Skip to content

یمن میں بنی فاطمہ کے اقتدار کا چوتھا دور

یمن کل 21 صوبوں (محافظات) اور ایک دارالحکومت کے خصوصی ضلع (أمانة العاصمة) پر مشتمل ہے۔ زمینی کنٹرول کے اعتبار سے یمن اس وقت دو اہم حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ حوثیوں (انصار اللہ) کے پاس ملک کے کل رقبے کا تقریباً 30 سے 35 فیصد علاقہ ہے، لیکن اس علاقے میں یمن کی کل آبادی کا تقریباً 70 سے 80 فیصد حصہ آباد ہے۔صنعاء، صعدہ، عمران، ذمار، محویت، ریمہ، اب، بیضاء، حدیدہ، حجہ پر حوثیوں کا مکمل کنڑول ہے۔ حال ہی میں تعز، الجوف، مارب میں حوثیوں نے پیشرفت کی ہے۔ ان کی افواج گذشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں باب المندب کی اہم بندرگاہ تک پہنچ چکی ہیں۔ عدن، لحج، ابین، الضالع، شبوہ، حضرموت، المہرہ، سقطری پر حوثیوں کا کنڑول نہیں ہے، تاہم عدن، لحج کے علاوہ تمام علاقے صحرائی علاقے ہیں، جہاں آبادی نہ ہونے کے برابر ہے۔

یمن پر آل حسن اور ان کے حامی قبائل کا یہ پہلا کنڑول نہیں ہے۔ سادات بنی فاطمہ کی ایک شاخ جو حوثی تحریک کی بانی ہے، ان کا یمن میں اقتدار 280 ہجری میں قائم ہوا۔ یہ اقتدار تقریباً 1,065 سال (897ء سے 1962ء تک) قائم رہا۔ اس حکومت کی بنیادی خصوصیت اس کا مذہبی و سیاسی ڈھانچہ تھا، جس کے تحت ریاست کا سربراہ (امام) نہ صرف سیاسی حاکم ہوتا تھا بلکہ مذہبی رہنماء بھی شمار کیا جاتا تھا۔ آج ایک مرتبہ پھر اسی نسل کے افراد یمنی قبائل کی مدد سے یمن کے بڑے علاقے پر حاکم ہیں۔ 897ء (280 ہجری) میں امام الهادی الی الحق یحییٰ بن الحسین بن القاسم رسی (زیدیہ کے امام) بن اسماعیل بن ابراہیم بن حسن مثنی بن حسن علیہ السلام نے یمن میں زیدی امامت کی بنیاد رکھی۔ وہ مدینہ منورہ کے ایک جلیل القدر عالم اور زیدی فکر کے بانیوں میں سے تھے۔

اس دور میں یمن کے شمالی قبائل باہمی خانہ جنگی اور نسلی تنازعات کا شکار تھے۔ مقامی قبائل نے اپنے مسائل کے تصفیے اور ایک منصفانہ نظام کے قیام کے لیے امام یحییٰ کو یمن آنے کی دعوت دی۔ امام یحییٰ نے شمالی شہر صعدہ کو اپنا مرکز بنایا اور وہاں پہلی زیدی ریاست قائم کی۔ انھوں نے نہ صرف سیاسی اقتدار کو منظم کیا بلکہ زیدی فقہ، قانون اور عدالتی نظام کی بنیاد بھی رکھی، جو بعد کی صدیوں میں یمنی معاشرت کا بنیادی حصہ بنا۔ زیدی امامت کی ہزار سالہ تاریخ مسلسل جنگوں، فتح و شکست اور غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ تصادم سے عبارت ہے۔ اس تاریخ کو نمایاں طور پر درج ذیل ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

ابتدائی دور اور مقامی مسابقت (897ء – 1597ء)
اس دور میں امامت کا کنٹرول زیادہ تر یمن کے شمالی پہاڑی علاقوں جیسے صعدہ اور عمران تک محدود رہا۔ ائمہ کو مختلف مقامی اور غیر ملکی طاقتوں، بالخصوص اسماعیلی فاطمیوں، ایوبیوں اور رسولی سلطنت کی طرف سے شدید چیلنجز کا سامنا رہا۔ سولہویں صدی کے اوائل میں سلطنتِ عثمانیہ (عثمانی ترکوں) نے یمن پر پیش قدمی کی اور مرکزی شہروں پر قبضہ کر لیا، جس سے امامت عارضی طور پر پسپائی کا شکار ہوئی۔

قاسمی امامت اور عثمانیوں کا اخراج (1597ء – 1849ء)
یہ زیدی امامت کا سنہری دور کہلاتا ہے۔ 1597ء میں امام المنصور باللہ القاسم بن محمد نے عثمانیوں کے خلاف ایک عظیم مزاحمتی تحریک کا آغاز کیا۔ ان کے بعد ان کے بیٹے امام المؤید محمد نے 1635ء میں عثمانی افواج کو یمن سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ اس کامیابی کے بعد تاریخ میں پہلی بار زیدی ائمہ نے پورے یمن۔۔۔ بشمول صنعاء، عدن، اور حضرموت۔۔۔۔ پر ایک متحد حکومت قائم کی جسے "قاسمی سلطنت” کہا جاتا ہے۔

عثمانیوں کی واپسی (1849ء – 1918ء)
اٹھارویں صدی کے اختتام پر اندرونی قبائلی اختلافات اور ولی عہدی کی جنگوں کی وجہ سے ریاست کمزور ہوگئی۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 1872ء میں عثمانیوں نے صنعاء پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ ائمہ کا اثر و رسوخ ایک بار پھر صرف شمالی پہاڑی سلسلوں تک محدود ہو کر رہ گیا۔

متوکلیہ مملکتِ یمن (1918ء – 1962ء)
پہلی جنگِ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ کی شکست کے بعد امام یحییٰ حمید الدین نے عثمانیوں کے انخلاء کا فائدہ اٹھایا اور 1918ء میں "المملكة المتوكلية اليمنية” (متوکلیہ مملکتِ یمن) کے قیام کا اعلان کیا۔ اس دور میں شمالی یمن نے دنیا بھر سے سفارتی تعلقات قائم کیے اور ایک خودمختار بین الاقوامی ریاست کی حیثیت حاصل کی۔

1962ء کا انقلاب
متوکلیہ مملکت کا سیاسی و معاشی نظام انتہائی سخت گیر تھا اور ملک دنیا کے دیگر حصوں سے کٹا ہوا تھا، جس کی وجہ سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا۔ 26 ستمبر 1962ء کو عبداللہ السلال کی قیادت میں یمنی فوج کے قوم پرست افسران نے، مصری صدر جمال عبدالناصر کی حمایت سے، ایک ملٹری بغاوت کی۔ صدارتی محل کا گھیراؤ کیا گیا اور ہزار سالہ زیدی امامت کے خاتمے کے ساتھ "عرب جمہوریہ یمن” کے قیام کا اعلان کر دیا گیا۔ اگرچہ آخری امام محمد البدر بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے شمالی قبائل کی مدد سے 8 سال تک جلاوطنی میں جنگ جاری رکھی، لیکن بالآخر 1970ء میں یہ خانہ جنگی جمہوریہ کے استحکام پر ختم ہوئی۔

بنی فاطمہ کا چوتھا دور
صعدہ کے سید بدر الدین الحوثی زیدی فقہ کے ایک معروف عالم دین تھے، جنھوں نے یمن میں سعودی اور خلیجی ممالک کی معاونت سے پھیلنے والے سلفی مذہب کے خلاف فکری جہاد کا علم بلند کیا، ان کے فرزند سید حسین بدر الدین الحوثی انصار اللہ اور حوثی تحریک کے بانی ہیں۔ حسین بدر الدین کی مظلومانہ شہادت کے بعد اس تحریک کی ذمہ داری ان کے چھوٹے بھائی سید عبد الملک الحوثی کے کندھوں پر آئی۔ 2011ء میں عرب بہار نے یمن کو بھی متاثر کیا۔ یمنی عوام ملک میں معاشی مسائل، غربت، کرپشن کے خلاف میدان عمل میں اترے اور علی عبد اللہ صالح کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ خلیجی ممالک نے عبد المنصور الہادی جو گذشتہ حکومت کا ہی ایک فرد تھا، کی قیادت میں نئی حکومت قائم کی، تاہم اس حکومت نے بھی اپنے وعدوں پر عمل نہ کیا اور احتجاج کرنے والی عوام پر براہ راست گولی چلا دی۔ اس صورتحال میں انصار اللہ نے صنعاء کی جانب پیش قدمی کی اور عبد المنصور الہادی کے حامیوں کو عدن کی جانب فرار کرنے پر مجبور کر دیا۔

آج انصار اللہ اور حوثیوں کا اقتدار یمن کی اکثریتی آبادی کے حامل صوبوں پر تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ عدن اور لحج حوثیوں کی پیش قدمی کے منتظر ہیں، اگر ان دو صوبوں پر بھی حوثی قبضہ کر لیتے ہیں تو کہا جا سکتا ہے کہ یمن حوثیوں کے زیر تسلط آچکا ہے۔ لہذا وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ حوثی یمن میں کوئی نیا گروہ ہیں، ان کو تاریخ کے اوراق پلٹنے کی ضرورت ہے، یہ خاندان یمن میں ایک ہزار برس برسر اقتدار رہا  ہے۔ بیسویں صدی کے وسط میں شروع ہونے والی پچاس سالہ سیاسی تبدیلی کے بعد آپ حوثیوں کی واپسی کو یمن میں بنی فاطمہ کی نشاۃ اربعۃ کہ سکتے ہیں۔ یمنی قبائل ان حضرات کی امامت کے قائل ہیں اور ان کو فقط سیاسی ہی نہیں بلکہ اپنا مذہبی راہنماء بھی سمجھتے ہیں۔ اگر عدن پر قبضہ مکمل ہو جاتا ہے تو قرین قیاس ہے کہ عبد الملک الحوثی کی امامت کا باقاعدہ اعلان کر دیا جائے۔ خلیجی ممالک کے حاکم جن کی تاریخ سو برس سے زیادہ پرانی نہیں ہے، ان کو اس خارجی حقیقت کو قبول کر لینا چاہیئے۔