تحریر : سید اسد عباس
شہید امت آیت اللہ سید علی خامنہ ای 19 اپریل 1939ء کو ایران کے شہر مشہد میں ایک غریب لیکن انتہائی معزز مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، آیت اللہ سید جواد خامنہ ای، ایک معروف عالم دین اور مجتہد تھے، جن کی سادگی اور زہد نے آپ کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم چار سال کی عمر میں مکمل کی، بعد ازاں آپ نے مشہد کے مشہور دینی مدارس، مدرسہ سلیمان خان اور مدرسہ نواب، میں داخلہ لیا اور انتہائی کم عمری میں "لمعتین” اور "رسائل و مکاسب” جیسی اعلیٰ سطحی حوزوی کتب کا مطالعہ مکمل کر لیا۔ ان کی غیر معمولی ذہانت اور علم کے شوق کو دیکھتے ہوئے، آپ کے اساتذہ نے آپ کو جلد ہی اعلیٰ تعلیم کے لیے تیار پایا۔ 1957ء میں آپ نے نجف اشرف (عراق) کا سفر کیا، لیکن اپنے والد کی علالت اور اصرار کی وجہ سے وہ جلد ہی مشہد واپس آگئے اور پھر 1958ء میں قم کے مشہور حوزہ علمیہ منتقل ہوگئے۔
قم میں انھوں نے آیت اللہ بروجردی اور امام خمینی جیسے عظیم الشان مراجع عظام اور مجتہدین کی شاگردی اختیار کی، جہاں شہید امت نے فقہ، اصول، اور فلسفے کے اعلیٰ ترین مدارج (درس خارج) طے کیے۔ امام خمینی کے انقلابی افکار اور دینی طرزِ استدلال نے ان کی فکری اور سیاسی زندگی کا رخ متعین کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔ رہبر شہید سید علی خامنہ ای کی فکری اور انقلابی زندگی پر جن شخصیات نے سب سے گہرا اور ابتدائی اثر ڈالا، ان میں سید مجتبیٰ میر لوحی (جو نواب صفوی کے نام سے مشہور ہیں) کا نام سرِفہرست ہے۔ نواب صفوی، ایران کی مشہور انقلابی تنظیم "فدائیانِ اسلام” کے بانی تھے، جنھوں نے 1940ء اور 1950ء کی دہائیوں میں شاہی حکومت اور مغربی اثر و رسوخ کے خلاف مسلح اور سیاسی جدوجہد شروع کی تھی۔
نواب صفوی سے شہید امت کی پہلی ملاقات مشہد میں اس وقت ہوئی، جب نواب نے مدرسہ سلیمان خان میں ایک انتہائی پرجوش اور انقلابی تقریر کی۔ رہبر شہید خود بیان کرتے ہیں کہ اس تقریر نے ان کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑا اور ان کے اندر شاہی حکومت کے خلاف سیاسی شعور اور جذبے کی پہلی چنگاری اسی دن روشن ہوئی۔ نواب صفوی نے نوجوان علی خامنہ ای کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ اسلام صرف عبادات کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکمل سیاسی اور سماجی نظام ہے، جس کا مقصد معاشرے سے ظلم، کرپشن اور غیر ملکی تسلط کا خاتمہ کرنا ہے۔ نواب صفوی کی شخصیت، ان کا بے خوف اندازِ گفتگو اور اسلام کی بالادستی کے لیے جان کی بازی لگا دینے کے جذبے نے شہید امت کو مستقبل کی طویل اور کٹھن انقلابی جدوجہد کے لیے ذہنی طور پر مضبوط کیا۔ 1956ء میں جب شاہی حکومت نے نواب صفوی کو گولی مار کر شہید کر دیا تو اس واقعے نے سید علی خامنہ ای اور ان جیسے دیگر نوجوانوں کے اندر شاہ کے مظالم کے خلاف نفرت کو مزید بڑھا دیا اور ان کے انقلابی عزم کو مزید جلا ملی۔
آیت اللہ خامنہ ای اپنے ایک انٹرویو میں نواب صفوی کے بارے میں فرماتے ہیں: "اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی چنگاری کو سب سے پہلے نواب صفوی نے میرے دل میں روشن کیا اور وہ پہلے شخص تھے، جنھوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ اسلام کو حاکم ہونا چاہیئے اور ملک پر اسلامی قوانین نافذ ہونے چاہئیں۔” مولانا مودودی کے افکار سے متاثر ہو کر نوجوان خامنہ ای نے ان کی مشہور کتاب "جہاد فی الاسلام” کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا، تاکہ ایرانی نوجوانوں کو متبادل اسلامی نظام اور جدوجہد کے قرآنی تصور سے روشناس کرایا جا سکے۔ آپ نے سید قطب کی فکر کو ایران میں عام کرنے کے لیے ان کی اہم ترین کتابوں کا عربی سے فارسی میں ترجمہ کیا۔ ان میں سب سے مشہور "المستقبل لھذا الدین” اور "ادعا نامہ علیہ تمدن غرب” (مغربی تہذیب کے خلاف دعویٰ) شامل ہیں۔
شہید امت کے انقلابی سفر کا باقاعدہ آغاز 1962ء میں قم میں امام خمینی کی شاہِ ایران مخالف تحریک سے وابستگی سے ہوا۔ انھوں نے امام خمینی کے پیغامات کو عام کرنے اور عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے مشہد، تہران اور دیگر شہروں میں پرجوش تقاریر کیں، جس کی پاداش میں انھیں 1963ء سے 1978ء کے دوران چھ بار گرفتار کیا گیا اور شدید تشدد و جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔ 1979ء میں انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے بعد، وہ امام خمینی کی بنائی گئی "انقلابی کونسل” کے اہم رکن نامزد ہوئے اور دفاعی امور سمیت تہران کے امام جمعہ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ جون 1981ء میں ایک قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد، جب ایران کے دوسرے صدر محمد علی رجائی ایک بم دھماکے میں شہید ہوئے، تو ملک کو ایک مضبوط قیادت کی ضرورت تھی۔
چنانچہ اکتوبر 1981ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں سید علی خامنہ ای نے بھاری اکثریت (قریباً 95 فیصد ووٹ) حاصل کرکے ایران کے تیسرے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ وہ ایران کے پہلے عالمِ دین صدر تھے، انھوں نے جنگِ عراق و ایران کے کٹھن دور میں دو مدتوں (1981ء تا 1989ء) کے لیے ملک کی صدارت کا فریضہ انتہائی مہارت سے نبھایا۔ 3 جون 1989ء کو امام خمینی کے انتقال کے بعد، مجلسِ خبرگان نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو ایران کا دوسرا رہبرِ اعلیٰ (سپریم لیڈر) منتخب کیا۔ بحیثیت سپریم لیڈر، گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں سے زائد عرصے میں انھوں نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی اہم خدمات انجام دیں اور ایران کو متعدد بحرانوں سے نکالا۔ان کی اہم ترین خدمات کو درج ذیل شعبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
قرآنی علوم اور تدبر قرآن
آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے علومِ قرآن، تفسیر اور تدبرِ قرآن کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں، جن کا بنیادی مقصد قرآن مجید کو محض ایک مقدس کتاب کے بجائے "کتابِ زندگی اور عمل” کے طور پر معاشرے میں نافذ کرنا ہے۔ انھوں نے انقلاب سے قبل ہی مشہد کے مدارس میں قرآن کے انقلابی اور سماجی مفاہیم پر مبنی دروس کا آغاز کر دیا تھا، جنھیں بعد میں "طرح کلی اندیشہ اسلامی در قرآن” (قرآن میں اسلامی فکر کا عمومی خاکہ) جیسی شہرہ آفاق کتاب کی شکل میں مرتب کیا گیا۔ بحیثیت رہبر، آپ نے ایران میں قرآنی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے بین الاقوامی حسنِ قرأت و حفظ کے مقابلوں کی سرپرستی کی اور ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر قرآنی محافل اور تدبرِ قرآن کے سیشنز کو لازمی جزو بنایا۔ ان کا سب سے بڑا علمی کارنامہ قرآن کی ایسی سیاسی اور سماجی تفسیر پیش کرنا ہے، جو عصرِ حاضر کے مسائل، جیسے استعمار پسندی، سماجی انصاف اور انسانی آزادی کا احاطہ کرتی ہے اور وہ مومنین کو مسلسل یہ ترغیب دیتے ہیں کہ معاشرے کے سیاسی، اقتصادی اور اخلاقی ڈھانچے کو صرف اور صرف تدبرِ قرآن کی روشنی میں ہی درست کیا جا سکتا ہے۔
سائنسی اور تکنیکی ترقی
رہبر شہید کے دورِ رہبری میں ایران نے سائنسی میدان میں نمایاں پیش رفت کی۔ انھوں نے نینو ٹیکنالوجی، سٹیم سیل ریسرچ، بائیوٹیکنالوجی اور ایرو سپیس (خلائی پروگرام) میں نوجوان سائنسدانوں کی بھرپور سرپرستی کی۔ اسی سرپرستی کے سبب ایران کے نوجوانوں نے مختلف سائنسی شعبوں میں ہزاروں کی تعداد میں علمی مقالات تحریر کیے اور ایران کو علمی و تحقیقی مقالات کی عالمی رینکنگ کا حصہ بنایا۔ ایران کا جدید جوہری پروگرام انہی کی سٹریٹجک ہدایات کے تحت آگے بڑھا، جسے وہ ایران کے مستقبل کی توانائی اور سائنسی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی اس موقف پر قائم رہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا، مغربی جھوٹے پراپیگنڈہ، عالمی تجزیہ نگاروں کے تبصروں، تجزیات اور اندازوں کے برعکس دنیا نے دیکھا کہ ایران اپنے رہبر کے فتوی پر کاربند رہا۔
مسلم اتحاد اور بین المذاہب ہم آہنگی
رہبر شہید سید علی خامنہ ای نے ہمیشہ اتحادِ بین المسلمین پر زور دیا۔ اہل سنت کے مقدسات اور امہات المؤمنین کی توہین کو شرعاً حرام قرار دینے کا تاریخی فتویٰ انہی اقدامات میں سے ایک ہے، جو ان کے اس مسئلہ پر تسلط کا غماز ہے۔ ایران نے ان کی سرپرستی میں متعدد بین الاقوامی اتحاد امت کانفرنسیں منعقد کیں، ادارہ تقریب بین المذاہب جو کہ اتحاد بین المسلمین کے ہدف کے لیے کوشاں ہے، انہی کی زیر سرپرستی فعال رہا، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ میں اہل سنت طلبہ کے لیے کورس بھی اسی سلسلے کی کاوشیں ہیں۔ جدید اسلامی تہذیب کے تصور میں بھی شہید امت نے اتحاد امت کو ایک اہم ستون قرار دیا ہے۔
خارجہ پالیسی اور محورِ مزاحمت کی تشکیل
بین الاقوامی سطح پر رہبر شہید نے امریکہ اور مغربی طاقتوں کے اثر و رسوخ کے خلاف سخت گیر موقف اپنایا۔ انھوں نے مشرقِ وسطیٰ میں "محورِ مزاحمت” کی بھرپور پشت پناہی کی، جس میں لبنان کی حزب اللہ، فلسطین کی حماس و جہاد فلسطین، عراق کی عوامی رضاکار فورسز (حشد الشعبی) اور یمن کے انصار اللہ شامل ہیں۔ رہبر شہید نے خطے میں داعش (ISIS) کے خاتمے اور شام و عراق کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ملکی دفاع اور فوجی خود کفالت
شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے بحیثیت کمانڈر ان چیف، ایران عراق جنگ کے تجربات کی حامل مسلح افواج کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ مغربی پابندیوں کے باوجود انھوں نے دفاعی صنعت میں خود کفالت پر زور دیا، جس کے نتیجے میں ایران نے مقامی سطح پر بیلسٹک میزائل، ڈرونز، فضائی دفاعی نظام اور بحری بیڑے تیار کیے اور خطے میں ایک بڑی فوجی طاقت بن کر ابھرا، جس کا مظاہرہ حالیہ ایران امریکہ جنگ کے دوران دنیا نے دیکھا۔
مزاحمتی معیشت کا تصور
امریکی اور یورپی یونین کی سخت ترین اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے رہبر شہید نے "اقتصادِ مقاومتی” (مزاحمتی معیشت) کا فارمولا پیش کیا۔ اس کا مقصد ملکی معیشت کا تیل پر انحصار کم کرنا، مقامی پیداوار کو فروغ دینا اور اندرونی وسائل کو بروئے کار لا کر ملک کو بیرونی دباؤ سے محفوظ رکھنا ہے۔ انھی کی قیادت کا ثمرہ ہے کہ ایران معیشت شکن پابندیوں کے باوجود ترقی کی راہ پر گامزن رہا۔
سیاسی سازشوں اور فتنوں کا مقابلہ
امریکہ اور اسرائیل کی ابتداء سے کوشش تھی کہ ایران میں نرم انقلاب کے ذریعے حکومت کو کمزور کیا جائے، شہید امت کی بابصیرت قیادت، بے داغ شخصیت اور ہر دلعزیزی نے ہر موقع پر دشمن کو ناکام کیا۔ بحیثیت سپریم لیڈر ایران کی اندرونی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی متعدد سیاسی سازشوں اور فتنوں (جیسے 1999ء کے طلبہ احتجاج، 2009ء کی انتخابی تحریک اور بعد کے برسوں میں ہونے والے مختلف معاشی و سیاسی ہنگاموں) کا مقابلہ انتہائی تدبر، صبر اور مضبوط حکمتِ عملی سے کیا۔ انھوں نے ہمیشہ قانون کی بالادستی، عوامی بیداری (بصیرت) اور قومی اتحاد کو ہتھیار بنا کر ملک کو خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کے خطرات سے بچایا۔ فتنوں کے دوران جب بھی ملکی نظام کو اندرونی طور پر مفلوج کرنے یا اسلامی جمہوریہ کے بنیادی ڈھانچے کو گرانے کی کوشش کی گئی۔
انھوں نے جذباتی فیصلوں کے بجائے خطبے اور براہِ راست عوامی مکالمے کے ذریعے سازشوں کے پسِ پردہ موجود بیرونی طاقتوں کے عزائم کو بے نقاب کیا۔ ان کی دوراندیشی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے ان کٹھن بحرانوں میں نہ صرف نظام کا دفاع کیا، بلکہ اپوزیشن اور معترضین کے ساتھ نمٹتے وقت حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کو روک کر اور عوام کے اعتماد کو بحال رکھ کر تمام اندرونی سیاسی سازشوں کو ناکام بنایا۔ شہید امت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا بحیثیت قائد و رہبر مجموعی کردار ایک ایسے مدبر، دور اندیش اور آہنی عزم کے مالک رہنماء کا ہے، جس نے گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں کے دوران ایران کو تاریخ کے کٹھن ترین عالمی دباؤ، سخت ترین معاشی پابندیوں اور اندرونی و بیرونی بحرانوں کے طوفان سے کامیابی کے ساتھ نکالا۔
انھوں نے امام خمینی کے انقلابی اصولوں پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے ایک طرف جہاں ملکی دفاع کو بیلسٹک میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کی بدولت ناقابلِ تسخیر بنایا اور سائنسی و جوہری میدان میں ایران کو خود کفالت کی راہ پر گامزن کیا، تو دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں "محورِ مزاحمت” کی آبیاری کرکے خطے کے سیاسی نقشے کو بدل کر رکھ دیا۔ ان کی قیادت کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا فکری تدبر ہے، جس کے ذریعے انھوں نے قرآنی تعلیمات کو سیاسی و معاشی نظام کی بنیاد بنایا، مسلم اتحاد کے لیے عملی اقدامات کیے اور اندرونی فتنوں و سازشوں کا مقابلہ بندوق کے بجائے عوامی بصیرت اور قانون کی بالادستی سے کیا۔ خلاصہ یہ کہ وہ محض ایک روایتی مذہبی پیشوا نہیں، بلکہ ایک اسٹریٹجک عالمی رہنماء ثابت ہوئے، جنھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وجود کا تحفظ کرتے ہوئے اسے خطے کی ایک ناگزیر اور خود مختار سیاسی و فوجی طاقت بنا دیا۔ خداوند کریم شہید امت کو اپنے برگزیدہ بندوں میں محشور فرمائے۔ آمین