تحریر: سید اسد عباس
بعثت رسول اکرم ؐ سے قبل شام نہ فقط تجارتی بلکہ علمی، فکری اور سیاسی مرکز بھی تھا، جہاں سریانی اور یونانی زبان بولی جاتی تھی۔ یہ بازنطینی ریاست کا سرحدی صوبہ تھا، جہاں مختلف مسیحی عرب قبائل اور دیگر اقوام آباد تھیں۔ شام 64 قبل مسیح میں رومن سلطنت کا حصہ بنا۔ Kennedy, David L. (January 2006) اپنے مقالے بعنوان "شام میں آبادی اور ڈیموگرافی” میں تحریر کرتے ہیں کہ پہلی صدی عیسوی میں پوری سرزمینِ شام (لیوانٹ) کی آبادی کے تخمینے 35 سے 40 لاکھ سے لے کر 60 لاکھ کے درمیان ہیں۔ مسلمانوں کی بازنطینی ریاست کے اس صوبے اور بالخصوص عرب مسیحی قبیلے بنی غسان سے مڈبھیڑ کا آغاز رسول اکرم ؐ کی زندگی میں ہوچکا تھا، جو خلفائے ثلاثہ کے ادوار میں جاری رہا۔ 640 عیسوی میں خلیفہ ثانی نے بنی امیہ کی معروف شخصیت ابو سفیان کے فرزند کو شام کا گورنر مقرر کیا، یوں شام میں بنی امیہ کے اقتدار کا آغاز ہوا۔
معروف مستشرق رابرٹ جی ہائیلینڈ کی تحقیق Seeing Islam as others saw it جسے ڈارون پریس نے 1997ء میں شائع کیا، میں اموی شام کے حوالے سے بہت سے وقائع کا تذکرہ موجود ہے، جو اسی دور کے شامی، یونانی، سریانی، آرمینیائی، لاطینی، یہودی اور زرتشتی مورخین نے قلمبند کیے ہیں۔ رابرٹ جی ہائیلینڈ کے مطابق ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی کے شام کے اہم اہل علم، جن کی تصانیف آج بھی دستیاب ہیں، میں سیویرس سیبوخت ساتویں صدی عیسوی کا ماہر فلکیات، یعقوب آف ایڈیسا، سوفرونیئس، یوحنا دمشقی، تھیوڈوٹس آف امیدا قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ رابرٹ نے اپنی تحقیق کی تکمیل میں یونانی، سریانی، قبطی، آرمینیائی، لاطینی، یہودی، زرتشتی اور دیگر لکھاریوں کے علمی آثار سے بھی استفادہ کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان وقائع نگاروں میں سے اکثر ایسے ہیں، جنھوں نے شام میں اسلام کی آمد اور اس کے پھیلاؤ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ان وقائع نگاروں نے تاریخ کو قلمبند کرنے کے لیے شامی حکومت کی سرکاری دستاویزات اور داخلی ذرائع سے استفادہ کیا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ رسول اکرم ؐ کی بعثت سے قبل عربی بول چال اور شاعری کی زبان تھی، جس میں علمی آثار نہ ہونے کے برابر تھے۔ اس زبان کی باقاعدہ گرائمر تدوین نہیں ہوئی تھی۔ عربی کی پہلی باقاعدہ کتاب قرآن کریم ہے۔ اس زبان میں کتب لکھنے، دوسری زبانوں سے اس میں تراجم کرنے، اس کے قواعد کی تدوین اور یہاں تک کہ عربی میں کرنسی جاری ہونے اور اس کے سرکاری زبان کا درجہ پانے کا عمل بنی عباس کے دور میں مکمل ہوا۔ تب تک عرب سرداروں، شام اور یمن جانے والے تاجروں اور پڑھے لکھے افراد کے لیے کسی حد تک یونانی، رومی یا سریانی زبانیں جاننا ضروری ہوتا تھا۔ طب، کتابت اور ریاضی سے مربوط کام وہی لوگ انجام دیتے تھے، جو یونانی یا رومی زبان جانتے تھے۔ ممکن ہے کہ کچھ لوگ پہلوی زبان سے بھی واقفیت رکھتے ہوں، جو ایران میں رائج تھی۔
شام جو کہ رومی سلطنت کا حصہ تھا، اس میں ایک لمبے عرصے تک یونانی اور سریانی زبانیں بولی جاتی رہیں۔ اس حوالے سے اردن کے شمال مغربی شہر ام قیس کے القدرہ کھنڈرات سے دریافت ہونے والا یونانی زبان میں لکھا ہوا کتبہ اہم ہے، جو 662ء میں پتھر پر کندہ کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی آمد اور فتوحات کے باوجود ان علاقوں میں یونانی اور سریانی زبان رائج تھی۔ اس کتبہ پر جو تحریر کندہ ہے، اس کا مفہوم کچھ یوں ہے:
ترجمہ: "(یونانی صلیب کا نشان) خدا کے بندے امیرالمؤمنین معاویہ کے عہد میں کونسلر عبداللہ بن عاصم نے یہاں کے عوام کے لیے قدیم گرم حمام کی حفاظت اور تعمیرِ نو کا کام کیا، تاکہ بیماروں کے لیے شفاء کا باعث ہو۔ یہ کام شہر کی تأسیس کے 726 سال بعد، 42 سنہ عربی میں، والئ شہر یوحنا کی زیرِ نگرانی انجام پایا۔”

بسم اللہ کی جگہ صلیب کا نشان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ شام کے علاقے اگرچہ دائرہ اسلام میں داخل ہوچکے تھے، تاہم وہاں کا اہل علم طبقہ اور اشرافیہ اب بھی مسیحی تھے۔ شام کا اہم ترین مسیحی عرب قبیلہ بنو کلب جو مسیحی عرب قبائلی اتحاد کا بھی سردار تھا، فتح شام کے وقت غیر جانبدار رہا، تاہم جلد اس قبیلے کی امیر شام اور خلیفہ سوئم سے رشتہ داری ہوگئی، جس کے سبب یہ قیبلہ اور ان کا اتحاد بنی امیہ کی حکومت کا اہم عسکری و تزویراتی اتحادی بن گیا۔ اس قبیلے کے سردار نے بنی امیہ کی حکومت سے صلیبیوں کے لیے بہت سی مراعات بھی لیں، جس کے بدلے میں اس قبائلی اتحاد نے اپنی فوجی خدمات حکومت کو پیش کیں، جس کا تذکرہ آئندہ آئے گا۔
رابرٹ جی ہائیلینڈ اپنی کتاب میں تحریر کرتے ہیں کہ ساتویں صدی عیسوی کا شامی مورخ تھیوڈوٹس آف آرمیڈا مسلم حکمران عبد الملک بن مروان (685ء تا 705ء) کے زیر نگیں شام کے بارے لکھتا ہے:
"عیسائی اب بھی عربوں کی زمینوں پر کاتب، رہنماء اور گورنر تھے۔” "ساموساطہ کی سرزمیں میں ایلوسٹریہ نامی ایک گورنر (آرکون) تھا۔ اس شخص کا تعلق حران سے تھا۔ اس علاقے کا ٹیکس وصول کنندہ (محصل) اس کے ملازمین میں سے ایک شخص تھا، جس کا نام سرجیئس (Sergius) تھا۔ ہمیں میافارقین (Mayferqat) کے ایک گورنر اسٹارٹی (Estarti) کے بارے میں معلوم ہوتا ہے، جس نے تھیوڈوٹس (Theodotus) سے ملاقات کی ناکام کوشش کی۔ تور عبدین (Tur ‘Abdin) کا ایک گورنر جسے "640ء میں نصیبین (Nisibis) پر عربوں کی جنگ میں تیر کا زخم لگا تھا” اور جس نے تھیوڈوٹس کی تقدیس و پاکیزگی کی گواہی دی اور درعا (Dara) کا ایک اور گورنر ایلوسٹریہ یہ لوگ غالباً Melkitesشاہی عیسائی تھے۔”
آٹھویں صدی عیسوی کا معروف یونانی وقائع نگار تھیوفینس دی کنفیسر اپنی کتاب کے (صفحات 430-31) پر لکھتا ہے: 758ء میں عربوں نے عیسائیوں کو سرکاری دفتری نظام (دیوان/دیوانِ انشا) سے نکالنے کی کوشش کی، لیکن وہ اعداد و شمار لکھنے سے قاصر ہونے کی وجہ سے دوبارہ انہی فرائض کو عیسائیوں کے سپرد کرنے پر مجبور ہوگئے۔ القدرہ کھنڈرات سے ملنے والے کتبے میں مذکور ام قیس کا والی یوحنا دمشقی شامی حکومت کے اہم رکن سر جون بن منصور کا فرزند ہے، یہ باپ بیٹا کبھی مسلمان نہیں ہوئے۔ مسیحی دنیا میں یوحنا دمشقی کو Jhon of Damascus کے نام سے جانا جاتا ہے، جو یزید بن معاویہ کے ہم عصر افراد میں سے تھا۔ یوحنا دمشقی بہت بڑا مسیحی عالم تھا، جس کے لکھے ہوئے نغمے آج بھی کلیساؤں میں گنگنائے جاتے ہیں۔ سر جون بازنطینی دربار شام کے اہم کارندوں اور امیر شام کے مشیروں میں سے تھا اور شام کی فتح کے بعد سے مروان بن ملک کے زمانے تک دربار شام سے متمسک رہا۔
مستشرقین کے مطابق یوحنا دمشقی اسلام کا بڑا ناقد تھا۔ اس نے اپنی کتاب Concerning Heresy” بدعتوں کا بیان” میں لکھا کہ اسلام اسماعیلیوں کی بدعت ہے۔یوحنا کا دعویٰ تھا کہ مسلمان پہلے افروڈائٹ (Aphrodite) کے پوجنے والے تھے، جو محمد کے "ظاہری تقویٰ کی نمائش” کی وجہ سے ان کے پیروکار بن گئے۔ دمشقی نے قرآن کریم پر بھی تنقید کی۔ وہ زندگی کے آخری ایام میں بیت المقدس کے چرچ کا پادری بن گیا۔ یوحنا (John) کا دعویٰ ہے کہ اس نے مسلمانوں سے پوچھا کہ وہ کون سے گواہ ہیں، جو اس بات کی شہادت دے سکتے ہیں کہ محمد کو قرآن خدا کی طرف سے ملا۔۔۔۔ کیونکہ یوحنا کے مطابق، موسیٰ نے بنی اسرائیل کی موجودگی میں خدا سے تورات حاصل کی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اسلامی قانون یہ لازم قرار دیتا ہے کہ ایک مسلمان صرف گواہوں کی موجودگی میں ہی نکاح اور تجارت کرسکتا ہے، لہذا قرآن کے نزول کی بھی گواہی ہونی چاہیئے۔۔۔۔
اس کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ بائبل کے کن انبیاء اور آیات نے محمد کی آمد کی پیشگوئی کی تھی۔۔۔۔ اس کے رسول اللہ ؐ پر بعض اعتراضات قابل بیان نہیں ہیں۔ یوحنا دمشقی فلوطینی فلسفے کا معتقد تھا، اس نے اس عنوان سے بھی کتب تحریر کیں۔ مسلم و مسیحی مورخین کے مطابق رسول اکرم ؐ کی رحلت 632ء تک شام کا بڑا مسیحی قبیلہ "بنی کلب” جو کہ بازنطینی حکومت کا اہم پشت پناہ تھا، اپنے دین پر قائم تھا۔ مستشرقین کے مطابق تو اس قبیلے اور دیگر اتحادی قبائل نے بنی عباس کے جبر تک اپنا دین نہیں بدلا، جس کا تذکرہ بعد کی سطور میں درج ہے۔ بنی کلب کے سردار بحدل بن عنیف کلبی کی دختر میسون بنت بحدل سے امیر شام کے عقد کے سبب یہ قبیلہ شامی حکومت کا اہم اتحادی اور پشت پناہ بن گیا۔ بحدل بن عنیف 657ء میں مرا۔ مستشرقین کے مطابق وہ مسیحی ہی مرا۔ مستشرقین کے مطابق جنگ صفین میں بحدل کے بیٹے اور پوتے شامی فوج کے سب سے بڑے حصے، جند دمشق کی قیادت کر رہے تھے، جو صلیبی عرب قبائل کے اتحادی فوجیوں پر مشتمل تھا۔ مستشرقین کے علاوہ تیسری صدی ہجری کے مسلمان مورخ نصر بن مزاحم المنقری نے "وقعۃ صفین” میں ان قبائل کی صفین میں شرکت کا حوالہ دیا ہے۔
"Were the Qays and Yemen of the Umayyad Period Political Parties?”. Der Islam. کے مصنفین کے مطابق بہدل نے اپنے اتحاد اور تعاون کے بدلے بنو کلب اور قضاعہ کے اتحادیوں کے لیے اہم مراعات حاصل کیں، جن میں خلافت کے تمام بڑے فیصلوں میں ان سے مشاورت، اقدامات کی تجاویز دینے اور انھیں ویٹو (مسترد) کرنے کا حق اور بنو کلب و قضاعہ کے 2,000 شرفا کے لیے بھاری، سالانہ اور موروثی وظائف شامل تھے۔ یزید نے بھی بنی کلب میں شادی کی اور اس قبیلے کی مراعات کو جاری رکھا، یزید کی تنصیب کی ایک بڑی وجہ یہی بنی کلب کا رسوخ ہے، ورنہ اس کا بڑا بھائی جو کہ قریشی ماں سے تھا، وہ بھی موجود تھا۔
بلاذری، فتوح البلدان، صفحہ 161 اور کرون، سلیوز آن ہارسیز، صفحات 237-38، حاشیہ 362 میں شامی افواج کے بارے لکھتے ہیں:
"آٹھویں صدی عیسوی کے اوائل میں بھی متعدد مردائیوں (Mardaites) اور اساورہ (Asawira) کو جزیہ سے استثنیٰ حاصل تھا اور وہ مسلمانوں کی فوجی مہمات میں حصہ لیتے تھے، اس کے باوجود کہ وہ خود مسلمان نہیں تھے۔”
رابرٹ ہوئلینڈ اپنی کتاب کے باب Martyrologies (تذکرہ شہدائے مسیحیت) صفحہ 343 پر تحریر کرتے ہیں:
آٹھویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں ہمیں بڑے پیمانے پر عیسائیت چھوڑ کر اسلام قبول کرنے (ارتداد/انحراف) کے واقعات کے بارے میں سننے کو ملتا ہے۔ بطریق (پیٹریارک) مائیکل (743ء–767ء) کے زمانے میں "مسیح کا انکار کرنے والوں (اسلام قبول کرنے والوں) کی تعداد 24,000 تک پہنچ گئی تھی۔
رابرٹ ہوئلینڈ اپنی کتاب کے باب Martyrologies (تذکرہ شہدائے مسیحیت) صفحہ353 پر تحریر کرتے ہیں:
جب 780ء میں مہدی (عباسی خلیفہ) حلب کے قریب بنو تنوخ کے درمیان نمودار ہوا تو تشدد کی دھمکیوں کے باعث ان کے 5,000 افراد مسلمان ہوگئے۔
یہ قبیلہ جو بنی کلب کے زیر نگیں صلیبی عرب قبائل کے اتحاد کا حصہ تھا، اموی دور سے لے کر عباسی خلیفہ مہدی کے دور (780ء) تک اپنے عیسائی عقیدے پر قائم رہتے ہوئے عسکری خدمات انجام دیتا رہا۔ مستشرقین کے مطابق ان کے پاس ۵,۰۰۰ شاندار فاخرہ گھوڑوں اور عسکری سامان سے لیس گھڑ سوار جنگجو موجود تھے، جو بازنطینی ریاست کے تربیت یافتہ تھے۔
رابرٹ ہوئلینڈ کے مطابق بنو تغلب جو شام کا ایک اہم مسیحی قبیلہ تھا، ان کے سرداروں میں معاذ اور شام اللہ شامل تھے۔ عبدالملک بن مروان کے بھائی اور جزیرہ کے گورنر محمد بن مروان کے دور میں معاذ نے اسلام قبول کرنے کے دباؤ پر اپنے عیسائی عقیدے سے ہٹنے سے انکار کیا، جبکہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں شام اللہ نے بھی اموی دربار اور عرب قبائلی قیادت میں رہتے ہوئے اپنے عیسائی عقیدے کا دفاع کیا۔ بنو غسان فتوحات سے قبل ہی شام اور اردن کے خطے میں دمشق کے قریب جابیہ کو اپنا مرکز بنا کر مقیم ایک بڑا عیسائی عرب قبیلہ تھا۔ بنو امیہ کے دور میں جابیہ کی عسکری و سیاسی اہمیت برقرار رہی اور غسانی و دیگر شامی عیسائی عربوں کے سیاسی و انتظامی اثرات اموی شام کے حکومتی نظام کا حصہ رہے۔
قدیم یونانی منابع کے مطابق بنو ایاد کے عیسائی افراد بھی اموی دور میں عیسائی رہے اور جنگی مہمات میں حصہ لیتے رہے۔ Michael the Syrian ll.XVII, 451-52/480-82 کے مطابق مسلمہ بن عبدالملک کی مہمات کے دوران "بنو ایاد” کے عیسائی جنگجوؤں کا ذکر ملتا ہے، جنھوں نے خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے سامنے بھی اپنے عیسائی عقیدے پر قائم رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔ آٹھویں اور نویں صدی عیسوی کا معروف یونانی مورخ تھیوفینس اپنی کتاب The Chronicle of Theophanes جس کا انگریزی ترجمہ سائرل مینگو اور راجر سکاٹ نے کیا اور آکسفورڈ پریس نے اس کتاب کو 1997ء میں شائع کیا، اس کے صفحہ نمبر 496 پر لکھتا ہے کہ شام کے فرمانروا نے ہزار دینار کے عوض سلطنت روم سے ایک امن معاہدہ کیا، جو کہ جنگ صفین سے قبل کیا گیا۔ تھیوفینس امیر شام کی میزبانی اور سفارتکاری کی تعریف کرتا ہے، رومی وفد کے استقبال کے لیے عرب مسیحی قبائل کے شرفاء کو بھیجا گیا۔ تھیوفینس کے مطابق 678ء میں امیر شام نے قسطنطین چہارم کے ساتھ 30 سالہ امن معاہدہ کیا، جس میں طے پایا کہ شام ہر برس رومی سلطنت کو 3 ہزار سونے کے سکے، پچاس غلام اور پچاس تربیت یافتہ گھوڑے دیا کرے گا۔
مسلم تاریخ کے حوالے سے تھیوفینس کا کام اس وقت کے عالم اسلام کے بارے میں مسیحی نقطہ نظر ہے، یہ کام اس حوالے سے بھی اہم ہو جاتا ہے کہ شام ایک عرصہ تک رومی سلطنت کا حصہ رہا اور فتح شام کے بعد بھی قسطنطینہ اور شام کے روابط بدستور قائم رہے۔ ان روابط کا مسیحی زاویہ نگاہ عرب معاشرے بالخصوص شام، قسطنطینہ کے سماج نیز تاریخی واقعات کا ایک وسیع فہم حاصل کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ مسلم مورخین خواہ یعقوبی ہوں یا بلاذری، طبری ہوں یا ابن کثیر، ہمیشہ فرقہ وارانہ تنقید کا شکار رہے ہیں، ایسے میں اس دور کے مسیحی مورخ کا علمی کام حقائق کو ایک تیسرے زاویہ سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تھیوفینس نے امیر شام کو "prōtosymboulos” (ساراسنز/عربوں کا پہلا بادشاہ) کے لقب سے یاد کیا ہے۔ اس نے موسس اقتدار بنی امیہ کی سفارتی مہارت، بازنطینی سفیروں کے شاندار استقبال اور تحائف کے تبادلے کی تعریف کی ہے۔
اس کے علاوہ، الرہا (Edessa) میں زلزلے سے تباہ ہونے والے عیسائی چرچ کی دوبارہ تعمیر کا سہرا بھی امیر شام کے سر باندھا ہے۔ تھیوفینس کے مطابق خلیفہ عبدالملک اور بازنطینی شہنشاہ جسٹینین دوم کے درمیان 10 سالہ امن معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت خلیفہ نے روزانہ یا ہر جمعہ 1,000 سونے کے سکے، ایک گھوڑا اور ایک غلام دینا قبول کیا، جبکہ قبرص، ارمینیہ اور ابیریا کا خراج دونوں حکومتوں میں برابر تقسیم ہونا طے پایا۔ تھیوفینس نے اموی حاکم عمر بن عبدالعزیز کے دور کی عیسائی مخالف اصلاحات کا ذکر کیا ہے، جیسے شہروں میں شراب پر پابندی، عیسائیوں کی مسلمان کے خلاف گواہی کی عدم قبولیت اور نو مسلموں (موالی) کو جزیہ سے استثنا دینا، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عمر بن عبد العزیز ؒ سے قبل نو مسلموں کو جزیہ سے استثناء حاصل نہیں تھا، یعنی مسلمان ہونے کے باوجود نو مسلم کو شام میں جزیہ دینا پڑتا تھا۔ تھیوفینس کے مطابق عمر بن عبدالعزیز نے بازنطینی شہنشاہ لیو سوم (Leo III) کو خط لکھ کر اسلام قبول کرنے کی دعوت بھی دی تھی۔
ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی کے مسیحی مورخین کے مراجع کے مطابق ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی (اموی دور) کے دوران پورے شام میں مسلمان ایک اقلیتی گروہ تھے۔ اس دور میں دمشق جیسے دارالحکومت اور شامی علاقوں کی مجموعی آبادی میں عیسائیوں اور دیگر مقامی باشندوں کی اکثریت تھی۔ اس وجہ سے جو غیر عرب باشندے (موالی) اسلام قبول کرتے تھے، ان سے بھی عموماً جزیہ یا خراج کی وصولی جاری رکھی جاتی تھی، کیونکہ اموی خلافت کی آمدنی کا بڑا حصہ ان ٹیکسوں پر منحصر تھا۔ (ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۵، ص۳۰۱، ۲۷۵) عمر بن عبد العزیز نے اپنی حکومت کے دوران نو مسلم سے جزیہ کو بند کروایا اور اپنے والیوں کو حکم دیا کہ وہ نئے مسلموں سے جزیہ نہ لیں۔ ہشام بن عبد الملک نے جزیہ کو دوبارہ نومسلموں پر لاگو کر دیا۔
شام کے مسیحی قبیلے بنو کلب کی بنی امیہ سے رشتہ داری تھی اور وہ بنی امیہ کی حکومت کے سب سے بڑے پشت پناہ تھے، بنو غسان اسلامی فتوحات سے قبل ہی دمشق کے قریب جابیہ کو اپنا مرکز بنائے ہوئے تھے اور اموی دور کے دوران بھی جابیہ کی عسکری و سیاسی اہمیت برقرار رہی، جس نے اموی حکومت کو شام میں اپنا اقتدار قائم کرنے اور استحکام دینے میں مدد فراہم کی۔ بنو تنوخ شام کا ایک طاقتور عیسائی عرب قبیلہ تھا، جس کے پاس بہترین گھوڑوں سے لیس مسلح جنگجو موجود تھے۔ یہ قبیلہ اموی حکومت کے دوران عسکری طور پر منظم رہا اور اموی اقتدار کا ایک اہم عسکری جزو بنا رہا۔ عیسائی قبائل اور معاصر مذہبی رہنماؤں کو تحریری امان نامے (Diplomas) دیئے جاتے تھے، جن کے ذریعے گرجا گھروں، معابد اور مقامی قوانین کی داخلی خود مختاری محفوظ رہتی تھی۔ بنو امیہ کی اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں عیسائی قبائل نے اموی حکومت سے وفاداری استوار رکھی، جس سے بنو امیہ کو شام اور اس کے گرد و نواح میں اپنا اقتدار اور تسلط مضبوطی سے قائم رکھنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
رابرٹ ہوئلینڈ کی تحقیق کے مطابق عرب قبائل کے علاوہ اموی شام کے مختلف علاقوں مثلاً دمشق، انطاکیہ، حمص اور ساحلی شہروں میں یونانی بڑی تعداد میں آباد تھے، جن کی اکثریت ملکی (Chalcedonian) عیسائیت سے تعلق رکھتی تھی اور ان کی ثقافتی و علمی زبان یونانی اور سریانی تھی۔ شامی یا سریانی یہ شام اور بالائی بین النہرین (جزیرہ) کی اصل مقامی آبادی کا بڑا حصہ تھے، جو مذہبی طور پر یعقوبی (Jacobite) اور مارونی (Maronite) عیسائی تھے۔ یروشلم، طبریہ، دمشق، قیصریہ اور دیگر شامی و فلسطینی شہروں میں قدیم Jewish آبادیاں قائم تھیں۔شمالی شام اور بازنطینی سرحدی علاقوں (مثلاً ملطیہ/Melitene اور سمیساط/Samosata) میں آرمینیائی آبادی اور عسکری ناظمین موجود تھے۔ اس کے علاوہ سامری، ایرانی وہ مردہ بھی آباد تھے، جو مکمل طور پر مسیحی تھے۔
Chron. Siirt XXXVII, PO 7, 195-96. کے مطابق اموی دورِ حکومت کے دوران مسلمان مجموعی طور پر ایک اقلیتی گروہ تھے اور شام کی ان غیر عرب اقوام کی بھاری اکثریت اپنے قدیم مذاہب (عیسائیت، یہودیت، سامریت) پر قائم رہی۔ رابرٹ جی ہوئلینڈ لکھتا ہے کہ اموی مالیاتی نظام کا بڑا انحصار جزیہ اور خراج پر تھا۔ اس لیے اموی دور میں نو مسلم ہونے سے بھی جزیہ کی ذمہ داریاں خود بخود ختم نہیں ہوتی تھیں، (سوائے خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے مختصر دور کے لیے) لہذا شام کی آبادی نے اپنے آبائی دین یعنی مسیحیت پر قائم رہنے کو ترجیح دی۔ رابرٹ جی ہوئلینڈ کی تحقیقات کے مطابق شام کی غیر عرب مسیحی آبادی مثلاً ایرانی اساورہ، لبنان کے جراجامہ، شامی و مصری عیسائی ہنرمند اموری حکومت میں کردار ادا کرتے رہے۔ اموی بحریہ کی تشکیل میں ان عیسائی ہنرمندوں کا کلیدی کردار تھا۔
درج بالا تاریخی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ اموی شام میں مقامی مسیحی قبائل پر مذہب کی تبدیلی کے حوالے سے کبھی دباؤ نہیں ڈالا گیا، بلکہ اگر اموی شام میں جزیہ کے اطلاق کو دیکھا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کی ترویج کی حوصلہ شکنی کی گئی۔ اگر کسی مسیحی کے مسلمان ہونے سے اس پر جزیہ کا ٹیکس معاف نہیں ہوتا تو اسے مسلمان ہونے کی کیا ضرورت ہے، قبائلی دباؤ کو برداشت کرنا بھی ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ مذکورہ بالا شواہد سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اموی شام کے اکثر مسیحی قبائل خواہ عرب ہوں یا کسی اور نسل سے حکومتی عہدوں، درباروں، فوجی خدمات سے متمسک رہے بلکہ اموی حکومت سے اتحاد کے سبب وظیفہ بھی وصول کرتے رہے۔ رابرٹ جی ہوئلینڈ کی تحقیق کے مطابق ان میں سے اکثر کو مال غنیمت میں سے بھی حصہ دیا جاتا تھا۔
ان شواہد کی روشنی میں اگر ہم اموی دور کی داخلی عسکری مہموں پر غور کریں تو تصویر بالکل واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ واقعہ کربلا کے بعد مکہ پر حملہ اور بیت اللہ کی آتشزدگی (واقعہ حرہ)، روضہ رسول اللہ میں گھوڑے باندھنا، آذان کی بندش اور مدینہ کی ہزار سے زیادہ لڑکیوں کا بغیر نکاح حاملہ ہونا۔ ان کاموں کی کسی مسلمان سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ کتنا ہی کمزور ایمان کا مسلمان ہو، وہ کبھی بھی اس مقام کی جانب منجنیق سے پتھر اور آگ نہیں برسائے گا، جس کی جانب وہ رخ کرکے عبادت کرتا ہے اور اسے اپنے دین کے مقدسات سے سمجھتا ہے۔ اسی طرح کسی بھی کمزور ترین عقیدہ کے مسلمان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ مسجد نبوی کے صحن میں گھوڑے باندھے اور آذان کو معطل کر دے، نیز تابعین کی بیٹیوں سے زنا کرے۔
John bar Penkaye, 165/192-93 (tr. Brock, 72) لکھتا ہے کہ اکتوبر 683ء میں اموی فوج اور ابن زبیر کے حامیوں کے مابین معرکے کے دوران مکہ کے حرم/کعبہ میں آگ لگ گئی اور عمارت شدید متاثر ہوئی۔ اس محاصرے اور جنگ کے دوران عبداللہ بن زبیر کے بھائی منذر بن زبیر بھی مارے گئے۔ 692ء کا سریانی مولف تھیوفیلس آف ایڈیسا اموی حاکم عبد الملک کے دور میں بیت اللہ پر دوسرے حملے کی تفصیلات بیان کرتا ہے، جس میں بیت اللہ پر منجنیق سے پتھر برسائے گئے، حتی کہ بیت اللہ کو دوبارہ تعمیر کرنا پڑا۔ عبد اللہ ابن زبیر نے بیت اللہ میں پناہ لی، تاہم اموی لشکر نے اس کو قتل کر دیا۔ یہ واقعہ 687ء میں قتل ہونے والے سریانی راہب جان بر پنکے نے بھی قلمبند کیا ہے۔
درج بالا معروضات اموی شام کی عکاسی کرتی ہیں جو کہ ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی کے مسیحی مورخین نے قلمبند کی ہیں، ان معروضات کو پڑھ کر انسان بہت آسانی سے فیصلہ کرسکتا ہے کہ شامی سماج، انتظامیہ، مالیاتی نظام، عسکری ڈھانچہ، علمی پس منظر کیا تھا۔ ان معروضات کے تناظر میں یہ سمجھنا بھی مشکل نہیں کہ عبداللہ ابن عباسؓ کے شام کی جانب پیشقدمی نہ کرنے کے مشورے کو امیر المومنین علی ؑ نے کیوں رد کیا۔ امیر المومنین ؑ صفین کے خطبات میں نبی اکرم ؐکی بعثت اور برحق رسولؐ ہونے کی بات کیوں کرتے تھے۔ اسی طرح جب امام حسین ؑ کو محمد حنفیہ نے کوفہ جانے سے روکا تو امام نے بھائی کے مشورے پر عمل کیوں نہ کیا۔ ان معروضات سے یہ بھی سمجھ آتی ہے کہ امام حسن ؑ کو کن داخلی مشکلات نیز خیانتوں کا سامنا تھا۔
وما توفیقی الا باللّٰہ