Skip to content

یکم جون خاندانی منصوبہ بندی اور اس کے اثرات اسلامی نظریاتی کونسل

اس کانفرنس میں دنیا بھر نیز مسلم ممالک میں خاندانی منصوبہ بندی کے اثرات اور حکمت عملی اور جہتوں پر گفتگو کی گئی ۔ جناب ثاقب اکبر نے مصر ، ایران ، انڈونیشیا اور دیگر مسلم ممالک میں آبادی کے کنڑول کے حوالے سے اپنی عرائض پیش کیں ۔ یہ پروگرام اسلامی نظریاتی کونسل کے تحت منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر صاحبزادہ نور الحق قادری نے بھی شرکت کی ۔

قراردادی مسلمان اور جہادی مسلمان

تحریر: ثاقب اکبر

ویسے تو آج کے مضمون کو تفصیل کی ضرورت نہیں، سرخی میں جو اجمال آگیا ہے، وہی ساری داستان کہنے کو کافی ہے۔ بہرحال اس سے دل کو تشفی نہیں ہوتی، لہٰذا کچھ تو کہنا ہے۔ تو آئیے سابق اسرائیلی وزیراعظم گولڈا مئیر کی ایک بات سے آغاز کلام کرتے ہیں۔ وہ کہا کرتی تھیں کہ ان کی زندگی کا سب سے برا اور خوشگوار دن وہ تھا، جب انھوں نے مسجد اقصیٰ کو آگ میں جلتے دیکھا۔

دوسری کرونائی عید الفطر

تحریر: ثاقب اکبر

اب کے پھر عیدالفطر کرونا کی وبا کے دوران میں آرہی ہے۔ کرونا کی موجودہ لہر کو انتہائی موذی قرار دیا جا رہا ہے۔ اپنے ہمسایہ ملک بھارت کی طرف دیکھیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے، جہاں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چار ہزار سے زیادہ افراد ہر روز اس وحشت آفریں بلا کا شکار ہو رہے ہیں۔ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق یہ تعداد تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔ پاکستان میں سرکاری بیانات کے مطابق کرونا سے لقمہء اجل بننے والے افراد کی تعداد ہر روز ڈیڑھ سو سے کم اور ایک سو سے زیادہ ہے۔

یوم القدس اور اسلامی مزاحمت کا نقطۂ نظر

تحریر: ثاقب اکبر

عالمی یوم القدس پر اسلامی مزاحمت کے مختلف قائدین کے بیانات یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ایک ہی جذبہ ہے جو حق پرست اور شجاع پیشہ مسلمانوں کے دلوں میں برپا ہے۔ وہ پورے یقین کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل نابودی اور زوال کی طرف بڑھ رہا ہے اور دن بدن کمزور سے کمزور تر ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر بیداری کی ایک لہر موجود ہے۔ یقیناً اس بیداری میں ہر سال برپا کیے جانے والے یوم القدس کا ایک بڑا کردار ہے، جس کی بنیاد حضرت امام خمینیؒ نے رکھی تھی۔ آئیے ذیل میں اسلامی مزاحمت کے چند راہنمائوں کے بیانات پر ایک نظر ڈالتے ہیں، جو یوم القدس ہی کی مناسبت سے سامنے آئے ہیں:

یوم القدس کے جلوس میں شرکت اور خطاب

اس برس کرونا کی صورتحال کے سبب حکومت نے یوم القدس کے موقع پر کار اور بائیک ریلی کی اجازت دی ۔ مفاد عامہ اور حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہیں ملک بھر میں یوم القدس کے جلوس کا اہتمام کیا گیا ۔ جناب ثاقب اکبر نے آئی ایس او اور مجلس وحدت کے زیر اہتمام منعقدہ ریلی میں شرکت کی اور خطاب کیا۔

ناموس رسالت کے قانون کے خلاف یورپی پارلیمان کی قرارداد اور ملی یکجہتی کونسل کا ردعمل

تحریر: ثاقب اکبر

یورپی پارلیمان نے 29 اپریل 2021ء کو بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کی ہے، جس میں حکومتِ پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ توہینِ رسالت کے قانون کی دفعات 295بی اور سی کا خاتمہ کرے۔ اس قرارداد میں یورپی کمیشن سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ 2014ء میں پاکستان کو جی ایس پی (جنرلائزڈ سکیم آف پریفرینسیز) پلس کے تحت دی گئی تجارتی رعائتوں پر فی الفور نظرثانی کرے۔ قرارداد میں حکومتِ پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 1997ء کے انسدادِ دہشت گردی کے قانون میں بھی ترمیم کرے، تاکہ توہین رسالت کے مقدمات کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں نہ کی جاسکے اور توہین رسالت کے ملزمان کو ضمانتیں مل سکے۔

۳مئی یوم القدس کے عنوان سے کانفرنس

یوم القدس کے عنوان سے فلسطین فاونڈیشن کے زیر اہتمام پریس کلب اسلام آباد میں ایک کانفرنس میں شرکت کی جس میں مسلم لیگ کے مرکزی راہنما صدیق الفاروق ، سید ثاقب اکبر ، مفتی گلزار احمد نعیمی ، عبد اللہ گل اور سید ناصر شیرازی نے خطاب کیا ۔اس موقع پر درج ذیل پریس ریلیز جاری کی گئی :

ماہ اپریل قرآن آئین زندگی ۔۔خصوصی رمضان پروگرام سچ ٹی وی

ان پروگراموں میں اتحاد امت ، روزے کا فلسفہ ، اخلاقیات ، سماجی مسائل ، اولاد کے حقوق ، والدین کے حقوق، شب قدر، جمعۃ الوداع ، اسلامی مواخات ، مسئلہ فلسطین ، مسئلہ کشمیر ، امت مسلمہ کی وحدت  جیسے موضوعات زیر بحث آئے ۔

انصار اللہ یمن شہر ماٰرب کے دروازے پر

تحریر: ثاقب اکبر

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یمن کی عوامی رضاکار فوج ماٰرب شہر سے تقریباً دو کلو میٹر کے فاصلے پر پہنچ چکی ہے۔ مرکز شہر سے یہ فاصلہ پانچ کلو میٹر رہ گیا ہے۔ عالمی سطح پر یہ توقع کی جا رہی ہے کہ سید عبدالمالک حوثی کی قیادت میں جارحین کے خلاف آزادی کی جنگ لڑنے والے تاریخ میں ایک نیا باب مکمل کرنے کو ہیں۔ امریکی سرپرستی میں 6 سال سے زیادہ عرصہ سے مسلط کردہ جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کو ہے۔ آج (27 اپریل2021ء) صبح سے خبر رساں ادارے یہ اطلاع دے رہے ہیں کہ یمنی افواج ماٰرب شہر کی طرف بڑھتے ہوئے اس وقت تومۃ العلیا کو آزاد کروا چکی ہیں۔

اقبال اور ملا کی تنگ نظری

تحریر: ثاقب اکبر

ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم لکھتے ہیں: ’’علامہ اقبال ایک روز مجھ سے فرمانے لگے کہ اکثر پیشہ ور ملا عملاً اسلام کے منکر، اس کی شریعت سے منحرف اور مادہ پرست دہریہ ہوتے ہیں۔ فرمایا کہ ایک مقدمے کے سلسلے میں ایک مولوی صاحب میرے پاس اکثر آتے تھے۔ مقدمے کی باتوں کے ساتھ ساتھ ہر وقت یہ تلقین ضرور کرتے تھے کہ دیکھیے ڈاکٹر صاحب آپ بھی عالم دین ہیں اور اسلام کی بابت نہایت لطیف باتیں کرتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ آپ کی شکل مسلمانوں کی سی نہیں، آپ کے چہرے پر ڈاڑھی نہیں۔ میں اکثر ٹال کر کہہ دیتا کہ ہاں مولوی صاحب آپ سچ فرماتے ہیں۔