تحریر: سید ثاقب اکبر مرحوم
پس منظر
اثنا عشری شیعوں کے نزدیک، اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے۔ اُن کے ہاں ہر دور میں فقہا اورمجتہدین کی ایک قابل لحاظ تعداد ہوتی ہے، جن کی طرف عوام اپنے مذہبی مسائل کے لئے رجوع کرتے ہیں اور بالعموم زندہ مجتہد کی تقلید کی جاتی ہے۔ فقہا کا عمومی نظریہ ہے کہ زمان ومکان کی تبدیلی استنباط حکم اورفتویٰ پر اثر انداز ہوتی ہے ،اس لیے ہر دورمیں اجتہاد کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت ، حالات اورمکان کی تبدیلی سے اُن کے ہاں فتاویٰ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ جس فقیہ کی طرف لوگ حصولِ حکم کے لئے رجوع کرتے ہیں اسے مرجع کہتے ہیں۔ فقیہ کو احترام سے آیت اللہ کہتے ہیں اور بڑے فقہاء کو آیت اللہ العظمیٰ کہتے ہیں۔ نجف اشرف، عراق اور قم المقدسہ ،ایران میں شیعوں کے بڑے علمی مراکز موجود ہیں جنھیں’’ حوزۂ علمیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
پیش نظر مقالہ جواعضا کی پیوند کاری کے بارے میں شیعہ نقطۂ نظرکی وضاحت پر مبنی ہے، میں مذکورہ موضوع کے حوالے سے آراء کے علمی پس منظر اور ان کے ارتقا کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے نیز عصر حاضر کے چند جیّد فقہاکے فتاویٰ اور علمی نظریات بھی پیش کیے گئے ہیں۔
فقہی احکام میں تغیر وارتقا
فقہی نقطہ نظرسے اعضا کی پیوند کاری نسبتاًایک نئی بحث ہے۔ جوں جوں جراحی اور میڈیکل سائنس نے ترقی کی ہے اس حوالے سے نئے موضوعات پیدا ہوتے رہے ہیں۔ تاریخ اسلام کے مطالعے سے ایسی مثالیں سامنے آتی ہیں جن سے معلوم ہوتاہے کہ ماضی میں بھی گاہے گاہے مختلف صورتوں میں یہ مسئلہ زیر بحث آتا رہا ہے مثلاًانسانی گوشت کی پیوند کاری ، انسانی دانت کی جگہ کسی جانور کا دانت لگایا جانا یا علاج معالجہ کے نقطۂ نظر سے کسی کے خون سے استفادہ کرنا۔ کٹے ہوئے اعضا کے جوڑے جانے کی مثالیں بھی پیش آتی رہی ہیں۔البتہ یہ مباحث محدود رہی ہیں جبکہ عصر حاضر میں یہ بحث نئی تفصیلات کے ساتھ خاصی وسیع ہوگئی ہے۔ نتیجۃً نئے استفتاء ات اور نئے فقہی مباحث سامنے آتے رہے ہیں۔ عالم اسلام کے دیگر مکاتب کی طرح شیعہ علمی حلقوں میں بھی جدید تقاضوں کو سمجھنے والے فقہا کورجعت پسندی کے مقابلے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے اور علم فقہ کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کے لئے ہر دور میں روشن فکر فقہا کو طرح طرح کی آزمائشوں سے گزرنا پڑا ہے۔ البتہ خود اس امر کا اذعان اورقبولیت کہ باب اجتہاد ہر دور میں کھلا ہے، ان کے لئے مدد گار رہاہے ۔ زیر بحث موضوع بھی شیعہ علمی حلقوں میں خاصا معرکۃ الآراء رہا ہے اوراب بھی ہے۔ اس سلسلے میں اہم پہلو یہ ہے کہ گذشتہ زمانے میں احکام کی نوعیت، پس منظر اور سبب سمجھنے کی ضرورت ہے اوردور حاضر میں جو تبدیلیاں اور ضرورتیں پیدا ہورہی ہیں ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ جوں جوں یہ امورکسی فقیہ پر آشکار ہوتے چلے جاتے ہیں اس کے لیے عصری تقاضوں کے مطابق اظہارنظر اُتنا ہی آسان ہوتا چلا جاتا ہے۔ تاہم حرفیت پسندی کی روایت بھی اپنا اثر رکھتی ہے۔ اس میں علماء کا مقصد تو قدیم متون کے ظواہر کا تحفظ ہی ہوتا ہے لیکن ظواہر کے پیچھے موجود علل واسباب اورمقاصد تک نگاہ نہ پہنچے تو نتیجہ جمود کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔
موضوع میں تبدیلی کے نتیجے میں حکم میں تبدیلی
زیرنظر موضوع کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لینے سے پہلے ضروری ہے کہ موضوعاتِ احکام میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کی نوعیت کو جان لیا جائے۔ موضوعاتِ احکام میں تبدیلی کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔
1۔ ماہیت میں تبدیلی:کبھی ایسا ہوتا ہے کہ حکم شرعی کے موضوع کی ماہیت ہی تبدیل ہوجاتی ہے۔ جب چیز ہی بدل جائے تو حکم کی تبدیلی بالکل واضح ہے۔ یہ مسئلہ علماء کے لئے گذشتہ دور میں بھی واضح رہا ہے۔ مثلاً شراب کا سرکہ میں تبدیل ہوجانا یا کسی کتّے کے بدن کاطویل عرصے تک نمک کی کان میں رہ جانے کی وجہ سے نمک بن جانا۔ بقول شاعر:
؎ ہر کہ در کانِ نمک رفت نمک شد
فقہ میں اس موضوع کو ’’استحالہ‘‘ یا ’’انقلاب‘‘ کے زیر عنوان بیان کیا جاتا ہے۔
2۔ کارکردگی میں تبدیلی: گاہے یوں ہوتا ہے کہ موضوع میں عرفی یا طبیعی اعتبار سے توکوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی لیکن اس کی اجتماعی کارکردگی میں تحوّل پیدا ہوجاتا ہے۔ گویا کسی چیز کے سماجی کردار(Social Function) میں تغیر پیدا ہوجاتا ہے۔ کبھی یہ ہوتا ہے کہ موضوع کا گذشتہ کردار مکمل طور پر تبدیل ہوجاتا ہے اوروہ نیا کردار پیدا کر لیتا ہے اورگاہے یہ ہوتا ہے کہ اس کا گذشتہ کردار بھی باقی رہتاہے لیکن کوئی نیا کردار بھی پیدا کر لیتا ہے ۔مثال کے طور پر فقہی نقطۂ نظر سے خون کی خرید وفروخت حرام ہے۔ اکثر فقہا نے اسے کسی عقلائی حلال منفعت کے نہ ہونے اورنجس ہونے کی بنا پر حرام جاناہے کیونکہ بہت سی روایات سے عین نجس اشیا کی حرمت ظاہر ہوتی ہے۔ تاہم موجودہ زمانے میں خون کی کارکردگی میں تبدیلی پیدا ہوگئی ہے۔ انسانوں کی جان بچانے یا بیمار کی بحالی ٔ صحت کے لئے، اس سے محفوظ طریقے سے استفادہ ممکن ہوگیا ہے۔ گویا اس کے استعمال اور خرید وفروخت کے لئے عقلائی حلال منفعت پیدا ہوگئی ہے۔ ایسی صورت میں اس کے بارے میں فقہی حکم میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے۔
مُردوں کے اعضا بدن سے استفادہ بلکہ زندہ افراد کے بعض اعضا سے استفادہ بھی عصر حاضر میں موضوع کی کارکردگی میں تبدیلی کی ایک مثال ہے۔
چند فقہی مباحث
1) عضو کی نجاست
اعضاء کی پیوند کاری کے عدم جواز کی بنیادی دلیل یہ پیش کی گئی ہے کہ چونکہ کسی زندہ انسان کو لگایا جانے والا عضو مردہ اورنجس ہوتا ہے اس لئے اس کے ساتھ نماز پڑھنا درست نہیں ہے۔ اس استدلال کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ بدن کے کٹے ہوئے ٹکڑے یا عضو کا پیوند جب کسی زندہ انسان کے ساتھ کیا جاتا ہے تو وہ بھی زندہ ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اس کی نجاست کا سوال ہی ختم ہوجاتا ہے۔ رہ گیا اُس کی پیوند کاری اورحیات کا درمیانی عرصہ تو فقہا نے اس دورانیے میں بھی اضطرار اور ضرورت کی دلیل کی بنا پر نماز کو درست قرار دے دیا ہے۔اس کی مثالیں آئندہ سطور میں دی گئی ہیں۔
2) حدیث’’لاضررولاضرار‘‘
نبی کریمؐسے یہ حدیث متعدد ذرائع سے منقول ہے: ’’لا ضرر ولا ضرار فی الاسلام ‘‘ ۱
اس کی روشنی میں فقہا نے عمل استنباطِ حکم میںایک ’’قاعدہ لاضرر‘‘ اختیار کررکھا ہے۔ زیر بحث موضوع میں چونکہ کسی زندہ انسان کا دوسرے کو اپنا عضو دینا اُس کے لئے باعث ضرر ہے، اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اس حدیث کی روشنی میں ڈاکٹر کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی کا عضوکاٹ کر یا جدا کرکے دوسرے کو لگائے۔
آیت اللہ العظمیٰ خوئی کا نظریہ ہے کہ ایسی احادیث دوسرے کے اضرار یا ضرر پہنچانے سے منع کرتی ہیں ،انسان کے اپنے بارے میں نہیں ہیں۔ لہٰذا ان کے نظریے کو اختیار کیا جائے تو کوئی شخص اپنا کوئی عضو ضرورت مند بیمار کودے سکتا ہے اوراس کا عمل حرام نہیں ہوگا۔
البتہ یہاں پر’’الناس مسلّطون علی انفسھم واموالھم‘‘ ۲ ۔ یعنی لوگوں کو اپنی جانوں اورمالوں پراختیارحاصل ہے کے قانون سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
نیز زیربحث مسئلے میں ایک طرف ایک نفسِ محترمہ کی جان بچانا یا اسے کسی بہت بڑے نقص یا ضرر سے بچانامقصود ہے ، بشرطیکہ عضو دینے والے کی جان خطرے میں نہ ہو اور اسے کسی بڑے نقصان کا بھی اندیشہ نہ ہوتو پھر یہ قاعدہ لاضرر کامورد نہیں رہتا۔ خاص طور پر جب قرآن کا یہ حکم پیش نظر رکھا جائے کہ ایک انسان کی جان بچانا گویا تمام انسانوں کی جان بچانا ہے۔۳
3) فاسد عضو تبدیل کرنے کے لیے
اگر کسی انسان کا عضو اس لیے حاصل نہ کیا جائے کہ اس سے دوسرے انسان کی جان بچتی ہو بلکہ اس کا مقصد فقط کسی دوسرے شخص کے بدن کے خراب حصے کو تبدیل کرنا یا بدصورتی کو خوبصورتی میں تبدیل کرنا ہوتو اس میں فقہا کے نزدیک اتنی بڑی مصلحت نہیں ہے اور حرمتِ اضرار کی دلیل یہاں پر باقی رہتی ہے۔
4) دماغی موت (Brain Death)
کیا دماغی موت انسان کی حقیقی موت سے عبارت ہے، یہ مسئلہ فقہی مباحث سے پہلے سیاسی ،قانونی اورطبی دنیا میں زیر بحث رہا ہے۔ مسلمانوں کے علاوہ دیگر ادیان کے ماننے والوں نے بھی اسے آسانی سے قبول نہیں کیا۔ دماغی موت کو حقیقی موت تسلیم کرنے میں سب سے زیادہ آرتھوڈاکس یہودیوں نے لیت ولعل کیا ہے۔ یہ موضوع 1960کی دہائی میں زیادہ زیر بحث آنا شروع ہوا۔ امریکہ میں 1981میں ایک رپورٹ شائع ہوئی جو آخر کار Uniform Determination of Death Actکی بنیاد بنی جس میں دماغی موت کو قانونی موت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔۴؎ تقریباً اسی زمانے میں دیے گئے امام خمینی کے فتاویٰ سے ظاہرہوتا ہے کہ انھوںنے دماغی موت کو حقیقی موت کے طور پر قبول کرلیا ہے تاہم چونکہ اُن کا اپنا شعبہ فقہ ہے لہٰذا’’دماغی موت‘‘ کی حقیقت کی تشخیص کی ذمہ داری انھوںنے اس شعبے کے متخصصین (Specialists) کے ذمہ لگا دی ہے۔البتہ اس سلسلے میں شیعہ فقہا میں اختلاف باقی ہے۔ اس کی بعض جزئیات میں بھی اختلاف ہے لیکن عصر حاضر کے بیشتر مراجع نے دماغی موت کو ایک حقیقت سمجھتے ہوئے استفتاء ات کے جوابات دیے ہیں اورایرانی حکومت نے اس حوالے سے باقاعدہ قانون سازی کردی ہے۔ اس موت کوحقیقی جانے بغیر اپنی موت کے بعد کے لئے جن افراد نے اپنے اعضا کے عطیے کی وصیت کی ہے یا رضا مندی کا اظہار کیا ہے، اُن کی وصیت یا رضا مندی پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکتا۔
عصر حاضر کے اہم فقہا کا نقطۂ نظر
اس مرحلے پر ہم عصر حاضر کے چند اہم شیعہ فقہا کا نقطہ نظر اعطائے اعضا کے حوالے سے پیش کرتے ہیں۔بہت سے اہم فقہا بالعموم انسانی جان یا کسی مسلمان کی جان بچانے کے لئے مردہ یا زندہ انسان کے اعضا کا عطیہ دینے کے جواز کے قائل ہیں بشرطیکہ عطیہ دینے والے زندہ انسان کی جان محفوظ رہے اور اُسے کوئی قابل لحاظ نقصان نہ ہو۔ بہر حال اس مسئلے کی تفصیلات ہیں اورفتاویٰ میںبھی قدرے اختلاف موجود ہے جبکہ ایسے فقہابھی موجود ہے جن کی شرائط نہایت سخت ہیں اورانھیں دوسری رائے کا حامل قرار دیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ان میں سے چند ایک کی فقہی آرا پیش کی جارہی ہیں۔
(1 امام خمینی
امام خمینی نے زیر بحث موضوع کے مختلف پہلوئوںکے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے ہیں۔ ہم ذیل میں چند ایک سوالات وجوابات نقل کررہے ہیں۔
سوال نمبر1: آج کی دنیا میں دماغی موت ایک قبول شدہ امر ہے۔ اگر ایک شخص کے بارے میں مخصوص معائنوں اور تجربوں کے نتیجے میں یہ بات مسلم ہوجائے کہ اُس کی دماغی موت واقع ہوچکی ہے اوراس کی زندگی کا خاتمہ ہوچکا ہے اور اس کی فیزیکل زندگی مصنوعی تنفس کی مشین اوردوائیوں کے سہارے باقی ہے جبکہ اس کے دل،جگر جیسے اعضا مریضوں کے کام آسکتے ہیں اور ان کی جان بچانے کے لئے ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ ایسے میں آپریشن کرنے اورجن افراد کی دماغی موت مسلم ہوچکی ہو اُن کے اعضا حاصل کرنے کے بارے میں اپنی رائے بیان فرمائیے۔
جواب: مذکورہ صورت میں جب دوسرے انسان کی زندگی اس پر موقوف ہو تو جس انسان کا دل ،گردہ یا کوئی عضو ہے، اس کی اجازت سے ایسا کرنا جائز ہے[یعنی اُس کی موت سے پہلے اُس کی اجازت حاصل کی گئی ہو یا اُس نے وصیت کی ہو]۔۵
سوال نمبر2: کسی میت کے بارے میں شک ہوکہ مسلمان ہے یا کافر اوراسے مسلمان قرار دینے کی کوئی صورت نہ ہو تو کیا اُس کے بدن کا چیرپھاڑ جائز ہے یا نہیں؟
جواب: کوئی حرج نہیں۔
سوال نمبر3: معمول ہے کہ ایسے اشخاص جن کے گردے یا دیگر اعضا فاسد ہوجائیں کوئی دوسرا شخص اپنے جسم کا عضو انھیں دے دیتا ہے۔ کیا کوئی شخص اپنا ایک گردہ ،ایک آنکھ یا کوئی عضو جو اُس کے پاس دو دوہیں ،کسی دوسرے کودے سکتا ہے یا نہیں؟
جواب: اگر دوسرے شخص کی زندگی اس پر منحصر ہو اورعطا کرنے والے کی جان کو بھی کوئی خطرہ نہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔۶
(2 آیت اللہ محسن حکیم طبا طبائی
بیسویں صدی کے وسط میںآیت اللہ محسن الحکیم طبا طبائی شیعوں کے سب سے بڑے مرجع رہے ہیں۔اُن کا مرکز نجف اشرف (عراق )تھا۔ زیر بحث موضوع پراُن کے افکار کا خلاصہ یہ ہے:
(i) زندہ انسان کے لیے ضروری ہو تو مردہ شخص کے بدن کے اعضا حاصل کرکے اُسے لگانے میں کوئی مانع نہیں ہے۔
(ii) اگر کسی مردہ شخص کا کوئی عضو کسی زندہ انسان کے ظاہر بدن کو لگادیا جائے اوراس میں حیات پیدا ہوجائے تو وہ اس زندہ انسان کے بدن کا حصہ قرار پائے گا۔اس میں حلولِ حیات سے پہلے وہ شخص نماز میں اسے ساتھ رکھنے میں چونکہ مضطر ہے اس لیے احکام ضرورت جاری ہوں گے [اوراس کی نماز درست قرارپائے گی]۔
آیت اللہ حکیم کے نزدیک یہی صورت حیوان بلکہ نجس العین حیوان کے عضو کی بھی ہے جس کا کسی ضرورت مند انسان کو پیوند لگا دیا جائے۔
اس مسئلے میں امام خمینی کا بھی یہی نظر یہ ہے۔
(iii) اگر کوئی وصیت کرے کہ میری موت کے بعد مثلاً میری آنکھ نکال کر دوسرے شخص کو دے دینا تو اس کی وصیت پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ۷
(3 آیت اللہ سید ابو القاسم خوئی
آیت اللہ خوئی امام خمینی کے ہم عصر عظیم ترین شیعہ فقہا میں شمار ہوتے ہیں۔وہ نجف اشرف میں مقیم تھے ۔زیر بحث موضوع پر اُن سے کئے گئے سوالات اور اُن کے جوابات ملاحظہ کیجیے ۔
سوال: دماغی موت کے بعد قلب کی موت سے پہلے کیا کسی بدن کی چیر پھاڑ جائز ہے جبکہ کسی کی جان بچانے کے لئے ایسا کرنے کی ضرورت ہو۔ اگر اس شخص نے پہلے سے اس کی وصیت کردی ہوتو کیا حکم ہے ؟ اولیاء کی اجازت سے حصول عضو کی خاطر ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: ضرورت شرعیہ کے بغیر جسم کی چیر پھاڑ جائز نہیں۔صاحبِ بدن نے زندگی میں وصیت کی ہو تو اس کی وصیت کی حدود میں زندوں کے لیے اُس کے اعضا سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
سوال: پیوند کاری کے لئے زندہ انسان کے اعضا مثلاً ایک گردہ، ایک آنکھ اور خون کی خریدوفروخت کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب: جائز ہے اور کوئی مانع نہیں لیکن اعضائے رئیسہ مثلاً آنکھ کونہیں بیچا جاسکتا۔۸
(4 آیت اللہ خامنہ ای
آپ امام خمینی کے جانشین اورمسلّم فقیہ ہیں اورعصرحاضر میں اہم ترین شیعہ مراجع میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ سے سوال کیا گیا کہ جس شخص کی دماغی موت واقع ہوچکی ہو کیا اس کے بدن کے اعضا سے کسی بیمار کی جان بچانے کے لیے استفادہ کیا جاسکتا ہے؟
آپ نے فرمایا:
ایسی صورت میں مذکورہ شخص کے بدن سے استفادہ کرنے میں کوئی اشکال نہیں اگر کسی نفس محترمہ کی جان کا بچایا جانا اس پر موقوف ہو۔
ایک اور سوال کے جواب میں مزید کہتے ہیں:
مذکورہ صورت میں اعضا،صاحب اعضا کی قبلی اجازت یا اس کے اولیا کی اجازت سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
چند ایک سوالات وجوابات مزید دیکھیے:
سوال۱: بعض بیماروں کو اپنے معالجے کے لئے خون یا کسی عضو بدن کی ضرورت ہوتی ہے کیا کوئی دوسرا شخص انھیں اپنا خون یا کوئی عضو بدن مثلاً اپنا گردہ یا آنکھ بیچ سکتا ہے؟
جواب: اگر بیچنے والے کو اس سے کوئی ’’لازم المراعات‘‘ [قابل لحاظ ]ضرر نہ پہنچے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
سوال ۲: ڈاکٹر کی تشخیص پر اگر کوئی عورت کسی مرد کو یامرد عورت کویا کافر کسی مسلمان کوخون دے تواس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب: کوئی اشکال نہیں۔۹
(5 آیت اللہ صافی گلپائیگانی
آیت اللہ صافی گلپا ئیگانی کا شمار بھی عصر حاضر کے اہم فقہا میں ہوتا ہے۔ ان کا تعلق قم کے علمی مرکز سے ہے۔
سوال۱: اگر کسی مجہول الہویت کا ایسا جسد دسترس میں ہوکہ جس کے اعضا کا کوئی بیمار ضرورت مند ہوتو کیا ان اعضا کو حاصل کرکے پیوند کاری کی جاسکتی ہے؟
جواب: اگرجسد کسی کافر کا ہے تو کوئی اشکال نہیں۔ جہاں تک مسلمان کے جسد کا معاملہ ہے تو یہ اس صورت میں ہونا چاہیے جب کافر کا جسد دسترس میں نہ ہو نیز کسی مسلمان کی جان بچانا اس پر موقوف ہو۔ اس کے جواز کا حکم مجتہد جامع الشرائط کی اجازت سے قابلِ توجیہ ہے لیکن اس کی دیت ساقط نہ ہوگی۔
سوال۲: اگر کوئی شخص وصیت کرے کہ اس کی وفات کے بعد اس کے ان اعضا سے بیماروں کے لئے پیوند کاری کا کام لیا جاسکتا ہے ،جو اس قابل ہوں تو کیا ایسا کرنا ہمارے لئے جائز ہوگا؟
جواب: اگر کسی نفس محترمہ کی جان کی حفاظت اس پر موقوف ہو تو اس کا جواز قابل توجیہ ہے وگرنہ اس شخص کی وصیت قابل جواز نہیں۔۱۰
(6 آیت اللہ جواد تبریزی
ان کی وفات حال ہی میں قم میں ہوئی ہے ۔ علم اصول وفقہ کے ماہرین میں شمار ہوتے ہیں۔ موجودہ مسئلے میں ان کی رائے مذکورہ بالا آراء سے خاصی مختلف ہے۔ ملاحظہ کیجئے:
’’ایسا مسلمان جو دماغی موت میں مبتلا ہو اُس کے اعضا کا قطع کیا جانا کسی دوسرے شخص کے بدن میں اُن کا پیوند لگا نااشکال رکھتا ہے۔ صاحب عضو کا اپنی زندگی میں اجازت دینا اوراس سلسلے میں اپنی رضامندی کا اعلان کرنا حکم پر کوئی اثر نہیں رکھتا۔ مذکورہ امر میں وصیت نافذ نہیں ہے۔ مرنے والے کے اولیا اس کا حق نہیں رکھتے کہ اُس کے اعضا قطع کرنے کی اجازت دیں۔ دماغی موت میں مبتلاشخص کے اعضا قطع کیے جانے کی صورت میں قطع کرنے والے پردیت ہوگی جو ورثا میں اُن کے حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔۱۱
جن فقہا نے مذکورہ صور ت میں اعضا سے جان بچانے کے لئے استفادہ کی اجازت دی ہے عام طور پر وہ بھی دیت کے قائل ہیں البتہ ان کا نظریہ یہ ہے کہ اس رقم کی مرنے والے کی طرف سے خیرات کی جائے گی۔
(7 آیت اللہ یوسف صانعی
آیت اللہ صانعی کا شمار معاصر دنیا کے اہم شیعہ فقہا میں ہوتا ہے وہ قم کے علمی مرکز کے اساتذہ میں سے ہیں۔ امام خمینی سے کیے گئے جو سوالات ہم نے سطور بالا میں لکھے ہیں اُن میں سے پہلے سوال سے ملتے جلتے سوال کے جواب میں آیت اللہ یوسف صانعی کہتے ہیں:
سوال میں مذکور طریقے سے کسی مسلمان کی دماغی موت یقینی ہوجائے (اگرچہ بعض اہل علم کے نزدیک اس کا یقین مشکل ہے)یعنی اس کے دل کی حرکت کی نوعیت ایسی ہوجیسی کسی جانور کی ذبح ہونے یا سرکاٹے جانے کے بعد ہوتی ہے یا مردہ جنین کی حرکت رحم سے نکلنے کے بعد ہوتی ہے تو اولیا کی اجازت اوروصیت کی مطابق اس کے اعضافی حد نفسہ کاٹنا جائز ہے چونکہ اس سے اُس کے لئے نہ کوئی ضرر ہے اورنہ خلافِ احترام جبکہ کسی دوسرے انسان کی جان بچانا اس پرموقوف ہو تو معالج ڈاکٹر کے ذریعے لازم معالجہ کے وجوب کے پیش نظر اس سے استفادہ واجب ہے۔
آیت اللہ اللہ صانعی کی رائے کے مطابق اگر کسی کی جان بچانا اس پر موقوف ہوتو پھراولیا کی اجازت اورماقبل کی وصیت کی بھی ضرورت نہیں بلکہ ایسی صور ت میں اولیا اجازت نہ دیں تو اُن کا حقِ اذن ساقط ہوجائے گا۔
اُن کا کہنا ہے کہ انسان اپنی زندگی میں متعلقہ کارڈ پر دستخط کرکے اس امر پر اپنی رضا مندی کا اظہار کر سکتا ہے کہ اُس کی دماغی موت کی صورت میں اس کے اعضا ئے بدن کسی ضرورت مند مسلمان کولگائے جاسکتے ہیں اورظاہراً وصیت کے بعد ورثا کی اجازت کی ضرورت نہیں رہتی اگرچہ احتیاط اسی میں ہے۔
اُن کی یہ بھی رائے ہے کہ کسی بھی انسان یا جانورکا کوئی عضو جب زندہ انسان کا حصہ بن کر زندگی حاصل کر لیتا ہے تو وہ اب اس انسان کا حصہ اورپاک سمجھا جائے گا نیز جن مواقع پر انسان کا کا کوئی عضو قطع کرناجائز ہے اُن کے لیے انسان اپنی زندگی میں اپنے بدن کے اعضا بیچ سکتا ہے ۔۱۲
(8 آیت اللہ فاضل لنکرانی
آیت اللہ فاضل لنکرانی کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے۔ وہ قم کے شیعہ مراجع میں اہم مقام رکھتے تھے۔ اُن سے کیے گئے چند ایک سوالات اوران کے جوابات ملاحظہ کیجیے:
سوال۱: کیا انسان یہ حق رکھتاہے کہ اپنے بدن کا کوئی عضو کسی دوسرے کو دے دے؟ اگر وہ حق رکھتا ہے تو کونسا عضو آپ کے پیش نظر ہے؟
جواب: اگر کسی مسلمان کی زندگی اسے کوئی عضو مثلاً گردہ دیے جانے پر موقوف ہو اوراسے کسی غیر مسلمان سے حاصل کیا جانا ممکن نہ ہو، نیز دینے والے کے لیے جان کا خطرہ نہ ہو اور یا ناقابلِ برداشت ضرر نہ ہو، تو ایسا کرنے میںکوئی مانع نہیں۔
سوال ۲: کیا زندہ انسان اپنے بدن کے اعضا فروخت کرنے کا حق رکھتا ہے؟ اگر وہ فقیر و مسکین ہو تو پھر کیا حکم ہے؟
جواب: فروخت کیے جانے کے عدم جواز پر فی حد نفسہ کوئی دلیل دکھائی نہیں دی مگر یہ کہ جان کا خطرہ ہو یا اُس کے نتیجے میں ناقابل برداشت نقصانات ہوں کیونکہ اس صورت میں جائز نہیں ۔ بہرحال فقر فروخت کرنے کا جواز نہیں بنتا۔
سوال ۳: خون کی خرید وفروخت کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب: موجودہ حالات میں جبکہ ایسا کرنا حلال عقلائی منفعت کا حامل ہے، کوئی مانع نہیں۔۱۳
حواشی
۱ رسول اللہؐ نے فرمایا:
لاضرر ولا ضرارفی الاسلام، فالاسلام یزید المسلم خیراً ولا یزیدہ شرّاً
اسلام میں نہ ضرر ہے اور نہ ضرر پہنچانا ، پس اسلام مسلمان کو خیر کے لحاظ سے زیادہ کرتا ہے شر کے لحاظ سے نہیں۔
(وسائل الشیعہ، ج ۱۷،ص ۳۷۶)
جناب محمدی ری شہری نے رسول اسلامؐ سے اس موضوع پرمنقول چھ روایات شیعہ وسنی کتبِ روائی سے موضوع ’’ الضّرر‘‘ کے تحت درج کی ہیں۔
ری شہری،محمدی:میزان الحکمۃ، ج ۵،ص ۳۔۴۹۲،م:مکتب الاعلام الاسلامی قم ، ایران(۱۴۰۴ھ)
۲ بحارالانوار ،ج۲،ص ۲۷۲
اس معنی کی حامل بہت سی روایات شیعہ وسنی مدارک میں موجود ہیں بعض میں فقط ’’انفسہم‘‘ آیا ہے اور بعض میں فقط ’’اموالہم‘‘ نیز بعض میں ان دونوں کلمات کی ترتیب بدل گئی ہے۔
۳ سورہ مائدہ کی آیت ۳۲ ملاحظہ کیجئے:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَ مَنْ اَحْیَاھَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاo
( جس نے ایک شخص کو کسی شخص کے بدلے اور فساد فی الارض کے جرم کے بغیرقتل کردیااُس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کردیا اورجس نے ایک انسان کو زندہ کیا اُس نے گویا سارے انسانوں کو زندہ کردیا)۔
۴ http://en.wikipedia.org/wiki/Brain_death
۵ مجلہ طب و تزکیہ،شمارہ ۸،تابستان ۱۳۷۲، ص ۹۱،قم، ایران۔
۶ امام خمینی :رسالہ توضیح المسائل،ص ۵۴۸، قم ،ایران۔
۷ سید محسن طبا طبائی حکیم:رسالہ توضیح المسائل
۸ سید ابو القاسم خوئی :رسالہ توضیح المسائل، مستحدثات المسائل ، مسئلہ ۳۶۔۴۲
۹ سید علی خامنہ ای : پزشکی درآیینہ اجتہاد۔ ج۱،ص ۱۴۵تا۱۴۹
۱۰ لطف اللہ صافی گلپایگانی:استفتاء ات پزشکی، ۷۷و۷۸
۱۱ مرزا جواد آقاتبریزی:صراط النجاۃ فی اجوبۃ الاستفتاء ات، ص ۵۵۲
۱۲ یوسف صانعی: رسالہ توضیح المسائل، ص ۴۸۳و۴۸۴
۱۳ احکام پزشکان،فقہ وحقوق (فقہا سے کیے گئے سوالات کے ضمن میں )قم ،ایران
مقالۂ حاضرانستھیزیالوجی،درد اور انتہائی نگہداشت کی دسویںبین الاقوامی کانفرنس (International Conference of Anaesthesiology, Pain & Intensive Care) کے موقع پر آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈڈیالوجی اینڈ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیزز (Armed Forces Institute of Cardiology & National Institute of Heart Diseases)راولپنڈی کے شعبہ Anaesthesiology & Intensive Careکی دعوت پر سپرد قلم کیا گیا ہے ۔ اسے پرل کانٹی نینٹل بھوربن میںکانفرنس کی نشست منعقدہ مورخہ 19اکتوبر 2008 میںپیش کیا گیا ۔