Skip to content

آنحضرتؐ پر نزول وحی کی کیفیت

تحریر : سید ثاقب اکبر مرحوم

دینی معارف کی ابحاث میں وحی کا موضوع ایک خاص حیثیت کا حامل ہے اور اگر وحی کی حقیقت و ماہیت نیز ضرورت و ہمہ گیریت پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو اس امر کا یقین ہو جاتا ہے کہ معرفت دینی کے موضوع کی تکمیل وحی کے موضوع کے بغیر ممکن نہیں ۔ اسی طرح قرآن حکیم کی مقدماتی بحثوں میں وحی کی بحث بحیثیت کلی اور آنحضرتؐ پر نزول وحی کی کیفیت کی بحث بحیثیت خصوصی نہایت اہم ہے۔ ہم یہاں اسی پس منظر میں کچھ عرائض پیش کریں گے۔

حارث بن ہشام کا سوال اور آنحضرتؐ کا جواب

یہ بات قابل ذکر ہے کہ خود آنحضرتؐ سے آپؐ پر نزول وحی کی کیفیت کے بارے میں پوچھا جاتا رہا اور آپؐ نے اس سلسلے میں مخاطبین کی فہم وفراست کے مطابق جواب دیے۔ اس ضمن میں سب سے اہم جواب وہ سمجھا جاتا ہے جو آپؐ نے حارث بن ہشام کے سوال پر دیا۔ اسے الفاظ کے کچھ معمولی سے فرق کے ساتھ شیعہ وسنی محدثین نے ذکر کیا ہے۔ ان میں سے ایک متن ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:

روی ان رجلا سأل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: یا رسول اللہ کیف یاتیک الوحی؟ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یاتی الملک احیانا فی مثل صلصلۃ الجرس، وھو اشدہ علی، فیفصم عنی، وقد وعیت عنہ ما قال، و احیانا یتمثل لی الملک رجلا، فیکلمنی فاعی ما یقول، و ھو اھونہ علی۔(۱)

روایت کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہؐ آپ پر وحی کیسے آتی ہے تو رسول اللہؐ نے فرمایا:کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فرشتہ آتا ہے جیسے گھنٹی کی آواز ہو۔ یہ صورت میرے لیے بہت شدید اور گراںہوتی ہے۔ پھر جب مجھے اس کی کہی ہوئی بات یاد ہوجاتی ہے تو وہ میرے پاس سے چلا جاتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فرشتہ میرے لیے مرد کی شکل میں متمثل ہوتا ہے اور پھر مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں اس کی کہی ہوئی بات کو یاد کر لیتا ہوں۔ یہ صورت میرے لیے آسان ہوتی ہے۔

بعض روایات میں مذکورہ سوال پوچھنے والے صحابی کا نام حارث بن ہشام آیا ہے۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرتؐ پر وحی کے نزول کی دو صورتیں تھیں۔ ایک صورت فرشتے کا کسی مادی وجود میں متمثل ہوئے بغیر آنا اور وحی کا پہنچانا اور دوسری صورت کسی مرد کی شکل میں متمثل ہوجانا۔ پہلی صورت آنحضرتؐ کے لیے بہت گراں بار ہوتی تھی جب کہ دوسری صورت آپؐ کے لیے آسان تھی۔

آپ کے لیے گراں بار صورت کو واضح کرنے کے لیے چند آیات اور روایات ہماری مزید مدد کرتی ہیں۔ سورۂ مزمل میں ہے:

(الف) اِِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا(۲)

ہم بہت جلد آپ پر قول ثقیل کا القاکریں گے۔

(ب)         ام المومنین حضرت عائشہؓ سے مروی ہے:

ولقد رایتہ ینزل علیہ الوحی فی الیوم الشدید البرد، فیفصم عنہ، وان جبینہ لیتفصد عرقا۔(۳)

کبھی ایسا ہوتا کہ میں دیکھتی کہ آپ پر شدید سردی کے روز وحی نازل ہوتی اور جب یہ کیفیت ختم ہو جاتی تو آپ کی پیشانی سے پسینہ جاری ہوتا۔

(ج)          امیر المومنین امام علی ؑ سے روایت ہے:

لقد نزلت علیہ وھو علی بغلۃ الشہباء و ثقل علیہ الوحی حتی وقفت وتدلّی بطنہا۔ حتی رأیت سرَّتہا تکاد تمسّ الارض وأغمی علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حتی وضع یدہ علی ذؤابۃ شیبۃ بن وھب الجمحی، ثم رفع ذلک عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فقرأ علینا سورۃ المائدۃ فعمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و عملنا۔(۴)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جب سورۃ مائدہ نازل ہوئی تو اس وقت آپ ایک خچر پر سوار تھے جسے شہباء کہاجاتا تھا۔ وحی کانزول آپ پراتنا سنگین ہو گیا کہ خچر کھڑا ہو گیا اور اس کا پیٹ نیچے کی طرف آ گیا اور مجھے ایسے لگا کہ اس کی ناف زمین تک پہنچ جائے گی۔ رسول اللہ بے ہوش ہو گئے اور آپ نے اپنا ہاتھ شیبۃ بن وہب جمحی کے سر کے سامنے والے بالوں پر رکھ دیا۔ جب یہ کیفیت رسول اللہؐ پر ختم ہوئی تو آپ نے سورہ مائدہ ہمارے سامنے تلاوت کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر عمل کیا اور ہم نے بھی عمل کیا۔

(د)           عبادۃ بن الصامت سے روایت ہے:

کان نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا نزل علیہ الوحی کرب لذلک وتربد وجھہ(۵)

جب رسول اللہؐ پر وحی نازل ہوتی تو شدت کرب کی وجہ سے آپ کا رنگ متغیر ہوجاتا۔

(ہ)           آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے :

فَمَا مِنْ مَرَّۃٍ یُّوْحِی اِلَیَّ اِلَّا ظَنَنْتُ اَنَّ نَفْسِی تُقْبِضُ(۶)

جب بھی مجھ پہ وحی نازل ہوئی مجھے یوں لگا جیسے میری جان نکل جائے گی۔

نزول وحی کے وقت شدت حال کی وجہ

امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کہ آپ کی یہ حالت اس وقت ہوتی جب وحی کے نزول کے وقت آپ کے  اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی فرشتہ نہ ہوتا۔ لہٰذا وحی کی ثقالت کی وجہ سے آپ کی حالت ایسی ہوجاتی جیسے آپ بے ہوش ہو گئے ہوں اور آپ پر ایک خاص کیفیت طاری ہو گئی ہو لیکن جب جبرائیل وحی لے کرآتے تو آپ فرماتے جبریل نے مجھ سے یہ کہا ہے یا یہ جبریل ہیں۔

صاحب بحار نے یہ روایت امالیِ شیخ سے اپنے اسناد سے نقل کی ہے۔

انہ اذا کان الوحی من اللہ لیس بینھما جبرئیل، أصابہ ذلک لثقل الوحی من اللہ، و اذا کان بینھما جبرئیل لم یصبہ ذلک فقال قال لی جبرئیل و ھذا جبرئیل۔(۷)

جو کچھ مذکورہ بالا روایات سے ظاہر ہوتا ہے اس کے مطابق فرشتے کے متمثل ہونے کے علاوہ وحی کا نزول بغیر فرشتے کے ہوتا تھا اور اگر یہ کہا جائے کہ تمثل کے بغیر فرشتے کے ذریعے وحی ہوتی تھی تو پھر اسے فرشتے کی باطنی اور مجرد صورت کہنا پڑے گا۔ یا پھر ہر دو صورتوں کو قبول کرنا پڑے گا کیونکہ امام صادقؑ نے بہت واضح طور پر فرمایا ہے کہ جب نزول وحی پر آپؐ کی حالت بے ہوشی کی سی ہو جاتی تھی تو ایسا اس وقت ہوتا تھا جب آپ ؐکے اور اللہ کے مابین رابطے میں کوئی فرشتہ نہ ہوتا تھا۔

شدت حال: حسن زادہ آملی کی رائے

معروف فلسفی اور عارف حسن زادہ آملی نے نزول وحی کی مختلف صورتوں میں آنحضرتؐ کی مختلف حالتوں کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جب فرشتہ مادی لباس میں متمثل ہوتا ہے تو وہ مالوف و مانوس صورت میں اور مشہود حالت میں ہوتا ہے۔ نیز وہ عالم طبیعت میں طبعی اور مادی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب کہ اس کے برخلاف دوسری صورت میں مجرد وجود سے اور کسی صورت سے عاری حقیقت سے رابطہ ہوتا ہے۔ یا پھر شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ عالم شہادت عالم افتراق ہے اور عالم غیب عالم انفراد۔اس لیے روحِ انسان کی توجہ جس قدر عالم جمع کی طرف بیشتر ہوگی اس کی دہشت بھی زیادہ ہوگی۔

استاد حسن زادہ آملی کے اپنے الفاظ ملاحظہ ہوں:

شاید علتش این باشد کہ در حال تمثل  صورت با مثال مألوف و مأنوس عالم شھادت محشور است بخلاف خلاف آن کہ با مجرد بحت و حقیقت عاری از صورت است۔

ویاعلتش این باشد کہ عالم شھادت نشأۃ افتراق است، و غیب عالم انفراد، لاجرم وحدت و سلطہ با این است کہ جمع است، و آن چون متکثر است ضعیف است ا ز این روی ھرچہ توجہ روح انسان بعالم جمع بیشتر شود دہشت او بیشتر است کہ با قوی تر روبرو می گردد۔(۸)

شدت حال: امام خمینی کی رائے

امام خمینی فرماتے ہیں:

ملائکہ بر حسب قوت روحانیت و کمال روح حضرات انبیا در عالم مثالشان نازل می شوند و این مطلب منافات با اضطراب و حالت شبیہ بیھوشی ای کہ بہ ھنگام وحی بہ ایشان دست می داد، ندارد، زیرا بحث ضعف جسم شریف آن حضرات در برابر تحمل ظھور ارواح مجرد در آن غیر از بحث قوت مقام روحانیت وجنبۃ الھی و لوی آنان است۔(۹)

ملائکہ انبیائے کرام کی روحانی قوت اور کمال روح کے مطابق عالم مثال میں ان پر نازل ہوتے ہیں اور یہ امر وحی کے نزول کے وقت ان کے اضطراب اور بے ہوشی جیسی حالت کے منافی نہیں کیونکہ مجرد ارواح کے ظہور کے موقع پر ان کے جسم مبارک کی کمزوری ان کے روحانی مقام کی قوت اور الٰہی جنبہ سے مختلف ہے۔

شدت حال: چند مزید پہلو

۱۔            علامہ طبا طبائی کہتے ہیں کہ نزول وحی کے موقع پرآنحضرتؐ کی غیر معمولی کیفیت کے بارے میں جو روایات نقل ہوئی ہیں وہ مستفیض کی حدتک پہنچتی ہیں۔ یاد رہے کہ اصطلاح میں حدیث مستفیض ایسی حدیث کو کہتے ہیں کہ جس کے راوی تین سے زیادہ اور حد تواتر سے کم ہوں اسی وجہ سے ایسی حدیث کا صدور کسی عام خبر واحد سے حاصل ہونے والے ظن سے قوی تر ہوتا ہے۔

۲۔            قرآن حکیم میں جہاں ایک طرف’’ قول ثقیل‘‘ کہہ کر قرآن حکیم کی ہمہ جہت عظمت ،بزرگی اور بھاری مطالب و معارف کے حامل ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہاں ایک اور آیت میں اس کے گراں قدر ہونے کو یوں بیان کیا گیا ہے۔

 لَوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ (۱۰)

اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم اس کو دیکھتے کہ خدا کے خوف سے دبااور پھٹا جاتا ہے اور یہ مثالیں ہم انسانوں کے لیے اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غوروفکر کریں۔

ہم اوپروہ روایت بیان کر آئے ہیں جس میں سورہ مائدہ کے نزول کے وقت اس خچر کی حالت بیان کی گئی ہے جس پر آنحضرتؐ سوار تھے۔

۳۔            نبی اکرمؐ پر قرآنی احکام اور وحی الٰہی کی ثقالت کے سنگین احساس کی ایک وجہ ان آیات کے سبب آپؐ کے لیے پیدا ہوجانے والی مسئولیت اور ذمہ داری بھی ہے۔ دوسری طرف اپنوں اور پرایوں کا متوقع ردعمل بھی بعض اوقات آپؐ کے لیے گراں بار ہوجاتا تھا یہی وجہ ہے کہ ایک موقع پر تواللہ تعالیٰ کو یہ فرمانا پڑا:

یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ وَ اللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ(۱۱)

اے رسول! جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اسے پہنچا دیجیے ورنہ آپ نے گویا پیامبری کی ذمے داری ادا نہیں کی۔(آپ اپنا کام کیجیے ) اللہ آپ کو انسانوں(کے منفی ردعمل) سے بچا لے گا۔

شاید ہماری نظر میں یہ اتفاق ہو کہ خچر والی مذکورہ روایت سورہ مائدہ ہی کے نزول سے متعلق ہے لیکن نازل کرنے والے علیم و خبیر کے لیے یہ اتفاق نہیں۔

۴۔            رسول اللہؐ نے معروف حدیث ثقلین میں بھی قرآن اور اپنی عترت اہل بیت کے لیے’’ ثقل‘‘ کا کلمہ استعمال کیا ہے۔ قرآن حکیم کو’’ ثقل اکبر‘‘ اور اپنے اہل بیت کو’’ ثقل اصغر‘‘ فرمایا ہے۔اس سلسلے میں بہت سی ہم معنی روایات منقول ہیں۔ ان میں سے ایک کا متن ملاحظہ فرمائیں:

انی تارک فیکم الثقلین  ما ان تمسکتم بھما لن تضلوا کتاب اللہ وعترتی أھل بیتی فا نھما لن یفترقا حتی یردا علیّ الحوض۔(۱۲)

میں تم میں دو ایسی گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں جن سے وابستہ رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت اہل بیت اور یہ دونوں آپس میں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس آپہنچیں ۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں ثقل کا کلمہ قرآن حکیم کے معارف کی عظمت اور گراں بہا ہونے کی طرف اشارہ ہے۔

۵۔            قرآن حکیم میں نیک، صالح اور مقبول عمل کو ثقیل اور برے، پست اور نامقبول عمل کو خفیف قرار دیا گیا ہے، ارشاد ہوتا ہے:

 فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ O  فَہُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ O وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ O فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ(۱۳)

پس جس کے اوزان بھاری ہوں گے وہ مسرت کی زندگی میں ہوگا  اور جس کے اوزان ہلکے ہوں گے اس کا ٹھکاناہاویہ ہے۔

شدت حال اور قول ثقیل پر ایک مجموعی نظر

مجموعی طور پر ہماری رائے یہ ہے کہ نزول وحی کے موقع پر آنحضرتؐ کی شدت حال ، قرآن کے لیے قول ثقیل کا کلمہ، اسے ثقل اکبر قرار دیے جانے اور پہاڑ پر نازل ہونے کی صورت میں اس کے دب جانے اور پھٹ جانے کے بارے میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ سب ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ئوں کو بیان کرتا ہے اورمذکورہ مختلف توضیحات میں آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

یہ بات ایک مرتبہ پھر پوری توجہ کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کائنات کی اصل اس کا روحانی اور باطنی پہلو ہے۔ ہر مادی مظہر اپنے روحانی وجود کی حکایت کرتا ہے۔ باطن کی ہر حقیقت انسان کے مادی وجود پر ظاہر نہیں ہوتی۔ ہاں البتہ جوں جوں کوئی انسان عالم روحانیت سے ارتباط پیداکرتا چلا جاتا ہے اور اس کا یہ رابطہ قوی ہوتا چلا جاتا ہے عالم معنی اور روح کی حقیقت توں توں اس پر کھلتی چلی جاتی ہے۔انبیاء چونکہ عالم باطن سے ارتباط رکھتے ہیں اس لیے ان پر اس عالم کے ایسے حقائق آشکار ہوتے ہیں جو عام انسانوں پر نہیں ہوتے۔ اسی وجہ سے وحی کے بلند ترین درجوں سے ان ہی کا رابطہ ہوتا ہے۔ عالم مجرد سے عالم مادہ کا رابطہ ایک مشکل ،شدید اور ثقیل رابطہ ہے اسے فلاسفہ اور عرفاء نے اپنے انداز سے بیان کیا ہے۔ آنحضرتؐ پر فرشتے کے مادی وجود میں متمثل ہوئے بغیر وحی کے نزول کی جو کیفیت بیان کی گئی ہے وہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ عام انسان کی رسائی اس تک ممکن نہیں۔ آنحضرتؐ نے عام مادی پیرہن میں اسیر انسان کو سمجھانے کے لیے بعض تعبیرات استعمال کی ہیںجن سے مسئلے کی حقیقت کی طرف دریچہ کھل سکتا ہے۔

                اس ضمن میں ایک اور پہلو اہم ہے اور وہ یہ کہ اگرچہ فرشتے کے انسان کی صورت میں متمثل ہوکر وحی پہنچانے کو ابتدا میں ذکر کی گئی روایت اور بعض دیگر روایات میں آسان صورت قرار دیا گیا ہے لیکن یہ اس شدت کے مقابلے میں ہے جس کی طرف اشارہ گھنٹی کی آواز کے ساتھ اترنے والی وحی سے متعلق کیا گیا ہے جبکہ بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وحی جب بھی آنحضرتؐ پر نازل ہوتی آپؐ کے لیے گراں بار ہوتی۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ قرآن حکیم کی ہر آیت اور ہر امرِ الٰہی آپؐ کے لیے قول ثقیل ہی تھا۔

بالواسطہ اوربلا واسطہ نازل ہونے والی آیات

اس سلسلے میں کوئی بات حتمی نہیں کہی جاسکتی کہ کون سی آیات نبی پاکؐ پر بالواسطہ نازل ہوئی ہیں اور کون سی جبرائیل کے واسطے سے آپؐ پر اتری ہیں۔ اس مسئلے پر عموماً بحث بھی نہیں کی گئی۔ البتہ بعض مفسرین کی رائے ہے کہ سورہ نجم کی آیات ان آیات میں سے ہیں جو جبرائیل کے واسطے کے بغیر آپؐ پر نازل ہوئیں۔

بعض مفسرین نے  عَلَّمَہٗ شَدِیْدُ الْقُوٰی  (اسے انتہائی طاقتور نے سکھایا) سے حق تعالیٰ کی ذات مراد لی ہے نہ کہ جبرائیل۔ ان مفسرین نے لکھا ہے کہ رسول خدا ؐنے یہ آیات اللہ تعالیٰ سے اس وقت حاصل کیں جب آپؐ افق اعلیٰ پر موجود تھے۔ استاد ناصر مکارم شیرازی ’’شدید القویٰ ‘‘کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’ شَدِیْدُ الْقُوٰی‘‘ بہ معنی کسی کہ تمام قدرتھایش فوق العادہ است تنھا مناسب ذات پاک پروردگار است، درست است کہ در آیہ ۲۰ سورہ ’’تکویر‘‘ از جبرئیل بہ عنوان’’ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِیْ الْعَرْشِ مَکِیْنٍ‘‘ یاد شدہ، ولی میان ’’ شَدِیْدُ الْقُوٰی‘‘ کہ مفھوم عام و گستردہ ای دارد با ’’ ذِیْ قُوَّۃٍ ‘‘ کہ ’’قوۃ‘‘ در آن بہ صورت مفرد و نکرہ ذکر شدہ تفاوت بسیار است۔۔۔

تعبیر بہ ’’عَلَّمَہٗ‘‘ یا مانند آن در قرآن مجید ھیچگاہ در مورد جبرئیل بہ کار نرفتہ، و این تعبیر در مورد خداوند نسبت بہ پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و پیامبر ان دیگر بسیار زیاد است، و بہ عبارت دیگر جبرئیل معلم پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبود بلکہ واسطہ وحی بود و معلّمش تنھا خدا است۔(۱۴)

 شَدِیْدُ الْقُوٰی کا معنی ہے کہ جس کی تمام طاقتیں غیر معمولی ہیں اور یہ کلمہ فقط پروردگار کی ذات پاک کے لیے مناسب ہے۔ یہ درست ہے کہ سورۃ تکویر کی آیت نمبر۲۰ میں جبرئیل کو’’ ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِیْ الْعَرْشِ مَکِیْنٍ‘‘کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے لیکن  شَدِیْدُ الْقُوٰی جو عام اور وسیع مفہوم کا حامل ہے ذِیْ قُوَّۃٍ  کہ جس میں قوۃ  مفرد اور نکرہ کی صورت میں آیا ہے، سے بہت مختلف ہے۔۔۔

’’علّمہ‘‘ کی تعبیر قرآن مجید میں کسی جگہ بھی جبرائیل کے بارے میں نہیں آئی جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر انبیاء کی نسبت اللہ تعالیٰ کے بارے میں بہت مرتبہ آئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں جبرئیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معلّم نہ تھے بلکہ وہ وحی کے لیے ایک واسطہ تھے۔معلّم فقط اللہ ہے۔

خواب اور وحی

آنحضرتؐ پر وحی کے نزول کی جو صورتیں مندرجہ بالا سطور میں ،خاص طور پر احادیث کی روشنی میں بیان کی گئی ہیں،ان میں آنحضرتؐ پر خواب میں نزول وحی کا کوئی ذکر نہیں آیا۔ تاہم علمائے کرام اور مفسرین نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ قرآن حکیم کی کوئی آیت خواب میں نازل نہیں ہوئی بلکہ ہماری رائے میں ماقبل کی کتب اور صحف بھی خواب میں نازل نہیں ہوئے۔ اگرچہ اس امر کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انبیاء پر خواب میں بھی وحی نازل ہوتی تھی۔ قرآن حکیم اس امر پر شاہد ہے۔حضرت ابراہیمؑ کے خواب کا ذکر قرآن حکیم میں ان الفاظ میں آیا ہے:

 فَلَمَّا بَلَغَ مَعَہُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِِنِّیْٓ اَرَی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْ اَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرٰی قَالَ یٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْٓ اِِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ (۱۵)

جب اسماعیل ان کے ساتھ بھاگ دوڑ کرنے لگے تو ابراہیم نے کہا اے میرے بیٹے! میں نے نیند کی حالت میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں پس دیکھ تیری کیا رائے ہے۔انھوں نے کہا جو آپ کو حکم ہوا ہے اسے کر گزریے۔ آپ انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کو خواب میں حکم دیا گیا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل ؑکو ذبح کریں۔ اسماعیل ؑحالانکہ نوجوان تھے انھوں نے بھی اسے اللہ کا حکم ہی جانا۔

اسی طرح حضرت یوسفؑ کے سچے خواب کا ذکر بھی سورہ یوسف میں آیا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ اہل بیتؑ سے مروی متعدد ایسی روایات ہیںجن میں نیک اور سچے خوابوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن کے لیے بشارت اور اجزائے نبوت میں سے ایک جز قرار دیا گیا ہے۔ بعض روایات میں یہ فرمایا گیا ہے کہ نیک خواب نبوت کے ۴۶ اجزا میں سے ایک جز ہے اور بعض میں فرمایا گیا ہے کہ نبوت کے ۷۰ اجزاء میں سے ایک جز ہے۔رسول اللہؐ سے منقول دو روایات کا متن ملاحظہ فرمائیں:

الرؤیا الصالحۃ یبشر بھا المومن و ھی جزء من ستۃ واربعین جزء ا من النبوۃ(۱۶)

نیک خواب کے ذریعے مومن کو بشارت دی جاتی ہے اور یہ نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جز ہے۔

الرؤیا الصالحۃ جزء من سبعین جزء ا من النبوۃ۔(۱۷)

نیک خواب نبوت کے ستر اجزا میں سے ایک جز ہے۔

جیسا کہ حدیث اور اسلامی تاریخ کی کتب میں آیا ہے کہ آنحضرتؐ پر بھی خواب میں وحی کا سلسلہ رہا خاص طور پر بعثت کے ابتدائی برسوں میں۔ مدینہ منورہ میں بھی آپؐ کے بعض خوابوں کا ذکر ملتا ہے جن میں آنے والے حالات کے بارے میں آپ ؐ کو اطلاع دی گئی لیکن ایسی کوئی روایت نہیں ملتی جو اس امر پر دلالت کرتی ہو کہ قرآن حکیم کی کوئی آیت آپ ؐپر خواب میں نازل ہوئی ہو بلکہ اس کے مقابل ایسی بہت سے آیات و روایات ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپؐ پر بیداری کے عالم میں تمام تر قرآن حکیم نازل ہوا۔ ان میںسے بعض روایات سطور بالا میں ذکر کی گئی ہیں۔ اس ضمن میں یہاں ہم دو آیات پیش کرتے ہیں جو اس امر پر صراحت رکھتی ہیں کہ آپؐ پر بیداری کے عالم میں تمام تر قرآن حکیم نازل ہوا۔

 لاَ تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ O اِِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ(۱۸)

وحی نازل ہوتے ہوئے آپ اسے یاد کرنے کے لیے جلدی جلدی اپنی زبان کو حرکت نہ دیں۔ بے شک اسے جمع کرنا اور پڑھانا ہمارے ذمے ہے۔

ان آیات سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ آپ ؐپر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپؐ اسے اچھی طرح یاد کرلینے کی نیت سے، جلدی جلدی دہرایا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آپ ؐکو اطمینان دلایا کہ آپؐ اسے جلدی جلدی نہ دہرائیں بلکہ آرام سے ان آیات کو پڑھیں اور ان کی جمع آوری اور پھر انھیں یاد کروا کر پڑھانا ہمارے ذمے ہے۔

البتہ یہاں اس بات کی طرف اشارہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وحی اپنی ماہیت کے اعتبار سے ہمہ گیر ہے اور مختلف مدارج کی حامل ہے ، سچے اور صالح خوابوں کو آنحضرتؐ نے نبوت کے متعدد درجوں میں سے جو ایک درجہ قرار دیا ہے وہ بھی اسی امر کی حکایت کرتا ہے۔ تاہم انبیاء پر نازل ہونے والی وحی بلند ترین اور کامل ترین درجے کی حامل ہوتی ہے۔ اس موضوع کو ہم الگ ایک مضمون میں تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔

آنحضرتؐ اور دیگر انبیاء پر نازل ہونے والی وحی

 اس میں بھی شک نہیںکہ تمام انبیاء پر نازل ہونے والی وحی اپنی ماہیت اور بعض بنیادی خصوصیات کے اعتبار سے ایک ہی طرح کی ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں فرمایا گیا ہے :

 اِنَّآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ کَمَآ  اَوْحَیْنَآ اِلٰی نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْ بَعْدِہٖ وَ اَوْحَیْنَآ اِلٰٓی اِبْرٰھِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَعِیْسٰی وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ ھٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا(۱۹)

ہم نے آپ پر اس طرح سے وحی نازل کی جیسے ہم نے نوح اور ان کے بعد کے نبیوں پر وحی نازل کی اور جیسے ہم نے ابراہیم ، اسماعیل،اسحاق، یعقوب،اسباط،عیسیٰ، ایوب، یونس،ہارون اور سلیمان پر وحی نازل کی اور جیسے ہم نے دائود کو زبور عطا کی۔

وحی کے خدا کی طرف سے ہونے نیز انبیاء کے اس کی طرف پورے ایمان اور پورے وجود کے ساتھ متوجہ ہونے کے اعتبار سے تمام انبیاء پر نازل ہونے والی وحی میں کوئی فرق نہیں لیکن جہاں تک مختلف انبیاء پر وحی کے نزول کی کیفیات کا تعلق ہے، و ہ مختلف ہو سکتی ہیں اور خود قرآن حکیم میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

 وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرآیِٔ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوحِیَ بِاِِذْنِہٖ مَا یَشَآئُ اِِنَّہٗ عَلِیٌّ حَکِیْمٌO  (۲۰)

اللہ کسی بشر سے کلام نہیں کرتا مگر وحی کے ذریعے یا حجاب کی اوٹ سے یا پھر کوئی اپنا فرستادہ بھیج کر جو اللہ کے اذن سے وحی کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے بے شک وہ اللہ نہایت بلند مرتبہ اور حکمت والا ہے۔

مصادر

۱۔            بحارالانوار، ج۱۸،ص ۲۶۰،حدیث ۱۳

                بخاری، محمد بن اسماعیل:صحیح البخاری(بیروت، دارالقلم،ط الاولی،۱۴۰۷ھ)باب ۱،حدیث رقم ۲

                علاوہ ازیں ، مسلم، ابن حبان ،ترمذی، نسائی، احمد بن حنبل اور بیہقی وغیرہ نے اپنی اپنی کتب حدیث میں اسے نقل کیا ہے۔

۲۔            ۷۳۔مزمل:۵

۳۔            بخاری، محمد بن اسماعیل:صحیح البخاری(بیروت، دارالقلم،ط الاولی،۱۴۰۷ھ)باب ۱،حدیث رقم ۲

۴۔            عیاشی:النضر محمد بن مسعود بن عیاش السلمی(تہران، المکتبۃ العلمیۃ الاسلامیۃ) جلد اول کتابُ التفسیر، ص۲۸۸۔

۵۔            مسلم،صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب عرق النبیؐ ،ح۲۳۳۴

۶۔            الاتقان، ج۱،ص۷۶/مزید دیکھیے: سفینۃ البحار،ج۲،ص ۶۳۸

۷۔            مجلسی، بحار الانوار،ج۱۸، ص ۲۶۸

۸۔            ہزار و یک نکتہ، حسن زادہ آملی، نکتہ ۵۳۰،ص ۲۹۵

۹۔            تعلیقات علی شرح فصوص الحکم و مصباح الأنس، ص۳۶

۱۰۔          ۵۹۔الحشر:۲۱

۱۱۔          ۵۔المائدہ:۶۷

۱۲۔          کافی ج ۱،کتاب الحجۃ باب  الاشارۃ والنص علی امیر المومنین،ص ۲۹۴،ح ۱

                مسند احمد ، ج ۳ص ۱۴،مسند ابی سعید خدری۔

                سنن ترمذی، ج ۵،باب مناقب اہل بیت، النبی ص ۳۲۹،ح ۳۸۷۶۔

۱۳۔          ۱۰۱۔القاریہ:۶تا۸

۱۴۔          شیرازی، ناصر مکارم: تفسیر نمونہ(دارالکتب الاسلامیہ،ط چہارم،۱۳۸۶ھ ش)ج۲۲،ص۴۸۷و۴۸۸

۱۵۔          ۳۷۔صافات:۱۰۲

۱۶۔          بزار،ابو بکر (م۲۹۲ ):البحراالذخار لمسند البزار،افق ۱۱۷۹،العزو ۱۲۹۸

ری شہری،محمدی:میزان الحکمہ(تہران، مکتب الاعلام الاسلامی،ط الثانیہ،۱۳۶۷ ھ ش)ج۴،الرؤیا کے ذیل میں۔

۱۷۔          مسند احمد بن حنبل، افق ۷۴۵۸ ،العزو۷۵۸۷

اسی سے ملتی جلتی عبارات صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابن دائود، ابن ماجہ، موطاالمالک، صحیح ابن خبان،المستدرک ،السنن  الکبری وغیرہ میں بھی ملتی ہیں۔

نیز استاد محمدی ری شہری نے بھی میزان الحکمہ میں الرؤیا کے ذیل میں اس موضوع پر متعدد روایات شیعہ اور سنی کتب احادیث سے نقل کی ہیں۔

۱۸۔          ۷۵۔القیامۃ:۱۶و۱۷

۱۹۔          ۴۔نساء:۱۶۳

۲۰۔          ۴۲۔شوریٰ:۵۱