Skip to content

ایران امریکہ مذاکرات، توقعات اور حقائق

تحریر: سید اسد عباس

گذشتہ دنوں میرے دو قریبی دوستوں کے مابین کسی بات پر چپقلش ہوگئی، دونوں کے مابین کچھ سرد گرم جملوں کا تبادلہ ہوا، جس پر مجھے نہایت افسوس تھا۔ معاملے کی تہ تک پہنچنے کے لیے میں نے دونوں احباب کو فون کیا، تاکہ مسئلہ کو سمجھ سکوں اور اگر ممکن ہو تو بیچ بچاؤ کروا سکوں۔ فون کے بعد مجھے علم ہوا کہ کوئی پیسوں کا معاملہ ہے اور رقم خاصی زیادہ ہے۔ اب جس دوست کی رقم پھنسی ہوئی تھی، ان سے میں نے کہا کہ آپ کو رقم مل جائے گی، پریشان نہ ہوں، دوستی کو خراب نہیں کرنا چاہیئے۔ اس دوست نے میرے خلوص اور حسن نیت کو سراہا اور ساتھ ایک جملہ کہا کہ اگر پیسے نہ ملے تو کیا آپ ادائیگی کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں، بس یہ سننا تھا کہ میری سٹی گم ہوگئی۔ اتنی بڑی رقم میں کہاں سے لاؤں گا یا میں کیسے گارنٹی دے سکتا ہوں۔

اختلافات بالخصوص ایسے معاملات جن کا تعلق مالی امور، ریاستی خود مختاری، علمی و سائنسی پیشرفت سے ہو، ان کو سلجھانے کے لیے فقط خلوص اور حسن نیت کافی نہیں ہے، بالخصوص ایسی صورتحال میں جب طرفین کو ایک دوسرے پر اعتماد نہ ہو، میں خواہ کتنی ہی کاوش کروں، معاملے کو حل نہیں کرسکتا۔ اسلام آباد میں متوقع ایران امریکا مذاکرات بھی کچھ اسی قسم کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ایران پاکستان پر اعتماد کرتا ہے، اسے ہمارے خلوص اور حسن نیت پر بھی کوئی شک نہیں، تاہم امریکا کی مسلسل وعدہ خلافیوں کے بعد اب ایران کو ایسا گارنٹر درکار ہے، جو اس کے نقصانات کو پورا کرسکے۔ اگر آپ خود کو ایران کی جگہ رکھیں تو آپ کا بھی یہی تقاضا ہوگا کہ میرے 2 ارب ڈالر کے اثاثے امریکہ کے قبضے میں ہیں، حالیہ جنگ میں میرا تقریباً دو سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، اگر امریکا وعدہ خلافی کرتا ہے تو یہ رقوم آپ مجھے واپس دلوا سکیں گے یا یہ ادائیگی کرسکیں گے۔؟

اب آئیے جانیں کہ امریکا ایران سے کیا چاہتا ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ختم کر دے یا عالمی ایٹمی ایجنسی کے تحت اس پروگرام کو اتنا محدود کر دے کہ ایٹمی ہتھیار کی جانب نہ جا سکے۔ وہ مطالبہ کرتا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام بھی مکمل طور پر ختم کر دیا جائے یا اس کی رینج میں خاطر خواہ کمی کی جائے۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران مزاحمتی گروہوں کی حمایت ترک کر دے اور آبنائے ہرمز کو فی الفور کھول دیا جائے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 28 فروری 2026ء سے قبل یہ مطالبات نہیں بلکہ احکامات تھے، جو ایک ماہ کی مسلسل بمباری اور بھرپور کوشش کے بعد مطالبات بن گئے۔

جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ ہمیں ایٹمی تحقیقات اور یورینیم افزودگی کا حق عالمی قانون دیتا ہے، اس کا احترام کیا جائے۔ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کے خلاف آئندہ جارحیت نہیں کریں گے، اس کی ٹھوس ضمانت دی جائے، نیز یہ کہ امریکا خطے کے معاملات اور ایران کے داخلی امور میں مداخلت بند کرے، مزید برآں ایران کے منجمد اثاثوں کو فی الفور بحال کیا جائے اور ایران پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ درج بالا معاملات میں سے ایٹمی پروگرام ، منجمد اثاثوں اور عالمی پابندیوں کے حوالے سے ایک جامع معاہدہ 2015ء میں روس، چین، برطانیہ، جرمنی، فرانس، امریکہ اور ایران کے مابین طے پایا تھا، جسے برجام یا JCPOA کہا جاتا ہے۔ ٹرمپ بہادر اپنے پہلے دور صدارت 2018ء میں اس معاہدے سے نکل گئے اور پھر یورپی ممالک نے بھی ایران پر عالمی پابندیوں کے واپسی کا مراسلہ جسے سنیپ بیک کہتے ہیں، اقوام متحدہ میں جمع کروا دیا۔

ایران اس معاہدے کے تحت اپنی تمام تر ذمہ داریوں کو پورا کرچکا تھا، عالمی ایٹمی ایجنسی سے تصدیق کی کہ ایران نے معاہدے پر عمل درآمد کر دیا ہے، لہذا اس کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اور عالمی پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ اس وقت امریکہ یکطرفہ طور پر معاہدے سے نکل گیا اور اسے پوچھنے والا کوئی نہ تھا، نہ ہی کسی نے ایران کے اثاثے بحال کیے۔ شائد یہ اس معاہدے کی خامی تھی کہ اس میں گارنٹی موجود نہیں تھی۔ برجام معاہدہ ایک برس کی مسلسل سفارتکاری کے بعد طے پایا تھا۔ آج صورتحال بہت پیچیدہ ہوچکی ہے، لہذا اس کے لیے برجام سے بڑی سطح کے مذاکرات کی ضرورت ہے اور اگر ایران اب کسی گارنٹی کا تقاضا کرے تو وہ حق بجانب ہے۔

ایران آج اگر مطالبہ کرے کہ اسرائیل کو اسلامی سرزمینوں پر قبضوں سے روکا جائے، فلسطین کے مقبوضہ علاقوں بالخصوص غزہ کو آزاد کیا جائے، لبنان اور غزہ پر ہونے والی جارحیت کا ہرجانہ ادا کیا جائے، اس کے بعد ایران سے مزاحمتی گروہوں کی مدد بند کرنے کا تقاضا کیا جائے تو غلط نہیں، ایران کو تقاضا کرنا چاہیئے کہ اسرائیل کے ایٹمی پروگرام کو بھی عالمی ایٹمی ایجنسی کے تحت لایا جائے اور اس سے ٹھوس ضمانت لی جائے کہ وہ آئندہ کسی مسلم ملک کی سرحد کو پامال نہیں کرے گا، اگر وہ ایسا کرے تو اس پر عالمی پابندیوں کا اطلاق کیا جائے۔ ایران کو تقاضا کرنا چاہیئے کہ امریکا اور دنیا کے وہ ممالک جنھوں نے اس کے اثاثے منجمد کیے ہوئے ہیں، فی الفور بحال کریں اور امریکہ و اسرائیل حالیہ جارحیت کے نقصانات کا ازالہ کریں۔

ایران اگر تقاضا کرے تو درست ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایرانی عوام نے علی الاعلان معافی مانگیں، بالخصوص میناب میں شہید ہونے والی بچیوں کے والدین سے معافی مانگی جائے اور امریکی حکومت ان خاندانوں کو ہرجانے کی رقم ادا کرے۔ ان یقین دہانیوں اور قابل اعتماد گارنٹیز کے بغیر کوئی بھی معاہدہ برجام کی غلطی دہرانے کے مترادف ہوگا۔ ایران کے پاس اب کھونے کو نہ رہبر انقلاب ہیں، نہ پاسداران یا افواج کی قیادت، یہی وقت ہے کہ اپنے موقف کو مکمل جرات سے دنیا کے سامنے رکھا جائے۔

بشکریہ اسلام ٹائمز