۔

20 مارچ کی صبح "Shock and Awe” کے آغاز سے چند گھنٹے قبل بغداد میں ڈورا فارمز پر 2 ٹوماہاک میزائل اور 2 بم F-117 سٹیلتھ طیاروں سے صدام حسین کو نشانہ بنانے کے لیے گرائے گئے۔ 21 اور 22 مارچ کے دوران کی گئی مرکزی بمباری میں مجموعی طور پر 500 سے 400 کے قریب ٹوماہاک کروز میزائل داغے گئے اور امریکی و برطانوی ایئر فورس نے پہلے 48 گھنٹوں میں 1,700 سے زائد فضائی پروازیں کر کے ہزاروں گائیڈڈ بم گرائے۔ تقریباً نو برس جاری رہنے والی اس جنگ میں امریکہ کے تقریبا 815 ارب ڈالر خرچ ہوئے اور اندازا 4,400 سے زائد امریکی فوجیوں کے علاوہ لاکھوں عراقی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس حملے کے نتیجے میں اگرچہ صدام حسین کی حکومت ختم کر دی گئی لیکن بعد میں کوئی مہلک ہتھیار برآمد نہ ہو سکے۔ امریکی افواج اب بھی کسی نہ کسی بہانے سے عراق میں موجود ہیں۔

لیبیا کے معاملے میں امریکہ نے 19 مارچ 2011ء کو نیٹو (NATO) کی قیادت میں "آپریشن اوڈیسی ڈان” شروع کیا۔ اس کا اعلانیہ مقصد اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1973ء کے تحت معمر القذافی کی بمباری سے عام شہریوں کی حفاظت کرنا تھا، جبکہ پسِ پردہ قذافی کی حکومت کا خاتمہ مقصود تھا۔ پہلی لہر میں سمندری بحری جہازوں اور آبدوزوں سے 110 سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل داغے گئے اور ابتدائی 24 گھنٹوں میں فرانسیسی، برطانوی اور امریکی طیاروں (بشمول B-2 سٹیلتھ بمبار) نے 100 سے زائد فضائی پروازیں کیں تاکہ معمر القذافی کا ایئر ڈیفنس اور مواصلاتی نظام مفلوج کیا جا سکے۔ سات ماہ جاری رہنے والے اس آپریشن پر امریکہ کے تقریبا 1.1 ارب ڈالر سے زائد اخراجات آئے اور نیٹو کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ زمین پر کوئی امریکی فوجی نہیں اتارا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں قذافی کا خاتمہ تو ہوگیا لیکن زمین پر فورسز نہ ہونے کی وجہ سے لیبیا مختلف مسلح گروہوں کے مابین تقسیم ہو کر ایک تباہ حال ریاست بن گیا۔ آج بھی لیبیا اسی حالت سے دوچار ہے۔

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے براہ راست حملوں کا آغاز 27 اکتوبر 2023ء کے غزہ آپریشن کے بعد ہوا۔ 2024ء میں ایران اور اسرائیل کے مابین میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ ہوا، 2025ء میں اسرائیل نے ایران پر بارہ دنوں تک مسلسل بمباری کی جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ فروری 2026ء میں امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کیا جسے” آپریشن ایپک فیوری اور رورنگ لائن” کا نام دیا گیا۔ اس حملے کے اہداف بہت واضح طور پر اعلان کیے گئے۔ ایران میں رژیم کا خاتمہ، ایران کی ایٹمی صلاحیت کا مکمل خاتمہ اور بیلسٹک میزائل و ڈرون تیاری کی تنصیبات کی تلفی۔ اس کے علاوہ ان حملوں کا ہدف ایران میں کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز کا خاتمہ، مربوط ایئر ڈیفنس ریڈارز کو مفلوج کرنا اور خلیج میں بحری ناکہ بندی کی ایرانی صلاحیت کو ختم کرنا بھی شامل تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق، حملے کی پہلی لہر (ابتدائی 72 گھنٹے) کے دوران امریکی و اسرائیلی ایئر فورس کی 1,000 سے زائد پروازوں اور بحری جہازوں سے داغے گئے سینکڑوں ٹوماہاک کروز میزائلوں کی مدد سے 1,700 سے زائد اہداف پر شدید بمباری کی گئی۔ ایران کے سپریم لیڈر، اعلی کمانڈرز کی شہادت کے ساتھ ساتھ متعدد دیگر اہداف حاصل کیے گئے مگر نہ رژیم ہلا، نہ ایٹمی صلاحیت پر آنچ آئی اور نہ میزائل ڈرون کی صلاحیت پر کوئی اثر پڑا، الٹا ایرانی عوام اپنی قیادت اور نظام کے پیچھے کھڑے ہوگئے۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک جاری تمام کارروائیوں میں دونوں ممالک یعنی امریکا اور اسرائیل مجموعی طور پر ایران کی 23,800 سے زائد عسکری سائٹس کو نشانہ بنا چکے ہیں جس کے لیے 18,000 سے زائد بم گرائے گئے۔ ان تمام کارروائیوں اور روزانہ کی مہم پر آنے والے اخراجات غیر معمولی ہیں، جہاں امریکی دفاعی بجٹ کو اس آپریشن کے تحت اب تک براہِ راست 113.3 ارب ڈالرسے زائد کا اضافی بوجھ اٹھانا پڑا ہے (جس میں ابتدائی چھ دنوں کی شدید بمباری کا خرچہ ہی 11.3 ارب ڈالر رہا تھا)، جبکہ اسرائیل اس مہم پر روزانہ تقریباً 250 سے 300 ملین ڈالر خرچ کر رہا ہے، جس کے باعث عالمی توانائی، تجارتی راستوں اور بحری شعبے کو پہنچنے والا اجتماعی معاشی نقصان سیکڑوں ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کو بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ ایران افغانستان، عراق یا لیبیا نہیں ہے۔ حملوں کی ابتدائی لہر کے موازنہ سے اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے کہ مذکورہ بالا ممالک سے کئی گنا زیادہ بمباری کے باوجود امریکہ و اسرائیل اپنے بنیادی اہداف تک نہ پہنچ سکے۔ اس استقامت نے نظام کی گہرائی، تحمل اور وسعت کو دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔ ایران نے میدان جنگ کو آبی گزرگاہوں، تیل کی ترسیل کے نظام، عالمی معیشت تک وسعت دے دی ہے۔ اب امریکہ کے پاس چارہ نہیں کہ وہ اپنے بنیادی اہداف کے بجائے ان ثانوی مفادات کا تحفظ کرے۔ خطے میں اس کی ساکھ، سیکورٹی انفراسٹرکچر، معاشی سرگرمیاں سب درہم برہم ہو چکی ہیں۔ اسرائیل خوفزدہ ہے کہ اگر امریکہ اس جنگ کو ناتمام چھوڑ کر جاتا ہے تو اسے ایران کا تنہا سامنا کرنا ہوگا۔ مقاومتی گروہ تمام تر حملوں اور نقصانات کے باوجود عزم و ہمت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اگر جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو امریکہ، اسرائیل اور امریکی اتحادیوں کو اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز