Skip to content

قضیہ یمن، ایک جائزہ اور تازہ صورتحال

تحریر: سید اسد عباس

 یمن جزیرہ عرب کے جنوب میں قائم دوسری بڑی ریاست ہے، جس کا رقبہ 5,27970 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ اس ریاست کی صحرائی پٹی تقریباً 2000 کلومیڑ پر پھیلی ہوئی ہے، جس کے جنوب میں بحیرہ عرب، شمال میں سعودی عرب، مغرب میں بحیرہ احمر، خلیج عدن جبکہ مشرق میں عمان ہے۔ اس ریاست کے تقریباً 200 کے قریب چھوٹے جزائر ہیں۔ یمن او آئی سی، اقوام متحدہ اور عرب لیگ کا رکن ہے۔ قرآن کریم میں مذکور ملکہ صبا کا تعلق اسی سرزمین سے تھا، جو ایک قدیم تہذیب ہے۔ ابرہہ کا لشکر بھی یمن کی جانب سے سرزمین حجاز پر حملہ آور ہوا۔ اس خطے میں اسلام رسالت ماب ؐ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے ہی پھیلنا شروع ہوگیا تھا۔ یمنی تاجر اور بیت اللہ کے زائرین رسالت ماب کی بعثت سے آگاہ ہوئے تو انھوں نے اس نئے دین کے بارے میں جاننا شروع کیا، یمن میں دین اسلام کی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے رسالت ماب ؐ نے بہت سے صحابہ کو یمن میں تعینات کیا، جن میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام، معاذ بن جبل، مہاجر بن ابی امیہ، عکاشہ بن ثور، ابو موسیٰ اشعری، خالد بن ولید، عمرو بن حزم انصاری، طاہر بن ابی ھالہ، عامر بن شہر رضوان اللہ علیہم شامل ہیں۔

تیسری صدی ہجری میں یمن میں شافعی اور زیدی فقہ کے پیروکار ظاہر ہوئے۔
معروف محقق مفتی امجد عباس اپنے تحقیقی مقالے "زیدیہ: ایک تعارف” میں تحریر کرتے ہیں: "معاصر محقق سامی الغدیری کے مطابق زیدیہ بہت سے امور میں اہل سنت سے ہم آہنگی رکھتے ہیں، خاص طور پر سلیمانیہ، صالحیہ اور بتریہ فرقے، ان کا خیال ہے کہ امامت شورائی ہے۔ ان کے نزدیک امام کا چنائو لوگ خود کریں گے، انہوں نے مفضول کو افضل پر مقدم کرنا جائز سمجھا ہے، ہاں بعض شرائط امامت میں ان کا اہل سنت سے اختلاف ہے، جیسے زیدیہ کے مطابق امام کا فاطمی ہونا اور تلوار کے ذریعے دعویٰ امامت کرنا لازم ہے۔ جمہور اہل سنت کے نزدیک امام کا فاطمی یا قریشی ہونا لازم نہیں ہے، نہ ہی تلوار اٹھانا لازم ہے بلکہ امام کا عادل ہونا بھی شرط نہیں، زیدیہ عقائد میں کسی قدر معتزلہ سے بھی ملتے ہیں، جیسے منزلت بین المنزلتین اور انسانی ارادے کی آزادی کا مسئلہ۔

شیعہ اثناء عشریہ کے نزدیک امام کے پاس دینی اور دنیوی رہبری ہوتی ہے۔ زیدیہ نے فرق کیا ہے، وہ امام کو دینی راہنماء جانتے ہیں۔ زیدیہ کے نزدیک جو بندہ امام کی امامت پر ایمان نہیں لاتا، وہ گمراہ ہے۔ اس کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے۔ امامیہ کے نزدیک امامت صرف امام حسینؑ کی اولاد کے ساتھ خاص ہے، جبکہ زیدیہ امام حسنؑ کی اولاد میں بھی اسے درست جانتے ہیں۔ زیدیہ امام کے لیے تلوار اٹھانا لازم جانتے ہیں اور تقیہ کو نادرست سمجھتے ہیں۔ شیعہ امامیہ اثناء عشریہ نبی کریمؑ اور آئمہ اہل بیتؑ کی شفاعت کے قائل ہیں جبکہ زیدیہ شفاعت صرف نبیؐ کا حق جانتے ہیں، نیز ان کے نزدیک شفاعت کا مطلب درجات کی بلندی ہے۔” یمن میں ایک طویل عرصے تک مجتہدین بنی فاطمہ کی حکومت رہی ہے۔ 1962ء میں بھی یمن کے شمالی علاقوں میں ایک ایسے ہی عالم کی حکومت تھی، جبکہ جنوبی یمن پر کیمونسٹ برسر اقتدار تھے۔

یمنی فوج کے ایک افسر علی عبد اللہ صالح نے مصری فوج کی مدد سے شمالی علاقوں میں بغاوت کا آغاز کیا اور خونریز جنگ کے بعد یمن کے اقتدار پر قابض ہونے میں کامیاب ہوا۔ علی عبداللہ صالح کے زمانے میں شمالی اور جنوبی یمن ایک ریاست کے طور پر ابھرے اور اس نے ملک میں وہ صدارتی نظام قائم کیا، جہاں صدر کو ہمیشہ 90 فیصد ووٹ ملتے ہیں۔ علی عبداللہ صالح کی حکومت کا خاتمہ 2011ء میں اٹھنے والی ایک ایک عوامی تحریک سے ہوا، جو عرب بہار کا تسلسل تھی۔ صالح کے چالیس سالہ دور اقتدار میں یمن کرپشن، بدامنی کا گڑھ رہا۔ عرب دنیا میں آنے والے انقلابات کے سبب یمن کے عوام بھی اپنی حکومت کے خلاف میدان عمل میں اترے۔ علی عبد اللہ صالح نے یمنی عوام کی تحریک کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کی، تاہم یہ تحریک روز بروز طاقت پکڑتی گئی۔ علی عبداللہ صالح ایک معاہدے کے تحت ملک سے فرار کر گیا اور حکومت اس کے وزیراعظم عبد المنصور الہادی کو ملی۔ عبدالمنصور الہادی کی حکومت ایک عبوری حکومت تھی، جس کے ذمہ آئین میں بنیادی تبدیلیاں اور نیا پارلیمانی الیکشن تھا۔

2014ء تک عبد المنصور الہادی نے تفویض کردہ دونوں کام نہ کئے، اس پر مستزاد یہ کہ عوام پر پیٹرول بمب برسایا گیا۔ عوام کو حاصل آئل سبسڈی کا خاتمہ کر دیا گیا، جس کے سبب اشیائے ضرورت کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ پہلے ہی پسماندہ اور محروم عوام اس سبسڈی کے خاتمے کے سبب مزید دباؤ میں آکر حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ اس دوران میں اقوام متحدہ بھی میدان میں آئی اور فریقین کے مابین گفت و شنید کے مختلف ادوار ہوئے۔ عبد المنصور الہادی نے بھی عوام کو طاقت سے دبانے کی کوشش کی، جس کے جواب میں یمن کا مضبوط ترین گروہ انصار اللہ عبد المالک الحوثی کی قیادت میں میدان عمل میں اترا۔ عبد المنصور الہادی ملک سے فرار کر گیا اور اس کے کئی ایک وزراء نے استعفٰی دے دیا، تاہم کچھ دنوں بعد عبد المنصور الہادی خلیجی ریاستوں کی آشیر باد سے ملک میں واپس آگیا اور ملک میں ایک خانہ جنگی کا آغاز ہوا۔

سعودیہ، امارات اور قطر نے مل کر الہادی حکومت کو فوجی مدد مہیا کی اور یمن مارچ 2015ء میں فضائی حملوں کا آغاز کیا، جو اقوام متحدہ کی ثالثی میں  2 اپریل 2022ء کو ہونے والی جنگ بندی تک جاری رہا۔ اس معاہدے کے بعد سعودی عرب اور اتحادی افواج کی طرف سے یمن پر بڑے پیمانے پر جاری رہنے والے باقاعدہ اور روزمرہ کے فضائی حملے بند ہوگئے۔ باب المندب بحیرہ احمر کی ایک سمندری گزرگاہ ہے جو بحیرہ احمر کو بحر ہند سے جوڑتی ہے۔ یہ بحری گزرگاہ یمن، اریٹیریا اور جیبوتی کے سمندروں میں موجود ہے۔ جزیرہ پرم کے مقام پر یہ گزرگاہ دو چینلز میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ اس بحری گزرگاہ کی کل چوڑائی چالیس کلومیٹر کے قریب ہے۔ یہ گزرگاہ خطے میں ہونے والی بحری نقل و حمل کے لیے نہایت اہم ہے۔ یورپی یونین، چین، جاپان، ہندوستان اور ایشیا کے دیگر ممالک کے تجارتی سامان کا بڑا حصہ، دنیا کا تیس فیصد تیل، خلیج فارس سے برآمد ہونے والا قریباً مکمل تیل اور قدرتی گیس اسی گزرگاہ کے ذریعے سے دنیا تک پہنچتے ہیں۔ باب المندب کا مغربی حصہ قریباً پچیس کلومیٹر چوڑا ہے۔ایک اندازے کے مطابق روزانہ تقریبا 60 سے زیادہ تجارتی جہاز اس آبی گذرگاہ کو عبور کرتے ہیں جبکہ اس کے راستے سے یومیہ 33 لاکھ بیرل خام تیل منتقل ہوتا ہے۔

2015ء سے 2022ء تک سات برس سعودیہ، قطر، عرب امارات کی مسلسل بمباری اور یمن میں حوثی مخالف قوتوں کی مدد کے بعد اقوام متحدہ کی ثالثی میں یمن میں امن قائم ہوا۔ ہمسایوں نے حوثیوں پر بمباری ترک کر دی، تاہم حوثی مخالف گروہوں کی مدد کا سلسلہ جاری رہا، جو جنوبی یمن کے کچھ علاقوں پر حاکم ہیں۔ اس وقت سعودیہ اور حوثیوں کے مابین دوبارہ جھڑپوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ حوثیوں نے باب المندب کی اہم گزرگاہ کو بند کر دیا ہے۔ سعودیہ کے دو تجارتی جہازوں پر بحیرۂ احمر میں حملہ کیا، جس سے ایک جہاز کے اگلے حصّے میں آگ بھی بھڑک اُٹھی۔ اس وقت ایک جانب آبنائے ہرمز بند ہے، دوسری جانب باب المندب کی بندش کے سبب خلیج سے نکلنے والا تیل اور ایل پی جی گیس عالمی صارفین جس میں پاکستان بھی شامل ہے، تک نہیں پہنچ پا رہی۔

سوال یہ ہے کہ نیا کیا ہوا۔؟ جنگ بندی کی خلاف ورزی کس نے کی۔؟ اطلاعات کے مطابق 13 جولائی2026ء کو ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید کی آخری رسومات میں شرکت کے بعد جب حوثی وفد کا جہاز صناء ایئر پورٹ پر پہنچا تو اس پر ڈرون حملے کیے گئے، جس پر جہاز کا رخ موڑ کر اسے انصار اللہ کے زیرِ تسلط الحدید ایئرپورٹ پر اتارنا پڑا۔ عدن پر حاکم رشاد محمد العلیمی کی حکومت نے اس جہاز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس مخبری تھی کہ اس جہاز میں ایرانی فوجی اور اسلحہ لایا جا رہا ہے۔ سعودی عرب العلیمی کی حکومت کا سب سے بڑا سیاسی، مالی اور فوجی حامی ہے، جو کہ یمنی حکومت کو بجٹ میں سپورٹ، مرکزی بینک کی امداد اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی فنڈز فراہم کرتا ہے۔ عرب اتحاد کے ایک اہم رکن کے طور پر اماراتی حکومت بھی ان کی سلامتی اور معاشی بحالی میں تعاون کرتی ہے۔ اقوامِ متحدہ، امریکہ، برطانیہ اور دیگر عالمی طاقتیں رشاد العلیمی کی صدارتی کونسل ہی کو یمن کی واحد قانونی حکومت تسلیم کرتی ہیں۔

حوثیوں کی تنظیم انصار اللہ نے سعودیوں کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے سعودی ایئرپورٹ پر میزائل و ڈرون داغ دیئے اور دھمکی دی کہ اگر ان کے خلاف جنگ میں سعودی عرب شامل ہوا تو وہ سعودی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ اب 20 جولائی سے انصار اللہ کی جانب سے سعودیہ کی بحری ناکہ بندی کے جواب میں سعودی عرب نے جوابی کارروائیاں کیں ہیں، جن کے جواب میں انصار اللہ اپنی کارروائیاں بڑھاتے جا رہے ہیں۔ یہ حوثی وہی ہیں، جنھوں نے غزہ پر حملوں کے دوران اسرائیل پر میزائل داغے اور اسرائیلی فضائی کارروائی کے نتیجے میں ان کی اعلی عسکری و سیاسی قیادت شہید ہوگئی۔ حوثیوں کو مغربی میڈیا اور اس کے کاسہ لیس نیوز چینلز و اخبارات میں اکثر ایران کی پراکسی اور باغی کے لفظ سے موسوم کیا جاتا ہے۔

حالانکہ جنگ رمضان (امریکی و اسرائیل کی ایران پر جارحیت) کے دوران حوثیوں نے نہ امریکی اڈوں پر حملہ کیا، نہ اسرائیلی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، نہ ہی باب المندب کو بند کیا۔ پراکسی ہوتے تو جیسے ہی ایران کی قیادت شہید کی گئی تھی، حوثی بھی بحرین، قطر، سعودیہ، امارات میں امریکی اڈوں پر حملے کرتے جیسا کہ انھوں نے غزہ جنگ کے دوران کیے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایران اور حوثیوں کے مابین فکری و نظریاتی ہم آہنگی موجود ہے، دونوں امریکہ اور اسرائیل کو امت کا دشمن سمجھتے ہیں، اسی طرح خطہ کی بادشاہتوں کو ان دشمنوں کا حامی تصور کرتے ہیں۔ یہ فکری و نظری ہم آہنگی یمن کو کسی طور پر بھی ایران کی پراکسی نہیں بناتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایران حوثیوں کی عسکری، مالی مدد بھی کرتا ہو، تاہم ایسا نہیں ہے کہ ایران بٹن دبائے اور حوثی میدان میں نکل آئیں۔

ان کی قیادت اپنے فیصلے خود لیتی ہے، جیسا کہ رمضان جنگ یعنی امریکی و اسرائیلی جارحیت کے دوران انھوں نے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔ حوثیوں کے سعودیہ پر حملے پاکستان کے لیے بھی ایک سکیورٹی چیلنج کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔ پاکستان اور سعودیہ کے مابین 2025ء میں دفاعی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت ایک ریاست پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ پاکستانی سیاسی مبصرین حالیہ سعودیہ حوثی کشیدگی کو اسرائیل بھارت سازش قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد پاکستان کو مشرق وسطی جنگ میں دھکیلنا ہے۔ پاکستان نے حوثیوں کو حملوں کو روکنے کا الٹی میٹم دیا ہے، اسی طرح ایران کے ساتھ بھی سفارتی روابط جاری ہیں، تاکہ حوثیوں کو حملوں سے روکا جائے۔

معروف کالم نویس عظمی گل کہتی ہیں، رشاد محمد العلیمی کو مخبری کس نے کی۔؟ یہ مخبری امریکہ، اسرائیل کے علاوہ کوئی نہیں کرسکتا۔ عظمی گل کا کہنا ہے کہ پاکستان حوثیوں سے اگر جنگ میں الجھا تو نتیجہ خواہ کچھ نکلے، نقصان مسلمانوں کا ہی ہوگا، اپنوں کا خون بہے گا اور اپنے ہی وسائل اور اسلحہ ضائع ہوگا۔ پاکستان میں پہلے ہی تین صوبوں میں شرپسندوں اور علیحدگی پسندوں کی شورش انتہاء پر ہے، جبکہ باقی ماندہ ملک میں ہندوستان کی طرف سے آبی جارحیت جاری ہے۔ اُوپر سے مغرب نے بھی تیزی سے ہمارے گرد شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے۔ ابتداء ہمارا جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کرنے سے کی جا رہی ہے۔

27 میں سے بیشتر شرائط منوا کر بھی وہ راضی نہیں، جن میں پھانسی کی سزا معطل کرنے، شراب بیچنے پر پابندی ہٹانے، تو ہینِ رسالت کے قانوں پر عملدرآمد نہ کرنے جیسے اسلام کے سراسر منافی اقدامات کرنے پر بھی وہ مطمٔن نہیں۔ پاکستان اگر امریکہ اور ایران میں ثالثی کروا سکتا ہے تو اسے سعودیہ اور حوثیوں کے مابین بھی جنگ بندی کی کوشش کرنی چاہیئے، تاکہ کم از کم باب المندب سے تیل اور گیس کی سپلائی کا سلسلہ جاری رہے۔ اگر باب المندب کی بندش جاری رہتی ہے تو یہ پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوگا، ملک پہلے ہی مہنگائی کے طوفان سے دوچار ہے، ایسے میں پیڑول کی قیمتوں میں اضافہ رہی سہی کسر نکال دے گا۔

بشکریہ اسلام ٹائمز قضیہ یمن، ایک جائزہ اور تازہ صورتحال(1)

بشکریہ اسلام ٹائمز قضیہ یمن، ایک جائزہ اور تازہ صورتحال(2)