Skip to content

مستقبل گلوبل ساؤتھ کا ہے

تحریر: سید اسد عباس

"جنگ رمضان” یا ایران پر اسرائیل امریکہ مشترکہ جارحیت کے بعد دو عالمی سطح کی بیٹھکیں ہوئی ہیں۔ توقع کے عین مطابق ان دونوں بیٹھکوں پر اس جنگ کا موضوع حاوی رہا۔ دنیا دیکھ چکی ہے کہ ٹرمپ وینزویلا پر کامیاب جارحیت کے بعد ایران پر بھی ویسے ہی دعوؤں کے ساتھ حملہ آور ہوا، اس جنگ میں اسے اسرائیل کا بھی بھرپور تعاون حاصل تھا تاہم یہ دونوں بدمعاش مل کر ایران کو اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے ہٹانے میں ناکام رہے۔ ایران نے اپنی قیادت سمیت سینکڑوں افراد کی قربانی دی، مگر اپنے اصولی موقف سے پیچھے نہ ہٹا۔ رجیم چینج، یورینیم کا خاتمہ، میزائل پروگرام کا خاتمہ امریکہ اور اسرائیل کا وہ خواب بن گیا جو اب وہ شائد کبھی پورا نہ کر پائیں۔ بھرپور طاقت کے استعمال کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی ناکامی اور جنگ کو یکطرفہ طور پر ختم کرنا وہ شکست ہے جو امریکیوں اور اسرائیلیوں کو دہائیوں تک یاد رہے گی۔

معاملہ رجیم چینج، یورینیم افزودگی اور میزائل سسٹم کے خاتمے سے آبنائے ہرمز کی بحالی تک پہنچ چکا ہے۔ اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ایران اس بحری راسطے کو پہلے کی مانند کھول دے۔ دہلی میں ہونے والے برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے واضح طور پر کہا کہ آبنائے ہرمز تمام دوست ممالک کے لیے کھلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے متضاد بیانات کی وجہ سے ہم امریکہ کے حقیقی ارادے سمجھنے سے قاصر ہیں، ایران اور عمان مشترکہ نظام کے تحت آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھال لیں گے۔ ایران کا نیوکلیئر پروگرام پر امن ہے اور پر امن ہی رہے گا۔ امریکہ 40 روزہ جنگ میں کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکا اور وہ مذاکرات کی میز پر بھی ایران کو نیچا نہیں دکھا سکتا۔ سید عباس عراقچی نے اس اجلاس میں امریکہ کی وعدہ خلافیوں اور معاہدوں سے یکطرفہ طور پر نکلنے کی تاریخ بیان کرنے کے ساتھ ایران کی ہمیشہ سنجیدہ مذاکرات کے لیے آمادگی پر بھی اظہار خیال کیا۔ دہلی میں ہونے والا برکس اجلاس امارات کی مخالفت کی وجہ سے کسی مشترکہ اعلامیہ تک پہنچے بغیر ختم ہو گیا۔

دوسری جانب اس سے بھی بڑی بیٹھک چین میں ہوئی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 14 گھنٹے کی اڑان 11 ہزار کلومیٹر کی مسافت کا آنا جانا کرکے بیجنگ سے واشنگٹن پہنچ چکے ہیں۔ ٹرمپ کا دورہ چین مارچ میں طے تھا تاہم وہ یہ دورہ ایک فاتح کے طور پر کرنا چاہتا تھا۔ ایک جانب ٹرمپ نے وینزویلا پر دھاوا بولا اور چین کو تیل کی سپلائی بند کی تو دوسری جانب ایران جو چین کے تیل کا سب سے بڑا سپلائیر ہے میں رجیم چینج کے ذریعے ٹرمپ چاہتا تھا کہ چین سے کسی اور لہجے میں بات کرے، مگر ایران کی مزاحمت نے پوری بازی ہی پلٹ دی۔ ٹرمپ کی بھرپور کوشش تھی کہ دورہ چین سے قبل ایران اور امریکہ کے مابین کوئی معاہدہ ہو چکا ہو تاہم اس کی یہ آرزو بھی پوری نہ ہو سکی۔ ٹرمپ کے پاس ہرمز کھلوانے کے لیے چین کو اس کی عالمی ذمہ داریوں کا احساس دلوانے کے سوا کوئی دوسری بات نہ تھی۔ تائیوان کے مسئلہ پر چین نے ٹرمپ کو بالکل واضح کیا کہ اگر اس معاملے میں مداخلت کی تو ہمارے مابین براہ راست تصادم ہوگا۔

سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ چین نے صدر ٹرمپ کے دورے کو بہت ہی سوچ سمجھ کر محض رسمی اور پرتکلف دورہ بنا دیا۔ ان کے استقبال کے لیے چینی نائب صدر کو بھیجا گیا جو ایسے ہی نمائشی پروٹوکولز کے لیے مخصوص ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کے پولٹ بیورو کے کسی رکن نے ٹرمپ کا خیر مقدم نہیں کیا۔ ٹرمپ اپنی عادت سے مجبور اپنے دورے کو شاندار تجربہ کہتے رہے جبکہ چین کی طرف سے ایسا کوئی پرجوش بیان سامنے نہیں آیا۔ عالمی ماہرین اس دورے کو فقط  خانہ پری قرار دے رہے ہیں ان کی نظر میں یہ کوئی تزویراتی دورہ نہیں تھا۔ دورے کے اختتام پر کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔ امریکہ نے وائٹ ہاؤس اعلامیہ جاری کیا جبکہ چین کی خبر رساں ایجنسی نے بھی ایسا ہی کیا جو کہ ایک رسمی کارروائی ہے اس میں بیان کردہ امور سے سرکاری اتفاق یا ان پر عمل درآمد ضروری نہیں ہوتا۔

وائٹ ہاؤس کے اعلامیے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کھلی رکھنے اور ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہونے پر اتفاق کیا ہے تاہم چین کے سرکاری بیان میں ایسی کوئی بات نہیں کی گئی۔ چینی صدر نے امریکی صدر کو دئیے گئے عشائیہ میں واضح طور پر کہا کہ ہمیں رقیب اور حلیف نہیں شراکت دار چاہیئے۔ چینی صدر نے کہا، اس وقت دنیا ایران تنازع اور عالمی سپلائی چین کے سنگین چیلنجوں سے گزر رہی ہے، ایسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جو گزشتہ ایک صدی میں نہیں دیکھی گئیں، بین الاقوامی صورتحال مسلسل تغیر پذیر اور ہنگامہ خیز ہے، سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ممالک (چین و امریکہ) مل کر عالمی چیلنجوں کا مقابلہ اور دنیا کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا دونوں ممالک دنیا اور اپنے اپنے عوام کے لیے ایک روشن مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں؟

اس دورے میں اگرچہ چند تجارتی معاہدے ہوئے تاہم ایران، تائیوان کا مسئلہ بغیر کسی اتفاق کے بدستور برقرار رہا۔ چینی صدر کی گفتگو سے واضح ہوتا ہے کہ ٹرمپ کے ٹیرف اعلانات، وینزویلا سے چین کو تیل کی سپلائی کی بندش، ایران پر حملہ کو چین اپنے مفادات کے خلاف اقدامات سمجھتا ہے، سفارتی زبان میں انھوں نے امریکی صدر کو سمجھانے کی کوشش کی کہ دنیا کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں رقابت نہیں شراکت کی ضرورت ہے۔ خدا کرے چینی صدر کی یہ بات ٹرمپ کو سمجھ آجائے۔ زبانی طور پر تو ٹرمپ نے چین کو سپر پاور تسلیم کیا ہے تاہم دلوں کے حال خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ چینی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کی مزاحمت نے دنیا کو بہت تیزی سے بدلا ہے۔ یہ ایک بہت بامعنی جملہ ہے جو اس بات کا اعلان ہے کہ اب امریکا دنیا میں تنہا سپر پاور نہیں ہے، یورپ اور چین، مشرق وسطی اور چین، افریقہ اور چین ایک نئی حقیقت کی جانب نشاندہی کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر قالیباف نے چینی صدر کے اسی جملے پر لکھا "مستقبل گلوبل ساؤتھ کا ہے”۔

بشکریہ اسلام ٹائمز