Skip to content

افغانستان میں نئی عبوری حکومت اور خدشات(2)

طالبان نے افغانستان کے امور کو چلانے کے لیے اپنی 34 رکنی کابینہ کا اعلان کر دیا ہے، جس کا تعارف گذشتہ قسط میں پیش کیا گیا۔ اس کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے دنیا بھر میں جو اعتراض اٹھا، یہی تھا کہ اس کابینہ میں افغانستان کے تمام لسانی، علاقائی اور مذہبی گروہوں کو نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ یہ حکومت عبوری دور کے لیے ہے۔ طالبان کا یہ موقف رہا ہے کہ ہم افغانستان میں ایسی حکومت تشکیل دیں گے، جس میں افغانستان کی تمام قومیتوں، مسالک اور گروہوں کی نمائندگی ہوگی۔

حکومت طالبان اور شیعیان افغانستان

گذشتہ دنوں شوریٰ علمائے شیعہ افغانستان کا تین روزہ اجلاس منعقد ہوا، جس کے اختتام پر ایک چودہ نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ اسی دوران میں افغانستان میں طالبان حکومت کی طرف سے عبوری کابینہ کا اعلان ہوا۔ علمائے شیعہ کے اعلامیے کو پڑھ کر واضح ہوتا ہے کہ شیعہ اس نئی حکومت کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور طالبان سے ان کی توقعات اور مطالبات کیا ہیں۔ اسے سامنے رکھ کر طالبان حکومت اور شیعیان افغانستان کے مستقبل کے تعلقات کے بارے میں کچھ رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ماضی میں طالبان اور شیعوں کے تعلقات اچھے نہیں رہے۔ اسی طرح ایران کے تعلقات بھی طالبان کے ساتھ تلخ ہی رہے ہیں، دونوں کے ایک دوسرے کے بارے میں شدید قسم کے جذبات پائے جاتے تھے۔ افغانستان میں گزرنے والے بیس سالہ دور نے طالبان اور شیعہ دونوں کو ایک دوسرے کے لئے تبدیل کر دیا ہے۔

افغانستان میں نئی عبوری حکومت اور خدشات(1)

افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضے کے 23 دن بعد افغان طالبان کے ترجمان نے وزیراعظم اور ان کے دو معاونین سمیت طالبان کی 34 رکنی عبوری کابینہ اور حکومت کا اعلان کیا، جس میں 20 وزراء اور سات نائب وزراء شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فوج اور افغان مرکزی بینک کے سربراہ سمیت حکومت کے ڈائریکٹر برائے انتظامی امور کا بھی تقرر کیا گیا ہے۔ ان 34 عہدوں میں تین افراد کے علاوہ تمام پشتون النسل مرد افغان ہیں اور کابینہ میں کسی خاتون کو شامل نہیں کیا گیا۔ طالبان کی اس نئی حکومت اور کابینہ میں 15 افراد کا تعلق جنوبی افغانستان سے، 10 کا جنوب مشرقی، پانچ کا مشرقی اور تین کا شمالی افغانستان سے ہے۔ ملا ہبت اللہ اخونزادہ کو افغان حکومت میں رہبر یا امیر المومنین کی حیثیت حاصل ہے جبکہ ملا حسن اخوند افغانستان کے نئے وزیراعظم، ملا عبدالغنی برادر اور مولوی عبدالسلام حنفی کو نائب وزرائے اعظم مقرر کیا گیا ہے۔

9/11 کمیشن رپورٹ اور پاکستان

منگل گیارہ ستمبر 2001ء موجودہ صدی کا ایک اندوہناک دن تھا۔ ظاہراً تو اس روز دو امریکی عمارتیں جن کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، القاعدہ کے ایک فضائی حملے کے نتیجے میں زمین بوس ہوئیں، جس میں جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 2996 تھی، تاہم اس حملے کے اثرات پوری دنیا میں دیکھنے کو ملے۔ عراق، افغانستان اور پاکستان تو آج بھی اس حملے سے اثرات سے گذر رہے ہیں، حالانکہ ان ممالک کا ایک بھی شہری ان حملوں میں ملوث نہ تھا۔ آج دنیا 9/11 کو یاد کرتی ہے، تاہم کسی کو 10/7 جب امریکی افواج 2001ء میں افغانستان میں داخل ہوئیں اور 3/20 جب امریکی فوجیں 2003ء میں عراق میں داخل ہوئیں، کسی کو یاد نہیں ہے۔ اگر جانی اور مالی نقصان کے لحاظ سے دیکھا جائے تو عراق اور افغانستان میں ہونے والا نقصان امریکہ میں ہونے والے جانی و مالی نقصان سے بہت زیادہ ہے۔ اس حملے کے حوالے سے بہت سی تھیوریز اور حقائق سامنے آئے، جو وقت کے ساتھ ساتھ غائب ہوگئے یا غائب کر دیئے گئے۔

مرحوم سید علی گیلانی کی یاد میں نشست

دورہ ایران کے موقع پر جناب سید ثاقب اکبر نے پاکستانی اور کشمیری طلاب کی جانب سے سید علی گیلانی مرحوم کی رحلت کی نسبت منعقد کی گئی ایک نشست میں شرکت کی اور خطاب کیا ۔ اجلاس کی نظامت کے فرائض سید حیدر نقوی نے انجام دیئے۔ اجلاس سے خصوصی خطاب محترم سید ثاقب اکبر نقوی نے کیا۔ موصوف چیئرپرسن البصیرہ پاکستان ہونے کے ساتھ ساتھ ملی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل بھی ہیں۔

سید علی گیلانی آزادی و حریت کی ایک توانا آواز

سید علی گیلانی کی رحلت فقط مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام حریت پرست انسانیت کے لیے ایک سانحہ ہے، یہ ایک بہت بڑے شخص کا سانحہ ارتحال ہے۔ 92 برس کی زندگی میں سید علی گیلانی نے 14 برس کی باقاعدہ قید کاٹی اور 12 برس سید علی گیلانی گھر میں نظر بند رہے، جو ایک طرح کی قید ہی ہے۔ پس آزادی اور بڑے انسانی مقاصد کی خاطر قید رہنے والے افراد میں سید علی گیلانی کا ایک بڑا نام ہے۔:
سید علی گیلانی اپنے بڑے ہدف اور مقصد کی خاطر تقریباً 26 برس قید رہے۔

افغانستان کا معمہ اور عربوں کی چپ

افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، طالبان کا بدلا ہوا رویہ اور اسلامی ممالک بالخصوص عرب دنیا جو کہ سوویت یونین کے افغانستان پر حملے اور امریکہ کے جہاد افغانستان میں فعال کردار کے وقت سے افغان امور میں دخیل تھی، اس کی خاموشی، ایسے امور ہیں، جس نے حالات حاضرہ اور بالخصوص خطے کے مسائل میں دلچسپی لینے والے اذہان کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کو اس وقت تک یہ سمجھ نہیں آرہی ہے کہ اچانک کیسے طالبان نے پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا اور وہاں موجود عوامی حکومت کیسے ایک دم سے زمین بوس ہوگئی۔ امریکہ اور نیٹو کی تربیت یافتہ فوج اپنے جدید ترین ہتھیار زمین پر رکھ کر چلتی بنی اور طالبان نے دنوں میں پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا۔ آیا یہ طالبان کا خوف ہے یا اس کے پیچھے کچھ اور وجوہات بھی ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور چند دیگر ممالک کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کی تربیت یافتہ افواج کسی کرپٹ نظام کے لیے نہیں لڑ سکتی تھیں۔ لہذا افغانستان طالبان کے سامنے لمحوں میں زیر ہوگیا۔

اپ ڈیٹڈ طالبان، ایرانی پریس اور بی بی سی کا تجزیہ

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کا کہنا ہے کہ ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ اور اکثر جرائد، رسائل اور ٹی وی چینلز پر طالبان کی ایک معتدل تصویر پیش کی جا رہی ہے۔ ان کے خیال میں نشر و اشاعت کے کئی ادارے تو طالبان کو ایرانی عوام کو اپنا حامی بنانے اور اپنی صفائیاں پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ طالبان حکام ایرانی نشریاتی اداروں کو مسلسل انٹرویوز دے رہے ہیں اور کم از کم دو مواقع پر طالبان کے رہنماؤں کے انٹرویو براہ راست نشر کیے گئے ہیں، جن میں وہ ایران کے عوام کو اس بات پر قائل کرتے نظر آئے کہ انھوں نے ماضی کی اپنی روش کو ترک کر دیا ہے۔ کیہان اور پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے اخبار جوان کے بارے کہا جا رہا ہے کہ یہ دونوں ادارے اِس بات کا پرچار کر رہے ہیں کہ طالبان بدل گئے ہیں۔

ٹی وی چینلز پر انٹرویو

البصیرہ کے دانشور اور تجزیہ نگار مختلف امور پر ملکی و بین الاقوامی ٹی وی چینلز پر تجزیات پیش کرتے رہتے ہیں ۔ اس ماہ بھی جناب ثاقب اکبر ، سید اسد عباس نے سحر ٹی وی پر مختلف سیاسی مسائل پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا علاوہ ازیں جناب ثاقب اکبر نے محرم الحرام کی مناسبت سے بھی کئی ایک ٹی وی چینلز پر پروگرام ریکارڈ کروائے اور انٹرویو دیئے ۔

افغانستان عالمی طاقتوں کا قبرستان کیوں ہے؟

دنیا کی کوئی بھی طاقت افغانستان میں امن و استحکام نہیں لا سکتی، جو کہ تاریخ میں عالمی قوتوں کے قبرستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ الفاظ ہیں عالمی طاقت امریکہ کے صدر کے، جن کی ریاست بیس برس افغانستان میں خرچ کرکے یہاں سے چلتی بنی ہے۔ پاکستان کے لکھاری عدنان خان کاکٹر اس نظریئے کے خلاف ہیں، وہ کہتے ہیں کہ تاریخ انسانی کی پہلی بڑی سلطنت ایرانی بادشاہ سائرس (کوروش اعظم) کی تھی۔ اڑھائی ہزار سال پہلے وہ پہلا بادشاہ تھا، جس نے شہنشاہ کا لقب اختیار کیا یعنی شاہوں کا شاہ۔ افغانستان سائرس کی ہخامنشی سلطنت کا ایک صوبہ تھا۔ اسی طرح سکندر اور اس کے بعد اس کے مشرقی جانشین سلیوکس اور دیگر یونانی بادشاہوں نے طویل عرصے تک افغانستان پر حکومت کی۔ چندر گپت موریہ اور اس کے جانشین موجودہ افغانستان ٹیکسلا اور پاٹلی پتر کے موریہ پر حاکم تھے۔ ساسانی بادشاہ بھی افغانستان پر قابض رہے۔ اموی دور حکومت میں افغانستان کا علاقہ خراسان میں شامل تھا۔ سمرقند اور بخارا کے سامانی بادشاہ افغانستان پر قابض رہے، ان کا ترک گورنر الپتگین اس وقت غزنی کا حاکم تھا، جو خود مختاری کا اعلان کر دیتا ہے۔ یوں غزنوی سلطنت قائم ہوئی۔

افغانستان، امریکہ کی تربیت یافتہ ایک اور فوج کا عبرتناک انجام

یکم جون 2021ء کو افغانستان میں طالبان نے اپنی نئی معرکہ آرائی کا آغاز کیا۔ 8 جون کو اسلام ٹائمز پر شائع شدہ اپنے ایک کالم ’’طالبان کی مسلسل پیش قدمی اور افغانستان کا مستقبل‘‘ میں ہم نے لکھا تھا: ’’گذشتہ چند دنوں میں افغانستان میں طالبان نے پے در پے فتوحات حاصل کی ہیں۔ انھوں نے بہت سے چھوٹے بڑے قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ سرکاری فوجیں پسپا ہو رہی ہیں۔ کابل میں ایک تشویش و اضطراب کا عالم ہے۔ برسراقتدار سیاستدان اپنے حامیوں میں اسلحہ تقسیم کر رہے ہیں۔ انھیں کسی بھی وقت توقع ہے کہ طالبان کابل کا محاصرہ کر لیں گے۔ اگرچہ طالبان نے ابھی تک بڑے شہروں میں سے کسی پر قبضہ نہیں کیا، لیکن سرکاری فوجوں کی جو نفسیاتی کیفیت سامنے آرہی ہے، اس کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ وہ کسی بڑی جنگ کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔ وہ حکومتی عہدیدار جو پشتون قبائل سے تعلق رکھتے ہیں، ان کی ہمدردیاں طالبان کے ساتھ دکھائی دیتی ہیں۔‘‘