Skip to content

جلا صوفہ

جب سے مولانا عبدالعزیز نے صوفے پر بیٹھنے کو بدعت قرار دے کر اسے جلوایا ہے، اس واقعے پر طرح طرح کے تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ہماری رائے میں یہ ایک سادہ اور معمولی واقعہ نہیں ہے۔ یہ ایک طرز فکر کا غماز ہے، جس کے نتائج بڑے خطرناک اور بھیانک برآمد ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ دنیا میں اسلام کے نام پر معرض شہود میں آنے والے تمام شدت پسند گروہوں کے پیچھے یہی جامد اور بدعتی فکر کارفرما ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ایسی فکر کے حامل افراد دلیل سے بات کرنے کے روادار نہیں ہوتے۔جلا صوفہ

دینی مدارس کے نصاب کی تشکیل نو

دینی مدارس کے نصاب کے حوالے سے بحث کوئی نئی نہیں۔برصغیر میں سر سید احمد خان کی تحریک کے زمانے میں یہ بحث اپنے عروج پر جاپہنچی تھی۔ خود مدارس کے بزرگ علماء نے اس نصاب کے حوالے سے جو مقالے سپرد قلم کیے ہیں ان میں بھی اس نصاب کو بہتر بنانے کیلئے بہت عمدہ تجاویز موجود ہیں۔ اس سلسلے میں بعض مدارس نے قابل تقلید اقدامات بھی کیے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب ، مصر اور ایران وغیرہ میں جدید اسلامی یونیورسٹیوں کا قیام اسی حوالے سے ایک امید افزاء پیش رفت کی مثالیںہیں۔ علاوہ ازیں بہت سی یونیورسٹیوں میں اصول فقہ، اسلامیات اور سیرت النبیؐ کے خصوصی شعبوں کا قیام بھی ان موضوعات پر جدید انداز سے تحقیقات اور مطالعات کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
دینی مدارس کے نصاب کی تشکیل نو

طالبان امریکہ امن معاہدہ اور داعش

یوں معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کی نئی حکومت داعش کے بہانے افغانستان میں رہنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں بہت سے اشارے سامنے آرہے ہیں۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ عراق اور افغانستان میں امریکہ کو فوجی مداخلت بہت مہنگی پڑی ہے۔ گویا ان کے نزدیک امریکی فوجیوں کے عراق اور افغانستان سے انخلاء کی بنیادی وجہ امریکی فوج اور مشینری کی وہاں موجودگی کا مہنگا ہونا ہے۔ ویسے بھی امریکہ کے لیے یہ تجربہ بہت کامیاب رہا ہے کہ دہشت گرد گروہوں سے کام لیا جائے اور ملکوں کو غیر مستحکم کرکے وہاں سے اپنے مالی اور تزویراتی مفادات حاصل کیے جائیں۔طالبان امریکہ امن معاہدہ اور داعش

یمن سے سعودی عرب کی ’’آبرومندانہ‘‘ واپسی کی تیاری

یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان دنوں سعودی عرب یمن کی دلدل سے ’’آبرومندانہ‘‘ انخلا کی تیاری کر رہا ہے۔ علاقے میں اس کے اتحادیوں کو بھی فکر لاحق ہے اور امریکہ نے بھی سعودی عرب اور امارات پر مزید اسلحے کی فراہمی کو روکنے کا اعلان کرکے آنے والے وقت میں اپنے دوستوں کو بچانے کی ہی ایک تدبیر کی ہے۔ اس تدبیر سے خود امریکہ کو بھی اپنی آبرو بچانے کی فکر لاحق ہے، کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ سعودی اتحاد یمن کے خلاف امریکی سرپرستی ہی میں چھ سال سے مصروف جنگ ہے۔یمن سے سعودی عرب کی ’’آبرومندانہ‘‘ واپسی کی تیاری

عقیدے کی بنیاد پر قتل انسانیت کا قتل ہے

بحیثیت مسلمان اور ہاشمی النسب انسان، میری نظر میں ناپسندیدہ ترین عقیدہ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھنا اور ختمی مرتبتﷺ کے بعد کسی انسان کی نبوت کا قائل ہونا ہے۔ خواہ اسے بعدہ مسیح موعود یا مہدی موعود کہہ کر اپنے بنیادی دعوے کو چھپانے کی کوشش کی جائے۔ آئین پاکستان میں بھی اسی لیے اس عقیدہ کے حامل شخص کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے، تاہم اس نظریہ اور عقیدہ کے باوجود میرا دین یعنی دین اسلام (سلامتی) مجھے اجازت نہیں دیتا کہ میں ایک ناپسندیدہ عقیدے کے سبب کسی بھی انسان کے جان و مال کو کوئی نقصان پہنچاؤں یا اس نقصان کی حمایت کروں، بلکہ اس کے برعکس میرا دین مجھے حکم دیتا ہے کہ ’’دین میں کوئی جبر نہیں ہے‘‘، کوئی شخص کافر ہو یا مشرک، یا اسی طرح کسی بھی دوسرے مذہب اور عقیدے کا حامل، اس سے عقیدتی اختلاف اس بات کا باعث نہیں بنتا کہ میں ایسے شخص کے جان و مال کو اپنے لیے مباح سمجھنے لگوں۔عقیدے کی بنیاد پر قتل انسانیت کا قتل ہے

کیا مغرب کو یمنیوں پر رحم آگیا ہے؟

ان دنوں کچھ ایسی خبریں آ رہی ہیں کہ امریکہ نے یمن پر سعودی حملوں کی حمایت روک دی ہے، امریکہ نے سعودی عرب اور امارات کو ہتھیاروں کی فروخت بھی روک دی ہے اور یورپی پارلیمینٹ نے بھی سعودی عرب اور امارات کو اسلحے کی فروخت روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور انھیں اسلحے کی فراہمی کو یمن میں حقوق انسانی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ’’یمن کی جنگ نے ایک انسانی اور اسٹریٹیجک تباہی کو جنم دیا ہے اور ہم یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارت کاری کو تیز کر رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا کہ ”اس جنگ کو ختم ہونا چاہیے اور اس جنگ کے حوالے سے اپنے عزائم واضح کرنے کے لیے ہم یمن میں ہر قسم کا امریکی تعاون ختم کر رہے ہیں، جس میں اسلحے کی فروخت بھی شامل ہے۔“کیا مغرب کو یمنیوں پر رحم آگیا ہے؟

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک خصوصی نشست(3)

مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے متعدد سوالات ایسے ہیں، جن پر ہمارے معاشرے میں مخمصے یا شبہات پائے جاتے ہیں، بلکہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اس سلسلے میں بھارتی پراپیگنڈہ زیادہ تاثیر رکھتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک عمومی تاثر ہے کہ بھارت مذاکرات کی میز پر ہمیشہ پاکستان کو مات دیتا رہا ہے، یعنی میدان جنگ میں شہداء کی قربانیوں سے حاصل کی ہوئی کامیابیاں ہمارے سیاستدانوں ںے مذاکرات کی میز پر شکست سے بدل دیں۔ مسئلہ کشمیر کے سلسلے مٰیں منظور ہونے والی قراردادوں کو اس سلسلے میں خاص طور پر بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔ کشمیری راہنماء شیخ تجمل الاسلام کا کہنا ہے کہ:مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک خصوصی نشست(3)

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک خصوصی نشست(2)

گذشتہ قسط میں ہم نے جانا کہ یوم یکجہتی کشمیر کا آغاز کیسے ہوا، تحریک آزادی کشمیر کا کچھ حوالہ بھی دیا گیا۔ آزادی کشمیر کی راہ میں حائل حقیقی رکاوٹوں کے حوالے سے کشمیری راہنماء شیخ تجمل الاسلام کا موقف بھی آپ کے سامنے پیش کیا۔ آج ہم اسی نشست کی چند مزید اہم باتوں کو اور اس سے متعلق تفصیلات کو قارئین کی خدمت پیش کریں گے۔ میری اس نشست میں کوشش رہی کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہر موضوع پر بات کی جائے، تاکہ کوئی پہلو تشنہ نہ رہ جائے۔ اسی وجہ سے شیخ تجمل الاسلام کے ساتھ ہماری یہ نشست تفصیلی تھی۔ شیخ تجمل الاسلام جموں و کشمیر میں جمعیت کے ناظم اعلیٰ رہے، وکالت کی سند حاصل کرنے کے بعد سری نگر کی عدالت سے پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز کیا اور پھر کئی ایک رسالوں کے مدیر کے طور پر کام کرتے رہے۔ شیخ صاحب انقلاب اسلامی ایران کے حامیوں میں ایک موثر اور مضبوط آواز تھے۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک خصوصی نشست(2)

بانی انقلاب اسلامی امام خمینیؒ کی پیشگوئیاں

ان دنوں انقلاب اسلامی ایران کی 42ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ اس موقع پر انقلاب کے بانی حضرت امام خمینیؒ کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں پر بھی بات کی جا رہی ہے۔ آپ کی شخصیت کے سیاسی، فقہی اور اخلاقی پہلو سے مضامین اور مقالات لکھے جا رہے ہیں۔ ہم اس موقع پر آپ کی روحانی و معنوی شخصیت کے ایک پہلو پر بات کریں گے اور وہ ہے آپ کی بعض پیشگوئیاں، جو آپ کے بُعدِ عرفانی اور قرب الٰہی کی حکایت کرتی ہیں۔ ان میں سے بعض پیشگوئیاں عالمگیر اثرات کی حامل ہیں اور ان کی حیثیت بھی عالمی ہے۔ آپ کی ایسی پیشگوئیوں میں بہت صراحت موجود ہے اور ان کے بارے میں دوسری رائے نہیں ہوسکتی، سوائے اس کے کہ کہا جائے کہ یہ آپ کی سیاسی بصیرت کی غماز ہیں۔ بہرحال امام خمینیؒ کی چند ایک پیشگوئیاں ہم ذیل میں ذکر کرتے ہیں۔
بانی انقلاب اسلامی امام خمینیؒ کی پیشگوئیاں

مسئلہ کشمیر اور چین کا کردار

برصغیر پاک وہند کی تقسیم کے بعد سے مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اہم ترین مسائل میں سے شمار ہوتا ہے۔ اسے عام طور پر بھارت اور پاکستان کے مابین ایک مسئلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے بنیادی فریق خود کشمیری ہیں۔ تاہم چین بھی کئی پہلوئوں سے اس مسئلے سے وابستگی رکھتا ہے بلکہ اگر اسے بھی اس مسئلے کا ایک فریق کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سی پیک کے معاہدے کے بعد اس مسئلے سے چین کی دلچسپی اور بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ ہم اس مضمون میں مسئلہ کشمیر سے متعلق چین کے نقطہ نظر کا بھی ذکر کریں گے۔ نیز کشمیر کے بارے میں مختلف حوالوں سے چین کے موقف کو اپنے قارئین کے سامنے پیش کریں گے۔مسئلہ کشمیر اور چین کا کردار

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک خصوصی نشست(1)

پاکستان میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم 5 فروری یوم کشمیر کے عنوان سے منایا جاتا ہے۔ یہ دن منانے کا اعلان جماعت اسلامی کے سابق امیر اور ملی یکجہتی کونسل کے سابق صدر قاضی حسین احمد مرحوم نے 5 جنوری 1989ء کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ اس اعلان کے بعد پنجاب کے اس وقت کے  وزیراعلیٰ میاں محمد نواز شریف اور سابق وزیراعظم پاکستان بے نظیر بھٹو نے اس اعلان کی تائید کی۔ پہلا یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری 1989ء کو منایا گیا جبکہ 1990ء میں تمام تر سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پوری قوم اور کشمیریوں نے یوم یکجہتی منایا۔ اب گذشتہ 31 برسوں سے پاکستانی قوم اور دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانی و کشمیری شہری 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے عنوان سے مناتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک خصوصی نشست(1)