اگر فاطمہ جناح قتل ہوئی ہیں تو۔۔۔

Published by fawad on

تحریر: سید اسد عباس

گذشتہ دنوں اسلام ٹائمز کے ہی کالم نگار اور معروف دانشور سید ثاقب اکبر نے محترمہ فاطمہ جناح کی موت کے معمے کے حوالے سے ایک مضمون تحریر کیا۔ یہ میری عمر کے لوگوں کے لیے بالکل نئی معلومات تھی۔ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کے خلاف الیکشن لڑا، ایوب خان نے ریاستی مشینری کا استعمال کرتے ہوئے فاطمہ جناح کو شکست دی، فاطمہ جناح کو ناکام کرنے کے لیے ایوب خان نے وڈیروں، پیروں، مولویوں، پنجاب کے سربرآوردہ لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا، تاکہ فاطمہ جناح کی حیثیت اور شخصیت کو مسخ کیا جائے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی کی تاریخ لکھنا چاہتی تھیں، تاہم وہ افراد جن کو فاطمہ جناح نے تاریخ مرتب کرنے کے لیے منتخب کیا تھا، وہ راتوں رات ملک چھوڑ کر چلے گئے اور اس کام سے معذرت کر لی۔ انھوں نے ’’میرا بھائی‘‘ کے عنوان سے جو کتاب مرتب کی، اس کے بہت سے صفحات ہی غائب کر دیئے گئے، لیکن نوبت قتل تک گئی ہوگی، یہ کبھی نہ سوچا تھا۔

میرا خیال تھا کہ محترمہ فاطمہ جناح عمر رسیدہ تھیں، اپنی طبعی زندگی مکمل کرنے کے بعد اس دنیا سے رخصت ہوئی ہوں گی، تاہم سید ثاقب اکبر کے مضمون میں بیان کردہ حقائق اور شہادتوں کو پڑھ کر انتہائی حیرت ہوئی کہ محترمہ کے قتل کے شواہد بھی موجود ہیں۔ یہ بھی روایت ہے کہ ان کو زدو کوب کیا گیا، ان کی پسلیاں توڑی گئیں، ان کے گلے پر چاقو کا زخم تھا۔ ان کے پیٹ میں چاقو کا زخم تھا۔ اس سے بھی خطرناک بات یہ ہے کہ محترمہ کے قتل سے متعلق یہ حقائق چھپائے گئے اور محترمہ کی موت کو طبعی قرار دیا گیا۔

عقیل عباس جعفری نے آن لائن ویب سائٹ انڈیپنڈنٹ اردو کے لیے ایک مضمون ’’کیا محترمہ فاطمہ جناح کو قتل کیا گیا تھا‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا، جس میں وہ لکھتے ہیں: ’’مادر ملت کا معمول تھا کہ وہ سونے سے قبل قصر فاطمہ (موہٹہ پیلس) کے تمام دروازے مقفل کرکے بالائی منزل میں اپنے کمرے میں سو جاتی تھیں اور صبح بیدار ہونے کے بعد چابیوں کا گچھا بالکونی سے نیچے پھینک دیا کرتی تھیں، تاکہ ملازم سات بجے انہیں اخبارات پہنچا دیں۔ اخبارات دیکھنے کے بعد جب وہ نہا دھو کر تیار ہوتیں تو ملازم 10 بجے انہیں ناشتہ دے دیا کرتا تھا۔ ناشتے کے بعد محترمہ نچلی منزل میں اپنے دفتر میں آجاتیں۔ نو جولائی1967ء کی صبح خلاف معمول محترمہ نے چابیاں نہیں پھینکیں۔ ملازم سمجھا کہ اتوار ہے، اس لیے ممکن ہے کہ محترمہ دیر تک آرام کریں۔ دس بجے تک بھی محترمہ بیدار نہیں ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں: https://albasirah.com/urdu/qauid-sis-murder/

دروازہ کھٹکھٹانے کا بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا تو ملازم ان کی ہمسائی بیگم غلام حسین ہدایت اللہ کے پاس گیا اور انہیں صورت حال بتائی۔ وہ فوراً قصر فاطمہ پہنچیں، جب دروازہ کسی طرح نہ کھلا تو ایک روایت کے مطابق اسے توڑ کر اور دوسری روایت کے مطابق کسی اور چابی کی مدد سے اسے کھول کر اندر پہنچا گیا، جہاں بستر پر محترمہ فاطمہ جناح کی لاش پڑی تھی۔ بیگم ہدایت اللہ اپنے گھر واپس گئیں، جہاں سے انہوں نے فون کرکے ڈاکٹر کرنل جعفر اور کرنل شاہ کو بلایا۔ دونوں ڈاکٹروں نے محترمہ کی موت کی تصدیق کی اور کہا کہ موت قدرتی طور پر واقع ہوئی ہے۔ کے ایچ خورشید بھی یہی کہتے ہیں کہ محترمہ فاطمہ جناح کی موت قدرتی تھی اور بڑھاپے کی بنا پر ان کی گردن پر جھریوں کے نشان تھے، یہ غلط ہے کہ ان کی گردن پر گلا گھونٹے جانے کا کوئی نشان تھا۔‘‘

قائداعظم محمد علی جناح اور محترمہ فاطمہ جناح

اسی عنوان سے ایک مضمون شیخ عبد الرشید نے بھی تحریر کیا ہے۔ یہ مضمون آن لان سائٹ ہم سب نے 2020ء میں شائع کیا۔ اس مضمون کا عنوان ’’مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح قتل یا طبعی موت ہے۔‘‘ شیخ عبد الرشید درج بالا واقعہ کو اسی طرح بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے کئی ایک قریبی ساتھیوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی موت کو طبعی قرار دیا تھا۔ شیخ عبد الرشید لکھتے ہیں: "کے ایچ خورشید نے 24 دسمبر 1977ء کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ”محترمہ فاطمہ جناح کی موت قدرتی تھی اور بڑھاپے کی بناء پر ان کی گردن پر جھریوں کے نشان تھے، یہ غلط ہے کہ گلا گھوٹنے سے ان کی گردن پر کوئی نشان تھے’’ ایم ابو الحسن اصفہانی نے 14 جنوری 1976ء کو آغا حسن ہمدانی کو دیئے گئے انٹرویو میں یہ کہا کہ محترمہ کی موت قدرتی طور پر واقع ہوئی تھی، کیونکہ میں نے دونوں ڈاکٹروں کرنل جعفر اور کرنل ایم ایچ شاہ سے علیحدہ علیحدہ ان کی وفات سے متعلق پوچھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ موت قدرتی واقع ہوئی ہے۔‘‘

قائداعظم کے ایک اہم ساتھی مطلوب الحسن سید نے بھی انٹرویو میں بتایا تھا کہ ”میر لائق علی خان کی بیٹی کی شادی کی دعوت میں محترمہ فاطمہ جناح نے ملاقات میں بتایا تھا کہ “ان کا دل ڈوب رہا ہے” اسی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی“ یہ تمام بیانات ان راہنماؤں کے ہیں، جو ان کی وفات کی اطلاع کے بعد فوراً قصر فاطمہ پہنچے۔‘‘ درج بالا دونوں مضامین میں اسی حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے، جس سے جناب سید ثاقب اکبر نے پردہ اٹھایا کہ محترمہ کی وفات اور ایوب خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ اطلاعات منظر عام پر آنے لگیں کہ محترمہ قتل ہوئی ہیں۔ اس سلسلے میں فاطمہ جناح کے بھانجے جو ہندوستان میں معروف قانون دان تھے، ان کا پاکستان آنا اور ایوب خان سے ملنا نیز واقعہ کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کرنا اور ایوب خان کا اس حوالے سے تحقیقات کروانے کا وعدہ کرنا، غسالاوں کے انکشافات جو روزنامہ نوائے وقت کی 16 اگست 1971ء میں شائع ہوئے حیران کن ہیں۔

اگر واقعی محترمہ فاطمہ جناح کو قتل کیا گیا ہے، جیسا کہ لیاقت علی خان کو قتل کیا گیا تو یہ واقعہ پاکستانی معاشرے کی بے حسی اور محسن کشی کی بین مثال ہے۔ یقیناً اس دور میں میڈیا آج کی طرح عام عوام کی دسترس میں نہ تھا، لیکن وہ لوگ جن تک حقائق پہنچے تھے، ان کا خاموشی اختیار کرنا اور اس بات کو اپنے سینوں میں دفن کیے رکھنا انتہائی حیرت انگیز ہے۔ جب قوم کو اخبارات کے ذریعے 1971ء میں یہ معلوم ہوگیا تھا کہ فاطمہ جناح کے قتل کی شہادتیں موجود ہیں تو اس وقت کیوں تحقیق کا مطالبہ نہ کیا گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی کراچی کی سڑک پر ایمبولینس میں بے کسی کی موت، ان کے ساتھیوں کا ایک ایک کرکے ملک سے فرار، لیاقت علی خان کا قتل اور پھر فاطمہ جناح کی موت، یہ وہ مظالم ہیں جو پاکستان نے اپنے محسنوں کے ساتھ کیے اور عوام اس میں برابر کی ذمہ دار ہے، جو ان تمام واقعات سے نہ فقط نابلد رہی بلکہ معلوم ہونے کے بعد بھی ان واقعات سے آنکھیں بند کیے رکھیں۔ یقیناً پاکستان کی آج کی صورتحال اسی جہالت اور خاموشی کا نتیجہ ہے۔ وہ مملکت جس کو امت مسلمہ کے لیے ایک مثال کے طور پر ابھرنا تھا، وہ آج مفلسی کے دن کاٹ رہی ہے۔ تاہم مجھے اس بات کا یقین ہے کہ حقائق ایک نہ ایک دن ضرور سامنے آئیں گے۔ بقول شاعر
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
خون ناحق کبھی چھپ نہیں سکتا۔ اس ملک اور اس کے محسنوں سے ظلم روا رکھنے والے کبھی انصاف سے بچ نہیں پائیں گے۔ ان شاءاللہ