تحریر: سید اسد عباس
ہندوستانی ایئر مارشل (ریٹائرڈ) انیل چوپڑا نے 16 جولائی 2026ء کو ایک تحریر میں انکشاف کیا کہ کہ روس نے ایک ٹوپولیو (Tupolev) Tu-214PU فضائی کمانڈ پوسٹ، جسے اکثر "قیامت کا طیارہ” (Doomsday plane) کہا جاتا ہے، تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی جانب روانہ کیا۔ ائیر مارشل کے مطابق Tu-214PU طیارے نے ماسکو سے پرواز بھری اور 13 جولائی کو بھارتی وقت (IST) کے مطابق صبح تقریباً 10:10 بجے تہران میں لینڈ کیا۔ یہ تعیناتی علاقائی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد ایرانی فوجی انفراسٹرکچر پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں اضافے کے دوران سامنے آئی۔ Tu-214 روس اسپیشل فلائٹ اسکواڈرن کے زیرِ انتظام ہے اور اس میں جدید و محفوظ مواصلاتی و کمانڈ سسٹمز موجود ہیں۔ یہ طیارہ اعلیٰ حکام کو انتہائی خطرناک حالات میں فضا سے ہی ریاستی امور اور فوجی کارروائیوں میں ہماہنگی قائم کرنے کے قابل بناتا ہے۔
امریکہ اور روس دونوں کے پاس بڑی لڑائیوں، بالخصوص ایٹمی جنگ سے نمٹنے کے لیے خصوصی فضائی صدارتی کمانڈ پوسٹس موجود ہیں۔ یہ بنیادی طور پر بڑے ٹرانسپورٹ طیارے ہوتے ہیں، جن میں خصوصی، دور دراز تک رابطے کے مواصلاتی آلات اور دیگر سکیورٹی خصوصیات نصب ہوتی ہیں۔ اس طیارے کی آمد کو ماسکو و تہران کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے اسٹریٹجک (حکمتِ عملی) تعاون کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں اور مبصرین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اگرچہ اس قدم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ روسی افواج براہِ راست جنگ میں شامل ہو رہی ہیں، لیکن یہ واشنگٹن کے لیے ایک بڑا پیغام ہے کہ روس، ایران کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور اعلیٰ سطح پر تعاون کی فراہمی کے لیے تیار ہے۔
ائیر مارشل (ر) انیل چوپڑا کے مطابق Tu-214 وی آئی پی ایک صدارتی طیارہ ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ رینج 9,200 کلومیٹر ہے۔ Tu-214PU-SBUS ایک فضائی کمانڈ اینڈ کنٹرول (C2) قسم ہے۔ اسے عام ٹوپولیو مسافر طیارے سے الگ پہچاننا آسان ہے، کیونکہ اس کے دھڑ کے اوپری حصے پر دو نمایاں چیزیں موجود ہیں: اوپر کی جانب ایک کشتی نما پوڈ اور ذرا پیچھے ایک گنبد نما ابھار ہے، جس میں مخصوص سیٹلائٹ اور ریڈیو کمیونیکیشن ہارڈ ویئر موجود ہوتا ہے۔ یقیناً ایران میں روس کی جانب سے Tu-214PU فضائی کمانڈ پوسٹ کی تعیناتی کا مقصد شدید فوجی حملوں کے دوران ایک محفوظ موبائل ہیڈ کوارٹر اور انکرپٹڈ (محفوظ) مواصلاتی مرکزا فراہم کرنا ہے۔
خوش قسمتی سے ٹوپولیو جیسی فضائی کمانڈز کے استعمال کی آج تک ضرورت محسوس نہیں ہوئی ہے، تاہم اس کی تہران میں موجودگی جنگ کی وسعت کے امکانات کو ظاہر کرتی ہے۔ اس وقت جنگ کا دائرہ فوجی اہداف سے آگے نکل کر شہری انفراسٹرکچر تک پھیل چکا ہے، ایران کے جنوبی علاقوں کو ملک کے دیگر علاقوں سے ملانے والی شاہراوں اور پلوں، بجلی کے مراکز، پانی کے مراکز، ہسپتالوں پر حملے کیے گئے ہیں، جواب میں ایران نے کویت، بحرین، امارات، سعودیہ اور اردن میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ کویت میں پانی کی ڈی سیلینیشن کے مرکز سمیت تین پاور پلانٹس پر حملہ ہوچکا ہے۔ اب معلوم نہیں کہ یہ حملہ کس نے کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے جنگ کے اس الاؤ میں متعدد کردار بالخصوص اسرائیل اپنے حصے کی لکڑیاں ڈال رہا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مفاہمی قرارداد کو سبوتاژ کرنے کے لیے اسرائیل نے پیسہ پانی کی مانند بہایا ہے اور لابنگ بھی کی ہے۔ اسرائیلی اس وقت امریکی نائب صدر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے رہے ہیں، تاہم ٹرمپ ان کے اشاروں پر مسلسل ناچ رہا ہے۔ روس کے پاس جنگ میں خاطر خواہ دخالت کے بغیر یوکرین جنگ کا بدلہ لینے نیز جنگ کے حامیوں اور سرپرستوں کو دھول چٹانے کا بہترین موقع موجود ہے۔ پاکستان اور چین کی خواہش ہے کہ معاملات کو گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جائے۔ عرب ریاستوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ مال بچائیں یا ملک۔دیکھنا ہے escalate-to-deescalate کی حکمت عملی کس کے فائدے میں جاتی ہے۔ عالمی معیشت اور خام تیل کی مارکیٹ پر اس تازہ جنگ کے اثرات ظاہر ہونے شروع ہوچکے ہیں۔