سید اسد عباس
دین اسلام ! یعنی سلامتی ، امن و آشتی ، رواداری، ایفائے عہد اوراحترام انسانیت و فلاح آدمیت کا دین ۔ اس دین کے بارے میں یہ تصوربھی عام ہے کہ’’ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا‘‘ ۔یہ دعوی دشمنوں کے ساتھ ساتھ دوست بھی بڑے زور و شور سے کرتے ہیں ۔ بعض اکابر کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے یہ واضح طور پر کہا جاتا ہے کہ ان کی سلطنت فلاں فلاں مقام تک پھیلی ۔ حالانکہ تاریخ اسلام ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں دین کو اخلاقی برتری ، اعلی کردار اور حسن عمل کے ذریعے پھیلایا گیا۔ نبی کریم ؐ نے اپنی مکی زندگی کے ابتدائی برس نہایت مشکل حالات میں گزارے ۔آپ کے اصحاب و انصار کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آکر دیار غیر کی جانب ہجرت کرتے رہے۔ بعض اصحاب رسول ؐ نے کفار کے ہاتھوں جام شہادت نوش کیا تاہم کبھی صبر، اعلی انسانی اخلاق اور اصولوں کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹا ۔مدنی زندگی میں بھی حسن تعامل کو شعار بناتے ہوئے مدنی قبائل جنہوں نے اسلام کی دعوت کو قبول نہ کیا کے ساتھ معاہدے کیے گئے۔
کوئی شخص اگر کہے کہ مکہ میں چونکہ طاقت نہ تھی اس لیے تلوار نہ اٹھائی تو یہ درست نہیں کیونکہ مدینہ میں جب طاقت و قوت نیز اقتدار سب کچھ حاصل ہو چکا تب بھی کسی کو زبردستی دائرہ اسلام میں نہ لایا گیا ۔ دعوت اسلام ضرور دی گئی جس نے دعوت کو قبول کیا وہ مسلمانوں کا بھائی بنا اور جس نے دعوت کو رد کیا اسے اس کے دین سے روکا نہ گیا۔رسالت ماب ؐ کی زندگی میں مسلمانوں نے جب بھی تلواراٹھائی اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کے لیے اٹھائی ۔ اسلام کی امن پسندی کا ایک اہم واقعہ صلح حدیبیہ ہے۔ رسالت ماب ؐ نے طاقت و قوت ہونے کے باوجود کفار مکہ سے صلح کی اور اپنے ارادہ حج کو ایک سال کے لیے موخر کر دیا ۔بعض صحابہ کو یہ عمل گراں گزرا تاہم امن و آشتی کو ایک موقع دینے کے لیے رسالت مآب واپس عازم مدینہ ہوئے۔ اس معاہدے میں یہ قرار پایا کہ کوئی مکی اگر اسلام قبول کرلے اور مکہ والے اس کا تقاضا کریں تو مسلمان اسے اہل مکہ کے سپرد کرنے کے پابند ہیں ۔ رسالت مآب ؐ نے فی الفور اس معاہدے پر عمل کرتے ہوئے ایک مکی مسلمان کو اہل مکہ کے سپرد بھی کیا ۔
وقت نے ثابت کیا کہ رسول اکرم ؐ کا یہ اقدام کس قدر برکات کا حامل ہے۔رفتہ رفتہ مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ۔ نوبت فتح مکہ تک جا پہنچی ۔ کہا تو اسے فتح مکہ جاتا ہے تاہم یہ ایسی فتح ہے جس میں کسی بے گناہ کو گزند نہ پہنچایا گیا ۔ معافی کی عام دعوت دی گئی ۔ شقی ترین دشمنوں کے گھروں کو جائے امان قرار دیا گیا ۔اپنے اعزاء و اقرباء کا خون معاف کیا گیا ۔ فتح مکہ تاریخ انسانیت کا وہ عظیم واقعہ ہے جس کی مثال ڈھونڈنے سے نہیں ملتی ۔ کہتے ہیں کہ انسان باہمی جنگ و جدال میں اب تک کروڑوں انسانوں کو قتل کر چکا ہے۔جس میں زیادہ قتل جنگوں کے دوران کیے گئے، جب بھی کوئی فاتح اپنے مفتوحہ علاقوں میں وارد ہوا تو ساکنین کی زندگیاں فاتح افواج کے رحم و کرم پر رہیں ۔ تاریخ انسانیت کا یہ واحد فاتح ہے جو مفتوحین کے لیے امن اور معافی کا پیغام لے کر آیا۔تاریخ اسلام کے عظیم واقعات میں سے ایک اہم واقعہ نجران کے مسیحی راہبوں سے مناظرہ اور مباہلہ کا واقعہ ہے۔
نجران مکہ و یمن کے درمیان واقعہ ایک شہرہے جس میں رسالت ماب کے زمانے میں37 بستیاں تھیں۔صدر اسلام میں وہاں عیسائی مذہب رائج تھا۔نجران کا کلیسا سلطنت روم کے زیر اثر تھا ۔ اس کلیسا کو بیت اللہ کے مقابلے میں’’ کعبہ نجران ‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔اس کلیسا سے بہت سے اہل علم وابستہ تھے۔یہ علاقہ جزیرۃ العرب کا ویٹیکن تھا۔ نجران کا حاکم ’’عاقب‘‘ جس کی کنیت ’’ابو حارثہ‘‘تھی اس کلیسا کا اسقف بھی تھا۔اعلان رسالت کے بعد نجران کے لوگوں نے توریت اور انجیل میں پڑھی ہوئی بشارتوں کے پیش نظر اسلام کے حوالے سے تحقیق کا آغاز کیا۔
نجران کے مسیحی تین مرتبہ رسالت مآب ؐ کے پاس آئے ایک گروہ ہجرت سے پہلے مکہ آیا اور دو دفعہ نجران کے مسیحی ہجرت کے بعد مدینہ میں آئے۔نجران کے مسیحی علماء کا پہلا گروہ مکہ مکرمہ میں پیغمبر اکرمؐ سے بیت اللہ کے پاس ملااور وہیں مناظرے کا آغاز کر دیا ۔رسالت مآب نے ان کی بات نہایت تحمل سے سنی اور جواب میںقرآن کریم کی چند آیات تلاوت کیں جنھیں سن کر ان لوگوں کے دل بھر آئے، اور فرط مسرت سے ان کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے اور اپنی تحقیقات میں انھیں ایسی چیزیں معلوم ہوئیں جو توریت اور انجیل سے مطابقت رکھتی تھیں جب انھوں نے یہ تمام چیزیں پیغمبر کی ذات میں دیکھیں تو مسلمان ہوگئے۔
دوسرا گروہ 9ہجری میں مدینہ آیا اسی واقعہ میں نوبت مباہلہ تک جاپہنچی۔سلاطین عالم کو لکھے جانے والے خطوط میں سے ایک خط اسقف نجران کو بھی لکھا گیااور اسے دین اسلام کی دعوت دی گئی ۔اسقف نجران کو یہ خط گراں گزرا اور اس نے اسے غصے میں پھاڑ دیا ۔اپنے حواریوں اور اہل علم سے مشاورت کے بعد اسقف نجران زعمائے قوم کے ہمراہ عازم مدینہ ہوا۔ بعض روایات میں اس وفد کی تعداد ساٹھ بتائی جاتی ہے۔ یہ وفد مسلمانوں پر رعب و دبدبہ طاری کرنے کے لیے زرق و برق لباس میں ملبوس تھا ۔ رسالت مآب ؐ اور اصحاب پیغمبر نے ان کی اس رعونت کا جواب دینے کے لیے تین روز اس وفد کی جانب توجہ نہ کی ۔ آخر کار امیر المومنین علی علیہ السلام نے وفد کے افراد کو ان کے لباس کی جانب متوجہ کیا کہ وہ اس لباس کے بغیر رسالت مآب کی خدمت میں جائیں ۔
سادہ لباس میں جب یہ وفد رسالت مآب ؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تو مسجد نبوی نجران کے مسیحیوں کا مہمان خانہ بنی۔تین روز تک یہ علماء اور وفد کے اراکین مسجد نبوی میں قیام پذیر رہے۔یہ لوگ اپنے طریقے کے مطابق عبادت انجام دیتے تھے ۔بعض اصحاب نے ان کو اس عمل سے روکنے کی کوشش کی تو رسول اکرم ؐ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا۔
قارئین کرام !ایک وہ مسجد نبوی تھی اور ایک ہماری مساجد ہیں جو دیگر مذاہب کے افراد تو ایک جانب دیگر مسالک کے مسلمانوں کے لیے بھی جائے ممنوعہ قرار پا چکی ہیں ۔ حتی یہی حرمین شریفین جہاں عیسائیوں کو رہائش اور عبادت کی آزادی دی گئی میں اب مسلمانوں کی آمد پر پابندیاں ہیں ۔ گزشتہ برس یمن کے حجاج حج و زیارات سے بہرہ مند نہ ہو سکے اور اس برس ایرانی حجاج اس سعادت سے محروم ہیں ۔
بہرحال ، تیسرے روز نجران کے وفد اور رسالت مآب ؐ کے مابین گفتگو کا آغاز ہوا یہ گفتگو کافی تفصیلی ہے جس میں جانبین کی جانب سے دلائل پیش کیے گئے۔جب علمائے نجران نے دیکھا کہ جو بھی بات کہی جاتی ہے اس کا دندان شکن جواب ملتا ہے تو وہ حضرات جو ریاست دنیا کے چکر میں اسلام لانا نہیں چاہتے تھے انھوں نے مناظرہ کو ختم کر دیا اور کہنے لگے کہ اس طرح کے جوابات ہمیں مطمئن نہیں کر رہے ہیں لہٰذا ہم آپ سے مباہلہ کرنے پر تیار ہیں یعنی دونوں طرف کے لوگ ایک جگہ جمع ہو کر خداوند عالم سے دعا اور راز ونیاز کریں اور جھوٹوں پر لعنت کریں تاکہ خدا جھوٹوں کو ہلاک کردے۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آیت مباہلہ کے نزول پر انکی اس بات کو قبول کر لیا۔
پس جو تم سے علم آنے کے بعد بھی جھگڑے تو کہہ دو آئو ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلائو، ہم اپنی عورتوں کو بلائیں اور تم اپنی عورتوں کو بلائو، ہم اپنے نفسوں کو بلائیں اور تم اپنے نفسوں کو بلائو، بعدازاں ہم خوب دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت قرار دیں۔‘‘
اکثر مورخین اور مفسرین اس بات کے قائل ہیں کہ رسالت مآب ؐ حسنین کریمین ، جناب سیدہ فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا اور امیر المومنین علی علیہ السلام کے ہمراہ مباہلہ کے لیے نکلے۔مباہلہ کے لیے نکلنے والی اس ہیئت میں بہت سے باریک نکات ہیں، جنہیں مورخین ، مفسرین اور علم کلام کے ماہرین نے بیان کیا ہے۔ایک قابل غور نکتہ یہ ہے کہ رسالت مآب امام حسین علیہ السلام کو اٹھائے ہوئے تھے اور امام حسن علیہ السلام ان کی انگلی تھامے ان کے ہمراہ چل رہے تھے ۔ یہ عمل حکمتوں سے خالی نہیں اگر حسنین کریمین ؑ کو ان کے والدین نے اٹھایا ہوا ہوتا تو لوگ اعتراض کر سکتے تھے کہ بچے والدین کے ہمراہ خود سے آگئے تاہم رسالت ماب ؐ کا ان بچوں کو خود اٹھا کر لانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ان بچوں کو ابنائنا کا مصداق بنا کر میدان مباہلہ میں لایا گیا ہے۔ایک باریک نکتہ اور وہ یہ کہ جناب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا بنت علی ابن طالب علیہ السلام چھ ہجری میں مدینہ میں پیدا ہوئیں اور بعض روایات کے مطابق جناب ام کلثوم بنت امام علی ؑ ماہ ربیع الاول 9ہجری میں متولد ہوئیں۔ اس ترتیب میں کہیں تذکرہ نہیں کہ جناب سیدہ زینب یا ام کلثوم جو بالترتیب اس وقت قریبا تین سال اور چند ماہ کی تھیںبھی ہمراہ تھیں اس کا مطلب یہ کہ اگر حسنین کریمین ؑ کو چھوڑنا ہوتا تو اپنی ہمشیرگان کے ہمراہ چھوڑا جا سکتا تھا۔
بہرحال عصر حاضر کے بعض مفسرین نے اس شکل و صورت کو قابل اعتنا نہ سمجھا اور اس کا تذکرہ ہی نہیں کیا جبکہ بعض اس ہیئت میں کوئی فضیلت نہیں دیکھتے ۔اس عنوان سے ایک تحقیقی مضمون’’آیہ مباہلہ اور برصغیر کے مفسرین‘‘ البصیرہ کے چیئرمین جناب ثاقب اکبر نے حال ہی میں تحریر کیا ہے جو پڑھنے کے لائق ہے اس مضمون میں جناب ثاقب اکبر نے برصغیر میں شائع ہونے والی مختلف تفاسیرکو سامنے رکھتے ہوئے آیہ مباہلہ کے حوالے سے مفسرین کے نقطہ نظر کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس تحقیقی مقالہ میں درج ذیل تفاسیر سے استفادہ کیا گیا ہے:
مولانا ابو محمد عبدالحق الحقانی دہلوی (م1642ء )،تفسیر فتح المنان، المشھوربہ تفسیر حقانی، مولانا سید صدیق حسن بھوپالوی(م1890ء )، ترجمان القرآن بلطائف البیان، سر سید احمد خان (م 1898ء ) تفسیر القرآن، مولانا سید احمد حسن(م1919ء )،احسن التفاسیر ،مولانا اشرف علی تھانوی(م1943ء )، تفسیر بیان القرآن، علامہ شبیر احمد عثمانی(م1949ء )، تفسیر عثمانی، مولانا مفتی محمد شفیع (م 1972ء )، معارف القرآن،مولانا سید ظفر حسن امروہوی(م تقریباً 1977ء )، تفسیر القرآن، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی(م 1979ء )، تفہیم القرآن، غلام احمد پرویز (م 1985ء )، مطالب الفرقان، علامہ سید علی نقی النقوی(م1988ء )، تفسیر فصل الخطاب، مولانا محمد ادریس کاندھلوی( م1982ء ) معارف القرآن، مولانا امین احسن اصلاحی(م1997ء )، تدبر قرآن، پیرمحمد کرم شاہ الازہری(م1997ء )، ضیاء القرآن، ذیشان حیدر جوادی(م 2000ء ) ، ترجمہ و تفسیر قرآن مجید، مولانا شیخ محسن علی نجفی(دامت برکاتہ)،الکوثر فی تفسیر القرآن۔
جناب ثاقب اکبر نے اپنے تحقیقی مقالے میں لکھا :
’سادہ سا طریقہ تو یہ تھا کہ واقعہ جیسے رونما ہوا اسے ویسے ہی مان لیا جاتا۔ اللہ اور رسولؐ نے جسے جو مرتبہ اور فضیلت بخشی اسے تسلیم کر لیا جاتا، کس نے کسی واقعے سے کیا نتیجہ نکالا اسے پیش نظر رکھ کر واقعات کی کھینچ تان ایک مومن کے شایان شان نہیں۔‘‘
بہرحال یہ بھی اس واقعہ کا ایک اہم پہلو ہے جبکہ اس واقعے کے دیگر سماجی او سیاسی پہلوئوں سے بھی صرف نظر نہیں کیا جانا چاہیے ۔یہ واقعہ اسلام کے بیان کردہ اصول تبلیغ ، مکالمہ، حسن تعامل اور برتائو کا بہترین نمونہ عمل ہے جسے آج بھی مکالمہ بین المذاہب اور بین المسالک میں اپنایا جانا چاہیے ۔
جب رسالت مآب ؐ جناب سیدہ سلام اللہ علیہا،حضرات حسین کریمین علیہم السلام اور امیر المومنین علی علیہ السلام کے ہمراہ مباہلہ کے لیے مدینہ سے میدان مباہلہ کی جانب روانہ ہوائے تو شرحبیل (عاقب کا معتمد اور نجران کا بڑا عالم )نے اپنے دوستوں سے کہا کہ خدا کی قسم ! میں وہ صورتیں دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ خدا سے دعاکریں کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو یقینا وہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے گا۔ ان سے ڈرو اور مباہلہ نہ کرو،اگر آج محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مباہلہ کروگے تو نجران کا ایک بھی عیسائی اس روئے زمین پر باقی نہیں رہے گا۔ خدا کے لئے میری یہ بات ضرور مان لو چاہے بعد میںکچھ ماننا یا نہ ماننا۔
شرحبیل کے اصرار نے نجران کے علماء کے دلوں میں عجیب اضطرابی کیفیت پیدا کر دی اور انھوں نے اپنے ایک آدمی کو پیغمبر کی خدمت میں بھیج کر ترک مباہلہ کی در خواست کی اور صلح کی التماس کی۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس گزارش کو قبول کیا اور صلح نامہ لکھا گیا جس کی عبارت حسب ذیل ہے، ایک شکست کردہ گروہ کے لیے اس قدر سہل شرائط کا حامل معاہدہ بذات خود اسلام کے تصور تقریب بین المذاہب کو بیان کرتا ہے :
یہ اللہ اور رسول اللہ ؐ کی طرف سے اہل کتاب میں سے مسیحیوں کے لیے ،جو اہل نجران کے دین پر ہیں ان کے لیے امان ہے اس کو محمدبن عبداللہ نے جو اللہ کے رسولؐ ہیں انہوں نے تمام لوگوں کی طرف لکھا ہے۔اس عہد نامہ کی شرائط کو مندرجہ ذیل نکات میں پیش کیا جا سکتا ہے :
۱۔ ان کی جان محفوظ رہے گی۔
۲۔ا ن کی زمین ،جائداد اور مال وغیرہ ان کے قبضے میں رہے گا۔
۳۔ان کے کسی مذہبی نظام میں تبدیلی نہ کی جائے گی۔ مذہبی عہدے دار اپنے اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔
۴۔صلیبیوں اور عورتوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے گا۔
۵۔ان کی کسی چیز پر قبضہ نہ کیاجائے گا۔
۶۔ ان سے فوجی خدمت نہ لی جائے گی۔
۷۔ اور نہ پیداوار کا عشر لیا جائے گا۔
۸۔ ان کے ملک میں فوج نہ بھیجی جائے گی۔
۹۔ ان کے معاملات اور مقدمات میں پوراانصاف کیا جائے گا۔
۱۰۔ان پر کسی قسم کا ظلم نہ ہونے پائے گا۔
۱۱۔ سود خواری کی اجازت نہ ہوگی۔
۱۲۔کوئی ناکردہ گناہ کسی مجرم کے بدلے میں نہ پکڑا جائے گا۔
۱۳۔ اور نہ کوئی ظالمانہ زحمت دی جائے گی۔
آپؐ نے ان کو تمام چیزوں کی ضمانت دینے کے بعد اس معاہدہ پر عمل درآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے تمام مسلمانوں کے لیے لکھا :
آپؐ کے بعد تمام مسلمانوں کے لیے اس معاہدہ کی پاسداری کرنا ضروری ہے مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاہدے کو پہچانوں اس کو تسلیم کریں اور اس کی حفاظت کریں۔ کوئی بھی حکمران یا کسی بھی حکمران کا کوئی نمائندہ اس کو توڑ نہیں سکتا اور نہ ہی اس میں کوئی تجاوز کر سکتا ہے جو اس معاہدے میں لکھ دیا گیا ہے اس کی تمام شرائط کی پیروی کی جائے گی جو کوئی اس میں لکھے کی پاسداری کرے گا اور اس عہد کو پورا کرے گا تو اس نے عہد کو پورا اور اس ذمہ داری کو ادا کیا جو رسول اللہؐ کے ذمہ تھی اور جس کسی نے بھی اس کی مخالفت کی اس کو تبدیل کیا تو اس کا بوجھ اسی کے اوپر ہو گا اس نے اللہ کی امانت میں خیانت کی اور عہدِ خدا کو توڑ دیا اور نافرمانی کی اور اللہ کے رسولؐ کی مخالفت کی ایسا شخص اللہ کے ہاں جھوٹا ہے۔
واقعہ مباہلہ اور اس سے جڑے تمام تر واقعات منجملہ اہل نصاری کی مدینہ میں آمد، اہل یہود کا جمع ہونا ، مسجد نبوی میں ان مہمانوں کی مہمان نوازی ، ان کو عبادت کا حق دینا، مدینہ میں نقل و حمل کی آزادی ، ان کے دلائل کو نہایت تحمل سے سننا اور ان کو دلیل کے ذریعے قانع کرنے کی کوشش کرنا، مناظرہ کو قبول نہ کرنے پر مباہلہ کی دعوت کو قبول کرنا ،مباہلہ سے پسپائی پر صلح نامہ کی ایسی شرائط جوفریق مخالف کے لیے قابل قبول ہوں کی تیاری،نہ صرف یہ کہ خود ان شرائط کو قبول کرنا بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے ان شرائط کی پاسداری کو لازم قرار دینا۔ یہ تمام امور اسلام کی اعلی تعلیمات کا مظہر ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ واقعہ مباہلہ سے ہادی، ہدایت اور روش حق کے حصول کے لیے اس کے مختلف گوشوں کو تحقیقی انداز سے مطالعہ کیا جائے۔ آج جب کہ شدت پسندی اور دہشت گردی اسلامی معاشرے میں رسوخ پا چکی ہے یہ واقعہ ہمارے لیے مینارہ نور ہے۔ اگر ہم نے واقعہ مباہلہ کی روش کو اپنایا ہوتا تو کبھی بھی معاشرہ شدت پسندی اور انتہا پسندی کی دلدل میں نہ دھنستا۔کبھی دیگر مذاہب کے لوگ اس اعلی الہی دین سے دور نہ ہوتے ۔ کبھی کسی غیر مسلم یا مسلمان کی گردن مذہبی اختلاف کی وجہ سے نہ کاٹی جاتی ۔ افسوس ہم نے نہ صرف مباہلہ کے ہادیوں سے صرف نظر کیا بلکہ اس واقعہ میں موجود ہدایت اور روش حق کو بھی یکسر نظر انداز کر دیا ۔ خدا وند کریم ان عظیم مناسبتوں کے طفیل امت مسلمہ کو برحق ہادیوں، ہدایت اور روش حق کی پہچان اور پیروی کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)