سید اسد عباس

اپ ڈیٹڈ طالبان، امن مذاکرات اور امریکی کوششیں

امریکی جائنٹ چیفس کے چیئرمین جنرل مارک ملی کا کہنا ہے کہ طالبان نے تزویراتی تیزی حاصل کی ہے اور وہ اس وقت بڑی آبادی والے علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں سے کاٹنے میں مصروف ہیں۔ افغان حکومت نے طالبان کی پیش رفت کو روکنے کے لیے ملک کے 34 میں سے 31 صوبوں میں رات کا کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کنڑ کے علاقے سے 46 افغان فوجی جن میں 5 افسر بھی شامل ہیں، اپنی پوسٹیں چھوڑ کر چترال کے مقام سے سرحد پار کرکے پاکستان کی پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ (more…)

سید ثاقب اکبر

امریکہ پر حاکم نظام اور مظلوم امریکی عوام(2)

امریکہ پر حکمران نظام سفید فام امریکیوں کو یہ تاثر دینے میں کامیاب رہا ہے کہ ملک میں ان کے خصوصی حقوق ہیں اور انھیں خصوصی مراعات حاصل ہیں۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ملک کی بڑی آبادی کی ہمدردیاں ریاست اور اس کے نظام کے ساتھ وابستہ رکھی جائیں۔ اس کی مثال بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمت عملی سے دی جاسکتی ہے، جو بڑی ہندو آبادی کو یہ تاثر دیتی ہے کہ حکومت ان کے حقوق کی محافظ ہے اور وہی بھارت کے حقیقی باشندے اور حکمران ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ہی ایسا نہیں کرتی، ماضی میں بھی حکومتیں یہی کچھ کرتی رہی ہیں۔ (more…)

عید سعید غدیر

غدیر خم پر حضرت حسانؓ کا قصیدہ

صحابیٔ رسول حضرت حسانؓ بن ثابت (م۵۵ھ) حجۃ الوداع کے بعد ۱۸ذی الحجہ کو غدیرخم پر موجود تھے جہاں نبی کریم ﷺنے تفصیلی خطبہ دیتے ہوئے اعلان فرمایاکہ: مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ(جس جس کا میں مولا ہوں، اس کے یہ علی بھی مولا ہیں۔) اس کے بعد دربار رسالت کے شاعر حضرت حسان بن ثابت کھڑے ہوئے اور یہ قصیدہ کہا:

(more…)

سید اسد عباس

عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کی خبریں

عراقی اور امریکی حکام نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ رواں برس کے اختتام تک عراق سے امریکی زمینی دستوں کی واپسی پر دونوں حکومتوں کے مابین اتفاق رائے ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ اس طرح کے اعلانات گذشتہ برس سے جاری ہیں۔ 2020ء میں اعلان کیا گیا تھا کہ امریکا ستمبر 2020ء تک اپنے 2500 سو فوجیوں میں سے 2200 فوجیوں کو واپس بلا لے گا، تاہم ایک برس گزرنے کے بعد بھی اس اعلان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔  (more…)

سید اسد عباس

کیا امریکہ افغانستان سے خالی ہاتھ نکل رہا ہے؟(2)

گذشتہ قسط میں ہم اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ افغان جنگ جہاں عالمی طاقتوں  کے مابین بین الاقوامی سیاست اور مفادات کی جنگ ہے، وہیں خطے کے ممالک کے لیے یہ اپنے مفادات اور ملکی سالمیت کے تحفط کی جنگ بھی ہے۔ بیس برس افغانستان میں قیام کے بعد امریکا اور نیٹو فورسز نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ گیارہ ستمبر 2021ء کو افغانستان سے چلے جائیں گے۔ ابھی گیارہ ستمبر دور ہے اور امریکی فوجی اپنے اڈے چھوڑ کر رات کی تاریکی میں غائب ہو رہے ہیں۔ (more…)

سید ثاقب اکبر

انسانی حقوق اور امریکہ کا حقیقی چہرہ

دنیا میں انسانی حقوق کا سب سے بڑا علم بردار امریکہ ہے اور دنیا میں انسانی حقوق کو سب سے زیادہ پامال کرنے والا بھی امریکہ ہی ہے۔ دنیا میں انسانوں کا سب سے زیادہ قتل عام امریکہ ہی نے کیا ہے۔ انسانوں کے قتل عام کے لیے وحشت آفریں ہتھیار امریکہ نے ہی بنائے ہیں اور امریکہ ہی نے بیچے ہیں۔ امریکی معیشت کا سب سے زیادہ انحصار ہتھیاروں کی فروخت پر ہی ہے۔ (more…)

سید ثاقب اکبر

پاکستان کی پارلیمان میں آزاد روح کا خطاب

30 جون 2021ء کو اسلام آباد میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان خطاب کر رہے تھے۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے پارلیمان میں قائداعظم کی آزاد روح کی آواز گونج رہی ہے۔ خود عمران خان نے قائداعظم کا ذکر ان الفاظ میں کیا: "قائداعظم غلام ہندوستان میں ایک آزاد انسان تھے۔” پاکستان کی تشکیل کا پس منظر اور اس سلسلے میں پاکستان کے بانیوں کا ویژن بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا: (more…)

سید اسد عباس

داعش کی ماں کب تک خیر منائے گی؟

افغانستان کے بعد امریکا کو عراق سے بھی اپنے پر پرزے سمیٹنے ہوں گے، امریکہ نے عراق سے اپنی واپسی کے پروانے پر دستخط اس روز کیے جب اس نے عراقی سرزمین پر عراقی رضاکار فورس کے کمانڈر ابو مہدی المہندس اور القدس بریگیڈ کے  معروف سربراہ جنرل قاسم سلیمانی پر حملہ کیا۔ یہ جنوری 2020ء کی بات ہے۔ الحشد الشعبی نے ایک برس انتظار کیا کہ امریکا ہماری سرزمین کو قانونی انداز سے چھوڑ جائے۔ پارلیمان کی قراردادوں، سیاسی شخصیات کے بیانات کے باوجود امریکہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ (more…)

سید اسد عباس

ایف اے ٹی ایف، آئی ایم ایف قوموں کیلئے شکنجہ

ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کی جانب سے 27 میں سے 26 مطالبات پر عمل درآمد، قانون سازی اور اقدامات کے باوجود پاکستان کو مزید ایک برس کے لیے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رکھے جانے پر اتفاق ہوا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں پاکستان سے مزید سات مطالبات بھی کیے گئے ہیں، جو کہ منی لانڈرنگ پر مزید سخت اقدامات لینے سے متعلق ہیں، پاکستان نے ان سات مطالبات پر ایک سال میں عمل درآمد کرنا ہے۔ (more…)