تحریر: ڈاکٹر سید علی عباس نقوی
ہمیشہ کی مانند آج دنیا ایک بار پھر دو حصوں میں بٹ چکی ہے۔ ایک طرف وہ قوتیں ہیں جو فرعونیت اور استکبار کا استعارہ ہیں اور دوسری طرف وہ جو "ہو الحق” کا علم بلند کیے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا” (حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے)۔ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کا حالیہ حملہ دراصل اسی باطل کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے جو حق کی بڑھتی ہوئی طاقت سے خوفزدہ ہے۔ یہ حملہ صرف ایک جغرافیائی سرحد پر نہیں، بلکہ اس بلند فکر اور آواز پر حملہ ہے جو مظلومین فلسطین اور غزہ کی حمایت میں بلند ہوتی ہے۔
ایران کی غیور عوام اپنی قومی سالمیت کے تحفظ اور اپنی افواج کی پشت پناہی کے لیے آج ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن چکی ہے۔ ایران پر اس وحشیانہ جارحیت کی اصل وجہ اس کا وہ ‘جرمِ عشق’ ہے جسے القدس سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ایران نے غزہ کے معصوموں کی خاطر اپنی آسائشوں اور سلامتی کو داؤ پر لگا کر ثابت کیا کہ وہ حق کا علمبردار ہے۔ آج تہران سے زاہدان اور تبریز سے بندر عباس تک، ایران کے چپے چپے اور قریہ قریہ میں عوامی جذبوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آ رہا ہے۔ یہ جوش و خروش کسی مخصوص شہر یا خطے تک محدود نہیں، بلکہ پورے ایران کے قصبوں اور دیہاتوں تک پھیل چکا ہے۔ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک، پوری ایرانی قوم ایک آہنی مٹھی بن کر سڑکوں پر ہے، جو عالمی استکبار کے لیے واضح پیغام ہے کہ یہ قوم اپنی خود مختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
پاکستان کا ردِعمل: ایک روح، دو قالب
پاکستان میں اس بار جو ردِعمل سامنے آیا ہے، اس نے دشمن کی تمام سازشوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ ماضی میں دشمن نے ہمیشہ امت کو مسلکوں میں بانٹنے کی کوشش کی لیکن ایران پر حالیہ حملے کے بعد پاکستان میں شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی اور سلفی کی تفریق مٹ چکی ہے۔ آج پاکستان کے ہر مکتبِ فکری کا عالم اور عام آدمی یہ سمجھ رہا ہے کہ ایران پر حملہ دراصل "عالمِ اسلام” پر حملہ ہے۔ اگرچہ سیکیورٹی اور دیگر چیلنجز موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود ایران کی حمایت میں ہونے والے بڑے بڑے اجتماعات اور سڑکوں پر نکلنے والے ہزاروں سرفروشوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ پاکستانی قوم کے دل اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ دھڑک رہے ہیں۔ یہ لوگ کسی سیاسی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ ایک ایمانی جذبے کے تحت نکلے ہیں تاکہ دنیا کو بتا سکیں کہ "امت” ایک جسم کی مانند ہے۔
پاکستان کی سیاسی اور مذہبی قیادت نے اس مشکل گھڑی میں جس غیر معمولی جرات اور بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوانوں سے لے کر عوامی اجتماعات تک، پاکستان کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں نے صیہونی جارحیت کے خلاف ایران کی کھل کر حمایت کی ہے۔ جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے دو ٹوک انداز میں اسے "امتِ مسلمہ کی غیرت کا امتحان” قرار دیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ فنکشنل اور دیگر جماعتوں کے قائدین نے بھی اس موقف کی تائید کی ہے کہ ایران کا دفاع دراصل پاکستان کی سرحدوں اور علاقائی استحکام کے تحفظ کا ضامن ہے۔ پاکستان کے سیاسی افق پر یہ اتحاد ثابت کرتا ہے کہ قومی سلامتی اور اسلامی اخوت کے معاملے پر پوری قوم ایک صفحے پر ہے۔
مذہبی محاذ پر یہ یکجہتی مزید مثالی نظر آتی ہے۔ ملک بھر کے جید مفتیانِ کرام، مشائخِ عظام اور تمام مکاتبِ فکر (اہلِ سنت و اہل تشیع) کے جید علماء نے اپنے خطبات اور فتاویٰ کے ذریعے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ ایران کی حمایت محض ایک سیاسی ضرورت نہیں بلکہ ہر مسلمان پر ایک اخلاقی اور شرعی فریضہ ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ ایران آج اس "جرمِ حق گوئی” کی قیمت چکا رہا ہے جس پر عالمِ اسلام کے اکثر حکمران خاموش ہیں۔ مساجد اور مدارس سے اٹھنے والی یہ آوازیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ ایران ہی وہ واحد ملک ہے جو صیہونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم اور عالمی استکبار کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا ہوا ہے۔ ان مقتدر شخصیات نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر آج ایران کی خود مختاری پر آنچ آئی تو اس کے اثرات پورے خطے کے امن کو خاک میں ملا دیں گے۔
پاکستان کے ڈیجیٹل منظرنامے، یعنی یوٹیوب، فیس بک، ایکس (ٹویٹر) اور انسٹاگرام پر پاکستانی نوجوانوں کا جوش و جذبہ اس وقت دیدنی ہے۔ یہ محض سوشل میڈیا کا استعمال نہیں، بلکہ ایک "ڈیجیٹل انتفاضہ” کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ عام آدمی سے لے کر اعلیٰ تعلیم یافتہ دانشوروں تک، سب کی زبان پر ایک ہی حقیقت ہے کہ "اسرائیل خطے کے امن کے لیے ایک ناسور اور کینسر ہے”، اور ایران وہ واحد جرات مند قوت ہے جو اس کینسر کے پھیلاؤ کے سامنے سب سے بڑی اور مضبوط رکاوٹ بن کر کھڑی ہے۔
اس حساس موقع پر پاکستان کے مین اسٹریم میڈیا (ٹی وی چینلز اور اخبارات) نے بھی اپنی ذمہ داری کو بھرپور طریقے سے ادا کیا ہے۔ میڈیا ہاؤسز نے روایتی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایران پر ہونے والی جارحیت کی نہ صرف لمحہ بہ لمحہ کوریج دی ہے، بلکہ خصوصی نشریات، ٹاک شوز اور دستاویزی پروگراموں کے ذریعے عوام کو اس جنگ کے اصل محرکات سے آگاہ کیا ہے۔ دفاعی ماہرین اور تجزیہ نگاروں نے ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ یہ حملہ عالمی قوانین کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے۔
میڈیا کی اس بیداری اور عوامی جذبات کے سیلاب ہی کا نتیجہ ہے کہ آج وزیراعظم پاکستان اور دفترِ خارجہ کے بیانات میں وہ روایتی سفارتی لچک یا "گول مول” الفاظ نظر نہیں آ رہے، بلکہ ان کے لہجے میں ایک واضح کرب، غصہ اور ایران کے لیے غیر مشروط حمایت جھلک رہی ہے۔ یہ اس عوامی دباؤ اور بے پناہ محبت کا ثمر ہے جو ایران کے لیے دھڑکتے ہوئے کروڑوں پاکستانی دلوں سے نکلی اور ایوان اقتدار تک پہنچی ہے۔ پاکستانی میڈیا نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جب مسئلہ مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت کا ہو تو قلم اور کیمرہ خاموش نہیں رہ سکتے۔
ٹرمپ کے متضاد بیانات اور پاکستانی شعور
پاکستانی عوام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل اس وقت اپنی تاریخ کی بدترین نفسیاتی اور عسکری شکست کا سامنا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے عالمی سطح پر ان کی بوکھلاہٹ کو عیاں کر دیا ہے۔ ٹرمپ کے متضاد اور تضاد سے بھرپور بیانات—جن میں وہ کبھی جارحیت کی حمایت کرتے ہیں اور کبھی اپنی ہی پالیسیوں سے پیچھے ہٹتے نظر آتے ہیں—دراصل اس ناکامی کا اعتراف ہے جو انھیں ایران کے فولادی عزم کے سامنے ہوئی ہے۔
پاکستانی شعور اب اس درجے پر پہنچ چکا ہے کہ وہ دشمن کی اس سازش کو سمجھ گیا ہے کہ یہ متضاد بیانات دراصل امتِ مسلمہ کے درمیان انتشار اور اختلاف پیدا کرنے کی ایک ناکام کوشش ہیں۔ دشمن چاہتا ہے کہ ابہام پیدا کر کے مسلمانوں کو تقسیم کیا جائے لیکن یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر موجود پاکستانی تجزیہ نگاروں اور عوام نے یہ بھانپ لیا ہے کہ یہ سب "نفسیاتی جنگ” کا حصہ ہے۔ عام پاکستانی اب یہ جان چکا ہے کہ دشمن کمزور ہو چکا ہے اور اس کی متزلزل پالیسیاں اس کی آخری ہچکیاں ہیں۔ یہ شعور اس بات کی ضمانت ہے کہ اب کوئی بھی بیرونی سازش یا پروپیگنڈا پاکستان اور ایران کے درمیان موجود ایمانی اور تزویراتی رشتے میں دراڑ نہیں ڈال سکتا۔
پاکستان و ایران کا ایمانی اتحاد
روایاتِ مبارکہ اور احادیثِ نبوی ﷺ میں یہ بشارت موجود ہے کہ قربِ قیامت میں "مشرق” سے ایسی اقوام اور گروہ اٹھیں گے جو امام مہدی (عج) کے عالمی عادلانہ نظام اور حکومتِ الٰہیہ کے قیام کے لیے راستہ ہموار کریں گے۔ آج پاکستان اور ایران کے عوام کے سینوں میں موجزن بے چینی، تڑپ اور ایمانی جوش محض ایک سیاسی ردِعمل نہیں، بلکہ اسی عالمی بیداری اور نویدِ سحر کا حصہ ہے۔ حکیم الامت علامہ اقبالؒ نے اسی نظریاتی مرکزیت کی اہمیت کو بھانپتے ہوئے عشروں پہلے پکارا تھا:
تہران ہو اگر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کہ کرہِ ارض کی تقدیر بدل جائے
ایران پر ہونے والی حالیہ بزدلانہ جارحیت نے دراصل امتِ مسلمہ کو خوابِ غفلت سے بیدار کر کے ایک ہی مرکز پر جمع ہونے کا سنہری موقع فراہم کر دیا ہے۔ پاکستان کے عوام، افواج اور حکومت کی جانب سے ایران کی بلا تفریق حمایت اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اب "امت” کے آفاقی تصور کو مصنوعی جغرافیائی حدود، لسانی عصبیتوں یا مسلکی تعصبات کی زنجیروں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ قرآنِ حکیم کا ابدی فرمان ہے: "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو)۔ آج پاکستان اور ایران کا یہ غیر متزلزل اتحاد اسی قرآنی رسی کو تھامنے اور "بنیانٌ مرصوص” (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) بننے کا نام ہے۔ وہ وقت اب دور نہیں جب ظلم و استبداد کی یہ کالی رات چھٹے گی، باطل کے ایوان زمین بوس ہوں گے اور قدس کی آزادی کے ساتھ ایک ایسے نئے "اسلامی بلاک” کا سورج طلوع ہوگا جس کا محور و مرکز یہی جرات مند، غیور اور بیدار اقوام ہوں گی۔